صحرائے تھر میں موت کا راج


rana aijaz hussain

کوئلے ، چائناکلے، کرینٹ پتھر اور نمک کے ذخائر سے بھر پور صحرائی علاقے تھر میں ایک بار پھرقحط سالی اور خوراک کی کمی کے باعث کے موت کا راج ہے۔قطرے قطرے کو ترسے صحرائے تھر کے باشندوں پر بھوک و افلاس نے ڈیرے ڈال دیے ہیں ۔تھر کی پیاسی زمین سے پرندوں نے تو ہجرت کرلی لیکن بڑی تعداد میں مال مویشیوں کی ہلاکت کے بعد انسان بھی مرنے لگے ہےں ، ننے معصوم پھول جیسے بچے مرجھانے لگے ہیں ، روز بروز ما¶ں کی گود اجڑنے لگی ہے ۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق گزشتہ 9 روز میں 27 سے زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ جبکہ متاثرین کی تعداد چھپانے کی خاطر ہسپتال انتظامیہ نے بچوں کو زبردستی ڈسچارج کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔

سندھ کے چوتھے بڑے شہر میرپورخاص سے چار گھنٹے کے فاصلے پر دنیا کے نویں بڑے صحرائے تھر کی شروعات ہوتی ہے۔اس صحراءکا ہیڈ کواٹر مٹھی شہر ہے۔ چاروں طرف ریت کے ہیبت ناک ٹیلوں سے گھر ا ہوا یہ شہر آج کل افریکا کا بھوک اور افلاس زدہ علاقہ محسوس ہو رہا ہے۔ ریت کے بڑے بڑے خوفناک ٹیلے دیکھتے ہی انسان کے جسم میں کپکپی طاری کردیتے ہیں،دور دور انسان تو درکنار جاندار نام کی کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ کمزور دل انسان کو اگر اس صحرا کے سناٹے میں کھڑا کردیا جائے تو تیز ہواوں کی خوفناک آواز سے اس کا دل پھٹ جائے ،اور وہ ہمیشہ کے لیے ان خوفناک آوازوں سے چھٹکارہ حاصل کرلے گا۔ کسی مجرم کو اگر سخت اذیت ناک سزا دی جائے اور اسے عبرت کا نشان بنانا مقصود ہو تو اسے تھرپارکر کی ریت پر چھوڑ دیا جائے، وہ مجرم سسک سسک کر اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دے گا، لیکن اسے مدد کے لیے کوئی ذی روح نہیں ملے گا۔ اس صحرا ءمیں زہریلے بچھو اور انتہائی خطرناک سانپ بلوں میں چھپے رہتے ہیں۔ جو اپنے شکارکو آسانی سے نشانہ بنا کر اپنے بل میں دوبارہ سکون سے جا کرآرام کرتے ہیں۔ پاکستان تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی ، میٹرو بس، میٹرو ٹرین کا حامل ہوچکا ہے اور یہاں بسنے والے لوگ آج بھی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کے لیے لالٹین کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔ اس ہیبت ناک اور پراسرار صحرائے تھر میں کچھ بھوکے اور پیاسے لوگ آج بھی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم، زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں،یہاں بسنے والے لوگوں کا ذریعہ معاش بارش ہے یا پھر مال مویشی ہیں۔ یہاں کے مرد سخت قحط سالی میں اپنے مویشی لے کر سرسبز وشاداب علاقوں کی طرف نکل جاتے ہیں ،تاکہ ان کی زندگی کی متاع بچ جائے چاہے وہ خود موت کا شکار ہی کیوں نہ ہوجائیں۔ باقی رہی عورتیں اور بچے تو وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔ ننگر پار کر سے لے کر عمر کوٹ تک کا سفر ابھی چند سال ہوئے ہیں کہ تین گھنٹوں میں طے ہونے لگا ہے۔ورنہ یہ تین گھنٹوں کا سفر یہاں بسنے والے لوگ تین دنوں میں طے کرتے تھے۔
یہاں رہنے والوں کے لیے سب سے بڑی نعمت میٹھا پانی ہے۔یہاں پانی میلوں سفر کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ میٹھے پانی کا حصول ان کے لیے آج بھی شیر کے منہ سے نوالہ نکالنے کے مترادف ہے۔ دو سو فٹ گہرا کنواں کھود کر نکالا جانے والا پانی سمندر کے پانی سے بھی زیادہ کڑوا ہوتا ہے۔یہاں پانی کا کنواں کھودنا آسان کام نہیں۔ریت ہونے کی وجہ سے کئی لوگ کنواں کھودتے ہوئے ریت تلے دب کرپانی کی تلاش میں اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔آپ آج بھی تھرپارکر کے چیل ہار شہر میں چلے جائیں،آپ کو سمندر سے زیادہ کڑوا پانی پینے کو ملے گا۔یہاں بسنے والوں کو آٹے اور سالن میں نمک ملانے کی ضرورت ہی نہیں۔آٹے میں نمک کی کہاوت آپ نے سنی ہوگی ،اور ہوسکتا ہے عمل بھی کیا ہو۔لیکن یہاں کے تھری باشندوں نے یہ کہاوت توسنی ضرور ہوگی ،اس پر عمل کرنے کا اتفاق کاش ہی انہیں پیش آیا ہو۔ یہاں بسنے والے لوگ آج آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور رب کے حضور ہاتھ پھیلا کر صرف بارش کی دعا مانگتے ہیں، اور جب اللہ رب العزت ان پر رحم فرماکر بارش برسا دے تو یہ سندھ کے کسی بھی علاقے میں بکھرے موتیوں کی طرح ہوں ،سمٹتے ہوئے اپنے دیس کی طرف چلے آتے ہیں۔بارشوں میں یہ لوگ باجرہ اور مکئی بوتے ہیں، اور یہی فصل سال کے لیے ان کی خوراک ہوتی ہے، اور اسی پر ان کی زندگی کا دارو مدار ہے۔ اب آئیں اس علاقے میں ملنے والی قدرتی معدنیات کے بارے میں جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس خشک صحراءمیں کیا کیا چیزیں چھپا رکھی ہیں۔اس علاقے میں سفید چینی مٹی ملتی ہے،جس سے مہنگے ہوٹلوں اور مالدار گھرانوں میں بنے ہوئے چینی کے برتن استعمال ہوتے ہیں،اس علاقے میں کئی کلو میٹر تک پھیلے ہوئے کوئلوں کے ذخائردریافت ہوئے ہیں، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے حکمران بجلی پےدا کرنے کی بجائے سیاست چمکا رہے ہیں۔ننگر پارکر میں گرینائیٹ پتھر ملتا ہے، جو دنیا کا قیمتی اور مہنگا ترین پتھر ہے۔یہاں بارش کے موسم میں قدرتی جڑی بوٹیاں کثیر تعداد میں ملتی ہیںچالاک حکیم بارش کے موسم میں اس علاقے کا رخ کرکے ان بھولے بھالے لوگوں سے سستے داموں وہ جڑی بوٹیاں خرید کر،دنیا کو مہنگے داموں دوائیاں بنا کر دیتے ہیں۔ اس علاقے میں ملتان کے مشہور گدی نشین اور رکن قومی اسمبلی کے مرید کثیر تعداد میں رہتے ہیں۔اسی طرح یہاں سندھ کے ایک مشہور پیر صاحب کے بھی بہت سے مرید رہتے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ یہاں صرف الیکشن کے دنوں میں ووٹ لینے کے لیے آتے ہیں اور اس کے بعد دیکھنے کو نہیں ملتے۔ دنیا کی کئی این جی اوز اس صحراءمیں موجود ہیں۔ یہ این جی اوز فنڈ دینے والے ممالک کو ان کی غربت دکھا کر فنڈ اکٹھا کرتی ہیں اور پھر مزے لے لے کر سیون اسٹار ہوٹلوں میں بیٹھ کر کھاجاتی ہیں، اور اس علاقے کے لوگوں کو فنڈز کے بارے میں پتا ہی نہیں چلتا۔
آج کل یہ علاقہ بچوں کے لیے موت کا سبب بنا ہوا ہے۔ مائیں بچے جننے سے نہیں ڈرتیں، بلکہ بچہ جننے کے بعد اس کی موت سے ڈرتی ہیں۔ مائیں نو ماہ بچے کو پیٹ میں اٹھا کر تکلیف تو برداشت کررہی ہیں لیکن بچے کا جنازہ اٹھتا دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر روتی ہیں۔انکی چیخیں ریت کے پہاڑوں میں گم ہوجاتی ہیں اور ایوان بالا تک پہنچنے سے پہلے ختم ہوجاتی ہیں۔ میڈیا میں بچوں کی اموات کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد،حکومتی مشینری نے اس علاقے کا رخ تو کرتی ہے مگر مسائل کے مکمل حل سے چشم پوشی اختیار کی جاتی رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ بھی یہاں کے دورے پر کئی بار پہنچے مگر ان کے دوروں سے مفلوک الحال لوگوں کے غموں کا ازالہ کم وہ سوتے زیادہ نظر آئے ہیں ، بعد ازاں ان کے لیے فنڈز، اور میٹھے پانی کی فراہمی اور غذائی قلت کے خاتمے کا اعلان بھی کیا جاتا رہا ہے، لیکن ان عارضی اعلانات سے اب تک کوئی فرق نہیں پڑا ، اور صحرائے تھر میں آج بھی موت کا راج ہے۔ میٹھے پانی کی لائن بچھانے کی بجائے منرل واٹر کی بوتل تھما دینا، گندم کی مستقل فراہمی کی بجائے ڈبل روٹی کا پیکٹ تھما دینا مسئلے کا حل ہرگز نہیں۔ یہ صدائے وقت ہے کہ حکومت ان بھوک و افلاس زدہ لوگوں پر ترس کھائے اور ان کو مستقل بنیادوں پر غذا کی فراہمی یقینی بنائے ، تاکہ صحرائے تھر سے مستقل طور پر قحط سالی اور خوراک کی قلت کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

رانا اعجاز حسین سے ای میل:ra03009230033@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے)


Comments

FB Login Required - comments