حکومت کے دن گنے جا سکتے ہیں

موجودہ حکومت میں گزرے آٹھ ماہ میں مملکت خداداد کی صورت روز بروز بگڑتی جا رہی ہے۔ کار مملکت ٹھپ پڑے ہیں، کچھ کام نہیں ہو رہا۔ ہر وزیر مشیر اپنا کام چھوڑے دوسرے کے کام یا پھر بالکل ہی لا یعنی مشغلے میں مصروف۔ کوئی سورج اس وقت تک نہیں ڈھلتا، جب تک جان بوجھ کر حکومتی کار پردازان کہیں سینگ پھنسا نہ لیں۔ اسی انتشار کے سبب محکموں اور وازتوں کی کارکردگی روبہ زوال ہے۔ ریلوے کی وزارت جس کی کارکردگی بہتری کی جانب گامزن تھی، وہ تیزی سے تنزلی کی ڈھلوان پر لڑھک رہی ہے۔

Read more

دھوکے کا گھر

ہماری مسجد کے امام ہوا کرتے تھے۔ انتہائی نیک شریف اور بزرگ۔ دن کا بیشتر وقت مسجد میں تنہا قرآن پاک کی تلاوت میں گزارتے۔ غربت کے باوجود ایمانداری سے زندگی بسر کی۔ شہر سے باہر دور ایک گاؤں میں ان کی رہائش تھی۔ پرانا سا ایک اسکوٹر آنے جانے کا واحد ذریعہ، اسی پر مسجد آتے اور واپس جاتے۔ سالہا سال سے جب سے ہوش سنبھالا یہی معمول دیکھا۔ مشقت بھری اس زندگی کے باوجود کبھی ملال یا تفکر

Read more

مفتی تقی عثمانی صاحب پر حملہ اور ہماری کراچی پالیسی

یقین تقریبا غیر متزلزل ہونے والا تھا کہ کراچی کی روشنیاں بحال ہو چکی۔ اس کا امن پھر سے لوٹ آیا ہے۔ ان شاءاللہ وہ دن بھی دور نہیں جب کسی کو کسی سے ڈر یا کوئی خوف اور کھٹکا، پہلے کی طرح نہیں رہے گا۔ کراچی بالکل ستر کی دہائی سے قبل کی اپنی اصل شکل میں واپس آ جائے گا اور اس کے چہرے پر مسلط بدامنی کا مکروہ ماسک اترنے والا ہے۔ ہماری نسل کی آنکھیں بھی

Read more

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

پچھلے دو دنوں سے طبیعت بہت نا ساز رہی۔ کچھ لکھنے کی جانب طبیعت مائل ہو کر نہیں دے رہی تھی۔ سندھ کے ایک پسماندہ علاقے میں درویش رہائش رکھتا ہے، جہاں مختصر وقفوں کے سوا دہائیوں سے روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کی دعویدار پیپلز پارٹی حکمران رہی۔ اس حکمرانی کی برکات کے طفیل صحت سے متعلقہ معمولی مسائل کے لیے بھی تمام سندھ کے شہریوں کو کراچی یا حیدرآباد کا سفر بیماری کی حالت میں طے کرنا

Read more

میثاق جمہوریت کی اہمیت کا ادراک جلد تحریک انصاف کو بھی ہو جائے گا

پچھلے دنوں کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے عیادت کے لیے ملاقات کی۔ اس ملاقات سے قبل بلاول بھٹو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی سیاسی ایجنڈا لے کر میاں صاحب سے ملنے نہیں جا رہے بلکہ ان کا مقصد فقط عیادت ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا، میاں صاحب کی طبیعت واقعتا خراب ہے اور وہ دل کے سنگین عارضے میں مبتلا ہیں، اس حالت میں انہیں دباؤ میں رکھنا تشدد کے مترادف ہے۔مزید برآں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حالت میں بھی میاں صاحب کا عزم غیر متزلزل ہے اور وہ اپنے بیانیے پر قائم ہیں۔ ان کے موقف میں کوئی لچک نہیں اور نہ ہی محسوس ہوتا ہے وہ کسی سمجھوتے یا رو رعایت کے متقاضی ہیں۔ دونوں کے درمیان ملاقات کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ عیادت تو ویسے بھی رسم دنیا ہے اور ہماری مذہبی تعلیم میں ایک مسلمان کا حق ہے کہ جب وہ بیمار ہو تو شناسا اس کی عیادت کو پہنچے۔ دو ہزار تیرہ کی الیکشن کمپین میں جب عمران خان اسٹیج سے گر کر زخمی ہوئے تو نہ صرف میاں صاحب نے اپنی الیکشن مصروفیات موقف کی۔ بلکہ ان سے ملنے ہسپتال بھی پہنچے۔

