طالبان ریاست اور مصری اسلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے کہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان مصر میں اسلام کی دھوم سن کر جا پہنچا۔ شہر میں داخل ہوتے ہی اس کے کانوں میں اذان کی آواز پڑی۔ نہایت خوش الحان مؤذن کی آواز نے اس کے کانوں میں وحدت کی عقیدت کے رس انڈیل دیے۔ مگر اگلے ہی لمحے اسے سخت تعجب ہوا کہ اذان کے الفاظ میں رسالت کی گواہی معدوم تھی۔

ناگواری کے عالم میں موذن کی شکایت لے کر شہر کی جامع مسجد کے مفتی کے پاس آ گیا۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں دیکھا کہ مفتی صاحب اپنے مقتدیوں کے ہمراہ بائیں ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور دائیں ہاتھ میں قرآن پکڑے کلام مقدس کی قسمیں کھا کر لوگوں کو خالص شراب کی یقین دھانی کراتے ہوئے فروخت کر رہے ہیں۔

دل ہی دل میں ان کو لعنت ملامت کرتے ہوئے غصہ سے لال پیلا ہو کر قاضی کے دربار آن دھمکا۔ یہاں قاضی اسے ایک نو عمر لڑکے سے لواطت کروانے میں مشغول نظر آیا۔ وہ شخص یہ تمام صورت حال دیکھ کر جھنجھلا گیا۔ قاضی نے لڑکے کو ایک جانب ہٹا کر اس طرح بلا اجازت اندر آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے قاضی کو برملا لعن طعن کے بعد تمام ماجرا بیان کیا اور وضاحت طلب کی۔ قاضی نے اسے بتایا کہ دراصل ہمارا مؤذن دو ماہ کی چھٹی پر ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں اسلام میں اذان دینے کے لئے خوش الحان ہونے کی شرط ہے اس لئے مجبوراً قریبی ملک اسرائیل سے ایک سریلے یہودی کو یہاں لانا پڑا۔ اب چونکہ یہودی رسالت مآب کے منکر ہیں اس لیے اس نے اذان میں رسالت کی گواہی نہیں دی۔

جہاں تک مسجد میں شراب کی فروخت کی بات ہے تو شاید آپ کو معلوم نہیں کہ ہمارا ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور ہمارے پاس انگور کی فصل کی پیداوار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انگور کھٹے ہونے کی وجہ سے ایکسپورٹ کے قابل نہیں اور ہمارے پاس انہی کھٹے انگوروں سے شراب کشید کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

مگر کیا کریں کہ پھر بھی خریدار نہیں خریدتا بلکہ شک کرتا ہے کہ شراب کو کھٹا کرنے کے لئے اس میں ترش اجزا کی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ مجبوراً ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے جامع مسجد کے مفتی کے ہاتھوں میں قرآن دے کر قسمیں اٹھوا کر شراب بکوانا پڑتی ہے۔ اور اب اس نوعمر لڑکے کی طرف آتے ہیں دراصل یہ ایک یتیم بچہ ہے۔ بچپن میں اس کی جائیداد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ریاست نے لی تھی۔ اب یہ لڑکا دعویدار ہے کہ وہ بالغ ہو چکا ہے اور اس کی جائیداد اس کے حوالے کی جائے۔ ہمارے ملک میں طب کے شعبہ کا شدید فقدان ہے لہذا اس کے بلوغت کے معیار کو جانچنے کے لیے اس سے لواطت کروانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

وہ شخص ان وضاحتوں سے کس قدر مطمئن ہوا اس کا نتیجہ قارئین خود اخذ کریں۔ اب ہم طالبان کے کابل پہ قبضے اور حکومت کے قیام کے اعلان کی طرف آتے ہیں تو دنیا بھر کے میڈیا پہ گزشتہ روز طالبان کے ترجمان نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں اپنی حکومت کے خد و خال اور آئندہ کا لائحہ عمل بیان کیا جس کا آسان اردو ترجمہ کچھ یوں ہے کہ آج سے 20 سال قبل لڑکیوں کا سکول جانا ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے غیر شرعی اور غیر اسلامی تھا۔ اور اب امریکن ہیوی وہیکلز اور یورپین ٹرانسپورٹ کی بہتات سے لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا عین اسلامی اور شریعت کے اصولوں

