ریاست خداداد میں کار مملکت کو شفاف رکھنے کے واسطے بہت سے ادارے ہیں جن میں سے ایک نیب بھی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک صرف اپوزیشن جماعتوں، یا ایک خاص نقطہ نظر رکھنے والے لوگوں کو ہی نیب سے شکایت تھی۔ اس وقت موجودہ حکومتی بزر جمہران اس کی شان میں قلابے ملا رہے تھے اور جب بھی کوئی اپوزیشن رہنما نیب کی حراست میں آتا خوب بغلیں بجتی۔ بھنگڑے لگتے، حکومتی ترجمانوں کی طرف سے باوجودیکہ نیب آزاد اور خود مختار ادارہ ہے نوید سنائی جاتی آئندہ فلاں فلاں شخص کی باری آنے والی ہے۔
طرفہ تماشا ہے وہی زبانیں اور کردار جو نیب اور چیئرمین نیب کی مدح سرائی میں مصروف تھے، اب وہ ایسے دہائیاں دے رہے ہیں گویا پابجولاں انہیں انگاروں پر چھوڑ دیا ہو۔ سمجھا بجھا، چیخ چلا کر تھک گئے، احتساب کے نام پر رچایا جانے والا یہ ڈرامہ درست نہیں۔ بلکہ اس طریقہ کار سے مجرموں کو مزید تقویت ملے گی اور وہ پہلے سے توانا ہو کر ابھریں گے۔ مذکورہ سوچ رکھنے والوں کو چوروں اور ڈاکوؤں کا حمایتی مشہور کیا جاتا اور زیادہ تکرار کرنے والوں پر لفافہ پکڑنے اور ملک دشمنی کا لیبل لگتے بھی دیر نہ لگتی۔ وہی فواد چوہدری جو نیب کی ترجمانی بھی رضاکارانہ انجام دے رہے تھے، اب ان کا فرمان ہے ”سرکاری ہیلی کاپٹر کے نا جائز استعمال کا کیس“ چلا کر نیب وزیراعظم پاکستان کی توہین کر رہا ہے
Read more