ایک اور ہیرا!

تھکاوٹ نہ ہو تو باہر کا چکر لگایا جائے۔ بہنوئی نے کمرے میں جھانکا۔ گھومنے پھرنے کا پروگرام۔ یہ محترمہ تو پاؤں میں جوتا بھی نہیں پہنیں گی، صاحب ہنس کر بولے۔ ویسے میں حیران ہوں، دو سگی بہنیں اور کس قدر مختلف۔ ہماری والی کو دھکے دے کر گھر سے باہر نکالنا پڑتا ہے۔ بہنوئی کی حیرت۔ اور ہماری والی کو منت سماجت کر کے گھر واپس لانا پڑتا ہے۔ صاحب۔ ہم دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کی طرف

Read more

ہیرے کی انگوٹھی!

امی، آپ کی دی ہوئی انگوٹھی پہن کر آج دفتر گئی۔ اف ہر کوئی سراہ رہا تھا۔ کوئی ایسی کولیگ نہیں تھی جس نے تعریف نہ کی ہو۔ میں نے بھی کہہ دیا، ماں کی ہے۔ ایک بولی، کیا وراثت میں ملی ایسی شاہانہ چیز۔ نہیں بھئی، ماں موجود ہیں لیکن ان کا بس نہیں چلتا کہ جس چیز کی طرف بھولے سے ایک بار بھی دیکھ لو، وہ مجھے پہنا نہ دیں۔ ہاؤ لکی یو آر۔

یہ سن کر کس کم بخت کا خون سیروں نہ بڑھتا؟

نوعمر بیٹی، نئی نوکری، تیار ہو کر دفتر جانے کا شوق، انگلی میں ماں کی انگوٹھی اور گوریوں کی تعریف۔ واللہ پیسے پورے ہو گئے۔ ہیرے کی انگوٹھی سے ہمارا عشق بھی تو برسوں پرانا تھا۔

شباب تک پہنچنے پہ ہماری زندگی میں کسی انگوٹھی کا عمل دخل نہیں تھا۔ ہاں سب رسالے، ناول، افسانے بتاتے تھے کہ ہیروئن ہیرو کی دی ہوئی ہیرے کی انگوٹھی پہن کر اپنے آپ کو ساتویں آسمان پہ محسوس کرتی ہے۔ ہماری اماں اور آپا کے پاس تو کوئی ایسی انگوٹھی تھی نہیں جسے پہن کر ہم ساتواں نہ سہی کوئی پہلے دوسرے آسمان کی زیارت کرتے۔

Read more

’اپنے جسم کے متعلق جانیے اور ڈاکٹر کو حیران کر دیجیے‘

ٹرن ٹرن ٹرن۔ رات کے دو بجے، خاموشی، نیند اور آن کال ڈیوٹی۔
فون کے دوسری طرف ہماری ٹیم کی ایک سینیئر ڈاکٹر۔
’جی آپ کو ایک بری خبر سنانی تھی‘ ۔
اللہ خیر۔ دل بیٹھ گیا۔

ایسے بہت سے واقعات ہم لکھتے ہیں جن میں ڈاکٹرز کی محنت، لگن اور کوشش قارئین کے سامنے لائی جاتی ہے۔ لیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہوتا ہے اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بھی دکھایا جائے۔ ایسی ہی ایک صورتحال کا سامنا تھا ہمیں جب ہم نے اپنی ٹیم ممبر کا فون رات کے دو بجے سنا۔

’کیا ہوا‘ ؟ ہم نے پوچھا۔

’کمرہ نمبر 5 کی مریضہ کی سی ٹی جی خراب ہوئی، سیزیرین کیا لیکن بچے دانی پھٹی ہوئی ملی۔ بچہ بھی اچھی حالت میں نہیں‘ ۔

Read more

موت سے پہلے ہی قبر میں جا لیٹوں کیا؟

ماں بیٹی کمرے میں داخل ہوئیں، عمر رسیدہ ماں لاٹھی ٹیکتی ہوئی۔

بیٹی کے کچھ مسائل تھے جو ہمیں حل کرنے تھے۔ فارغ ہو کر ماں نے کہا ہسپتال اٹینڈ کرنے کا سرٹیفیکیٹ بنا دیں۔

ہم نے کھٹا کھٹ کمپیوٹر سے سرٹیفیکٹ بنایا، پرنٹر سے چھاپا اور دستخط کر کے بڑی بی کے ہاتھ میں تھمایا۔
بڑی بی نے جھٹ چشمہ پہنا، سرٹیفکیٹ سے نام پڑھا اور کہنے لگیں، دکتورہ تم نے نام غلط لکھا ہے۔
نہیں وہی نام ہے جو کمپیوٹر میں لکھا ہے۔
مگر وہ نام تو مریضہ کا ہے۔
تو اسی کے لیے تو سرٹیفکیٹ بنایا ہے۔
مگر سرٹیفیکٹ تو مجھے چاہیے، بڑی بی بولیں۔
کسے۔ کسے چاہیے؟ ہم حیران۔
مجھے۔

Read more

دائی طاہرہ کی ایک رات!

ہسپتال کی کال ایسے ہی ہے جیسے بہت سے سپاہی مورچہ بند ہو کے انتظار کر رہے ہوں کہ کب کون کدھر سے نکل آئے؟ ایک زمانہ تھا کہ رات کو ہم تیار حالت میں سویا کرتے تھے کہ کپڑے بدلنے میں بھی وقت ضائع نہ ہو۔ اگر ہسپتال سے کال آئے اور پندرہ منٹ کے اندر اندر نہ پہنچ سکیں تو جواب طلبی فوراً۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ساری رات فون بجتا ہے لیکن جانے کی

Read more

آتشک اور سوزاک کا علاج مکمل رازداری سے!

بس چلتی جاتی اور ساتھ میں دیواریں بھی۔ بس آگے کو دوڑتی، دیواریں پیچھے کو اور کھڑکی کے شیشے سے ناک چپکائے ہر منظر ایک چھوٹی متجسس بچی کے لیے قابل دید۔

دکانوں کے بل بورڈ، دفتروں کے بورڈ، سڑک کے کنارے لگے بینرز، سڑک کے کنارے لگے اشتہار۔ کچھ بھی تو نہ چوکتا اس کی آنکھ سے، اور ہاں دیواروں پہ لکھی عبارات بھی جو ہر سڑک پر کچھ دیر بعد نظر آ جاتیں اور اتنی بار کہ گھر پہنچتے پہنچتے اسے حفظ ہو جاتیں۔

”پوشیدہ بیماریوں کا کامیاب علاج، سو برس پرانا قدیمی نسخہ۔ سندربن اور ہما لیہ سے لائی گئی جڑی بوٹیاں۔ مکمل رازداری۔ آتشک اور سوزاک کے پرانے مریض ایک بار ضرور آزمائیں“

”سنیاسی بابا کی حکمت آزمائیے، شرمائیے نہیں۔ زندگی ختم نہیں ہوئی، غلطی کا کفارہ موت نہیں۔ آتشک اور سوزاک کا گارنٹی کے ساتھ علاج۔ پردے کی سہولت موجود“

Read more

جوں کی رفتار سے رینگتی ہوئی جوئیں!

یہ تم اتنی زور سے سر کیوں کھجا رہی ہو؟ آپا نے متجسس ہو کر ہماری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
ایسے ہی۔ ہم نے رسالے سے نظر اٹھائے بغیر جواب دیا۔
جوئیں تو نہیں سر میں۔ وہ گھبرا کر بولیں
کیا پتہ۔ ہماری بے نیازی عروج پہ۔
امی، امی، اسے دیکھیے آج یہ پھر سر کھجا رہی ہے۔ آپا فوراً امی کے پاس پہنچیں۔

اف خدایا، کیا پھر سے جوئیں لے آئی یہ لڑکی؟ کیا کروں اس کا؟ امی نے سر پیٹ لیا۔ ایک تو گھنے بالوں کا ٹوکرا سر پہ، اوپر سے ہر دوسرے دن جوئیں۔ امی روہانسی ہو رہی تھیں۔

ٹنڈ کروا دیں اس کی یا ڈی ڈی ٹی ڈال دیں سر میں۔ پاس سے ہی کسی بھائی نے لقمہ دیا۔

Read more

’ اگر ڈاکٹر آپریشن کے بعد بتا دیتی آنت کٹ گئی ہے تو ہم 21 دن انتظار نہ کرتے‘

’میری بہن کی بچے دانی میں رسولیاں تھیں ہم ان کو پیر محل کی مشہور لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے۔ آپریشن کے دن ڈاکٹر نے دوسرے ڈاکٹرز کو ساتھ لگا کر آپریشن کیا جو کہ تقریباً تین گھنٹے جاری رہا۔ پھر ہمیں 21 دن لگاتار اسپتال میں رکھا گیا جس دوران میری بہن سخت تکلیف سے گزری۔ ان کا پیٹ سینے سے لے کر پیٹ کے نچلے حصے تک ڈاکٹرز نے کاٹا ہوا تھا۔ روز پٹی بدلی جاتی جو خون میں بھری ہوتی۔ ساتھ میں بخار بھی ہونا شروع ہو گیا۔ بہن کی حالت روز بروز بگڑتی گئی۔

روز پٹی بدلی جاتی جو خون میں بھری ہوتی

’ہم نے فائل مانگی کہ کسی اور ڈاکٹر کو چیک کروا سکیں مگر ڈاکٹر نے انکار کر دیا۔ ایک رات ہم چھپ کر اپنی بہن کو چوری چوری کسی اور ڈاکٹر کے اسپتال لے گئے۔ انہوں نے میری بہن کے ناک میں نالی ڈالی اور ہمیں الائیڈ اسپتال فیصل آباد بھیج دیا۔ ہمارے پاس آپریشن کارڈ یا کوئی بھی اور کاغذ نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں داخل نہیں کر رہے تھے۔ میں، میری بیمار بہن، ابو اور بھائی سب زمین پر بیٹھے رو رہے تھے کہ ایک ڈاکٹر صاحب وہاں سے گزرے۔ مریضہ کی بری حالت دیکھ کر پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ ہمارے بتانے پر انہوں نے فوراً ایمرجنسی میں بھیجا اور پھر آپریشن تھیٹر لے گئے‘ ۔

Read more

اونچی ذات کی عورت!

شادی ذات برادری کے باہر۔ نہیں ہو سکتا بھئی۔ لڑکے کی شادی۔ ٹھیک تو نہیں مگر ناممکن نہیں۔ لڑکی کی؟ ہر گز نہیں، توبہ استغفار۔ سوچا بھی تو کیوں؟ کیا کریں ان سوالوں کا؟ پیچھا ہی نہیں چھوڑتے۔ منہ پھیرو، نظر انداز کر دو، کان بند کر لو، آنکھ پھیر لو، کہیں نہ کہیں سے کسی نہ کسی کونے سے نکل آئے گا کوئی نہ کوئی۔ لپلپاتی زبان اور ڈنک ایسا کہ جسم نیلا پڑ جائے، ذہن پناہ مانگنے لگے

Read more

شولڈر ڈسٹوشیا ؛ کچھ اور باتیں !

قارئین کا خیال ہے کہ شولڈر ڈسٹوشیا کا موضوع تشنہ رہ گیا، مزید لکھنا چاہیے تھا۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہم سناتے ہیں سچی کہانیاں اور طبی معلومات بیچ بیچ میں ٹانک دیتے ہیں تاکہ معاشرہ عورت کے درد کو جان سکے۔ کچھ لوگوں نے لکھا، ایکس رے یا الٹرا ساؤنڈ سے یہ کیفیت پہلے سے پتہ چل جانی چاہیے، کچھ نے لکھا کہ ڈاکٹر سے باقاعدگی سے چیک اپ کرواتے تو یہ نہ ہوتا۔ ایسا نہیں ہے۔

Read more

شولڈر ڈسٹوشیا؛ جاں لیوا ایمرجنسی!

کھینچو اور کھینچو۔ بی بی زور لگاؤ، منہ بند کر کے، نیچے کی طرف۔ پیٹ کو اوپر سے دباؤ۔ مثانے والی جگہ بھی دباؤ۔ دیکھو اگر کندھے نہیں ہل رہے تو بازو نکالنے کی کوشش کرو۔ کھینچو، زور سے کھینچو۔ اگر بازو ٹوٹ جائے تو خیر ہے لیکن بچہ باہر نکلنا چاہیے۔ جلدی کرو جلدی، وقت کم ہے۔ بچے کا منہ نیلا پڑ رہا ہے۔ کندھے پھنس چکے ہیں، ہلنے کا نام نہیں لے رہے۔ چلو بچے کی ہنسلی کی

Read more

ایک تصویر اور وڈیو۔ آٹھ مارچ کا توشہ خاص!

ایک پہ رونا آیا اور دوسری پہ؟
ہنسی؟
نہیں اس پہ بھی رونے ہی کو جی چاہا وہ بھی قادر مطلق کے حضور۔

تصویر نے معاشرے کی وہ تصویر دکھائی جس کا سامنا ہر طبقے کی عورت کو ہے۔ وہ سارہ انعام ہو، نور مقدم ہو یا شہلا شاہ۔ وہ سب جن سے کسی نہ کسی مرد نے زندگی چھین لی۔ کبھی غیرت کے نام پہ، کبھی عزت کی خاطر، کبھی غصے میں پاگل ہو کر اور کبھی طاقت کے نشے میں دیوانہ بن کر۔

اور وہ سب بھی یاد آ گئیں جو کامیاب ازدواجی زندگی کا نقاب اوڑھے روز مرتی ہیں اور روز جیتی ہیں۔
ہر واقعے، ہر کہانی اور ہر داستان کے پیچھے وجہ؟
وہ۔ وہی پرانی۔

Read more

ریت سمادھی، انور سن رائے اور اماں کا ”عضو تناسل“

ہاہاہا، ہمارے قہقہے تھے کہ بچوں کو ڈراتے تھے، برگد سے کووں کو اڑاتے تھے اور کچھ لوگوں کے ماتھے پہ شکنیں گہری کرتے تھے۔

افف، گیتانجلی شری۔ کیا لکھ دیا ظالم؟ عورت کی پبتا، یعنی کہ ہمارا پسندیدہ موضوع اور وہ بھی اماں کی زبانی۔

” باہر آ کر اماں نے بتایا، کچھ موٹا ہے، دبانے، زور لگانے سے باہر نکلتا ہے پھر اندر چلا جاتا ہے۔ چھو کر دیکھا ہے۔ جسم کا ہی حصہ ہے۔ ایسا۔ ماں نے ہوا میں ایک شکل بنائی جیسے ربر میں پانی بھر کے پھنسا دیا ہو۔ چمکدار ہے۔ سوجتا ہے، اتنا بڑا“

سوچیے اگر یہ آپ کی اماں ہوں، اسی برس عمر ہو اور ایک دن ٹوائلٹ سے نکل کر یہ رام کتھا انہی الفاظ میں ایسے ہی سنائیں تو سر گھومے گا نا آپ کا ۔ عجیب ہونق محسوس کریں گے خود کو ، سمجھ کچھ آئے گا نہیں کہ بیٹھے بٹھائے اسی برس کی اماں کو کیا نکل آیا؟ اور کہاں پہ؟

Read more

زچگی کی دوسری سٹیج۔ دھوکا ہوا!

وارڈ راؤنڈ جاری تھا۔ ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں جونہی داخل ہوئے، فائنل ائر کی طالبہ بھاگی آئی۔ چہرے پہ بوکھلاہٹ نمایاں۔ میم، بیڈ نمبر پانچ کی مریضہ بہت ناراض ہے، برا بھلا کہہ رہی ہے سب ڈاکٹروں کو۔ کیوں؟ ہم نے پوچھا۔ کہہ رہی ہے اس سے دھوکا ہوا ہے، وہ اٹک اٹک کر بولی۔ ہائیں۔ کیا ہوا؟ ہم ہک دک رہ گئے۔ جی وہ کہہ رہی ہے کہ ڈاکٹروں نے دھوکا کیا اس کے ساتھ۔ کیا مطلب؟

Read more

الفاظ، زبان، اعضا، شرم و حیا، فحاشی اور غیرت و مردانگی!

وہ لمبا سا ہال تھا جس میں سولہ میزیں ایک قطار میں تھیں۔ بڑی بڑی شیشے کی کھڑکیوں سے روشنی چھن چھن کر اندر آ رہی تھی۔ سٹیل کی بنی میزوں سے روشنی کی کرنیں جب منعکس ہوتیں تو رگ و پے میں سرد لہر دوڑ جاتی۔

سرد، نحیف، سیاہی مائل، ہڈیوں پہ منڈھی سکڑتی کھال، اکڑی ہوئی ہڈیاں، چھت کو گھورتی بے نور آنکھیں، پپڑی زدہ ہونٹ، ٹیڑھی ناک، بے جان بازو۔ یہ تھے وہ ننگ دھڑنگ جسم جنہیں موت اپنی گود میں لے کر وہاں تک پہنچی تھی اور اب وہ منتظر تھے۔

ان جسموں کی طرف جو بھی دیکھتا، اس کے جسم میں پھریری دوڑ جاتی۔ زندگی کی حقیقت ایک سیکنڈ میں واضح ہو جاتی۔ اپنے جیسے ہی ایک جسم کو اس حالت میں دیکھنا رونگٹے کھڑے کرتا تھا۔

Read more

جب آنول راستے کا سانپ بن جائے!

سائرن بجاتی ایمبولینس، اسٹریچر دھکیلتے لوگ، اپنے ہی لہو میں نہائی بے جان پڑی عورت!
یہ منظر کسی بھی ڈاکٹر کے لیے انوکھا نہیں۔

لیکن اس دن کچھ اور بھی تھا۔ مریض کے منہ میں بے ہوشی کی نالی تھی اور وہ کسی پرائیویٹ اسپتال کے آپریشن تھیٹر سے لائی جا رہی تھی۔

پوچھنا تو تھا ہی کہ ہوا کیا؟
تحریر جاری ہے ‎

’آنول نیچے تھی اس لیے سیزیرین کیا لیکن اب آنول والی جگہ سے خون نہیں رک رہا۔‘ ساتھ آئی ایک جونیئر ڈاکٹر نے ہانپتے کانپتے جواب دیا۔

Read more

زچگی کے مصنوعی درد ؛ کب؟ کیسے؟ کہاں؟

فائنل ائر کی کلاس جاری تھی۔ ’اگر دن پورے ہو جائیں اور درد شروع نہ ہوں تو مختلف طریقوں میں سے ایک چننا ہو گا‘ طالبہ اپنی اسائنمنٹ پیش کر رہی تھی۔ ’کیا زندگی کے دن پورے ہو جائیں؟‘ ہمیں شرارت سوجھی۔ ”نہیں نہیں میم، حمل کے“ وہ گھبرا کر بولی۔ اچھا یہ بتاؤ حمل کے دن کب پورے ہوتے ہیں؟ جی چالیس ہفتوں پہ۔ ڈلیوری کی تاریخ کا حساب کیسے لگایا جاتا ہے؟ آخری ماہواری کا پہلا دن اور

Read more

ڈاکٹر کی ڈائری!

روکیں روکیں، گاڑی روکیں ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر آپ کی گاڑی کی ٹکر ہونے والی تھی ۔ ۔ ۔ پارکنگ میں اپنی گاڑی کی طرف جاتے ہوئے نرس ہاتھ ہلاتے ہوئے ہماری طرف دوڑی۔ کیسے روکیں؟ اوٹی میں مریض سیریس ہے، ڈاکٹر کی مخصوص پارکنگ پہ کوئی گاڑی کھڑی کر کے چلا گیا ہے۔ کیا کریں؟ کدھر جائیں؟ سامنے کھڑی گاڑی میں بیٹھے ڈرائیور کو کہا، میاں تم تو اپنی سواری کے انتظار میں ہو، کہیں بھی کھڑی کر لو

Read more

جب آنول رحم سے چپک جائے!

ریجنل ہسپتال کی گائنی ہیڈ کا فون تھا۔ کئی برس پہلے ہماری شاگرد بھی رہ چکی ہیں سو آغاز ادھر ادھر کی باتوں سے ہوا، پھر کام کی بات۔

ہمارے پاس ایک مریضہ آئی ہے جس کے پچھلے تین سیزیرین ہیں اور اب الٹرا ساؤنڈ بتا رہا ہے کہ آنول بچے دانی سے نہ صرف چپکی بلکہ مقام پہ دھنس چکی ہے جہاں پچھلے آپریشنز میں بچے دانی کو کاٹا گیا تھا۔ مشکل کیس ہے، آپ کو بھیجنا چاہتی ہوں۔

بھیجو بھئی بھیجو۔ کیا یاد کرو گی کس شہنشاہ سے پالا پڑا تھا، ہم نے ہنستے ہوئے کہا۔
مریض پہنچی، MRI کے مطابق تشخیص وہی تھی جو الٹرا ساؤنڈ پہ تھی۔ ( placenta Accreta)

Read more

ریپ کریں؟ جیل بھیجیں؟ یا مار دیں؟

جنگ ہو یا آزادی، دشمن کو مزا چکھانا ہو یا فتح کا جشن، مغرب ہو یا مشرق، قرون اولی ہو یا وسطی، قدیم روایات ہوں یا جدیدیت، مرد کی وحشت عورت کو تار تار کرنے میں ہی پناہ ڈھونڈتی ہے۔

تقسیم کا قصہ ابھی قصہ پارینہ نہیں بنا، بچھڑنے والوں کے زخم ابھی بھی ہرے کے ہرے۔ اس کامیابی کا جشن لکیر کے دونوں طرف بسنے والوں نے عورت کو روند کر منایا۔ عورت مسلمان ہو یا ہندو، ارے عقل کے اندھو تھی تو عورت نا۔ تمہارے ہی گلی محلے میں رہنے والی، کسی دوست یار کی ماں بہن بیٹی یا بیوی، وہی روپ اور رشتہ جو دونوں طرف تھا۔ کیا سوچا کسی نے کہ ایسے ہی قد بت کی ایک جیتی جاگتی مورت تو اپنے گھر بھی بیٹھی ہے۔ بے شمار عورتیں برباد کی گئیں، بے شمار اپنی جان سے گئیں۔

Read more

’کیا آپ کا بچہ اردو کموڈ استعمال کر لیتا ہے؟‘

اردو زبان، اردو شاعری، اردو ادب، اردو ڈائجسٹ، اردو اسپیکنگ، اردو کانفرنس، اردو میڈیم اور اب اردو کموڈ۔ پہلے تو ہم ہنسے، اتنا ہنسے کہ پیٹ پکڑ کر دوہرے ہو گئے۔ جب کچھ حواس قابو میں آئے تو جی چاہا روئیں وہ بھی دھاڑیں مار مار کر۔

آہ، وقت تو اور پیچھے چلا گیا۔ کیا آپ کو پتا ہے وقت کے پاؤں چڑیلوں کی طرح الٹے بھی ہوسکتے ہیں، ہم نے بھی تب پہلی بار سوچا۔

بات کچھ پرانی ہے۔ نصف صدی سے کچھ کم کا قصہ، اب آپ ہماری عمر کا اندازہ لگانے میں نہ لگ جائیے گا۔ میٹرک کے زمانے کی بات ہے۔ شان سے میٹرک کرنے کے بعد اونچے درجے کے کالج میں داخلہ ہوا۔ پاؤں زمین پر ٹکتے نہیں تھے ہمارے، ڈاکٹر بننے کی منزل کی طرف پہلا کامیاب قدم۔

Read more

بچے کے دل کی دھڑکن یا موسیقی کا انترا مکھڑا

سا رے گا ما پا دھا نی سا رے
سا سا سا رے ما ما پا دھا نی ی ی

سی ٹی جی گراف مدفن سے نکلنے کا وقت آ پہنچا۔ سی ٹی جی سیکھتے ہوئے ایسا لگا کہ کلاسیکی موسیقی کے داؤ پیچ ہیں۔ کس کو اونچا کہنا ہے، کس کو سرگوشی سا، کس کو کھینچنا ہے، کس کو جلدی سے۔

پیٹ میں بچے کے دل کی دھڑکن جو پل پل بدلتی ہے اور اسی طرح کاغذ پہ بھی۔ سی ٹی جی گائنی ڈاکٹروں کے لیے انعام ہے اگر سیدھے سبھاؤ چلے اور ڈراونا خواب اگر پٹڑی سے اتر جائے۔

Read more

بچہ ہے یا ماں باپ کی خواہشات کا جھنڈا!

ڈاکٹر کیوں بن رہے ہو؟ شوق ہے کیا؟ خوشی حاصل کرنی ہے یا دولت کمانی ہے؟ ہمارا پسندیدہ سوال۔ میڈیکل سٹوڈنٹس کو پڑھاتے پڑھاتے کبھی محسوس ہو کہ سامنے بیٹھے ہوؤں کو جمائیاں آئیں اور آنکھیں موندی جانے لگیں، نظر فون پہ گڑنے لگی، خاموشی بڑھنے لگی، اشارہ ہے جی یہ اشارہ۔ بوریت کمرے میں داخل ہو چکی، دلچسپی بھاگ چکی۔ خیر ہماری زنبیل میں بھی نسخے بہت۔ ان سب مرحلوں سے گزر کر ہی گھاگ استاد بنے ہیں۔ چلو

Read more

ریپسٹ بنا دولہا اور منصف نکاح خواں!

کیا بگڑے گا کسی کا اگر کچھ بھی فرض کر لیا جائے؟ ہاں کچھ بھی۔ فرض کرو ہم کیٹ ونسلیٹ ہوں یا پھر فرض کرو قرہ العین حیدر ہوں۔ فرض کرنے سے اگر بات بن جائے تو کیا ہی مزا ہے۔ ابن انشا بھی تو یہی سوچ کر ایسی خوبصورت نظم لکھ گئے ؛ فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں فرض کرو یہ جی کی بپتا جی

Read more

ہم نے سیزیرین کیوں کروایا؟

ایک پکا اور ایک کچا، نہیں نہیں، امرود یا انار کی بات نہیں ہو رہی۔ بڑی بوڑھیاں حمل وغیرہ کی بات یونہی کرتی ہیں تو ہم نے سوچا ہم بھی تھوڑی پریکٹس کر لیں۔ وہ وقت دور نہیں جب گھر کی بہو بیٹی ناک سکوڑتے ہوئے کہے گی کہ بڑھیا کو کچھ سمجھ تو آتا نہیں، پتہ نہیں کیا اناپ شناپ کہتی رہتی ہیں۔ خیر آنا تو ہے اس سمے کو، آتا ہے ہمیشہ سب کے لیے تو ہم دیکھیں

Read more

ابن صفی؛ تری یاد کا بادل مرے سر پر آیا

بڑی بی، کیوں آنکھیں چرائے پھر رہی ہو؟ ہماری اور دیکھتیں بھی نہیں؟ گھر لا کر کونے میں ڈال رکھا ہے۔ کیا ڈر ہے تمہیں؟ پنڈورا باکس کھل جائے گا اور وہ یادیں بھی نکل آئیں گی جو مدتوں سے دفن ہیں۔ اس دن جب تم ہماری طرف لپکیں اور ارد گرد سب کچھ بھلا کر محبت بھری نظروں سے ہمیں دیکھ کر ہنسیں۔ سٹال والا بوڑھا تمہیں ہمارے بارے میں بتانے کی کوشش کرتا رہا اور تم سر جھٹکتے

Read more

زچگی کے لیے سیزیرین یا نارمل ڈیلیوری: فیصلہ کس کا؟

وہ دونوں بحث کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔ شوہر کا منہ لال بھبوکا، بیوی بھی نیلی پیلی۔ تم کیوں نہیں کر سکتیں؟ ساری دنیا کی عورتیں کرتی ہیں۔ میں نے کیا ساری دنیا کی عورتوں کے کیے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے؟ بیوی نے منہ سکوڑ کر کہا۔ دیکھو میں بتا رہا ہوں، اماں بہت ناراض ہوں گی، شوہر نے ڈرانے کی کوشش کی۔ تو ایسا کرو اماں سے کہو وہ کر لیں ایک اور۔ بیگم کچھ زیادہ ہی

Read more

ہم بھی، تم بھی!

 کیا کہیں اسے؟ یار غار؟ نصف صدی بعد ملنے والی جڑواں؟ وقت ہم دونوں کے ساتھ ساتھ چلتا رہا مگر رہے جدا جدا، ہم اور ہما کوکب بخاری۔

پلوں کے نیچے سے گزرنے والا پانی کیسے گزرا؟ دیکھا نہیں ہم نے مگر سمجھتے دونوں ہیں کہ پانیوں کا ریلا منہ زور تھا۔ نصف صدی گزر گئی۔ سو اس وقت کی کہانیاں کیوں نہ ایک دوسرے کو سنائیں؟ دلوں پر رقم سب لمحے، آنکھوں میں منجمد ماہ و سال کیوں نہ پگھلا کر دکھائیں ایک دوجے کو، اپنے اپنے مدار کے سفر کا ذکر۔ سو جب بھی ملیں، ان تمام لمحوں کا نقاب اتر جاتا ہے آپ ہی آپ۔

کیا اسی کی دہائی کے وسط میں تم لاہور میں تھیں؟
ہاں، تھی۔
اچھا، میں بھی وہیں تھی۔
نوے کی دہائی میں کیا تم پنڈی میں تھیں؟
ہاں۔
میں بھی۔

Read more

نہ جانے، کوئی نہ جانے؟

پکاسو کی انگلیوں سے کھینچی آڑی ترچھی لکیریں کینوس پر اگر رقص کریں تو ایسا ہی لگے گا نا کہ رنگوں کے نرت بھاؤ اور مصور کی دیوانگی مجسم ہو گئی۔ جسے دیکھ کر سحر میں گرفتار، جب چاہو بات کرو، جب چاہو دیکھو، جس طرف سے بھی دیکھو، بس دیکھتے ہی رہو۔ مائیکل اینجلو کی چھینی پتھر تراشے تو فیصلہ کرنا مشکل کہ پتھر زیادہ حسین یا سنگتراش کا فن۔ کیا ہو اگر زندہ انسانی جسم کے ساتھ ہتھوڑی

Read more

مشتاق احمد یوسفی اور ضیا محی الدین ہنستے ہیں!

” بعض خواتین جس انداز سے چہل قدمی کرتی ہیں اسے چہل قدمی کہنا مناسب ہو گا۔ مرزا عبدالودود کہتے ہیں کہ چال کی خوبی سے ہی چال چلن کی خرابی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ( قہقہے اور تالیاں ) ۔ اس قیامت کا نظارہ کسی کو سامنے سے دیکھ کر نہیں ہوتا، پیچھے سے ہی دیکھ کر کھلتا ہے ( قہقہے ) چال کی چاپ اور چھب چھاب کیسی ہے، ایک خوبی ہو تو بیان کریں؟ ( قہقہے )

لٹک مٹک ( قہقہے )
ٹھمک جھپک ( قہقہے )

پنڈولم کی مانند دائیں سے بائیں ( قہقہے ) اس طریقے سے رگل کرنا، اور دائیں بائیں لہرا کر چلنا، خرام ناز کے قیامت ڈھانے کے ان گنت انداز ہیں۔ یعنی لہکتی، لچکتی، لہراتی، لجاتی گج گامنی، پیچھے مڑ کر دیکھنا کہ اب بھی کوئی گھور رہا ہے یا سب ہی مر گئے؟ ( قہقہے )

Read more

پیارا دل دل دل اور اردو کانفرنس!

جادو نگری میں میز پہ پڑے چھوٹے سے ڈبے سے آواز آتی۔ دل لگی میں ایسی دل کو لگی کہ دل کھو گیا، کسی کا دیوانہ یہ دل ہو گیا۔ کس کو یہ سمجھ کہ دل لگی کس چڑیا کا نام ہے، نہ دل کے کھو جانے کی خبر اور نہ ہی دیوانگی کی۔ بس علم تھا تو اتنا کہ ناہید اختر اگر لہک لہک کر گاتی ہیں تو ان کے سر ایک چھوٹی سی لڑکی کے ننھے سے دل

Read more

رحم کرنا ڈاکٹر۔ چھوٹے بچے ہیں میرے!

ڈاکٹر دکھاؤ، ڈاکٹر دکھاؤ۔

آپریشن تھیٹر کی میز پر لیٹی زچہ اگر اونچی آواز میں یہ چیخنا شروع کر دے تو کیا کیا جائے؟ پرانے زمانے میں گھونگھٹ کاڑھے دلہن کے لیے کہا جاتا تھا۔ دلہن دکھاؤ، دلہن دکھاؤ۔ اور وہ سر جھکائے گھٹنوں میں منہ دبائے بیٹھی رہتی تھی۔ خواب ہوئے وہ وقت کہ اب ایسا کہنے کی ضرورت نہیں۔ اب تو اگر دلہن کو نہ دیکھا جائے تو شاید وہ برا مان جائے۔ لو اتنا مہنگا جوڑا اور میک اپ اور آپ ہیں کہ دیکھ ہی نہیں رہے۔ افوہ ہم بھی نا، بہکنے میں سیکنڈ نہیں لگتا۔ مریض کی بات چھیڑی اور دلہن تک جا پہنچے۔

خیر گاؤن سنبھالتے ہاتھ میں چاقو پکڑے پردے کے اوپر سے جھانکا۔ ارے بھئی یہاں ہیں ہم، کیا ہوا؟ دیکھو اب یہ نہ کہنا، ذرا چہرہ تو دکھاؤ اور تھوڑا سا مسکراو۔ ماسک اور ٹوپی کی اوٹ میں مسکرائے بھی تو کیا دیکھ سکو گی تم؟

Read more

ادب میں خاتون قلمکار کی ویلڈٹی ( validity ) ، اور بھگوڑا شوہر، اشفاق احمد اور بانو قدسیائی سوچ کی روشنی میں

طنزیہ فقرے، استہزائیہ جملے، رکیک الزام، بے ہودہ مغلظات۔ چکنا گھڑا ہونے کا ایک فائدہ تو ہوا کہ سب پھسل کر غائب۔ جس نے بھی کچھ کہا یا لکھا، ہو کیئرز کہتے ہوئے اک بے نیازی کہ جواب جاہلاں خاموشی باشد۔

لیکن ایک فقرے نے گل محمد کو اپنی جگہ سے ہلنے پہ مجبور کر دیا اور اس کی اشد ضرورت یوں آن پڑی کہ ذات پہ اچھالا گیا کیچڑ تو ہمیشہ اعزاز لگے ہے ہمیں مگر اردو ادب کو ارزاں سمجھا جائے۔ یہ کیسے برداشت کریں ہم؟

ہمارے خیال میں اردو ادب اور ادیبوں کا موقف تو ایک ہی بات ہونی چاہیے لیکن تجربہ ہوا کچھ مختلف۔

انسانی حقیقتوں کا پردہ پرت در پرت چاک کرتے ہوئے ادب وہ کچھ دکھانے کی کوشش کرتا ہے جو کم نظر نہیں دیکھ پاتے۔ زندگی کا نرت بھاؤ، داؤ پیچ، انسان اور شیطان کے بیچ باریک لکیر کا سفر وہی سمجھ پاتے ہیں جو ادب کو انسانی سطح پر جاننے کی کوشش کریں۔

Read more

’ہم ہم ہیں، آپ نہیں‘ : اولاد کا وہ ڈائیلاگ جس نے ماں کی آنکھیں کھول دیں!

ہمارا بچپن تو بڑا ہی شاندار تھا جس میں سب ہم عمر بچے ہم سے چڑتے تھے اور شاید ان کی مائیں بھی۔ بڑے ہوئے تب عمر میں کہیں چھوٹے بچوں نے روایت قائم رکھی اور ان کی ماؤں نے بھی۔ سمجھ کبھی نہیں آئی کہ قصور کیا تھا ہمارا؟

قسم لے لیجیے جو ہم مار پیٹ کے عادی ہوں، برا بھلا کہتے ہوں یا ان کی چیزیں چھین کر کھا جاتے ہوں، واللہ کچھ بھی نہیں تھا ایسا مگر پھر بھی کچھ تو تھا جس کے نتیجے میں ہم عمر دور دور رہتے۔

Read more

‎کالے رنگ نوں گورا کر دے تے گورے نوں چن ورگا!

‎وہ ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھی، گالوں پہ پھسلتے آنسو میں ہمارا دل بھیگتا جاتا تھا۔ ‎ ”امی، سب سے اچھا میں نے پرفارم کیا۔ سب کا کہنا یہی تھا پھر بھی مجھے نہیں چنا گیا ایلس ان ونڈر لینڈ کے لئے“ ‎ ”بیٹا کوئی رول تو ملا ہو گا نا“ ‎ ”ہاں امی سائیڈ رول، ہر بار وہی ملتا ہے ایکسٹرا کا ایک گروپ میں ڈانس کرنے والا“ ‎ ”کوئی بات نہیں بیٹا، اگلی بار سہی“ ‎

Read more

دلہن ایک رات کی!

پندرہ سولہ برس کی دبلی پتلی لڑکی، مانگ میں افشاں چمکتی ہوئی، مٹا مٹا میک اپ، ہاتھ اور بازو مہندی کے خوبصورت نقش و نگار سے سجے ہوئے، رنگت سفید جیسے جسم میں ایک قطرہ خون نہ ہو، ایک عورت دائیں طرف، دوسری بائیں طرف سے تھامے ہوئے، سفید و سیاہ چار خانے والا کھیس اوڑھے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے لیبر روم میں داخل ہوئی۔

اذان سنتے ہوئے ہسپتال کے احاطے میں بنی مسجد کے میناروں نے آہ بھری۔ دن کا اجالا قبر کے اندھیرے میں کیسے بدلتا ہے، ان سے بہتر کون جان سکتا تھا۔

نرس نے عورت کے ہاتھ سے پرچی لی، ۔ کب سے بلیڈنگ ہو رہی ہے؟
رات بارہ بجے سے۔
لٹاؤ ادھر بلاتی ہوں ڈاکٹر جی کو۔
سسٹر ذرا جلدی۔

Read more

سی ٹی جی گراف مدفن!

سی ٹی جی کی کہانی شروع کی تھی سوچا بقیہ بھی سنا ہی دیں۔

امتحان پاس ہوا، سپیشلسٹ بن کر ہولی فیملی ہسپتال میں اترے۔ ایک بات تو ہم بھول ہی گئے تھے کہ امتحان ہم نے پاس کیا تھا، سرکار نے نہیں۔ سو وہی عالم تھا ایک انار سو بیمار۔ ہزاروں مریضوں کے لیے انگلیوں پہ گنی جانے والی سی ٹی جی مشینیں، گراف پیپر کبھی ہے، کبھی نہیں۔ ہر مریض کا دس منٹ کا گراف نکلتا، دیکھ کر ہم خوش ہوتے کہ اتنی تو میسر ہے مے خانے میں۔

ارد گرد سٹوڈنٹس، ریزیڈنٹ ڈاکٹرز کا ہجوم، کیا سکھائیں؟ کیا پڑھائیں؟ آہ و فغاں کے مقامات تو شاید اس وقت گزر جاتے ہوں جب سی ٹی جی مشین فارغ نہیں ہو گی۔ جب گراف ہی نہ بنے تو گراف کے پیچ و خم کے بغیر سیکھنے والے کیا سیکھیں گے اور کل کو اپنی اپنی دکان پر بیٹھ کر کیا مال فروخت کریں گے؟

Read more

سرکاری اسپتالوں کا وہ رخ جو عوام سے اوجھل رہتا ہے

پہلا منظر اسٹریچر پر پڑی لڑکی زندہ تو تھی مگر حالت مردوں سے بھی بدتر تھی۔ پیلی پھٹک رنگت، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں، پپڑی زدہ ہونٹ اور بے چینی کا وہ عالم کہ تکیے پر سر مارتی تھی۔ سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کے لیے یہ منظر معمول کا حصہ ہے۔ دور دراز دیہات سے آئی چارپائی پر پڑی نیم مردہ حاملہ عورت 3، 4 ضعیف بڑی بوڑھیاں اور ایک آدھ کمر خمیدہ شاطر نظر آتی دائی۔ ’جی 3 دن

Read more

بچے کا دل کیا کہتا ہے؟

ایمرجنسی گھنٹی کا شور۔ ٹرن، ٹرن، ٹرن۔ بھاگو دوڑو۔ نو نمبر کی سی ٹی جی یک دم خراب ہو گئی۔ دیکھا تو بچے کے دل کی دھڑکن ایک سو چالیس سے گر کر ستر پہ آ چکی تھی۔ دو چار منٹ انتظار کیا، مریضہ کو آکسیجن لگائی، کروٹ بدلوائی لیکن دھڑکن ابھی بھی ستر۔ یہ اعلان تھا کہ بچہ موت کی سرحد پہ ہے، پندرہ منٹ کے اندر اندر اسے دنیا میں آنا چاہیے۔ معائنہ کیا تو رحم کا منہ صرف چھ سینٹی میٹر۔ سیزیرین کرو فورا۔ کریش سیزیرین۔ جس کے لیے انیستھیزیسٹ اور آپریشن تھیٹر کا سٹاف علیحدہ سے ہر وقت تیار۔ تام جھام میں وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ ہر کام گولی کی رفتار سے۔

لیجیے جناب سیزیرین سے دس منٹ کے بعد بچہ باہر۔ اور دل کی دھڑکن ڈوبنے کا سبب بھی نظر آ گیا۔ آنول اکھڑ چکی تھی اسی لیے بچے کو ماں کی طرف سے آتی آکسیجن منقطع ہو گئی تھی۔ دل ڈوبتا نہیں تو اور کیا کرتا؟ بچہ ناصر کاظمی تو تھا نہیں کہ کہتا وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا۔

Read more

مریض گھیرنے کے گر!

”گر بتائیں ہمیں پرائیویٹ پریکٹس کے جو آپ نے اس باؤلی میں رہتے ہوئے سیکھے اور اپنائے؟“

” کیا بلندی، کیا پستی۔ اپنی کرپشن کو جائز کرنے کے لیے ڈاکٹر صاحبہ نے کہانی لکھی ہے جیسے ہر شعبے والا اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے“

یارا۔ کیا کرتے ہیں آپ لوگ؟ ٹھہرے پانی میں پتھر دے مارتے ہو۔ پرسکون سطح پہ وہ سب حکایتیں شکایتیں سر اٹھانے لگتی ہیں جو کب سے آنکھیں موندے سو رہی ہیں۔

آپ کے سوال پہنچ جاتے ہیں ہم تک۔ جواب بھی بے شمار ہیں ہماری زنبیل میں لیکن کب تک سنو گے، کہاں تک سناؤں۔ ستاون برس کی زندگی کا ہر دن اور ہر موڑ ایک کہانی۔ ایک پڑاؤ۔ اور خانہ بدوشی۔

Read more

اچھا ڈاکٹر کون؟

آج جی چاہتا ہے کہ آپ کا امتحان لیا جائے۔ ارے ارے گھبرائیے نہیں، نہ کوئی طویل پرچہ ہے اور نہ ہی کچھ اور، بس سادہ سا ایک سوال۔

ایک اچھا پروفیشنل ہونے کی کیا نشانی ہے؟

سوچئیے۔ ذہن پہ زور ڈالیے، ہر شعبے کو کھنگالیے۔ چھوٹا بڑا ہر کام، ہر شعبہ، ارد گرد۔ جواب تو مل ہی جائے گا۔

جواب کا ایک پہلو شاید ہماری اس کہانی میں بھی ہو۔ وہ تمام پیچ و خم جنہوں نے ہمیں زندگی کے بہت سے رنگ دکھائے اور اب تک حیران کیے جاتی ہے۔

اکیسویں صدی کا آغاز ہو چکا تھا اور گائنی میں پانچ چھ برس کی محنت اور ٹریننگ کے بعد سپیشلسٹ بن کے ہم اپنے سرور میں گم تھے۔ سرکاری نوکری میں رتبہ میڈیکل افسر کہ سرکار کو کیا لگے کہ محنت اور کار مسلسل سے حاصل کی گئی ڈگریوں کو کسی پلڑے میں تولا جائے۔

Read more

فسٹولا کیوں اور کیسے بنتا ہے؟

خبر ہے جنوبی پنجاب اور سندھ میں 85 فیصد عورتیں گھروں میں زچگی کے عمل سے گزرتی ہیں اور ان کی بڑی تعداد زچگی کے بعد فسٹولا کا شکار ہوجاتی ہیں۔

فسٹولا والی عورتیں عموماً طلاق دے کر گھر سے نکال دی جاتی ہیں۔ پیشاب و پاخانے پر جسم کا کنٹرول نہ ہونے سے جو تعفن پھیلتا ہے اسے اردگرد والے بھلا کیوں برداشت کریں؟

تو فسٹولا آخر ہے کیا؟

ہو سکتا ہے آپ نے پرانے وقتوں میں دو گھروں کے بیچ بنی دیوار میں ایک سوراخ دیکھا ہو جو دونوں طرف کے مکینوں میں رابطے کا ذریعہ ہو۔ کبھی گپ شپ، کبھی ساگ اور کبھی لسی، ادھر سے ادھر اور پھر ادھر سے ادھر۔

فسٹولا ایک ایسے ہی سوراخ کا نام ہے جو رحم (بچے دانی یا uterus) ، مثانے (urinary bladder) ، ویجائنا (vagina) اور مقعد (Rectum) کے درمیان بن کر پیشاب اور پاخانے پر انسانی کنٹرول ختم کر دیتا ہے۔

Read more

نسوانیت کی کمی کا شکار عورت

مانا جناب کہ کچھ حروف جوڑ کر لکھ لیتے ہیں ہم، ایسے ہی گزارا سا اور آپ کو اچھا بھی لگتا ہے۔ لیکن ہمارے لکھے پہ جو آپ لکھتے ہیں اس کی تو بات ہی کچھ الگ ہے۔ داد تو بنتی ہے نا جب کچھ پڑھ کر ہمارا قہقہہ مزید بلند آہنگ ہو جائے۔ لپ اسٹک کی کہانی پڑھ کر ایک بزرگ قاری نے ہم سے پوچھا کہ شادی والے دن بھی کچھ شرم ورم، کچھ لجاہٹ تھی یا نہیں؟

Read more

پیدائش سے پہلے بچے کا پاخانہ۔ حقیقت کیا ہے؟

میٹنگ جاری تھی۔
ایسے مریضوں کا حال سنایا جا رہا تھا جن کے بچے پیدا ہوتے ہی مر گئے۔

” مریضہ رات کے بارہ بجے آئی، ہلکے درد تھے۔ بچے کے دل کی دھڑکن سی ٹی جی ( CTG) ریکارڈ نگ پہ بہت خراب نظر آئی۔ بچے کو فوراً ً پیدا کروانے کی ضرورت تھی۔ اندرونی معائنہ کیا تو بچے دانی کا منہ چار سینٹی میٹر کھلا تھا۔ سیزیرین کرنے سے پہلے یہ دیکھنا تھا کہ بچے کی حالت کیسی ہے؟ جاننے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ پانی کی تھیلی پھاڑ کر دیکھا جائے۔ جونہی تھیلی پھاڑی، پانی کی بجائے بچے کا گاڑھا پاخانہ نظر آیا۔ فوراً سیزیرین کیا۔ بچہ بہت خراب حالت میں نکلا، پاخانہ گلے اور سانس کی نالی میں جا چکا تھا۔ نرسری کے ڈاکٹر نے ٹیوب ڈال کر صفائی کی لیکن بچے کی حالت بہتر نہیں ہوئی۔ آکسیجن لگی، وینٹ پہ ڈالا مگر بچہ نہیں بچ سکا“

Read more

چھاتی کا سرطان کیا ہے اور اس سے بچنا کیا ممکن ہے؟

گرمی کی شدت کم ہو چکی، جاڑا دبے پاؤں آن پہنچا، رت بدلنے لگی اور 2022 ء ماضی بننے کے لیے سامان باندھ رہا ہے۔

زندگی بھی شاید یونہی تمام ہوتی ہے، بیٹھ کر سکون کا سانس بھی نہیں لینے پاتے کہ گھنٹی بج جاتی ہے۔ زندگی کی شام اس طرح سب منظر دھندلا دیتی ہے کہ کوئی جان ہی نہیں پاتا کہ کب اور کیسے سفر تمام ہو گیا؟

اس سفر میں، زندگی کے الجھاؤ میں بہت سی ان چاہی باتیں بھی شریک سفر ٹھہرتی ہے۔ زندگی کا حق یہ ہے کہ ہر انہونی سے دوبدو ہو کر لڑا جائے، چاہے جیت ہو یا ہار۔ ایسی ہی ایک صورتحال کینسر یا سرطان سے مقابلہ کرنے کی ہے۔

اکتوبر دنیا بھر میں چھاتی کے کینسر کے بارے میں معلومات پھیلانے کا مہینہ ہے اور گلابی ربن کی علامت بریسٹ کینسر کی آگہی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

Read more

منٹو اور نانگلی

روزمرہ کی زندگی میں عورت کی چھاتی کو جنسی تحریک کا محور سمجھنا ذہنی جہالت کے سوا کچھ اور نہیں۔ لیکن وقت، زمانے اور معاشرت و تہذیب کا کہنا ہے کہ عورت کی چھاتی سے جنسی حظ اٹھانے والوں کی کمی نہیں۔ چٹانوں کے ابھار، پہاڑیوں کی گولائیاں، مدور گھاٹیاں، نشیب و فراز جیسے معنی خیز الفاظ سے صفحات پہ لگی کالک کسی سے چھپی نہیں۔ مرد چھاتیوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے اس کا نقشہ اردو ادب میں

Read more

چھاتی کو سلیٹ بنا دو!

چنی پہ چھڑی بحث پڑھ کر جی چاہا کہ کیوں نا بات کو آگے بڑھایا جائے۔

چنی سے جڑے رویوں پہ بات کرنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ دوپٹہ لیا جائے یا نہیں بلکہ بچپن میں چھاتی کے متعلق کی گئی بے جا روک ٹوک کی نشان دہی تھی، جس سے عورت شرمندہ ہو کر چھاتی کو جسم کا ایک ایسا حصہ مان لیتی ہے کہ اس کے متعلق بات کرتے ہوئے زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔

بیماری، ٹیسٹ اور علاج۔ چھاتی کے لیے؟ نہ بابا نہ، نام نہ لو۔ لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں تو دروازے سے ہی واپس۔ مرد ڈاکٹر کرے گا چھاتی کا معائنہ۔ توبہ توبہ!

چھاتی میں ہونے والی کسی بھی تکلیف کو سرگوشیوں اور دیسی ٹوٹکوں سے حل کرنے کی کوشش اسی شرم کا نتیجہ ہے جو بچپن ہی سے لڑکی پر لاد دی جاتی ہے۔ ایک نارمل عضو کو معاشرتی رویے ایک ایسی بدصورتی میں بدل دیتے ہیں جن سے بلوغت کی سرحد پہ کھڑی بچی اپنے آپ سے شرمندہ رہتی ہے۔

Read more

چنی، چھاتی اور کینسر!

کیا بات ہے آج تو آپ نے چنی اوڑھ لی، دہلی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر مردھلا نے مسکرا کر کہا۔
ہائیں، کیا تمہارے ہاں بھی دوپٹہ، چنی کہلاتا ہے؟ ہم چونکے۔
جی ہاں، چنی! ہمارے یہاں تو یہ چنی منی نچا مارتی ہے لڑکیوں کو۔ وہ ہنس کر بولی
کیسے؟

بچی زمین سے اگی نہیں کہ ڈانٹ پڑنے لگتی ہے، چنی ڈالو چھاتی پہ، چنی ٹھیک کرو، چنی کہاں ہے تمہاری، چنی پھیلا کر لو۔

توبہ، مطلب وہی سب کچھ جو اس طرف بھی ہے۔ لکیر کھنچ گئی مگر عورت کا نصیب ایک سا دونوں طرف۔

Read more

دائی کی سلائی

درزی حیران ہو کر پوچھتا ہے، آپ کو کپڑا کاٹنے کی اتنی ترکیبیں کیسے آتی ہیں؟ کیا سلائی کڑھائی کا کورس کر رکھا ہے؟ گلا اس طرح سے کاٹو، معاف کیجیے گا قمیض کا گلا۔ کندھے کی گولائی سے لے کر چھتیس کلیوں والے کرتے کی ترکیب تک۔ ہم ہنس پڑتے ہیں۔ کیسے بتائیں کہ قینچی سے کپڑا کاٹنا کس قدر آسان ہے، یعنی غلطی کی گنجائش ہی گنجائش۔ گلا غلط کاٹو یا کندھا، گھیرا چھوٹا بڑا، لمبائی کم زیادہ۔

Read more

ایاز امیر صاحب، بات اتنی سادہ نہیں!

سارہ انعام کا قتل، شادی کے دو ماہ بعد ! وڈیو نظر آتی ہے جس میں ایاز امیر بیٹے کی شادی میں بڑھ چڑھ کر شریک ہیں اور والدہ ثمینہ والہانہ طور پہ ناچ رہی ہیں۔ ایاز امیر نے اپنے کالم میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بہت سی باتیں لکھی ہیں۔ لوگ باگ ان کی اس جرات رندانہ کو سراہ رہے ہیں کہ انہوں نے بیٹے کی حرکتوں پہ پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن بات اتنی سادہ

Read more

سارہ انعام کا سوشل میڈیا پہ آخری پیغام اور بہشتی زیور

”میرا ایمان ہے کہ میں اسے بدل دوں گی۔ اس نے جس طرح میری زندگی میں رنگ بھرے ہیں، میں نے خود کو زندہ محسوس کیا ہے۔ وہ اندر سے ٹوٹ چکا ہے۔ اور مجھے یقین تھا کہ میں اس کے سبھی درد ختم کر دوں گی۔ شاہ شمس تبریز کہتے ہیں، کھنڈرات میں خزانے چھپے ہوتے ہیں ٹوٹے دل میں بھی خزانے چھپے ہوتے ہیں میں نے محسوس کیا کہ میں اس کی کھوئی ہوئی محبتوں کے گہرے گھاؤ

Read more

بچہ ہے یا شادی چلانے کا انجن؟

بیٹی، میری نصیحت کان کھول کر سن اور پلو سے باندھ، کوشش کرنا کہ جاتے ہی حمل ہو جائے۔ کوئی ضرورت نہیں پرہیز کرنے کی۔ کیوں اماں؟ ارے بے وقوف، حمل نہ ہوا تو پاؤں کیسے جمائے گی سسرال میں۔ بغیر بچے والی کو تو جب چاہیں، کان سے پکڑ کر نکال دیں۔ پر اماں جاتے ساتھ ہی حمل، نہ کپڑے پہننے کا مزا نہ تیار ہونے کا؟ نادان لڑکی، شادی کے بعد وہی عورت بھاری ہے جس کی گود

Read more

فرصت کا جن اور نجی ہسپتال میں ملازمت

” دیکھیے ایک بات ابھی سے بتا دوں، جو کام نہیں آتا، وہ نہیں کروں گی۔ ریفر کر دوں گی“ کمرے میں تین افراد، دو ادھیڑ عمر مرد اور ایک نوجوان لڑکی۔ انٹرویو چل رہا تھا۔ ”جی آپ کی کوالیفیکیشن؟“ ”ایم بی بی ایس“ ”تجربہ؟“ ”ہاؤس جاب چھ مہینے گائنی اور چھ مہینے میڈیسن“ ”کس ہسپتال سے؟“ ”سر گنگا رام ہسپتال لاہور“ ”کیا کچھ کر لیتی ہیں؟“ ”نارمل ڈلیوری چھوٹے آپریشن کے ساتھ، بچے دانی کی صفائی اگر بچہ ضائع

Read more

کامیو کی تشخیص اور سوئم کا پلاؤ!

کبھی کبھی یونہی خیال سا آتا ہے کہ ہم کچھ عجیب سے لوگ ہیں۔ نہ جینا آتا ہے اور نہ مرنا، نہ قربت کا مفہوم جانتے ہیں اور نہ جدائی کا۔ ہم پہلے بھی کچھ ایسا ہی سوچا کرتے تھے لیکن وبا میں گزرے ان برسوں نے اس بات اور یقین کو مہمیز کر دیا ہے۔

وبا سے اجل کو گلے لگانے والوں کے اعداد و شمار کہاں گنے جا سکتے ہیں۔ بے شمار لوگوں کو جدائی کے ناگ نے ڈس لیا اور اب بھی اس کی پھنکار تھمی نہیں۔ ہر دوسرے روز کسی نہ کسی کے رخصت ہونے کی خبر ملتی ہے، ایسے بے شمار احباب کے نوحے دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں جن کے ہاتھ سے اپنے پیاروں کا ہاتھ بھرے میلے میں چھوٹ گیا۔

Read more

کیا عورت ہی عورت کی دشمن ہے؟

چلیے آج اس پر بھی بات کر لیں۔

معاشرے کے بیشتر افراد کو مرد کیوں مظلوم نظر آتا ہے اور عورت کو ظالم کیوں سمجھا جاتا ہے جو دوسری عورت کی زندگی جہنم بنا دیتی ہے۔

عورت کی ازدواجی زندگی چودہ سے چوبیس برس کے بیچ شروع ہوتی ہے۔ ایک ایسی زندگی جس میں توقعات اور ذمہ داریوں کے بھاری بوجھ کے ساتھ حقوق سب سے کم۔ دونوں طرف کے خاندان اسے بار بار یہ یاددہانی کرواتے ہیں کہ اگر بسنا ہے تو اپنے حقوق کی بات کبھی نہ کرنا۔ ماں باپ واپسی کا دروازہ بند کر کے بھیجتے ہیں اور شوہر/ سسرال بات بات پہ اپنے گھر سے نکالنے کی دھمکی۔

Read more

پروفیسر لبنی اعجاز کی مسیحائی!

”میم، ضروری بات کرنا چاہتا ہوں، زندگی اور موت کا سوال ہے۔ میری بیوی کا فیس بک اکاؤنٹ ہے یہ اور مجھے علم ہے کہ وہ آپ کو میسج کیا کرتی تھی۔

میں سخت پریشان ہوں۔ وہ اس وقت آئی سی یو میں ہے، وینٹی لیٹر پہ، پنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں۔ حالت نازک ہے، میری مدد کیجیے ”

Read more

منٹو کی شاداں اور اکیسویں صدی کی لڑکی!

جج صاحب!
کہانی سنیں گے میری؟

کہانی تو وہی ہے جو منٹو کو عدالت کے کٹہرے میں گھسیٹ لائی تھی اور اب مجھے۔ کہاں بدلتی ہے عورت کی کہانی، بس کبھی وقت آگے پیچھے ہو جاتا ہے اور کبھی چہرے بدل جاتے ہیں۔

کیسے کہوں؟ کہاں سے شروع کروں؟

میں اکیلا ہونے سے ڈرتی ہوں، کپکپی چھوٹ جاتی ہے مجھے جیسے جاڑا آ گیا ہو، چھوٹی بچیوں کو اکیلا دیکھ کر حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔ میری دائیں ٹانگ میں رہ رہ کر درد اٹھتا ہے، بائیں ٹانگ پہ پڑے نشان چیختے چلاتے ہیں۔ کمر پہ دانتوں کے نشان روتے ہیں۔

عدالت ہمیشہ گواہ مانگتی ہے۔ مظلوم سے ظلم کا ثبوت۔ لائی ہوں گواہ بھی اور ثبوت بھی۔ جی جی ساتھ ہیں دونوں۔ دیکھنا پسند فرمائیں گے بندی کا کٹا پھٹا مضروب جسم۔ دس طویل برس، جنسی تشدد، پانچ برس کی بچی سے پندرہ برس کی لڑکی تک کا سفر۔

Read more

خیال نہ کیتا کسے ساڈھا!

ہسپتال کے کاریڈور میں ہم دونوں، آگے میں، پیچھے وہ۔ ہر دو منٹ بعد ایک لمبی سانس اور ایک فقرہ، ہائے ہائے، نہ خیال کیتا کسے ساڈھا۔ ( کسی نے ہمارا خیال نہیں کیا)

اب ہسپتال میں چلتے چلتے کیا پوچھتی؟ کون؟ کیا؟ کیسے؟

ایک کاریڈور سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے، نرسیں، ڈاکٹر، وارڈ بوائے، کلرک، چپراسی، سیکرٹری، ہیلو، ہاؤ آر یو؟ ہاؤ ز ڈے؟ فائن، تھینک یو۔

کچھ دیر بعد زیر لب بڑبڑاہٹ اور لمبی سانسوں کے بیچ فائن تھینک یو بھی سنائی دینے لگا۔ ہائے ہائے، نہ خیال کیتا کسے ساڈھا، فائن، تھینک یو۔ فائن فائن، ہائے ہائے، تھینک یو، کسے ساڈھا خیال نہ کیتا؟

Read more

سیلاب زدہ عورتوں کی گونگی، بہری، اندھی اور غریب ماہواری!

اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے، قطار اندر قطار۔ نہیں بھئی، یہ رنگ تو نظر نہیں آئے، ہمیں تو کچھ اور دیکھنے کو ملا۔ سرخ سرخ، ملگجے، پھٹے، مڑے تڑے، بوسیدہ، لیکن تھے وہ بھی قطار اندر قطار۔ بال مت نوچیے، اصل میں بتانے والے نے لفظ استعمال کیا قطار اندر قطار۔ لیجیے یاد آ گئے اقبال، کیا کریں جب سارا بچپن بانگ درا ہاتھ میں پکڑ کر گزرا ہو تو ماضی کھینچے گا نا اپنی طرف۔ تین باتیں ہوئیں۔

Read more

داڑھی کا ایک بال، بڑھیا اور سالگرہ!

پانچ برس کی عمر سے پہلے تو کسی کو کچھ یاد نہیں رہتا سو انہیں منفی کر دیا جائے تو بنتی ہے نصف صدی۔ باپ رے باپ، نصف صدی کی عورت۔

نصف صدی کی عورت، عنوان خوب ہے بھئی۔ یاد ہے لکی ایرانی سرکس میں شیر کے منہ والی عورت۔
عجیب سی بات ہے لیکن ہے۔

بچپن میں جب کوئی افسانہ یا کہانی ہم پڑھتے جس میں پچاس پچپن کی عورت کا ذکر ہوتا تو نقشہ کچھ یوں کھینچا جاتا، شکل سے گھاگ نظر آوے، حرکات میں شاطر، نقاہت اور عمر نے ہلنے جلنے کے قابل نہیں چھوڑا، تخت پہ بیٹھی حکم چلاتی اور داؤ پیچ کھیل کر ہر کسی کا دم ناک میں کرتی ہوئی بڑھیا۔

اس وقت تصور میں ایک انتہائی خوفناک اور بدصورت شکل بن جاتی۔

Read more

پانی سے گھرے ٹیلوں پر بیٹھی حاملہ عورتیں!

خبر کے مطابق 7 لاکھ میں سے 70 ہزار کی زچگی سر پر کھڑی ہے تو کچھ تو ایسی بھی ہوں گی جو درد زہ میں مبتلا ہوں۔ 

خبر ہے کہ تقریباً 7 لاکھ عورتیں، ممکن ہے 8 لاکھ ہوں یا 9، اور ان کے پیٹ میں موجود 7 لاکھ بچے! تقریباً 70 ہزار کی زچگی جلد متوقع!

سیلاب، بے گھری، کھلا آسمان، ننگی زمین اور پھولے ہوئے پیٹ والی 7 لاکھ عورتیں!

نا جانے کیا کھاتی ہوں گی؟ ایک ٹکڑا روٹی کا اور 2 گھونٹ پانی؟ شاید پیاس نہ بجھنے کی صورت میں ارد گرد ٹھاٹھیں مارتا پانی۔ پیاس کہاں دیکھنے دیتی ہے پانی کہ گندا ہے یا صاف؟

Read more

ننھِی بچی کی چیخ: نہ کر چاچا نہ کر!

خون میں لت پت جسم، ڈوبتی نبض، کراہتی آواز، آنکھوں میں آنسو، امی امی پکارتی چھ سالہ بچی! ”ڈاکٹر جلدی آئیے، بچی کی حالت نازک ہے، خون تیزی سے خارج ہو رہا ہے“ اس طرح کی کال آئے تو وقت اتنا ہی ہوتا ہے کہ پاؤں میں جوتا پہنو اور بھاگو۔ بچی کی حالت نازک تھی اور ٹانگوں کے بیچ اس قدر خون بہہ رہا تھا کہ معائنہ کرنا مشکل۔ ”بچی کو آپریشن تھیٹر منتقل کیجیے، خون کی تین چار

Read more

گلے میں موت کا پھندا کون ڈالتا ہے؟

ایک عورت مر گئی!
نہیں معلوم، خود مری یا مار ڈالی گئی!
گلے کا پھندا سسکیاں بھرتا ہے، گواہی نہیں دیتا!

کوئی نئی بات نہیں ہر روز ہزاروں عورتیں مرتی ہیں۔ کیوں غم کریں؟ بے وقعت، پاؤں کی جوتی، جوتی چٹوانے کے قابل، ہے ہی جوتی، جب چاہے بدل لو۔

خیر اہالیان شہر نے اس جواں مرگ پہ اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ کیوں؟ کیسے؟ کس لیے؟ کس کے لیے؟

بے شمار شکوک و ابہام نے عورت کی لاش کے گرد جالا بن دیا جس میں ہزاروں مکڑیاں عورت کے متعلق کہی ان کہی سناتی تھیں۔ سگریٹ پیتی تھی، مردوں کے ساتھ گھومتی پھرتی تھی، طلاق شدہ تھی۔ سب پڑھا، دل پہ ہاتھ پڑا لیکن ایک جملہ بازی لے گیا۔

‎اس جیسی عورت کا انجام یہی ہونا ”تھا“
‎اس جیسی عورت؟

Read more

دفعی، دفعی، دفعی!

’چل نی بی بی منہ بند کر، تے لا زور، تھلے نوں‘ (بی بی، منہ بن کر اور زور لگاؤ نیچے کی طرف) زچہ عورت زور لگا کر منہ لال کرلیتی ہے۔ ’منہ وچ زور نہ لا، تھلے لا، پاخانے والی جگہ تے، جیویں قبض ہوندی اے تے زور لا کے پاخانہ کڈھی دا اے ) (منہ میں زور نہ لگاؤ، نیچے کی طرف زور لگاؤ، پاخانے والی جگہ پر، جیسے قبض ہونے پر زور لگا کر پاخانہ باہر نکالتے

Read more

جوتی نے جوتی چاٹ لی تو کیا ہوا؟

” یہ لڑکی پسند ہے مجھے، اسے اپنے بستر پہ لانا ہے مجھے“ ایک بد مست خواہش۔
”مگر وہ تو تمہاری بیٹی کی دوست ہے“
”بیٹی تو نہیں“
”سوچ لو تمہاری عمر اور اس کی عمر میں بہت فرق ہے“
”مرد کی کوئی عمر نہیں ہوتی، مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا“
”لیکن بھئی لڑکی کی مرضی نہیں ہے“

” اس کی یہ ہمت کہ انکار کرے۔ عورت کی مرضی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ مرد کے لیے بنائی گئی ہے، اور جس مرد کا جی چاہے اس کے ساتھ نکاح کرے۔ ہونہہ دو ٹکے کی عورتیں، میرا جسم میری مرضی“

Read more

اگلے جنم موہے عربی ہی کیجیو؛ اسی لاکھ حق مہر!

رنگ برنگی چاکلیٹس، کیک، براؤنیز، چکن سینڈوچز، کافی، ڈرنکس، چھوٹے گڈی پیکس، قہقہے، باتیں! ڈاکٹرز کافی روم کا منظر زندگی کی حسین تصویر تھا۔ چند خوش باش ہنستی کھیلتی لڑکیاں! ”آئیے ڈاکٹر ہمارے ساتھ شامل ہوں“ ایک بولی۔ کافی کا سپ لیتے ہوئے ہم نے پوچھا، کس کی سالگرہ ہے؟ ” ”کسی کی بھی نہیں“ سب ہنس پڑیں۔ ”پھر یہ سب؟“ ہم نے اشتیاق سے پوچھا۔ ”ڈاکٹر عائشہ کی شادی کی تاریخ طے ہوئی ہے۔ یہ سب اس کے شوہر

Read more

صدیق عالم کی چینی کوٹھی کا باپ، ہماری ماں اور بوسیدہ والدین!

”عجیب عورت ہے یہ، منہ میں زبان ہی نہیں ڈالتی۔ سارا دن بک بک، ساری رات بڑ بڑ، سونے ہی نہیں دیتی کم بخت۔ بولے جاتی ہے بولے جاتی ہے“

”بہن میں نے آپ کو تو کچھ نہیں کہا“ وہ دھیرے سے بولی۔

”تو یہ باتیں سارا دن ہمیں ہی سناتی ہو نا۔ کبھی یہ کبھی وہ، کبھی اس کو بلا دو، کبھی اس کو، کبھی اماں، کبھی ابا، کبھی رضا کے ابا کبھی حسن۔

سمجھتی ہی نہیں ”دوسری عورت چیخ کر بولی۔
”آپا جی آپ کیوں اتنا ناراض ہو رہی ہیں؟“ پہلی عورت نے دھیرے سے کہا۔

”ناراض؟ خبیث عورت، دل کرتا ہے گلا دبا دوں تیرا۔ دن رات تیری بکواس سنو، نہ سونے دیتی ہے، نہ سانس لینے دیتی ہے۔ دن بھر جی جی کرو، رات بھر آنکھ نہ لگاؤ“ دوسری طیش میں تھی۔

”آپا جی آپ سو جایا کریں نا، میں آپ کو تکلیف نہیں دیتی“ پہلی بولی۔
”تکلیف کی بچی، تیری فضول کی بک بک سن کر سر درد ہی نہیں ختم ہوتا، نیند کیا خاک آئے گی“ دوسری بولی۔
”نہیں آپا جی، آپ ناراض نہ ہوں، آپ سو جایا کریں“ پہلی بولی۔
” چپ کرے گی اب یا دوں ایک تھپڑ“ دوسری کا غصہ ٹھنڈا ہونے میں نہیں آتا تھا۔
”نہ کرو خالہ، نہ کرو، بے چاری کو تھپڑ تو نہ مارو“ ایک طرف بیٹھی تیسری عورت بولی۔
” تو چپ کر رضیہ، یہ ایسے نہیں چپ بیٹھے گی جب تک دو تھپڑ نہ رسید کروں اسے“ دوسری نے کہا۔
ٹھاہ، ٹھاہ۔

Read more

ٹھنڈی عورت!

بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی! کیا مصرع ہے اور بات بھی کہ بات نکلے تو پھر کہاں رکتی ہے؟ یہ گئی، وہ گئی، اس گھر اس محلے، شہر شہر، اور آج کے زمانے میں نہ سرحدوں کی قید نہ زبان کی۔ مورا کامی کہانی سنائے جاپانی میں، گیتانجلی شری ہندی میں، موپاساں فرنچ میں، چیخوف روسی میں، بلھے شاہ پنجابی میں، ٹیگور بنگالی میں۔ پہنچ ہی جاتے ہیں وہ سب شبدھ ان دیوانوں تک جو الفاظ کی

Read more

عورت کے لیے شیلف لائف نامی لفظ استعمال کرنے والوں کو شرم نہیں آتی؟

’آپا میں نے شبیر کو کہا بھی تھا کہ نیا چاول مت بھیجنا۔ پرانا چاول چاہیے مگر دیکھیں، بوری کھولی تو بالکل نیا۔‘ اماں پھوپھی کے سامنے سے دکھڑا رو رہی تھیں۔ ’مگر اماں نئی چیزیں تو اچھی ہوتی ہیں، جیسے نئے کپڑے، نئے کھلونے اور نئی نکور دلہن۔‘ ان دنوں ہمیں شادیوں میں دلہن دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ ’نہیں بیٹا، نیا چاول لئی بن جاتا ہے۔ پرانے چاول کا دانہ دانہ علیحدہ سے پھول جاتا ہے۔ اس کا

Read more

بابل وے، اساں اڈھ جانا!

”پرسوں نا میری خالہ آئیں اور شام کو پاس بٹھا کر میرے ہاتھ میں انگوٹھی ڈال دی۔ میری امی نے شکر ادا کیا“ ”کل تائی اماں ہمارے گھر آئیں اور میرے سر پہ دوپٹہ ڈالا۔ امی ابا اتنے فکر مند تھے کہ وہ اتنی دیر کیوں کر رہی ہیں؟“ ”پھوپھی نے ہاتھ پہ پیسے رکھے اور ساتھ میں مٹھائی کا ٹوکرا۔ امی کے وظیفے کام آ ہی گئے“ ”آج کل روزانہ ماسی آتی ہے ہمارے گھر، ہاتھ میں ڈھیروں تصویریں

Read more

ساڑھے 9 برس کی ماہواری اور مردانہ پیڈز!

52 برس میں سے اگر 12 منفی کریں تو جواب آئے گا 40۔ 40 برس میں دیکھیے کتنے ماہ ہوتے ہیں؟ 40 ضرب 12 = 480 مہینے۔ ہر مہینے کا ایک ہفتہ، مطلب 480 ہفتے۔ 480 ہفتوں کو برسوں میں تبدیل کردیجیے تو تقریباً ساڑھے 9 برس یا ساڑھے 3 ہزار دن! تحریر جاری ہے ‎ پریشان نہ ہوئیے، مسئلہ فیثا غورث پڑھانے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں۔ ہم تو سیدھا سیدھا حساب کر رہے ہیں کہ ایک عورت زندگی

Read more

ملتان بورڈ ؛ فرسٹ ائر اردو کے پرچے کا ایک سوال!

”تمہاری عورتوں میں سے سب سے بہترین عورت وہ ہے جو مہربان اور پاکدامن اور رشتے داروں میں احترام رکھتی ہو، شوہر کے سامنے فروتنی نہ کرے۔ اس کی بات مانے، خلوت میں اس کی مطیع ہو، صرف شوہر کی خاطر اپنے آپ کو مزین کرے، دوسروں میں دل چسپی نہ لے، اگر بیوی نرم خو ہو اور شوہر ناراض ہو جائے تو اسے چین نہ آئے مگر یہ کہ شوہر کو راضی کرے، شوہر کی عدم موجودگی میں اس کی آبرو کی حفاظت کرے، شوہر کے مال اور حیثیت کی محافظ ہو، دین کے معاملات میں شوہر کی مددگار ہو، بر محل خرچ کرے، ایسی عورت شوہر کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی، سعادت کا باعث اور کنیز خدا ہے“

Read more

قصائی، دائی اور کھینچ کھانچ کی کمائی!

لیبر روم سے فون تھا۔

”مریضہ کو درد آتے ہوئے تقریباً بارہ گھنٹے ہو چکے، رحم کا منہ کھل چکا ہے، ، زچگی قریب لگتی ہے لیکن ہو نہیں رہی“ ڈاکٹر آن ڈیوٹی کا کہنا تھا۔

”دیکھیے اگر اوزار لگا کر نکالا جا سکے؟“ ہم نے کہا۔

” ویجائنا میں سر پڑا ہوا نظر تو آر ہا ہے لیکن ساتھ میں سر پہ سوجن بہت زیادہ ہے۔ درد کے دوران کافی نیچے آتا ہے لیکن پھر اوپر چلا جاتا ہے۔ شاید ایک طرف کو جھکا ہوا ہے۔ سوجن کی وجہ سے اوزار ٹھیک کام نہیں کرے گا۔ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے“

ڈاکٹر نے کہا۔
”پھر آپریشن تھیٹر میں شفٹ کروائیں، وہاں دیکھتے ہیں“ ہم نے کہا۔
” مریضہ کے گھر والے اجازت نہیں دے رہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہم پیسے بنانے کے لیے آپریشن کرنا چاہتے ہیں“

Read more

بے چاری ڈاکٹر کے غریب شوہر!

”میری بیگم بھی ڈاکٹر ہے، بہت قابل، گولڈ میڈلسٹ“ باچھیں کھلاتے ہوئے ان صاحب نے ہمیں بتایا۔ ”بہت خوب، کہاں ہوتی ہیں؟“ ہم نے اشتیاق سے پوچھا ”گھر میں“ ”میرا مطلب ہے کہ کس ہسپتال میں کام کرتی ہیں؟“ ہم نے پوچھا۔ ”جی وہ ہسپتال میں کام نہیں کرتیں“ وہ منہ بنا کر بولے۔ ”کیوں؟“ ہم نے حیران ہو کر پوچھا۔ ”وہ جی، جب شادی کے بعد جب اس نے کام کرنا چاہا تو میں نے کہا کیا ضرورت ہے؟

Read more

روگ بھوگ!

امی بہت کمزور ہو گئی ہیں، کچھ کھا نہیں سکتیں، چلنے پھرنے میں بہت تکلیف ہے۔ ابا کا بلڈ پریشر بھی ہائی رہتا ہے، شوگر قابو سے باہر ہے، جسم کے جوڑ سوج جاتے ہیں جبکہ کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ کینسر آخری اسٹیج پر ہے اور رات کو نیند نہیں آتی۔ ماں باپ وہ نہیں رہتے جو ہوتے ہیں، وقت گزر جاتا ہے، شکل کا آئینہ آب و تاب کھو کر دھندلا جاتا ہے، ہر چیز بوسیدہ، ہر منظر مٹیالا،

Read more

گائناکالوجسٹ کا رحم!

دو ہزار ایک ہمارے لیے ایک مشکل برس تھا۔ چھوٹی سی بیٹی گود میں، دو امتحانوں کی تیاری اور حمل ہو گیا جناب۔ تحریری امتحان پاس کر چکے تھے اور زبانی امتحان کے لیے ہمیں کراچی جانا تھا۔ صبح ہولی فیملی ہسپتال جا کر دن رات مریضوں کو ٹٹولتے اور رات کو کتابوں سے رٹا لگاتے۔

ایسی مصروفیت میں حمل؟ کمال ہے بھئی۔ کیا کریں اب، ہونے والی چیز ہے، ہو گئی، کیا روگ لگائیں جی کو، دیکھیں گے امتحان کے مراحل طے کرنے کے بعد ۔ فوراً ہی تھپکی دے دی اپنے آپ کو کہ کسی بھی فرض سے غافل نہیں تھے۔

مگر جناب ہماری دن رات کی مصروفیت مزاج یار پہ ناگوار گزری سو حمل ہوا اور فوراً غائب بھی ہو گیا۔ مطلب یہ کہ ماہواری رکی، رحم میں بچے کی تھیلی بنی، بچے کا ایک نقطہ سا نظر آیا اور پھر ٹھس۔ بچہ صاحب یہ جا وہ جا، دل کی دھڑکن شروع ہی نہیں ہوئی۔ اچھا بھئی نہیں ہوئی تو کیا کریں؟ کیا فکر ہے، دو بچے موجود ہیں نا آخر۔ لیکن بات اتنی آسان نہیں تھی۔

Read more

قدیم چین کے کنول پاؤں اور اکیسویں صدی میں پاکستانی گلاب کی کلی!

”تم ہو کون اور کس دنیا سے وارد ہوئی ہو“ محبت اور شفقت سے لبریز ان الفاظ کو پڑھ کر آواز بیٹھ گئی ہے، نہیں معلوم حلق میں آنسو گرتے ہیں یا کچھ اور؟ کیا کہیں، کیسے بتائیں کون ہیں ہم؟ ایک عورت جو زندگی کی اونچ نیچ سے گزر کر ایک ایسی جگہ آ کھڑی ہوئی ہے جہاں اس کے دامن میں وقت نے علم و تجربے کے موتی تو ڈالے ہی ہیں۔ لیکن اس پہ قدرت یوں مہربان

Read more

کامیاب ازدواجی زندگی یا ستی؟

آگ جل رہی تھی۔ شعلوں کی لپلپاتی سرخ زبانیں دو انسانی جسموں کا ذائقہ چکھ رہی تھیں۔ فضا میں لکڑیوں کے تڑ تڑ جلنے کے ساتھ گھی میں لت پت انسانی گوشت جلنے کی بو تھی۔ لکڑیوں کے ڈھیر پہ دو جسم تھے۔ ایک مرد کا جسم جو شوہر تھا اور مر چکا تھا۔ ایک عورت کا جسم جو بیوی تھی اور زندہ تھی۔ زندہ عورت کو اپنی مرضی کے خلاف مردہ شوہر کے ساتھ جلنا تھا۔ جل کر خاک

Read more

کمہارن کا چاک!

”اماں، جب میں پیدا ہوئی تو کیا آپ خوش ہوئی تھیں؟“ ”یہ کیسا سوال ہے بیٹا؟“ ”بتائیے نا، کیا آپ خوش تھیں؟“ ”کیا بتاؤں تمہیں کہ میرا جی چاہتا تھا میں گھی کے چراغ جلاؤں، ناچوں گاؤں اور سب کو بتاؤں کہ ہمارے گھر ایک ننھی پری آئی ہے“ وہ بے اختیار ہنس پڑتی ہے اور آنکھوں کی جوت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ”کیوں ماں؟ آپ اداس کیوں نہیں ہوئیں؟ میں دوسری بیٹی تھی، کیا آپ کا جی نہیں چاہا

Read more

رحم میں اگر بچہ نہیں تو کیا ہے؟

”بتا یہ کیسے ہوا؟ کون ہے وہ؟“ اماں کا جوتا تڑ تڑ سر پہ برس رہا تھا۔ بھائی پستول نکال کر کھڑا تھا اور اس لڑکی کو کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کرے؟ ”اماں قسم لے لو میں کچھ نہیں جانتی“ وہ روتے روتے یہی کہتی جاتی۔ ”بے شرم، بے حیا، پیٹ اتنا بڑا کیسے ہو گیا؟ بتا کس کا پاپ لیے گھوم رہی ہے؟“ اماں کا جوتے والا ہاتھ رکتا ہی نہیں تھا۔ ” اماں اماں، یقین

Read more

مجھے ڈپریشن ہے!

*مجھے شوگر ہے۔ ( خاندان میں شوگر موجود ہے، موٹاپا بھی ہے، پھر پریشانیاں اور نوکری کا سٹریس بھی) اوہ، آپ غذا میں میٹھا کھانا چھوڑ دیں، ورزش کیا کریں، اور شوگر کی دوائیں باقاعدگی سے کھائیں *میرا بلڈ پریشر زیادہ رہتا ہے ( خاندان میں سبھی کو ہے، پھر نوکری بھی بڑی سٹریس فل ہے، کچھ گھریلو پریشانیاں بھی ہیں ) کولیسٹرول والی غذا نہ کھائیں، وزن کم کریں اور دوائیں باقاعدگی سے کھائیں۔ ناغہ نہیں کرنا۔ *مجھے کینسر

Read more

باکرہ بیوی چاہیے!

بھابی! جی۔ آپ میری شادی کا انتظام کر دیں۔ لیکن ایک شرط ہے۔ وہ کیا؟ لڑکی باکرہ ہونی چاہیے۔ ( راجہ گدھ۔ صفحہ نمبر 366 ) باکرہ لڑکی؟ بات آگے بڑھانے سے پہلے لفظ باکرہ کو دیکھ لیتے ہیں۔ مترادفات کی فہرست دیکھیے : ان چھیڑ، چیرا بند، بن بیاہی، در ناسفتہ، غنچہ نا شگفتہ، ناکتخدا، دوشیزہ۔ ارے ان مشکل الفاظ میں الجھیے نہیں، ہم بتائے دیتے ہیں۔ مفہوم عام میں وہ لڑکی جو شادی سے پہلے کبھی جنسی عمل

Read more

عورت زہر کی پڑیا یا تجربات کا نشانہ بننے والی چوہیا؟

"یہ پھول گلدان میں لگا دو” وہ لال گلابوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ملازمہ کچھ ہچکچاتی ہے لیکن مالک کے اصرار پر پھول گلدان میں سجا دیتی ہے۔ اگلے دن مرجھائے ہوئے پھول دیکھ کر مالک کے ماتھے پر شکنیں پڑ جاتی ہیں۔ ملازمہ کو بلایا جاتا ہے اور کچھ ذاتی سوال پوچھے جاتے ہیں۔ جن میں سے ایک سوال ماہواری کے متعلق ہے۔ انیس سو انیس کا زمانہ ہے۔ یاد رہے کہ جراثیم اور وائرس دریافت ہو چکے

Read more

شرم، گندگی اور گناہ کی مثلث

خاتون اور بچی۔ یہی جوڑی آتی ہے عموماً گائناکالوجسٹ کے پاس۔ کرسی پر بیٹھ کر خاتون کچھ دیر چپ رہیں، پھر اٹک اٹک کر بولیں، ”ڈاکٹر صاحب، اس کی وہ بہت خراب ہے۔ ہم بہت پریشان ہیں“ ”وہ۔ ۔ ۔ وہ کیا؟“ ہم نے حیران ہو کر پوچھا۔ ”وہ بیماری۔ ۔ ۔ بیماری جی“ وہ مزید ہکلا کر بولیں۔ ”کون سی بیماری؟ اور ویسے ہر بیماری ہی خراب ہوتی ہے“ ”جی، وہ۔ وہ جو ہر مہینے آتی ہے“ وہ مزید

Read more

چھاچھرو سندھ کی جادوگرنی!

زور لگاؤ، زور لگاؤ۔ اور، اور، منہ بند کر کے، نیچے کی طرف، اور، اور، اور تھوڑا سا اور۔ یہ کہنے والیاں ہانپ رہی تھیں۔ سب کے جسم پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ہاتھ لرز رہے تھے، ٹانگیں کپکپا رہی تھیں۔ ’کنسلٹنٹ کو فون کرو، فوراً پہنچیں۔ ‘ ان میں سے ایک چلا کر بولی۔ اگرچہ ان میں سے 2 کافی سینئر تھیں مگر اب کنسلٹنٹ آن کال کو بلانے کے سوا کوئی اور حل نہیں تھا۔ کیا آپ کو

Read more

بکر انعام یافتہ گیتانجلی شری کی ریت سمادھی اور حسن کی تعریف!

بات کچھ یوں ہے کہ آپ سب نے ہماری پچپن سالہ زندگی کو الٹ پلٹ کر دیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہم ہم نہیں رہے، کوئی اور ہے۔ یا تو کسی کی ہم میں جھلک ہے یا کوئی شدید غلط فہمی ہے جس کا شکار ہیں آپ سب اور یہ غلط فہمی کسی نہ کسی طور بڑھتی جا رہی ہے ہر روز، ہر بار۔ یقین کیجیے کہ ہر بار ہم حیرت زدہ ہو جاتے ہیں کہ کس کا یقین کریں؟

آپ کا؟
یا گزرنے والے پچپن برسوں کا؟
پھر سوچتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی گڑبڑ ہے ضرور کہیں نہ کہیں۔

Read more

جب باپ بیٹی کا رشتہ مردہ ہو جائے

منٹو کا اللہ دتا اور زینب زندہ ہیں! ” کیا لکھتی ہیں آپ؟ کن گھروں کے قصے سناتی ہیں؟ کیا ابا ابا کرتی رہتی ہیں؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کی یہ کہانیاں ہم جیسوں کے زخموں سے کھرانڈ اتار دیتی ہیں۔ جن ٹیسوں کو مشکل سے بھلایا ہے، وہ نئے سرے سے زندہ ہو کر جینا مشکل کر دیتی ہیں ” فادرز ڈے گزر گیا۔ اپنے اپنے ابا کی سب نے تصویریں لگائیں، نظمیں لکھیں، یادیں تازہ

Read more

گائنی فیمنزم: ماہواری کے پیڈز معاشرے کے لیے باعث شرم کیوں؟

”امی، امی، میں کیا کروں؟“ رات بارہ بجے سب کاموں سے فارغ ہو کر وہ اپنے بستر پہ جا ہی رہی تھی کہ بیٹی آہستہ سے کمرے میں داخل ہوئی۔ شکل پہ ہوائیاں اڑ رہی تھیں، آنکھوں میں ہلکی سی نمی بھی تھی شاید۔ ارے اسے کیا ہوا؟ اس نے سوچا۔ ”کیا ہوا میری شہزادی؟“ اس نے پچکارتے ہوئے کہا۔ ”آپ ڈانٹیں گی تو نہیں؟“ تیرہ چودہ سالہ بچی نے پریشان آواز میں کہا۔ ”بیٹا بتاؤ تو، میں پریشان ہو

Read more

اگر بہن سے بھائی جنسی زیادتی کرے تو؟

سوال بہت کڑوا ہے، شاید زہر ہلاہل جیسا۔

لیکن کیا کریں کہ اس سوال سے اٹھنے والی سڑاند سے اب ہمارا دم گھٹا جاتا ہے۔ پہلے تو یہ جان لیجیے کہ یہ سوال ہر گز ہمارے ذہن کی اختراع نہیں۔ یہ مسئلہ معاشرے کی ان بچیوں نے ہمارے سامنے رکھا ہے جو اس کا شکار ہیں۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس سوال کے پیچھے جو بھیانک حقیقت کسی آئس برگ کی طرح پوشیدہ ہے، وہ آپ بھی سمجھ لیں۔

ہم پچھلے تین برسوں سے معاشرے میں ریپ ہونے والی عورتوں اور بچیوں کا رونا رو رہے ہیں۔ کسی کے سر پہ آج تک جوں نہیں رینگی اس لیے کہ ہمارے معاشرے کے حکمرانوں اور علما نے اس کا ملبہ عورت، اس کے لباس، اس کی تعلیم، آزادی اور کیرئیر پہ ڈالا ہے۔ ہر بات کا جواب یہ ہے کہ باہر کیوں نکلی؟

Read more

اگر کوئی لڑکی اچانک آپ کے گھر پہنچ جائے تو؟

ظہیر کی ادھیڑ عمر ماں کا یہ سوال میڈیا پر سنا تو بے اختیار سوچا کہ کیا قصور ہوسکتا ہے ایک جوان بیٹے کی ماں کا، اگر کوئی لڑکی اچانک ان کے گھر پہنچ کر دعویٰ کرے کہ وہ ان کے بیٹے کی محبت میں بے حال ہوکر ماں باپ کا گھر چھوڑ کر ان کا گھر آباد کرنے آئی ہے۔

سوچا خود سے ہی سوال جواب کرکے دیکھیں شاید کوئی سراغ مل ہی جائے۔ آخر ایک بیٹے کی ماں تو ہم بھی ہیں، جس کا نام … چھوڑیے نام میں کیا رکھا ہے؟

ہاں تو یہ کہہ رہے تھے کہ ہم ایک نوجوان بیٹے کی ماں ہیں جو پچھلے برس اے لیولز کرکے یونیورسٹی گئے ہیں۔ عمر اس سال ہوجائے گی 19 برس۔ اللہ لمبی عمر کی سب بہاریں دکھائے۔

Read more

دعا زہرا کیا چاہتی ہے؟

دعا زہرا بار بار والدین سے منہ موڑ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ برملا کہتی ہے کہ اسے ماں باپ کے ساتھ نہیں رہنا۔ میڈیا کی یلغار، عدالتیں، پولیس کے چھاپے، تھانے، گرفتاری سے بچنے کے لیے جگہ جگہ در بدری، حکام بالا کی ملاقاتیں، رشتے دار اور والدین اسے اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹا نہیں سکے۔ شہلا رضا نے شیلٹر ہوم میں ملاقات تو کر لی لیکن دعا کا بیان والدین کے حق میں نہیں ہو سکا۔

کیوں؟

Read more

منشی پریم چند کی بدھیا اور اکیسویں صدی کی عورت!

’ماں، ماں میں مر رہی ہوں، مجھے بچا لو۔‘ 16، 17 برس کی اس لڑکی کو چیختے، کراہتے، بلبلاتے اور منتیں کرتے ہوئے ناجانے کتنا وقت گزر گیا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ کسی سیاہ تاریک رات کے گھپ اندھیرے میں ایک ایسے رستے پر چل رہی ہے جہاں کچھ نظر نہیں آتا کہ منزل کس طرف ہے؟ ’رضیہ بی، کچھ کرو نا، اب تو ایک دن اور ایک رات گزر گئی۔‘ چھنو کا سر دباتی اس عورت نے

Read more

مداری کی چھڑی اور بندریا کا ناچ!

”چل ری، ذرا نخرہ تو دکھا“ وہ فوراً منہ موڑ کر بیٹھ جاتی۔ ”چل ری، اب ٹھمکا لگا“ اور وہ اپنا چھوٹا سا گھاگھرا ہاتھ میں پکڑ کر اچھلنا شروع کر دیتی۔ مداری اور بندریا کا تماشا تو دیکھا ہی ہو گا آپ سب نے اپنے بچپن میں! بیسویں صدی میں جنم لینے والوں کی زندگی میں بہت سے ایسے قصے ہیں جو ناسٹیلجیا میں مبتلا کرتے ہیں۔ گلی سے جب بھی ڈگڈگی بجنے کی آواز آتی، ہمیں علم ہو

Read more

ماں، بیٹی اور نواسی!

مئی کا مہینہ تھا۔ سب کا گرمی سے برا حال تو تھا ہی، بے چینی سے انتظار کی گھڑیاں بھی گنی جا رہی تھیں۔ ٹھہرے ہم تو ہمیں حمل اور بچہ شادی پیکج کا ایک روٹین حصہ ہی لگ رہا تھا کہ شادی ہوئی ہے اب یہ کچھ تو ہو گا۔ ارد گرد سہیلیاں دھڑا دھڑ ماں بننے میں مصروف تھیں سو سوچا کہ کہیں اس دوڑ میں ہم پیچھے نہ رہ جائیں۔ عادت پڑی ہوئی تھی نا ہر چیز میں اول آنے کی۔ قسم لے لیجئیے اگر ماں بننے کی آرزو کا کہیں معمولی سا بھی نام و نشان ہو، ممتا کا احساس بھی ندارد تھا اور اور نہ ہی ہونے والے بچے سے محبت محسوس ہو رہی تھی۔

Read more

پھٹی ہوئی آنول، اندھیرا اور راز!

لیبر روم میں ایمرجنسی کی گھنٹی زور زور سے بج رہی تھی۔ جو جہاں تھا وہیں ٹھہر گیا۔ دروازہ کھلا اور 4 نرسیں اسٹریچر تیزی سے دھکیلتی اندر داخل ہوئیں۔ اسٹریچر پر لیٹی عورت کی آنکھیں بند تھیں اور چہرے پر موت کی سی سفیدی۔ نہ جانے آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا یا نہیں کہ کہانی کا کردار کتاب سے نکل کر سامنے آ کھڑا ہو اور آپ سوچیں، کیا یہی ہے وہ؟ ہے تو کچھ عجیب سی بات،

Read more

بیٹی کی شادی پہ لکھا جانے والا خط!

”سنو بیٹی ہماری عزت کی لاج رکھنا۔ ہماری جگ ہنسائی نہ کروانا، ہماری ناک نہ کٹنے دینا جہاں ڈولی میں بیٹھ کر جا رہی ہو، وہاں سے ڈولے میں ہی نکلنا“ نئی زندگی کے آغاز پر بیٹی کے کان میں کہے جانے والے یہ بچھو نما الفاظ! بیٹی کی شادی پہ ایسے زہریلے جملوں کا تحفہ؟ آخر کیا معنی ہیں ان الفاظ کے؟ یہی نا کہ شادی ہونے کے بعد اس گھر کے دروازے تم پر بند ہیں۔ تمہاری ذات

Read more

ماہواری، کالا جادو اور باجی طاہرہ جلالی!

پتھر دل محبوب آپ کے قدموں میں سوتن کا روگ اور توڑ شوہر کی بے رخی من پسند شادی سسرال سے تنگ طلاق کا مسئلہ افسر کو مطیع کرنا ساس بہو کا جھگڑا الو اور تیتر کے خونی تعویذوں کا نچوڑ! حیرت زدہ ہو گئے نا کہ آج ان موصوفہ کو کیا ہوا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ماہواری کا ورد کرتے کرتے تھک کر جلد ہی اپنا پیشہ تبدیل کرنے والی ہوں۔ مگر کیا کیجیے کہ جس پیشے کے

Read more

ذہنی بلوغت اور ماہواری؛ دل جلانے کی بات کرتے ہو

دیکھو اسے، لوٹھا کی لوٹھا ہو گئی اور عقل نام کو نہیں۔ شرم کرو، اب تو ماہواری بھی آ گئی۔ ہوش کے ناخن لو، تم بچی نہیں ہو اب! ماں بننے کے قابل ہو گئی ہو! کیا واقعی؟ کیا واقعی ماہواری اشارہ ہے کہ گیارہ بارہ برس کی بچی پہ عقل کے دروازے کھل چکے، زمانہ سازی، فہم، فیصلے کرنے کی اہلیت اپنے کمال کو پہنچ چکی، جذبات میں ابال کی آنچ کی جگہ برف جم چکی؟ کہا یہ جاتا

Read more

مجھے تنگ کردو؛ ڈاکٹر بے۔ ۔ ۔کی ڈائری!

ڈاکٹر میرا شوہر دوسری شادی کرنا چاہتا ہے، پلیز میری مدد کریں! اڑی اڑی رنگت اور بکھرے بالوں والی خاتون ہمارے سامنے تھیں۔ ہائیں، یہ کیسی فرمائش ہوئی؟ کیا ہم نے شادی کروانے کا ادارہ کھول رکھا ہے جہاں بے چین شوہروں کی دوسری شادی خدا کے فضل و کرم سے انجام پاتی ہو، کرسی پر پہلو بدلتے ہوئے ہم نے سوچا۔ دیکھئیے میں اس سلسلے میں بھلا کیا مدد کر سکتی ہوں آپ کی؟ آپ اپنے ماں باپ کو

Read more

جج صاحب اور عورت کی ٹانگیں!

”اگر آپ دوران آبادی اس کی (عورت) ٹانگیں نیچے نہ آنے دیتے تو آج یہ جانے سے انکار نہ کرتی“

کیا کہیں ان الفاظ کو پڑھ کر جو بھری عدالت میں انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہوئے منصف نے اس عورت کے لیے کہے جو اس کی عدالت میں اپنی زندگی جینے کا حق خلع کی صورت لینے آئی تھی۔

ہنسیں یا روئیں؟

یہ واقعہ منڈی بہا الدین کی عدالت میں پیش آیا جب خلع کی درخواست رد کرتے ہوئے جج موصوف نے عورت کو اس کے شوہر کے ساتھ جانے کو کہا۔ عورت کے انکار پہ جج صاحب آپے میں نہ رہے اور شوہر کو مخاطب کر کے اسے جھاڑ پلائی۔ جج صاحب کے خیال میں عورت اس لیے جرات سے خلع مانگنے آئی تھی کہ شوہر نے اس کی ٹانگیں ہر وقت فضا میں معلق کیوں نہیں رکھیں؟

Read more