Read more

قانون کی تبدیلی اپنی جگہ، عملدرآمد اصل مسئلہ

پہلے زمانے میں بھی ایک بادشاہ گزرا، جسے یقین کی حد تک گمان تھا کہ اس کی رعایا بہت ایماندار اور پارسا ہے۔ بادشاہ کی اس بات سے اس کے وزیر کو اختلاف تھا۔ وہ سمجھتا تھا بادشاہ جیسا سوچتا ہے رعایا ویسی نہیں ہے۔ ایک دن بادشاہ کو جانے کیا سوجھی، اس نے سوچا رعایا کا امتحان لے کر دیکھتے ہیں۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنے وزیر کو حکم دیا شہر کے بیچ درمیان ایک وسیع و عریض تالاب تعمیر کرائے۔ حکم کی جب تعمیل ہو گئی تو وزیر نے اطلاع دی، حضور تالاب تو بن چکا۔اب کیا حکم ہے؟ بادشاہ نے کہا! شہر میں منادی کرائی جائے کہ آج رات ہر شہری اس تالاب میں ایک گلاس دودھ لا کر ڈالے گا۔ صبح یہ تالاب مجھے دودھ سے بھرا ہوا چاہیے۔ سورج ڈھلا، اندھیرے نے پر پھیلائے تو شہری ایک ایک کر کے گلاس اٹھا کر آتے گئے اور اپنے حصے کا گلاس تالاب میں خالی کر کے واپس لوٹتے گئے۔ غرض رات پوری یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ صبح پو پھوٹتے بادشاہ تالاب کی طرف نکلا کہ جا کر دیکھے رعایا نے اس کے حکم پر کتنا عمل کیا۔

Read more

Truth and reconciliation commission وقت کی ضرورت!

افلاطونی دماغوں میں سودا سمایا ہے کہ ہماری جگ ہنسائی اور کمزوری کا سبب ”گھر کی خرابی“ ہے۔ لہذا گھر کی صفائی کی جائے گی تاکہ دنیا میں ہم کچھ مقام اور آبرو پا سکیں۔ جب سے یہ خبر سنی ہے اک وحشت طاری ہے، اضطراب بڑھتا جارہا ہے، دل میں سو وسوسے لاکھ اندیشے سر ابھار رہے ہیں۔ خدایا خیر! ہمارے اجڑے، بکھرے، چکنا چور اور زخموں سے معمور وجود کو نجانے کس کانٹوں بھری رہگزر پر گھسیٹا جائے

Read more

عمران خان کا امتحان اب ہوگا

کسی بے وقوف شخص کی غلطی کی سزا اس کی ذات تک محدود رہتی ہے مگر، ایسا شخص اگر حکمران ہو اور اس سے غلط فعل سر زد ہو جائے تو بسا اوقات اس کی قوم کی عمر بھر کی کمائی اور محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔ اس فعل کے مضر اثرات اس طرح جان کو چمٹتے ہیں کہ چھڑانے کی سر توڑ کوشش بھی کامیاب نہیں ہوتی۔ جتنے مرضی ہاتھ پیر مارے جائیں، دلدل سے نکلنے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ یہی عمل مخالف قوم کی ناکامی کو کامیابی اور انتشار کو وحدت میں بدلنے کی بنیاد بنتا ہے۔بشرطیکہ زمام اقتدار کسی صاحب فہم و ذکا شخص کے ہاتھ میں ہو۔ پلوامہ حملہ ہوا، بھارتی وزیراعظم مودی بغیر ثبوت پاکستان کے خلاف شعلہ بدہن ہو گئے۔ بات چیت یا دلیل کے بجائے جنگ اور جارحیت کی دھمکیاں شروع کر دیں۔ حسب معمول پاکستان صفائیاں پیش کرتا رہا، لیکن جنگی جنوں کچھ اس طرح انڈیا کے سر چڑھا ہوا تھا کہ اس کی فضائیہ نے پاکستانی علاقے میں دراندازی کر دی۔ جوابا یہ ممکن نہ رہا کہ پاکستان خاموش رہتا، لہذا اسے بھی اپنی فضائیہ کو حرکت دینا پڑی۔ جس کے نتیجے میں بھارت اپنے دو جنگی جہازوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور تباہ شدہ جہاز کا پائلٹ بھی گرفتار ہو گیا۔

Read more

کشیدگی سے سبق سیکھ لیں!

گذشتہ رات مار گرائے جانے والے انڈین مگ 21 طیارے کے پائلٹ کو دو دن کی حراست کے بعد انڈین حکام کے حوالے کر دیا۔ عمران خان نے پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تھا۔ الا چند ایک آوازوں کے مجموعی طور پر اندرون ملک بھی اس امر کو سراہا گیا۔ جتنی دیر وہ پائلٹ یہاں موجود رہا اس کی ہمارے مذہبی، اخلاقی اور سماجی اقدار کے تحت بھرپور مہمان نوازی کی گئی۔ جس کا اعتراف خود اس پائلٹ نے اپنے دو ویڈیو بیانات میں بھی کیا۔

Read more

کوئی قیامت نہیں آنے والی!