من واجب کل رجل وامراة اکتساب المعرفة

یعنی علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے کے مطابق جائز ہے اب لڑکیاں سکول جا سکتی ہیں۔ 20 سال قبل بارود کی بہتات کے وجہ سے اسے ٹھکانے لگانے کی غرض سے ان سکولوں کو دھماکوں سے اڑانے کو جائز مگر اب ان سکولوں کو نہ صرف بچانا بلکہ ان کو چلانا عین اسلامی قرار دیا ہے۔

قبل ازیں عورت با امر مجبوری کاک ٹیل ٹوپی والے برقعے میں باہر نکل سکتی تھی مگر اب ”اللہ جمیل ویحب الجمال“ کے فلسفے تحت حجاب کے ساتھ ٹی وی پر بطور اینکر پرسن اپنی خدمات انجام دے سکتی ہے۔

بیس سال قبل بلیڈ۔ ریزر اور استروں کے فقدان کے باعث داڑھی منڈوانا انتہائی غیر اسلامی اور غیر شرعی فعل تھا مگر اب چائنیز پروڈکٹس کی وافر درآمد اور بروقت دستیابی کی بدولت داڑھی منڈوانا یا رکھوانا جائز الخطا کے طور پہ ہر ایک شخص کا ذاتی فعل قرار دیا گیا ہے۔

پہلے میوزک سننا بوجہ الغناء اشد من الزنا
یعنی گانا زنا سے بدتر ہے حرام تھا اور اب
الغناء غذاء الروح
گانے گانا اور سننا یعنی ہلکی پھلکی موسیقی بطور روح کی غذا حلال ہے۔

امریکن اور یورپین پہلے کافر قرار دیے گئے تھے اور افغانستان کو ان کا قبرستان بنانے کا عزم کیا گیا مگر اب ان کو محفوظ راستہ دے کر ان کے ملکوں میں بحفاظت واپس جانے کی ذمہ داری لینا

من انقذ حیاة انسان واحد ہو کانہ انقذ حیاة البشریة جمعاء
یعنی جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی کے فلسفے کے تحت جائز ہے۔
کل تک مخالفین کو کافر مرتد اور منافق کہہ کے تہہ تیغ کیا جاتا رہا مگر آج
المسلم اخو المسلم
کے فلسفے کے تحت قومی حکومت کا قیام عین اسلامی ہے۔

الغرض جو اعمال و افعال ان کے اقتدار میں آنے سے قبل حرام غیر اسلامی اور غیر شرعی تھے اب وہ تمام عین اسلامی ہیں شرعی طور پہ حلال ہیں۔ احسن و بہترین ہیں۔ جائز و مباح ہیں۔

زمام حکومت سنبھالنے کے بعد یقیناً طالبان اب روسی موذن۔ غیر مختون تاجک مجاہد۔ عزیز الرحمن لاہوری ٹائپ مفتیان اور صابر شاہ جیسے مقتدیان کو جلد انک عہدوں پر فائز کر کے مصری اسلام کو پھیلانے کی ذمہ داری سونپ دیں گے۔

یقیناً یہ سب کچھ اسلام کے نام پر اسلام پسندوں اور افغان عوام کے ساتھ سراسر دھوکہ، زیادتی اور دغا بازی کے سوا کچھ نہیں۔

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کرلی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

مگر یاد رہے کہ راسخ العقیدہ مسلمان افغان عوام اور حقیقی اسلام پسند مصری اسلام کو جلد مسترد کر دیں گے۔ کسی بھی ریفرنڈم یا الیکشن کے نتیجے میں مصری اسلام کے سوداگروں کو اٹھا کر باہر پھینکیں گے۔ اللہ تبارک و تعالی کے حقیقی دین قرآن کریم کے احکامات اور نبی مکرم محمد رسول اللہ خاتم النبیین کی خالص تعلیمات کی روشنی میں ریاست افغانستان کو ریاست مدینہ بنا دیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments