مزید جھوٹ

جو عزت چاہتا ہے جھوٹ ترک کر دے، جو آسانی چاہتا ہے دروغ گوئی سے اجتناب کرے، جو میٹھی نیند سونا چاہتا ہے کذب سے منہ موڑ لے۔ دنیا کی تمام برائیاں ایک کمرے میں رکھ کر کمرہ مقفل کر دیا گیا ہے، اور یہ قفل صرف ایک ہی کنجی سے کھلتا ہے، اور اس کنجی کا نام ہے ’جھوٹ‘۔دنیا کی ہر برائی سے بچنے کا، ہر ذلت ہر رسوائی سے محفوظ رہنے کا ایک انتہائی سادہ اور آزمودہ نسخہ

Read more

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب

روزانہ یہ چہرے جوہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں، بالخصوص معروف لوگوں کے چہرے، یہ دراصل چہرے نہیںہوتے، نقاب ہوتے ہیں، سماجی نقاب جنہیں نفسیات کی زبان میں’پرسونا‘ کہتے ہیں، کم ہو یا زیادہ ’شخصیت‘ اور ’پرسونا‘ میں خلیج ہوتی ہے، اور اس ’سماجی نقاب‘ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاشرہ آپ کو آپ ہی کی آنکھ سے دیکھے۔ قدرت اس دارالعمل میں منافقوں سے اغماض برتتی ہے مگرجب اس کی ناراضی بڑھ جائے تو وہ منافق کو اس

Read more

معشوقِ اعظم

اردو شاعری کا رسومیاتی محبوب از حد حسین اور بلا کا جھوٹا ہوتا ہے،شبِ وصل آنے کا وعدہ تو کرتا ہے وفا نہیں کرتا، عشاق تمام رات قیامت کا انتظار کرتے رہتے ہیں، محبوب کے وعدوں کی حقیقت جانتے ہیں مگرایک مخصوص قلبی حالت میں رہنا پسند کرتے ہیں، دلیلیں محبوب کے خلاف ہوتی ہیں مگر سوچتے اس کی حمایت میں ہیں، اور میر صاحب نے تو یہ کہہ کر بات ہی تمام کر دی کہ ”تیرے ایفائے عہد تک

Read more

HAPPY FATHER’S DAY

’کامیابی‘ کی ولدیت کے خانے میں نام لکھوانے والوں کی قطاریں طویل ہوتی ہیں، اور ’ناکامی ‘ کا باپ ’نامعلوم‘ بتایا جاتا ہے۔ امریکی صدر جان کینیڈی نے بے آف پگز کے ناکام آپریشن کے بعد یہ جملہ بولا تھا جو ہر طرف خوب معروف ہوا اور ہماری سیاسی تاریخ تو بالخصوص اس جملے کی حقانیت پر دال ہے، ہم اپنی کسی ناکامی کے ’ابو جی‘کا اسمِ گرامی نہیں جان سکے، درجنوں مثالیں ہیں، کس کس کا تذکرہ کیا جائے،

Read more

بجٹ مجنوں ہے کہ لیلیٰ

کھلا دھوکا دینے والے بازی گر آج کل ماہر معاشیات کہلاتے ہیں، ایک ہی رومال ہے جسے یہ ماہرین کبھی کبوتر بنا دیتے ہیں کبھی طوطا، اور دیکھنے والے پورے خروش سے تالیاں پیٹتے ہیں حال آں کہ ہوتا سب التباس ہے، یعنی بصری دھوکا، اور موجودہ وزیرِ خزانہ تو امامِ بازی گراں نکلے کہ اچھے اچھے سمجھ ہی نہیں پائے کہ لڑکی ہوئی ہے یا لڑکا، بجٹ مجنوں ہے کہ لیلیٰ، اچھا ہے کہ برا، عوام پر بوجھ پڑا

Read more

ہیرا آدمی

قیراط بیش قیمت جواہرات کا وزن ماپنے کا پیمانہ ہے، ایک قیراط کا مطلب ہوتا ہے 200 ملی گرام، اور پانچ قیراط ہوئے ایک گرام، پانچ قیراط ہیرے کی قیمت تین کروڑ تک ہو سکتی ہے، آج کل دستور یہ ہے کہ جوہری ہیرا بیچتا ہے تو ساتھ اس کی قیمت کا ایک سرٹیفکیٹ بھی دیتا ہے جسے دکھا کر خریدار جب چاہے اسی قیمت پر ہیرا واپس کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں ہیرے ابدی ہوتے ہیں، Diamonds are forever!

Read more

ارطغرل ثانی

اب کسی کو نہیں معلوم کہ کیا ہونا ہے، فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ، فیصلہ ساز خود گومگو  کے عالم میں ہے، ’ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں‘ والی کیفیت ہے، مقتدرہ خود بحرِ گمان میں غوطہ زن ہے، ہم ناتوانوں کی تو بات ہی چھوڑیے۔ ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے، ہر طرف ایک ڈاکٹرائن کا چرچا تھا جسے دہائیوں کے تجربے کا نچوڑ بتایا جا رہا تھا، جس کی روشنی میں بڑے

Read more

خاندانِ غلاماں کے چشم و چراغ

کچھ نہیں کھلتا، دھند میں لپٹے ہوئے راستے کے ساتھ ساتھ غنودہ اشجار ایستادہ ہیں کہ خون آشام بلاﺅں کا لشکر بھیس بدل کر گھات لگائے ہوئے ہے۔ آنکھ دھندلائی ہوئی ہے کہ منظر، کچھ نہیں کھلتا، تہہ بہ تہہ، اسرار ہی اسرار، گمان ہی گمان، کچھ ایسا ہی منظر فیض صاحب کو بھی درپیش رہا ہوگا، کہتے ہیں ’جو سائے دور چراغوں کے گرد لرزاں ہیں، نہ جانے محفل غم ہے کہ بزمِ جام و سبو، جو رنگ ہر

Read more

گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوئے

دیو مالا کے کردار محیر العقول ہوتے ہیں لیکن ان میں بھی ایسا کوئی خالق مذکور نہیں جو اپنی مخلوق کے سامنے سجدہ ریز ہو جائے، بلا شبہ ہماری سیاست میں اساطیر سے کہیں زیادہ پیچاک ہیں۔ جنرل ضیاالحق نے جب ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت سے نکالا تو انہیں پھانسی گھاٹ تک پہنچانے کا بندوبست بھی کیا، جب پرویز مشرف نے 1999 میں نواز شریف کی حکومت الٹائی تو ان کے لیے جیل اور جلاوطنی کا انتظام بھی کیا،

Read more

سیاست میں انا الحق کا خطرناک نعرہ

  آئین اور جمہوریت کے منطقے میں رہتے ہوئے فاشزم سے کیسے نپٹا جائے؟ یہ ہے آج کا سوال جس کا جواب ریاست پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر تلاش کرنا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی کوئی ریاست اس دبدھا کا آسان حل نہیں ڈھونڈ پائی، اصول و ضوابط کے اندر رہ کر بے اصولی اور تشدد کا مقابلہ کرنامشکل کام ہے، بالخصوص اگر ریاست کے ادارے ناتواں ہوں اور انہیں عوام کا غیر مشروط اعتماد حاصل نہ ہو۔ ہٹلر

Read more

بندہ ایمان دار ہے!

سنتے ہیں کہ سکندر جب دنیا سے گیا اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے، اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ جب عمران خان پرائم منسٹر ہاﺅس سے گئے تو ان کا ایک ہاتھ خالی تھا، دوسرے میں ایک ڈائری تھام رکھی تھی، بالشت بھر کی ڈائریوں میں اکثر طولِ شامِ غم کے قصے ہوا کرتے ہیں،مگر ہم نہیں جانتے خان صاحب کی ڈائری میں وظائف لکھے تھے یا توشہ خانے کے تحائف کی تفصیلات، لہٰذا  آئیے وہ بات کرتے

Read more

یہ ماتم کی ’گھڑی‘ ہے

زوال ہمہ گیر ہوتا ہے، ایک سیلِ تند رو جو کوہ و بیاباں پہ پھیل جاتا ہے، آگے پیچھے، ایک ایک کر کے سب کچھ ڈوب جاتا ہے، کواڑ بھیڑ لینے سے سیلاب ٹلا نہیں کرتا، زوال درزوں سے اندر آ جاتا ہے، تریڑوں کو شگاف بناتا ہوا، جھریوں کو پھاڑتا ہوا۔ کچھ ایسا ہی منظر ہم اپنے درمیان دیکھ رہے ہیں۔ شہزاد احمد نے کہا تھا ’بہا کر لے گیا سیلاب سب کچھ، فقط آنکھوں کی ویرانی بچی ہے‘۔

Read more

جونِ جہاں… جون ایلیا

جون بھائی مبارک ہو! آپ ہمیشہ کہا کرتے تھے ”میں اردو دنیا کا سب سے مقبول شاعر نہیں ہوں، زندہ شاعروں میں احمد فراز اردو زبان کا مقبول ترین شاعرہے۔ “ آپ صحیح کہا کرتے تھے، ایسا ہی تھا۔ لیکن اطلاعاً عرض ہے کہ آج سارا منظر ہی بدل چکا ہے۔ چار سُو آیات بکھری ہوئی ہیں، سوشل میڈیا کو دیکھیے،نمایاں سرچ انجن کے ڈیٹا پر نظر ڈالیے، یو ٹیوب وڈیوز پر آمد ورفت کا جائزہ لیجیے، بلاگ گنیے، فیس

Read more

جون بھائی کے اردو جہاں کا مقبول ترین شاعر بننے کی وجہ کیا ہے؟

جون بھائی مبارک ہو! آپ ہمیشہ کہا کرتے تھے ”میں اردو دنیا کا سب سے مقبول شاعر نہیں ہوں، زندہ شاعروں میں احمد فراز اردو زبان کا مقبول ترین شاعر ہے۔ “ آپ صحیح کہا کرتے تھے، ایسا ہی تھا۔ لیکن اطلاعاً عرض ہے کہ آج سارا منظر ہی بدل چکا ہے۔ چار سو آیات بکھری ہوئی ہیں، سوشل میڈیا کو دیکھیے، نمایاں سرچ انجن کے ڈیٹا پر نظر ڈالیے، یو ٹیوب وڈیوز پر آمد ورفت کا جائزہ لیجیے، بلاگ

Read more

جنرل صاحب کی مدح مجھ پہ قرض ہے

تاریخ 29 ویں اپریل، وقت رات دس بجے، آج ٹی وی۔ عاصمہ جہانگیر کی بیٹی کی میزبانی میں پروگرام ہو رہا ہے۔ اور شرکاء میں سے کبھی سلیم صافی کی آواز غائب ہو جاتی ہے اور کبھی ضیا الدین صاحب کی، بس ہونٹ ہلتے نظر آ رہے ہیں، منیزے کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو رہا ہے، پروگرام کے واحد شریک جن کی آواز مسلسل و پیہم آ رہی ہے کوئی دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ سکرین کے نچلے حصے میں ٹکر چل رہا ہے ”پاکستان نہ ٹوٹتا اگر 71 میں میڈیا آج کی طرح آزاد ہوتا“۔

Read more

جون ایلیا: فیڈرل بی ایریا کراچی کا سب سے بڑا شاعر؟

”جون بھائی، میں آپ کی وفات پر جو کالم لکھوں گا، اُس میں کیا لکھوں، کوئی فرمائش؟ “ میرے ناگہانی سوال پر جون بھائی مسکرائے، پھر چہرے پہ ہزار سنجیدگی طاری کرتے ہوئے گویا ہوئے ”مری شاعرانہ صلاحیت کے بارے حد درجہ مبالغہ سے کام لینا اور اہلِ دنیا کو بہ ہر صورت قائل کرنا کہ تمھارے جون بھائی فیڈرل بی ایریا کراچی کے سب سے بڑے اردو شاعر تھے۔ “ میں نے صاف انکار کر دیا اور جون بھائی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسے بے سر و پا اور بلند و بانگ دعویٰ سے بہ طور نقاد میری ساکھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاک میں مل جائے گی۔

میرے جواب نے بظاہر ان کا رُوآں رُوآں اداس کر دیا، ذرا توقف کے بعد جون بھائی یک دم پلنگ سے اُٹھے اور میرے سامنے زمین پہ دوزانو اور دست بستہ بیٹھ کر گڑگڑانے لگے ”حماد، تم اپنے جون بھائی کو کم از کم فیڈرل بی ایریا کے ’اہم‘ شعراء میں سے ایک اہم شاعر توثابت کر سکتے ہو۔ “ میں نے انتہائی فیاضی سے ہاں کر دی۔

جون بھائی نے ایک خط میں اپنے جنازے کی نسبت سے مجھے کئی ہدایات لکھ بھیجیں۔ ”میں سامی النسل ہوں، سو اب یہ تمھاری ذمہ داری ہے کہ میرے جنازے کو میری عظیم نسلی روایات کا مظہر بناؤ، جنازے کے ہم راہ لاکھوں سوگواران ہونے چاہیے ں جو با آوازِ بلند گریہ کریں، سینہ کوبی کریں اور اپنی مُٹھیاں خاک سے بھر بھر کے آسمان کی طرف اچھالیں“۔ بعد میں ایک دن فون پہ بات ہوئی تو میں نے اُن سے وعدہ کیا کہ اُن کے جنازے سے متعلق اُن کی وصیت کو من و عن پورا کیا جائے گا۔

