مولوی، عورت مارچ اور کرونا وائرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے علما و فضلا اس مرتبہ عورت مارچ کے خلاف مولوی مارچ کی تیاری پکڑ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سکھر سے جنگ شروع ہو گی۔ عورت آزادی مارچ کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس برس سکھر سے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر سکھر میں جمعیت علمائے اسلام نے عورت آزادی مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آئین، قانون اور مشرقی روایات کے خلاف قرار دیتے ہوئے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا راشد محمود سومرو نے تو یہ بھی بتایا ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی“ جیسی مہم کے ذریعے ملک کو سیکولر ریاست بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی سرا ج الحق نے کہا ہے کہ ” ’میرا جسم میری مرضی‘ کے نعرے ملک کی اسلامی شناخت پر دھبہ ہیں۔ ۔ ۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر ضلع میں بچیوں کے لیے یونیورسٹی بنے اور ان کے لیے کھیلوں کا باپردہ انتظام ہو تاکہ وہ بھی ڈاکٹر اور انجینئرز بنیں۔ “ کھیل ہی کھیل میں ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے اس بہترین جماعتی منصوبے کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

ہماری مانیں تو مولانا حضرات اس عورت مارچ کو خدا کی رحمت سمجھیں۔ مولوی حضرات یہ بتا چکے ہیں کہ قوم پر کرونا کی صورت میں عذاب نازل ہوا ہے جس کا سبب فحاشی ہے، اور وہ یہ بھی بتا چکے ہیں کہ عورت مارچ میں انہیں بجز فحاشی کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

اس سے تو یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ کرونا وائرس کا بھرپور حملہ عورت مارچ پر ہو گا۔ مولانا حضرات کو تو چاہیے کہ بڑھ چڑھ کر عورت مارچ کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں اور اس میں شرکت کرنے والیوں سے بھرپور تعاون کریں، ان کے لئے تنبو قناتیں لگائیں، ان کی راہ میں سبیلیں لگوائیں، ان کے کھانے کے لئے پلاؤ بریانی کی دیگیں پکوائیں۔ اور اس کے بعد مصلا سنبھال لیں اور دعا کریں کہ کرونا مارچ کا رخ کرے مگر دیگیں پہنچانے والوں سے دور رہے۔

مہمانداری کی مہمانداری ہو جائے گی اور علما کو یہ تسلی بھی ہو گی کہ ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ بلند کرنے والیوں میں سے سب سے زیادہ متحرک خواتین، مارچ کی فحاشی اور مولانا حضرات کی آہوں کے نتیجے میں کرونا وائرس کا شکار ہو جائیں گی۔

پھر اس مرتبہ تو یہ معاملہ بھی ہے کہ ماڈرن سے ماڈرن خاتون بھی کرونا کے خوف سے منہ پر ماسک لپیٹے ہو گی۔ مولوی حضرات ان میں سے کسی کو نیک طینت و قبول صورت پائیں تو اس کو راہ راست پر لانے کے لئے گڑگڑا گڑگڑا کر دعاگو ہو سکتے ہیں کہ خدائے بزرگ و برتر اس ڈسپوزبل ماسک کو مستقل نقاب بنا دے، رفتہ رفتہ نقاب کا حجاب بنا دے، حجاب کا برقع اور برقعے کا ٹوپی والا افغانی برقع بنا دے۔ اس گڑگڑاہٹ کے دوران وہ بار بار خدا کو یاد کرتے ہوئے یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہوں گے کہ

حسن دیکھا جو بتوں کا تو خدا یاد آیا
راہ کعبہ کی ملی ہے مجھے بت خانے سے

اگر سعودی عرب میں عمرے اور ایران میں زیارات پر کرونا کے خوف سے پابندی لگ سکتی ہے، اگر ایران میں جمعے کے اجتماعات کو کرونا کے حملے کے خوف سے منسوخ کیا جا سکتا ہے، تو پھر مولانا حضرات عورت مارچ کے اجتماع میں بھی یہی امید رکھیں کہ ادھر بھی ضرور کرونا کا حملہ ہو گا۔ یہی سوچ کر خود کو تسلی دے لیں کہ اس مرتبہ اس فسق و فجور پر ہماری بجائے کرونا نے حملہ کر دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1253 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *