میری جنم بھومی اور میں


 satyaستر، اسّی، اور نوّے کی دہائی۔ تیس، پینتیس برس۔ میں جامعہ کی سطح پر ترقی کرتے ہوئے اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پروفیسر ہوا، شعبے کا صدر بنا، باہر کے ملکوں میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر کئی چکر لگا آیا، یہاں تک کہ میری یونیوسٹی میں میرا “نِک نیم” یعنی   عرفی نام “ایئر پورٹ پروفیسر” رکھ دیا گیا ۔۔۔۔لیکن پاکستان جانے اور اپنے آبائی مکان کے در و دیوار سے لپٹ کر انہیں پیار کرنے کا موقع میسر نہ آ سکا۔ دو تین بار میں نے پاکستان کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش بھی کی، ایک بار تو ویزا ملتے ملتے بھی رہ گیا، لیکن ہر بار کوئی کوئی سیاسی رخنہ اندازی ہو جاتی اور ویزے کا ملنا رُک جاتا۔ اُنیس سو پینسٹھ کی اور اس کے بعد انیس سو اکہتّر کی جنگوں نے رہی سہی کسر نکال دی اور انڈیا میں، جو کہ میرا ا وطن نہیں تھا، ایک مہمان کی طرح رہتے ہوئے میرا کوٹ سارنگ کے اپنے گھر کو دیکھنے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔

پھر وہ دن بھی آیا جب میں نے اپنے اختیار کردہ ملک کو بھی چھوڑ دیا اور باہر کے کسی ملک میں ہجرت کر جانے کے ارادے سے نکل پڑا۔ انگلستان، کینیڈا، اور آخر میں امریکا۔ میرے پاؤں کہیں بھی نہ ٹک سکے۔ دو برس تک سعودی عرب میں پروفیسر کے طور پر اقامت بھی اسی رسی میں ایک گرہ تھی۔ وہاں سے بھی میں نے   پاکستان کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکامی ہوئی۔ وہاں پاکستانی سفارت خانے کے ایک کارندے نے جو اردو کی شعر و شاعری کی محفلوں میں اکثر آیا کرتا تھا، کہا، ’’ آنند صاحب، اردو اد ب میں آپ کا اتنا بڑا نام ہے ۔اگر آپ کے پاس امریکا کا پاسپورٹ ہوتا تو کوئی وجہ ہی نہیں تھی کہ آپ کو ویزا نہ ملتا، لیکن انڈیا کے پاسپورٹ پر ویزا ملنا ذرا مشکل کام ہے۔‘‘

تو طے ہوا کہ امریکا کی شہریت لے ہی لی جائے۔ لیکن اس سے پہلے میں چاہتا تھا، کہ اگر میں کوٹ سارنگ نہیں جا سکتا، تو کیا کوٹ سارنگ میرے پاس نہیں آ سکتا؟ ریاض میں مرحوم شبنم مناروی نے مجھے بتایا تھا کہ جناب علی محمد فرشی کوٹ سارنگ کے رہنے والے ہیں۔ کچھ پتہ نہیں تھا کہ کون ہیں، کتنی عمر کے ہیں، صرف ان سے اردو کے ادبی رسالوں کے حوالے سے واقفیت تھی۔خط لکھا۔ ایک محبت بھرا جواب آیا، اور اس کے بعد، خطوں اور کتابوں کا تبادلہ ہوا۔ آخر ایک خط میں دل کی بات قلم کی نوک سے نکل کر کاغذ پر بکھر ہی گئی۔ میں نے علی محمد فرشی کو لکھا، آپ کا کرم ہو گا، اگر آپ کوٹ سارنگ، اس کے گرد و نواح کے کچھ مناظر کی تصاویر اور گلی سے اٹھائی ہوئی ایک پڑیا بھر مٹی ڈاک سے مجھے بھیج دیں۔فرشی صاحب نے شاید مجھے دیوانہ سمجھ کر یہ کام فوری طور پر کر دیا اور ایک دن امریکا میں مجھے ایک پیکٹ ملا، جس میں کوٹ سارنگ کی پڑیا بھر مٹی تھی، اور ایک درجن کے لگ بھگ تصویریں تھیں……

