ہم سب میدان حشر میں کھڑے ہیں۔

عام طور پر جمہوری نظامِ حکومت کا ذکر کرتے ہوئے سقراط اور افلاطون کو یاد کیا جاتا ہے اور افلاطون کی کتاب ”ریاست“ (ریپبلک) کا بکثرت حوالہ دیا جاتا ہے کہ یہ جمہوریت کے موضوع پر لکھی گئی پہلی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ”ریپبلک“ ایک دلچسپ اور ”اوریجنل“ قسم کی کتاب ہے جو انسانی تاریخ کے ایک عبقری دماغ کے فلسفیانہ تدبر اور ادیبانہ طرزِ انشا کا شاہکار ہے۔ یہ کتاب تعلیم و تربیت، اخلاقیات اور حکومت و سیاست کے موضوع پر انتہائی فاضلانہ انداز میں بحث کرتی ہے۔ اس میں ”مثالی ریاست“ کا جو تصور دیا گیا ہے اس نے صدیوں علمائے عمرانیات اور دانش پرور حکمرانوں کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔

”ریپبلک“ میں پیش کیے گئے نظامِ تعلیم و تربیت کے متعلق ”معاہدہءِ عمرانی“ کے مصنف ژاں ژاک روسو کا کہنا ہے کہ ”فنِ تعلیم پر جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں یہ ان میں سب سے زیادہ بہترین ہے۔ “

اخلاقیات خصوصا عدل و انصاف کی اہمیت کو خالصتا سائنسی، منطقی، عقلی اور معروضی بنیادوں پر ثابت کرنے کی بھی قابلِ قدر کوشش کی گئی ہے۔ گرچہ مجھے اس موقع پر افلاطون سے ذاتی طور پر یہ شکایت ہے کہ وہ اخلاقیات کی فضیلت و اہمیت کو ثابت کرتے کرتے اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ خود اخلاقیات کا دامن ہی اس کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ چنانچہ عدل و انصاف کی اہمیت کو ثابت کرنے کے چکر میں (جو کتاب کا اصل موضوع ہے ) افلاطون نے جنسی اشتراکیت، فوجیوں کی عدم ملکیت اور بے کار اور نکمے مریضوں کے ملک بدر کرنے اور موت کے حوالے کردینے جیسے فرمودات جاری کیے ہیں۔ جو بذاتِ خود پرلے درجے کی بے اعتدالی اور ظلم و بربریت کا شاخسانہ ہیں۔ نیز یہ موضوع بھی بحث و تحقیق کا محتاج ہے کہ آیا اخلاقیات اور انسانی اقدار کو منطقی اور معروضی بنیادوں پر جانچا بھی جاسکتا ہے یا نہیں۔ اور اگر جانچا جاسکتا ہے تو اس کا درست طریقہ کیا ہے؟

اس موضوع کو ہم کسی اور نشست پر چھوڑتے ہیں۔ آمدم بر سر مطلب، ہماری بات یہاں سے چلی تھی کہ افلاطون کی کتاب ”ریپبلک“ کو جمہوریت کے موضوع پر لکھی گئی پہلی کتاب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ”ریپبلک“ کافی حد تک ارسٹو کریسی، اشرافیہ کی حکومت اور حکومت الخاصہ کے عارض و رخسار کی اسیر ہے۔ ہمارے مروجہ جمہوری نظام سے اس کا دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ افلاطون خود، نہ ہی افلاطون کا استاد سقراط عوامی جمہوریت کے قائل تھے۔ اور اگر ہم ڈاکٹر منصور الحمید مصنف ”سقراط“ کا موقف تسلیم کر بھی لیں تب بھی اتنی بات یقینی ہے کہ سقراط ”مطلق العنان“ عوامی جمہوریت کا ہرگز قائل نہیں تھا بلکہ وہ اس بلائے ناگہانی کو کسی حد و قید کا اسیر کرنا چاہتا تھا اور اس کی اصلاح کا پرزور داعی تھا۔

افلاطون کا استاد سقراط تمام عمر اپنی ریاست ایتھنز کے جمہوری نظامِ حکومت سے نالاں رہا۔ اس کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ اس طریقہءِ انتخاب سے حکومت میں آنے والے افراد کے لیے سیاسی تعلیم و تربیت، حاکمانہ اہلیت اور فن حکمرانی (جسے سقراط ”رائل آرٹ“ سے تعبیر کرتا ہے ) سے آشنائی کی کوئی شرط نہیں لگائی جاتی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت و سیاست کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آجاتی ہے جو ممکن ہے زندگی کے کسی دوسرے میدان میں تو دستگاہ رکھتے ہوں لیکن کارِ جہاں داری سے انہیں کچھ مناسبت نہیں ہوتی۔ اس حوالے سے سقراط کا یہ جملہ انتہائی مشہور ہے جس کے بعض جزئیات کو صدیقِ مکرم علی حیدر پاکستان کے ایک مخصوص حکمران خاندان پر منطبق بھی فرماتے رہتے ہیں :

”اسمبلی احمقوں، معذوروں، ترکھانوں، لوہاروں، دکان داروں اور منافع خوروں پر مشتمل ہے۔ جو ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ سستی چیز مہنگے داموں کیسے بیچی جائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوام کے مسائل کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ “

سقراط کے بقول جس طرح ہم زندگی کے دیگر تمام شعبوں میں اس شعبے کے ماہرین اور متخصصین کی خدمات لیتے ہیں اور ان کی ذمہ داریوں کو آپس میں خلط ملط نہیں کرتے۔ ڈاکٹر سے ہل چلانے کا مطالبہ نہیں کرتے۔ مالی سے عمارتیں تعمیر نہیں کرواتے۔ مستری کو محاذ پہ کھڑا نہیں کرتے اور فوجی سے کپڑے سلائی کرنے کی خدمت نہیں لیتے۔ بالکل اسی طرح سیاست و حکومت بھی ایک مستقل اور سماج کا اہم ترین شعبہ ہے۔ اس کے بھی اپنے رجالِ کار ہیں اور مستقل شرائط اورنصابِ تعلیم و تربیت ہے۔

صرف انہی مطلوبہ علمی حیثیت اور انتظامی بصیرت کے حامل افراد کو مسندِ اقتدار پر فائز ہونا چاہیے۔ سقراط کا یہی وہ اجمالی تصورِ حکومت ہے جس کو تفصیلی انداز افلاطون نے ”ریپبلک“ میں بیان کیا ہے اور اس کے عملی نفاذ کی تکنیکی تدابیر سے بحث کی ہے۔ گویا افلاطون کی ”ریپبلک“ کا ضخیم دفتر دراصل سقراط کے اسی ”اک نکتہءِ ایماں کی تفسیر“ ہے۔

لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج اڑھائی ہزاربرس گزرنے کے باوجود بھی ہم افلاطون اور سقراط کے تشخیص کردہ روحِ جمہوریت میں پائے جانے والے اس مرض کا مداوا نہیں کر سکے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں حکومتی امیدوار کے لیے مطلوبہ سیاسی و حکومتی استعداد و اہلیت کی کوئی معتد بہ شرط ہے، نہ ہی حکمران کو منتخب کرنے والے ووٹرسے کسی قسم کی کوئی باز پرس ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کھلاڑیوں سے لے کر تاجروں اور دکانداروں تک ہر شخص ”میں بھی ہوں پانچ سواروں میں“ کا نعرہ لگا کر حصولِ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہوجاتا ہے۔

پھر اس سونے پر سہاگہ یہ کہ ووٹ کے نام پر کی گئی رائے شماری میں بھی رائے دہندہ کی علمی قابلیت، ذہنی استعداد اور سیرت و کردار کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ چالیس برس تک سیاست وحکومت کے رموز و اسرار کی گتھیاں سلجھانے والے دانش ور سے لے کر اٹھارہ برس کے کھلنڈرے اور لا ابالی نوجوان تک سب کو ایک صف میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اور ”تولنے“ کی مشقت سے بچتے ہوئے سب کی رائے کو یکساں سمجھتے ہوئے ”گن“ لیا جاتا ہے۔

جمہوریت کا یہ روحانی مرض یوں تو پوری دنیا کواپنی ”کرم فرمائیوں“ سے بہرہ ور کرتا ہے مگر مشرقی ممالک خصوصا پاکستان میں مخصوص سماجی، عمرانی اور تعلیمی مشکلات کی وجہ سے ذرا ”چوکھے“ رنگ کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔ یہاں کسی بھی حیثیت سے طاقت اور بالادستی رکھنے والے اور سیاسی طور پر ناہل افراد (خواہ وہ کھلاڑی ہوں، تاجر ہوں، بدمعاش ہوں یا وڈیرے ) باآسانی تعلیمی اور معاشی لحاظ سے پسماندہ لوگوں کو (جو پاکستان کی اکثریت ہیں ) اپنا ہم نوا بنا کر مسندِ اقتدار پر فائز ہوجاتے ہیں۔ پھر نا اہلی کے اس ”شجرہءِ طیبہ“ پر ”پھل پھول“ آنے لگتے ہیں۔ اور آرمی چیف کی مدت میں توسیع اور ملائیشیا اسلامی کانفرنس میں شرکت جیسے بسیط سے مسئلے سے لے کرپرویز مشرف کی سزائے موت جیسے مرکب قضیئے تک ہر مسئلہ بحران کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی نا اہل شخص کو ذمہ داری سونپ دی جائے تو پھر قیامت کا انتظار کرو۔ “ آج کل قیامت آئی ہوئی ہے۔ ہم میدانِ سب حشر میں کھڑے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words