”جون بھائی، میں آپ کی وفات پر جو کالم لکھوں گا، اُس میں کیا لکھوں، کوئی فرمائش؟ “ میرے ناگہانی سوال پر جون بھائی مسکرائے، پھر چہرے پہ ہزار سنجیدگی طاری کرتے ہوئے گویا ہوئے ”مری شاعرانہ صلاحیت کے بارے حد درجہ مبالغہ سے کام لینا اور اہلِ دنیا کو بہ ہر صورت قائل کرنا کہ تمھارے جون بھائی فیڈرل بی ایریا کراچی کے سب سے بڑے اردو شاعر تھے۔ “ میں نے صاف انکار کر دیا اور جون بھائی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسے بے سر و پا اور بلند و بانگ دعویٰ سے بہ طور نقاد میری ساکھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاک میں مل جائے گی۔
میرے جواب نے بظاہر ان کا رُوآں رُوآں اداس کر دیا، ذرا توقف کے بعد جون بھائی یک دم پلنگ سے اُٹھے اور میرے سامنے زمین پہ دوزانو اور دست بستہ بیٹھ کر گڑگڑانے لگے ”حماد، تم اپنے جون بھائی کو کم از کم فیڈرل بی ایریا کے ’اہم‘ شعراء میں سے ایک اہم شاعر توثابت کر سکتے ہو۔ “ میں نے انتہائی فیاضی سے ہاں کر دی۔
جون بھائی نے ایک خط میں اپنے جنازے کی نسبت سے مجھے کئی ہدایات لکھ بھیجیں۔ ”میں سامی النسل ہوں، سو اب یہ تمھاری ذمہ داری ہے کہ میرے جنازے کو میری عظیم نسلی روایات کا مظہر بناؤ، جنازے کے ہم راہ لاکھوں سوگواران ہونے چاہیے ں جو با آوازِ بلند گریہ کریں، سینہ کوبی کریں اور اپنی مُٹھیاں خاک سے بھر بھر کے آسمان کی طرف اچھالیں“۔ بعد میں ایک دن فون پہ بات ہوئی تو میں نے اُن سے وعدہ کیا کہ اُن کے جنازے سے متعلق اُن کی وصیت کو من و عن پورا کیا جائے گا۔
Read more