Read more

یہ میرا آخری کالم ہے

میں آج سیاست پہ لکھنے سے ریٹائرمنٹ کا باضابطہ اعلان کرتا ہوں۔ ایسے لکھنے سے کیا حاصل جب ہرسطر لکھنے سے پہلے یہ سوچنا پڑے کہ کیا نہیں لکھنا، بلکہ کیا کیا نہیں لکھنا۔ جو لکھنا ہے اس کے بارے سوچیں یا جو نہیں لکھنا اس کے بارے؟ ہرجملہ لکھتے ہوئے کیا اسی اُدھیڑ بُن میں رہیں کہ بات قاری سے کیسے چھپانی ہے؟ کیا ہم اپنے خیالات لوگوں تک پہنچانے کے لئے لکھتے ہیں یا چھپانے کے لئے؟ یا وجاہت مسعود صاحب جیسا طرزِ تحریر ایجاد کریں اور عمودِ لحمی کی مرگِ ناگہانی کا تذکرہ اس یقین کے ساتھ کریں کہ بڑی حد کتنوں کو سمجھ آ جائے گا۔ میری طرح ہر اُس صحافی کو لکھنا چھوڑ ہی دینا چاہیے جسے لکھتے ہوئے مسلسل یہ محسوس ہو جیسے وہ Coitus Interruptus کی مشق کر رہا ہے۔

Read more

حکومت کے نوے دن

نوّے دِن میں پی ٹی آئی حکومت اپنی سمت متعین کر چکی ہے، کس طرف جانا ہے اور کس طرف بالکل نہیں جانا، یہ بنیادی فیصلے کر لئے گئے ہیں۔ یہ قافلہ سفر پہ روانہ ہو چکا ہے۔ یہاں ہمیں اس سوال سے بحث نہیں کہ یہ قافلہ منزل پہ پہنچ پائے گا یا تھک کے راستے میں ہی رہ جائے گا، فی الحال ہمیں فقط اس کے رُخ سے واسطہ ہے، یعنی اگر آپ کا سفرمغرب کی جانب ہے

Read more

پی ٹی وی کا ناجائز چیئرمین عطا الحق قاسمی

چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے لئے ہماری عقیدت کو کچھ احباب چاپلوسی گردانتے ہیں، جب کہ ہم اُن کی رائے کو قصۂ کم نظری سمجھتے ہیں۔ آپ خود فیصلہ کیجیے، ہمیں ایک ایسے چیف جسٹس کی مدح میں غلو سے کام لینے کی کیا ضرورت ہے جو سبک دوشی کے سرہانے کھڑا ہے؟ کیا جانے والے سے محبت اور عقیدت اور پھر اس کا بر ملا اعتراف رسمِ کاسہ لیسی کہلا سکتی ہے؟ قطعاً نہیں! یہ تو ہمارے دل کی صدا ہے، ہمارے ضمیر کی آواز ہے، ”مجھے ہے حکمِ ازاں“ کی تفسیر ہے۔ قند کو زہرِ ہلاہل قرار دینا تو سراسر بدنیتی ہو گی۔

جو دوست حقیقی زندگی میں چیف جسٹس ثاقب نثار کو قریب سے دیکھ چکے ہیں ہمیں اُن پہ رشک آتا ہے۔ خُدا جانے وہ اپنے جذبات پہ کیسے قابو پاتے ہوں گے، ہم تو نہ رکھ پاتے، ہم تو غالباً آپے سے باہر ہو جاتے، حال کھیلتے، سر میں خاک ڈالتے (اپنے ) ، کپڑے پھاڑ ڈالتے (اپنے ) اور اس کے سوا بھی نہ جانے کیا کر بیٹھتے، یعنی ”وصل اُس کا خُدا نصیب کرے، میر، جی چاہتا ہے کیا کیا کچھ“ ۔

Read more

سنسر شپ ملکوں کو توڑ کر رکھ دیتی ہے

”اب تم نے یہ لفظ بولا تو تمھاری زبان پہ انگارہ رکھ دوں گی“ یہ ہے اکثر بچوں کا سنسر شپ سے اولین تعارف، اور پھر چل سو چل، زندگی بھر کسی نہ کسی شکل میں سنسر شپ سے واسطہ رہتا ہے، کوئی بات بڑوں کے سامنے نہیں کرنی، کوئی بات بچوں سے چھپانی ہے، کچھ سوال محلے کے امام مسجد سے پوچھنے والے نہیں ہیں اور کچھ موضوعات اسکول میں شجرِ ممنوعہ قرار پاتے ہیں۔ اس ساری تربیت سے

Read more

موت کا کنواں

طرح طرح کے نُسخے آزمائے، رنگ برنگے وظائف حرزِ جاں بنائے، نِت نئے نظام چلائے، لیکن خُدا جانے آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے، بات نہیں بن پا رہی، یہ سنگ ڈھلانوں پہ ٹھہرنا چاہتا ہے، ٹھہر نہیں پا رہا، یہ ایسا قافلہ ہے جو کہیں نہیں جا رہا۔ ہم کاغذ پر بے عیب نظام بناتے ہیں، جب اس پر عمل کرتے ہیں تو کچھ خلا نظر آتے ہیں، اُس کو پُر کرتے ہیں اور پُورے اخلاص سے اِصلاح

Read more

پاکستان ٹیک آف کرنے والا ہے

حضرت علی ہجویری ؒ المعروف داتا صاحب کے عرس کے موقعے پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ارشاد فرمایا ”پاکستان ٹیک آف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ “ یہ جُملہ سننے کو کان ترسے ہوئے تھے سو دل سے بے اختیار الحمدللہ نکلا اور آنکھیں چھلک گئیں۔ ہمیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ فقرہ چیف جسٹس سے ”کہلوایا“ گیا ہے۔ داتا صاحبؒ کے مزار کے احاطہ میں نُطقِ خود سر کی گنجایش کہاں۔ لہذا، اب ہمیں انشراحِ صدرحاصل ہو گیا ہے کہ ہم تبدیلی کے دہانے پہ کھڑے ہیں، کٹھ پُتلیوں کا تماشہ ختم ہونے کو ہے، ٹیک آف کا وقت آن پہنچا ہے۔

Read more

قصور کی زینب اور ہتھکڑیوں میں استاد

قصور کی زینب کے قاتل عمران علی کو پھانسی دے دی گئی۔ انصاف کے تقاضے پورے کر دیے گئے۔ زینب کے بابا نے میڈیا اور چیف جسٹس پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، مجرم کی سزا پر اطمینان کا اظہار کیا۔ زینب کے بعد بھی ہمارے درجنوں بچے بھنبھوڑ کے قتل کر دیے گئے۔ مجھے اُن بچوں کے نام یاد نہیں، آپ کو یاد ہیں؟ اُن بے نام بچوں کے والدین کبھی ٹی وی پہ نظر نہیں آئے، انہوں نے

Read more

شہباز شریف کی چمڑی اُتار دی جائے!

’خدمت کو عزت دو‘ کا بچہ! مصلحت کی اولاد! مفاہمت کاگماشتہ! پِٹ گیا کم بخت، چاروں شانے چت پڑا ہے، بس تڑپنے کا شوق تھا جس کو، اب بمشکل پڑا تڑپتا ہے، کرپشن کا گاما پہلوان، کاہلوں کا لندھور، ہمیں نہیں چاہیے ایسا خادمِ اعلیٰ، ہِشت اے انسان، اے انسان ہِشت! پنجاب سپیڈ پہ تین حرف، سپیڈ تو ایک نشے کا نام ہے، اور ویسے بھی جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے۔ نقشِ کُہن کو مٹانا عین انقلاب ہے

Read more

ضمنی انتخاب بھی فوج کی نگرانی میں ہوں گے؟

پاکستان کا سب سے منظم ادارہ فوج ہے، اس کی پیشہ ورانہ مہارت عالی شان ہے، اس کا داخلی اتحاد قابلِ رشک ہے۔ افواجِ پاکستان کی یہ خوبیاں وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ یہ پاک فوج کے وہ وظائف ہیں جن پہ ملک کے اندر اور باہر ایک ہی رائے ہے۔پاکستان کے باقی تمام ادارے کمزور ہیں، پارلیمان فانی ہے، ستّر برس کے دوران کبھی ہے، کبھی نہیں ہے، اور جب ہوتی بھی ہے تو اس

Read more

پنجاب کے بے ایمان وزرائے اعلی

سیفما کے دوستوں کی ایک منڈلی میں کلدیپ نیر صاحب گفت گوکے دوران کہنے لگے ” جنگ ایک انڈسٹری ہے، سرحد کے دونوں طرف نفرت کی آگ دہکتی ہے تو بہت سے گھروں کے چولہے جلتے ہیں، اگر ہندوستان پاکستان میں تعلقات بہتر ہو جائیں تو بہت سوں کی روزی روٹی چِھن جائے گی، سو نفرت کے سوداگر کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہم پیار سے رہیں‘‘۔ کلدیپ صاحب جیسے قد آور صحافی کے سامنے اپنی صحافیانہ نکتہ رسی کی

Read more

کلثوم بنام بائو جی

پاک لین۔عرشِ معلی میرے بائو جی! مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں کہ آپ اور گُڑیا جیل میں ہیں، آپ سے بات بھی ہوئی، آپ نے بھی نہیں بتایا۔ جب یہاں پہنچی تو پتا چلا، پہلے تو میں خفا ہوئی، لیکن پھر سوچا یہ آپ ہی کا فیصلہ ہو گا، آپ نے سوچا ہو گا بستر پہ پڑی پریشان ہوتی رہے گی، تو کیا فائدہ، اسے نہ ہی بتایا جائے۔ اب سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ آپ کا فیصلہ

Read more

میں منافق نہیں ہوں

کیا ہم میں اتنی جرات ہے کہ ہم چیف جسٹس ثاقب نثار کے بارے کسی لگی لپٹی کے بغیر سچ لکھ سکیں؟کیا ہم پوراسچ لکھنے کے لئے اُن کی ریٹائرمنٹ کا انتظا ر کریں گے؟ کیا سچ لکھنے کی ذمہ داری صحافی سے مورخ کو منتقل ہو چکی ہے؟یہ تو سراسر مُنافقت ہے اور میں آج اس منافقت سے سرِ عام اِنکار کرتا ہوں۔اب زرا تحمل سے میری بات سنیے! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک فرد پوری قوم

Read more

حبیب جالب کے زیر تربیت انقلابی کی گُم شدگی

سوشل میڈیا میں ’’تلاش گُم شدہ‘‘ کا ایک اشتہار نظر سے گزرا، جس میں لاپتہ فرد کو حبیب جالب کا ماننے والا اور خلائی مخلوق کا منکر بتایا گیا تھا۔ اگر شہباز شریف صاحب سے ہماری بے تکلفی ہوتی تو اس اشتہار کا مکمل متن آپ کی تفنن طبع کے لئے یہاں نقل کیا جاتا۔ سوشل میڈیا کی یہ دُرفنتنی برطرف مگر یہ حقیقت ہے کہ شہباز صاحب اپنے عدم تحرک کے باعث بہت جلد نظروں میں آ گئے ہیں۔

Read more

خان صاحب، تھپڑ سے ڈر لگتا ہے

آدمی اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہوتا ہے، زبان حرکت کرتی ہے تو ظاہر ہونے لگتا ہے، اور غصہ کی حالت میں تو یکسر بے نقاب ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں زبان کا لگایا ہوا زخم تلوار سے بھی گہرا ہوتا ہے کہ یہ روح تک گھائل کر جاتا ہے، اور لازم نہیں کہ روح کے زخم وقت کے ساتھ بھر جائیں۔ لہٰذا گوشت کے اس لوتھڑے کو ہر حال میں احتیاط سے استعمال کریں۔ چودھری اعتزاز احسن صاحب: تم

Read more

وزیرِ اعظم کی تعریف میں ایک کالم

ہمارے دوست، معروف غزل گو شہزاد احمد کہا کرتے تھے کہ کاش کسی دن پاکستان کا وزیرِ اعظم ایسا شخص ہو جو وزن میں شعر پڑھ سکے۔ ماضی کے مقبول اداکار اور دانشور راحت کاظمی کو چند برس قبل ٹی وی پہ اپنے آئیڈیل وزیرِ اعظم کی تعریف بتاتے سُنا کہ ’’میرا محبوب وزیرِ اعظم وہ ہو گا جسے فنونِ لطیفہ سے محبت ہو گی‘‘ اور موسیقار کامران اخترکا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم ایسا ہونا چاہیے جو کم از

Read more

"پُرسکون حکمرانی” کی اداکاری

آج کل کروڑوں ہم وطنوں کو بس ایک ہی مسئلہ درپیش ہے، ایک ہی سوال ہے جس کے جواب کی تلاش دن رات، بستی بستی، گلی گلی جاری ہے۔ ’’ہمارے محبوب قائد اور اگلے وزیراعظم عمران خان کہاں رہیں گے۔‘‘ بقول ظفر اقبال: کھڑکیاں کس طرح کی ہیں، اور، در کیسا ہے وہ سوچتا ہوں، جس میں وہ رہتا ہے، گھر کیسا ہے وہ یہ درست ہے کہ آج سے پہلے پاکستان کے کسی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کا

Read more

بنے گا نیا پاکستان؟

بے قراری سی بے قراری ہے، کیساہو گا نیا پاکستان، کونسی رنگت کے ہوں گے اُس کے زمین و آسمان، اُس کی آب و ہوا کیسی ہو گی اور اُس میں سانس لینا کتنا انوکھا تجربہ ہو گا، تبدیلی صبر طلب اور تمنا بے تاب۔ شاید نئے پاکستان کے لئے ہی جون بھائی نے کہا تھا: اُس سے کہیو کہ دِل کی گلیوں میں رات دن تیری انتظاری ہے ایک زمین کا ٹکڑا تو ہم نے اِکہتّر سال پہلے حاصل

Read more

جنرل الیکشن

عمران خان پاکستان کے انیسویں وزیر اعظم ہوں گے۔ اُمید ہے انہیں اُن مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو اُن کے ہر پیشرو کا مقدر ٹھہریں، دُعا ہے کہ وہ اپنے حامیوں کی توقعات پر پورا اُتریں، اپنے سیاسی مخالفین کے اندیشوں کو غلط ثابت کریں اور اپنی پانچ سالہ مُدت پوری کریں۔ توقع ہے کہ اس انتخاب کے نتیجے میں جو قومی اسمبلی وجود میں آئی ہے اس پہ کوئی تین حرف نہیں بھیجے گا، نہ ہی

Read more

متنازع انتخابات میں کس کی ہار؟

بین الاقوامی کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائرز کے متعارف ہونے سے پہلے بھارت شاید ہی کوئی ہوم سیریز ہارا ہو۔ بھارتی جیت کا فارمولا بہت سادہ ہوتا تھا، اپنے بہترین بیٹسمین کا آوٹ ’’پی‘‘ لیا جائے اور مخالف ٹیم کے بہترین بیٹسمین کو غلط آوٹ دے دیا جائے۔ اگر مخالف ٹیم سخت جان ہوتی تو سروپ کشن اور راما سوامی جیسے ایمپائروں کے ترکش میں اور بھی کئی تیر تھے، کسی بہترین باولر کی بلا وجہ نو بال دے کر اُس

Read more

متنازع انتخابات میں کس کی ہار؟

بین الاقوامی کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائرز کے متعارف ہونے سے پہلے بھارت شاید ہی کوئی ہوم سیریز ہارا ہو۔ بھارتی جیت کا فارمولا بہت سادہ ہوتا تھا، اپنے بہترین بیٹسمین کا آئوٹ ’’پی‘‘ لیا جائے اور مخالف ٹیم کے بہترین بیٹسمین کو غلط آئوٹ دے دیا جائے۔ اگر مخالف ٹیم سخت جان ہوتی تو سروپ کشن اور راما سوامی جیسے ایمپائروں کے ترکش میں اور بھی کئی تیر تھے، کسی بہترین بائولر کی بلاوجہ نو بال دے کر اُس کا

Read more

نواز شریف واپس کیوں آ رہے ہیں؟

تاریخ ہر معروف شخص کی تصویر کے نیچے ایک  Captionلکھ دیتی ہے، اورآنے والی نسلوں کے لئے یہی کیپشن اس شخص کا تعارف ٹھہرتا ہے۔ تاریخ نواز شریف کی تصویر تلے کیا سُرخی جمائے گی؟ نا اہل سابق وزیر اعظم، کرپشن کا مجرم میاں محمد نواز شریف؟ یا آئین کی بالا دستی کا خواب گر، شہےدِ جمہوریت میاں محمد نواز شریف ؟ہر بڑے آدمی کی طرح میاں صاحب بھی اپنی تصویر کے نیچے اپنی پسند کا کیپشن لکھنا چاہتے ہیں،

Read more

کمزور دل حضرات اور شیر

کسی بھی مرض کے علاج کی پہلی شرط درست تشخیص ہے اور حکمائے دوراں نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جملہ امراض مخصوصہ کی جڑ میاں محمد نواز شریف ہیں، یہ جڑ کاٹ دی جائے تو ’سب اچھا‘ کے فلک شگاف نعروں سے یہ خطہء ارض گونج اٹھے گا، ہم ایف اے ٹی ایف کی فہرستِ ابیض میں آ جائیں گے، ہمارے ہمسایہ ممالک واری صدقے جائیں گے، پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کا ٹینٹوا دبا دے گا، پٹرول کی

