شکر ہے، شکر ہے۔۔۔ عورت حلال، تشدد جائز


 leena hashirکسی بهی چیز کی تمنا اگر دل میں ہو تو اس کو حاصل کرنے کے لیے انسان سو جتن کرتا ہے۔ آج یہ خبر سننے کو ملی ہے کہ ہمارے مولوی حضرات کی محنت رنگ لے ہی آئی۔ جس روز سے حقوق نسواں کا قانون پاس ہوا ہے اس دن سے ان حضرات نے نہ تو دن کے چین کو مقدم جانا اور نہ ہی رات کے آرام کی کوئی خیر خبر لی۔ سنا ہے کہ مذهبی جماعتوں کی انتهک محنت کے بعد قانون حقوق نسواں پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ نہ جانے کتنے دنوں کے بعد یہ حضرات نیند میں اپنی اپنی حوروں سے ملاقاتوں کے مزے لیں گے۔ وه کہتے ہیں نہ محنت رنگ لاتی ہے۔ اس محنت سے عورت پر چوکها رنگ چڑھے گا جب وه اپنے مرد سے مار کهائے گی اور اپنے چہرے اور جسم پر نیلے دهبوں کو لیے تھانے کا رخ کرے گی تو اسے یہ کہا جائے گا کہ یہ آپ کا نجی معاملہ ہے یا پهر قانون بہت ہی حرکت میں آیا تو مظلومہ کے شوہر سے رابطہ کر کے صلح صفائی کروا کر دوبارہ پٹنے کے لیے اس کو آماده کر لیا جائے گا۔

خواتین کے حقوق کے لیے ستر برس سے جو قانون بنائے گئے ہیں کیا وه کم ہیں کہ ایک نئے قانون کا شوشا چھوڑا گیا ہے۔ بهلا پیر کی جوتی کو سر پر کون رکھتا ہے۔ ہماری مذہبی جماعتوں کا کہنا ہے کہ قرآن وسنت کے خلاف کسی قانون کی حمایت نہیں کریں گے۔ بجا فرمایا۔ ہم تو آپ کے ساتھ کھڑے ہیں بس ہم سے یہ کوئی نہ پو چهے کہ اس میں قرآن وسنت کے خلاف ہے کیا؟ پنتیس مذہبی جماعتوں کے لیڑروں سے بهی نہ پوچھا جائے کیونکہ اگر بحث ہوگی تو ان کو اپنے منہ کی ہی کهانی پڑے گی۔ ایسی باتوں کو صیغہ راز میں رکھا جائے تو اچها ہے۔

 مرد حضرات عورت کی اصلاح کرنے کی غرض سےدو چار ہاتھ عورت کو رسید کر دیں تو اس میں برا کیا ہے،عورت کے ناجائز تعلقات ہونے کے شک میں اس کو آگ لگا دی جائے،جائیداد میں عورت کا حصہ دینے کے خوف میں اس کی قرآن سے شادی کروا دی جائے،مردوں کے گناه پر نابالغ بچی کی شادی ستر سالہ شخص سے کروادی جائے، رشتہ نہ ملنے کے صورت میں بچاره مرد حالت غم میں عورت کے چہرے پر تیزاب پھینک دے،گول روٹی نہ پکانے کی پاداش میں مرد کے ہاتھوں قتل ہو جائے یا پهر میکے جانے کے گناه پر مرد عورت کو زنجیروں میں جکڑ کر اس کے بال اور ناک کاٹ دے تو اس میں مضائقہ ہی کیا ہے یہ سارے نجی معاملات ہیں۔ اس میں دخل اندازی سے طلاق کی شرح اور عورت کی سر کشی اور بے راه روی میں اضافہ ہو گا۔ اس لیے لازم ہے کہ سانپ کے سر اٹھانے سے پہلے ہی  اس کا سرکچل دیا جائے۔

پنتیس جماعتوں کے علما نے بل کی مخالفت کے لیے اجلاس میں عورت کی شمولیت کی ضرورت نہیں سمجھی۔ عورت تو ہوتی ہی ناقص العقل ہے وه کیا جانے اس کے حقوق کی حفاظت کس طریقے سے کی جانی چاہیے۔ یہ سب کے سب مغرب کے ہتھکنڈے ہیں جو ہمارے خاندانی نظام کو درہم برہم کرنے کے در پے ہیں ہم ان کے ناپاک ارادوں کو کس بهی طریقے سے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ایک بہت ہی اہم بات جو ان حضرات کے دماغوں میں گردش کر رہی ہو گی کہ اصل میں زیور تو عورت پر ہی سجتا ہے اور یہ لوگ مردوں کو کڑا پہنانے کی بات کرتے ہیں۔ یہ قانون مردوں کو زنخا بنانے کو کہتا ہے۔ یہ ہے مغرب کی تقلید۔ وہاں ہے رواج عورتوں کی طرح ہاتھ میں کڑے،کانوں میں بالی،اور ناک میں کیل ڈالنے کا۔ ہم تو بس عورت کی ناک میں نکیل ڈالتے ہیں جس سے عورت نکیل کی ہلکی سی جنبش سے اندازه کرلیتی ہے کہ اس کا مالک اس سےکیا چاھتا ہے۔ علما اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ عورت کی حکومت گهر میں ہو یا ملک میں نا منظور۔ اب آپ سوچ میں پڑ گے ہوں گے مولانا فضل الرحمن جو اس قانون کے بہت بڑے مخالف ہیں نے پہلے تو بے نظیر کی حکومت کو شریعت کے منافی قرار دیا تها مگر بعد میں کشمیر کمیٹی کے چیرمین کا عہدہ بهی قبول کیا۔ ارے بهائی آپ لوگ اتنا تو جانتے ہیں نہ کہ مشکل وقت میں حرام بهی کهانے کی اجازت ہے اور مولانا کا کرسی دیکھ کر پهسل جانا تعجب کی بات نہیں کیونکہ مولانا برسوں سے ڈیزل پر کھڑے ہیں۔ اپنےسیاسی مقاصد حاصل کرنے کی غرض میں کہاں کا تانا بانا مذهب سے جوڑتے ہیں اس فن سے ہمارے فاضل علما بخوبی واقف ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “شکر ہے، شکر ہے۔۔۔ عورت حلال، تشدد جائز

  • 19-03-2016 at 12:53 pm
    Permalink

    اس مضموں میں مولانا فضل الرحمن اور ڈیزل میں تعلق والا جملہ اشاعت کےلئے قابل قبول ٹہرانے پر تعجب ہے تاہم یہ تمام ترکوششوں کے باوجود انسانی لغزش کے امکان کو قبول کرنے کا اشارہ دے رہا ہے۔
    اور مضمون نگار نے تحفظ نسوان بل کی مخالفت کو عورت کی قرآن سے شادی اورعورت پر تیزاب پھیکنے وغیرہ کا حمیاتی ہونے سے تشبہہ دی ہے جودرست معلوم نہیں ہوتا۔ مذکورہ دونوں فعل کے علاوہ اور بہت سے تشدد کے واقعات ہیں جو جرم سے بڑھ کر ظلم ہے۔ اس لئےایسے جرائم کی بیخ کنی کےلئے جامع قانون سازی کرنی چاہے تاہم کوئی بھی قانون محض مغرب کی خوشنودی حاصل کرنے کےلئے نہ کی جائے ان مسائل کا بہتریں حل ہو اس کےلئے کسی بھی قسم کی قانون سازی سےپیلے اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس قانون سے بنیادی حقوق پامال نہ ہوں اور خاص کر خانگی قوانیں بناتے ہوئے اس سے خاندان کے وجود کا خطرئے کے بجائے مزید مثبت انداز میں مضبوط کرئے۔

Comments are closed.