جنم بھومی کی مٹّی

(علی محمد فرشیؔ کے توسط سے اپنے آبائی گاؤں کوٹ سارنگ کی ایک پُڑیا میں بند مُٹھی بھر مٹّی ملنے پر)

Kot-Sarang.8سجدہ ریز ہوا میں
قشقہ کھینچا اپنے گاؤں کی مٹی سے
کیا سوندھی خوشبو ہے
کیسا لمس ہے
کیا ٹھنڈک ہے اس کی
مٹی، جو کھیتوں، کھلیانوں
گلیوں، کوچوں
اور گھروں کے کچے صحنوں اور چھتوں سے

اُڑتی اُڑتی سات سمندر پار کئی برس سے مجھ کو ڈھونڈ رہی تھی
اب میرے گھر تک پہنچی ہے

اس مٹی میں بول رہے ہیں

گھر، گلیاں، روزن، دروازے
دیواریں، چھجے، پرنالے
سب کہتے ہیں

ہم تو نصف صدی سے اپنی آنکھیں کھولے جاگ رہے ہیں
رامؔ بھی بن باسی تھے، لیکن
چودہ برس گزرنے پر وہ اپنی اجُدھیا لوٹ آئے تھے
تم کیسے بن باس سدھارے
نصف صدی تک لوٹ نہ پائے!

کیا جانیں وہ میرے ساتھی
میں اک بد قسمت پردیسی
اپنی مجبوری کی زنجیروں میں بندھا ہوا زندانی
سات سمندر پار کی اس بے رحم زمیں پر

بے گھر بیٹھا سوچ رہا ہوں
کب بن باس کٹے گا میرا؟
کب میں اپنی جنم اجُدھیا، اپنے گھر کو لوٹ سکوں گا!

7326432686_7253fd3698میں اسی برس یعنی بیسویں صدی کے آخری سسکتے ہوئے دنوں میں امریکا سے امریکن پاسپورٹ پر لاہور اور پنڈی ہوتا ہوا کوٹ سارنگ پہنچتا ہوں۔ جس گاؤں کو میں نے سولہہ برس کی عمر میں چھوڑا تھا ، آج ستّر برس کی عمر میں میں ایک بار پھر اس سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔ مجھے میرے عزیز دوست نصیر احمد ناصر میر پور سے اپنی کار میں راولپنڈی ہوتے ہوئے یہاں تک لائے ہیں۔ کوٹ سارنگ میں داخلے کی سڑک پر میرے دوسرے دوست اور کوٹ سارنگ کے نواسی علی محمد فرشی بے چینی سے ٹہلتے ہوئے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔

میں تنگ پتھریلی گلی میں داخل ہوتا ہوں۔ میرے پیچھے گاؤں والوں کا ایک جمگھٹ ہے، جو امریکا سے لوٹ کر آئے ہوئے Missing Prodigal کے ساتھ اس کے مکان تک جانا چاہتے ہیں ۔ ان میں شاید ہی کوئی ہو جو میری اپنی عمر کا ہو۔ نئی پود، اس کے بعد ایک اور نئی پود اور پھر ایک اور نئی پود! مجھے البئیر کامُو کے کسی ڈرامے میں ایک کردار کے مکالمے کی ایک سطر یاد آتی ہے: ’’بیس برس بڑا ہونا تو ایک نسل بڑا ہونا ہے، میری طرح ساٹھ برس یعنی تین نسلیں بڑا ہو کر دکھاؤ!‘‘ گویا وہ بچے جو میرے پیچھے پیچھے اس لیے چل رہے ہیں کہ دیکھیں تو میں کون سے گھر جاتا ہوں،مجھ سے تین چار نسلیں پیچھے ہیں۔ کھیلتے تو اسی طرح ہوں گے؟ میں سوچتا ہوں۔ گلی ڈنڈا؟ پتنگ بازی؟ بنٹے؟ چھپّن چھوت؟ کنہاڑی چڑھنا؟ چینجی؟ کسی بچے سے پوچھ کر تو دیکھوں آج کل وہ کون سے کھیل کھیلتے ہیں!

میں راستہ پہچانتا ہوں، اور راستہ میرے قدموں سے آشنا ہے۔ میرے پیچھے چلنے والے چہ میگویاں کر رہے ہیں، کون سے گھر جائے گا یہ؟ لیکن میں جیسے ایک غیر مرئی تار سے بندھا ہوا چلتا جا رہا ہوں۔ لگ بھگ ایک سو قدموں کی دوری سے ہی میرے کانوں میں کچھ آوازیں گونجنے لگتی ہیں۔ شاید میرے کان بج رہے ہیں، شاید میرے ذہن کے سمندر میں کچھ لہریں مچلنے لگی ہیں۔ شاید مکان نے ایک سو قدموں کی دوری سے ہی میرے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔۔۔۔۔

imagesلیکن یہ آوازیں غیر مرئی ہیں۔ وہ دوسرے لوگ جو شاعر اور ادیب ہیں اور   اسلام آباد، راولپنڈی سے میرے ساتھ آ ئے ہیں، ان آوازوں کو نہیں سن سکتے۔ میں رکتا ہوں تو آوازیں بھی رک جاتی ہیں، میں چلتا ہوں تو آوازیں پھر شروع ہو جاتی ہیں۔ سبھی آوازیں مکان کی جانب سے میری طرف آ رہی ہیں۔ کچھ نسوانی ہیں، کچھ مردانہ، لیکن سبھی عمر رسیدہ ہیں۔ ان میں سے کوئی آواز بھی بچپن کی تازگی یا جوانی کی حدت سے لبریز نہیں ہے۔

نٹ کھٹ کی واپسی 

تنگ پتھریلی گلی نے چونک کر آواز دی
۔ ۔ شاید وہی ہے!
دھوپ ، جو آہستگی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے
بے دم سی شاید تھک گئی تھی
ایک لحظہ رک گئی

۔۔ کیا واقعی وہ آ رہا ہے؟
ضعف کی ماری ہوئی بوڑھی ہوا نے
پوپلے منہ سے کہا
۔۔ میں اس کی خوشبو سونگھ سکتی ہوں
وہی نٹ کھٹ ہے، واپس آرہا ہے!

بوڑھے دروازوں کی آنکھیں بند تھیں
۔۔ کچھ بھی نظر آتا نہیں، شاید وہی ہو!

اس کے بچپن کا کھلندڑا دوست

اک کنچا، جو پچھلے ساٹھ برسوں سے
گلی کے ایک کونے میں منوں مٹی کے نیچے سو رہا تھا

کلبلا کر چیخ اٹھا
۔۔ المدد! کوئی مجھے باہر نکالو!

72255628ہاں، وہی ہے! دھوپ بولی
پر وہ بچہ جس کو میں پہچانتی تھی
آنے والے مرد کے دل میں کہیں گُم ہو گیا ہے
بوڑھے دروازوں نے آنکھیں کھول دیں
۔۔ پہچانتے ہیں ہم اسے! لڑکا وہی ہے
باپ کی مانند لمبا ہو گیا ہے
تنگ پتھریلی گلی بولی
۔۔میں کتنی پیڑھیوں سے
ننھے قدموں کے بڑے ہوتے ہوئے سب نقش
اپنے جسم پر سنبھال کر رکھتی رہی ہوں

کلبلاتا، چیختا کنچا منوں مٹی کے نیچے رو دیا
۔۔ میں کیسے نکلوں؟
اور پھر بوڑھی ہوا جو دم بخود سی رک گئی تھی
لڑکیوں سی کھلکھلا کر ہنس پڑی
۔۔آؤذرا دیکھیں
تمہارے گال، آنکھیں، بال، چہرہ تو وہی ہے
اتنی مدّت تک کہاں گم ہو گئے تھے؟
اب کہو، آیا کرو گے؟

ڈیوڑھی میں حالیہ مکین کی بیوی آ کھڑی ہوتی ہے۔ اس کا خاوند ایک غریب سبزی فروش ہے۔ یہ لوگ کشمیر کے مہاجر ہیں۔ ’’آپ کااپنا گھر ہے،‘‘ وہ کہتی ہے، ’’اندر آ جائیں۔‘‘ شاید اسے میرے آنے کی اطلاع پہلے ہی مل چکی ہے۔ وہ صحن میں ایک جھلنگا چارپائی پر ایک کھیس بچھا دیتی ہے، لیکن میں کہتا ہوں۔ ’’بہن، مجھے اندر کا کمرہ دیکھنا ہے۔‘‘ یہ اندر کا کمرہ وہی تھا جسے سب ’محل‘ کہتے تھے اور جس میں شاید میں اور میرے دیگر چھہ بھائی بہن پیدا ہوئے تھے اور جومیری یادوں کی تختی پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا۔ اس کمرے کے اندرونی چوبی چھت میں شیشے کے رنگین ٹکڑے جڑے ہوئے تھے اور میں اورمیرے بھائی بہن اکثر رات کو کھیلتے ہوئے ٹارچ کی روشنی میں ان شیشوں کی بہار دیکھتے تھے۔ کچھ یادیں جو تازہ ہو آئیں، ان میں تین بڑی بہنوں کی شادیاں تھی، جن کے سسرال چلے جانے کے بعد وہ چار بچے رہ گئے تھے۔ اسی صحن میں ان کے لاواں پھیرے ہوئے تھے اور یہیں سے ان کی ڈولیاں اٹھی تھیں۔ ایک یاد جو بار بار میرے دل کا احاطہ کر رہی تھی، وہ سردیوں کی رات کو سونے کا اور صبح جاگنے کا منظر تھا ۔وہ چاروں بچے جب رات کو اپنے اپنے بستر پر لحاف 109291115اوڑھ کر سونے لگتے تو ماں کو ایک پلنگ پر اور بابو جی کو دوسرے پلنگ پر بیٹھے ہوئے گور بانی سے پاٹھ کرتے سنتے۔ سنتے سنتے وہ سو جاتے۔ جب صبح جاگتے تو اسی طرح دونوں کو اپنے اپنے پلنگ پربیٹھے ہوئے پاٹھ کرتے ہوئے پاتے۔ اور سب بچے خود سے یہ خاموش سوال پوچھتے کہ یہ رات بھر سوئے نہیں ہیں، حالانکہ انہیں اس بات کا علم ہوتا کہ وہ منہ اندھیرے جاگ کر اور نہا دھو کر پاٹھ کر رہے ہیں۔

میں اپنے ماں باپ اور دادی کی آتماؤں کی شانتی کے لیے دعا مانگ کر ’محل سے باہر نکلتا ہوں۔ گھر کی حالیہ مالکن خود چارپائی کی پٹی کے ساتھ لگ کر زمین پر بیٹھ جاتی ہے۔ میرے ساتھی شاعر اور ادیب کھڑے رہتے ہیں۔ میں چارپائی پر بیٹھ جاتا ہوں تووہ عورت دھیمی آواز میں کہتی ہے، ’’صاحب جی، مکان کی پچھلی دیوار بہت کمزور ہے جی۔ چھت ٹپکتی ہے…..‘‘

میرے دل میں ایک گرہ سی پڑ جاتی ہے۔ کیا یہ عورت واقعی خود بول رہی ہے، یا اس کی زبان سےمیر ے دادا جان کا سن انیس سو ایک میں بنوایا ہوا یہ ایک سو برس بوڑھا مکان زبان حال سے فریاد کر رہا ہے، ’’دیکھو، میں تمہارے باپ دادا کی نشانی ہوں۔ میری دیواریں ڈھیلی پڑ چکی ہیں۔ میں مر رہا ہوں۔ کیا میرا کچھ نہیں کرو گے؟ کیا بوڑھے ماں باپ کو لوگ یونہی مرنے کے لیے جھلنگی چارپائی پر پڑا چھوڑدیتے ہیں؟‘‘


Comments

FB Login Required - comments