Read more

پٹواری اور قوم یوتھ

ایک طرف محبت کے دریا کی طغیانی، ایک طرف نفرت کی آگ کا دہکتا ہوا الائو، یہ ہے بیگم کلثوم نواز کی شدید علالت کے دوران ہمارے اجتماعی ردعمل کی مختصر اور تاسف انگیز کہانی۔ سیاسی سوداگروں نے قوم کو کرودھ کی کلہاڑی سے اس طرح کاٹ بانٹ دیا ہے کہ آج ’آپ‘ کا غم ’میرے‘ لئے نوید مسرت ہے، آپ کی ماں مر جائے تو میں لڈو بانٹوں، میرا بیٹا مر جائے تو آپ جشن منائیں اور اس نفرت

Read more

بلیک بیری صادق اور امین ہے

’’ریحام خان جھوٹ بول سکتی ہے مگر بلیک بیری کبھی جھوٹ نہیں بولتا‘‘ یہ فقرہ ہم نے ایک محفل میں اپنے پی ٹی آئی کے دوستوں سے چھیڑ خانی کے لئے لڑھکایا تو اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے، آنکھوں میں انجانے خوف کے سائے لرزنے لگنے، ہونٹ بھنچ گئے اور پیشانیاں شکن آلودہ ہو گئیں، جب کہ دوسری طرف اصحابِ نون تھے اور ’گرمئی نشاطِ تصور‘۔ اچھی خاصی دلچسپ گفتگو سے نڈھال ہو کر آخرِکار سب پڑھے لکھے

Read more

کمیشن امپاسیبل

نوّے کی دہائی کے ابتدائی برس تھے، ایک انتہائی تابڑ توڑ شاعر( شاہ صاحب) اکثر اپنی تازہ کتاب تبصرہ کے لئے ارسال فرماتے تھے مگر میں خواہش کے با وجود ان کی کتاب پر تبصرہ کی سعادت کبھی حاصل نہ کر سکا۔ ایک بار کسی تقریب میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے اس حوالے سے گلہ کیا تو میں نے حلفاً عرض کیا کہ اب تک کئی بارایسا ہو چکا ہے کہ میں آپ کی کتاب پر مضمون لکھنا شروع

Read more

عمران خان کو چیف جسٹس کا بہترین مشورہ

سنتے ہیں جب یوم حساب برپا ہو گا کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا، کوئی کسی کی مدد نہیں کر سکے گا، نہ والدین اپنے بچوں کی سفارش کر سکیں گے، نہ بچے والدین کی۔ سب اپنے اپنے اعمال کے لئے خود جوابدہ ہوں گے۔ اسی طرح سیاستدان انتخاب کے دن کو اپنا یوم حساب مانتے ہیں، جب وہ اپنے اعمال کے دفتر لے کر، ننگے پاؤں، خاک نشینوں کے دربارعالیہ میں حاضر ہوتے ہیں۔ اپنی چھوٹی چھوٹی نیکیاں قوالوں

Read more

اپنا بچہ، ماں صدقے

گلو کارہ میشا شفیع نے ساتھی گلوکار علی ظفر پر Sexual Harassment کا الزام لگایا ہے۔ جنسی طور پہ ہراساں کرنے کا الزام ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ علی ظفر نے اس سنگین الزام کی تردید کرنا کافی نہیں سمجھا اور میشا کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا۔ علی کا کہنا ہے کہ اب سچ اور جھوٹ کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ یہ ہے کسی بھی سنگین الزام سے نمٹنے کا مہذب اور باوقار طریقہ۔ میشا شفیع

Read more

عدالتیں اور تاریخ کا کٹہرا

بچپن کے دوست جب ”پکپن“ میں اکھٹے ہوں تو گپ الل ٹپ کے دریا کی طغیانی میں مہ و سال بہتے چلے جاتے ہیں، جُبے اتر جاتے ہیں، دستاریں لپیٹ کر رکھ دی جاتی ہیں، سب لڑکے بن جاتے ہیں۔ یعنی ”سال ہا سال اور اک لمحہ، کوئی بھی تو نہ ان میں بل آیا، خود ہی اک در پہ میں نے دستک دی، خود ہی لڑکا سا میں نکل آیا۔ “۔ اس قطعے کی بصری تفسیر پچھلے ہفتے دیکھی

Read more