صبح سویرے نماز کے لیے اٹھا، حسب عادت رات کے میسج چیک کرنے کے لیے واٹس ایپ آن کیا تو اچانک پیغامات کی برسات ہو گئی کہ رات کے آخری پہر انڈین فضائیہ کے طیاروں نے مظفر آباد کے قریب پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ جوابا جب ان کی سرکوبی کے لیے پاکستانی جہاز فضا میں بلند ہوئے بزدل انڈین پائلٹ اپنا فالتو ایمونیشن اور اسلحہ بالا کوٹ کے قریب گرا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب سے پلوامہ میں حملہ ہوا، اور بھارت کی طرف سے جنگی جنون کا مظاہرہ ہو رہا اس طرح کی چھوٹی موٹی شرارت کوئی عجب بات نہیں، لیکن میری ناقص رائے میں انڈیا اس سے بڑھ کر کسی ایڈونچر کی ہمت کبھی نہیں کرے گا۔

اس یقین کی وجہ کیا ہے، یہ آگے چل کر ذکر کروں گا، پہلے یاد دلاتا چلوں انہیں صفحات پر جنوری کی ابتدا میں انتہائی ٹھوس ذرائع سے ملی معلومات کی روشنی خبر دی تھی کہ مودی سرکار مارچ سے مئی کے درمیانی عرصے میں کوئی احمقانہ اقدام کر سکتی ہے۔ اس کی وجہ صرف انتخابات میں یقینی نظر آنے والی شکست سے بچنا اور ان دنوں اپنی حکومتی کارکردگی سے عوام کی نظریں ہٹا کر ہندو دھرم میں موجود دائمی تنگ نظری، کم ظرفی اور عدم برداشت کو ابھارنا ہے۔

Read more

سچ دبتا ہے، دھوکا دھڑلے سے بکتا ہے!

پون صدی کسی ملک، قوم کے ارتقا اور کامیابی کے لیے کم نہیں۔ اس عرصے میں تین نسلیں گزرتی ہیں، نیت اگر صاف، ارادہ اٹل، دلوں میں نفاق نہ ہو، اس مدت میں ترقی کیا، زمین و آسمان کی وسعت با آسانی طے ہو سکتی ہے۔ اتنے سالوں کے ضیاع کے بعد اپنی حالت تو کیا بدلنی تھی، اب تک بطور قوم ہی متحد نہیں ہو پائے۔ دیگر بہت سی وجوہ کے ساتھ اس کی وجہ یہ بھی ہے، ہم سیاسی عقیدتوں کی بنیاد پر بری طرح تقسیم ہیں، یہ جملہ استاد محترم نصرت جاوید صاحب کا ہے اور درویش بھی اکثر مستعار لیتا ہے۔

بڑی حد تک ہمارے انتشار و اضمحال کی تشخیص ہے۔ سونے پہ سہاگہ تقسیم کا عمل سیاسی بنیادوں تک محدود نہیں رہا، پچھلے کچھ عرصے میں لبرلز اور مذہب پرستوں کا دلیل سے بڑھ کر کدورت اور دشنام تک پہنچتا عدم اتفاق بھی قومی وحدت کے آڑے آتا رہا۔ سیاسی معاملہ ہو یا قومی سلامتی سے متعلق امور، مذہبی اور فقہی مسائل ہوں یا خالصتا سماجی اور معاشرتی اقدار، ہر جگہ ہر دو جانب سے زبانی کلامی طنز وتشنیع کے بجائے، عملا لٹھ بازی تک نوبت پہنچتی ہے۔

Read more

کشمیر آزاد ہو چکا!

ہوش سنبھالنے کے بعد، خارجہ امور، پاکستان کے بین الاقوامی معاملات اور سویلین ملٹری تعلقات سے بہت دلچسپی رہی۔ جب سے لفظوں کی گھسیٹا کاری شروع کی اس دوران بھی یہ کوشش رہی جد و جہد کشمیر، پاک بھارت چپقلش، افغانستان کی صورتحال، بڑی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے مفت میں ریاست کا پراکسی کردار، پڑوس اور خلیج کے ممالک میں سینڈوچ بنی حالت اور سویلین ملٹری تعلقات کو سمجھنے اور اپنی ناقص سوچ دنیا تک پہنچانے کی کوشش کروں۔

لیکن وہ کہتے ہیں بڑی مچھلی ہمیشہ چھوٹی مچھلی کو نگل لیتی ہے، یہی حال ہمارے ملک میں خبر اور ابلاغ کی دنیا کا ہے۔ پچھلا پورا ہفتہ میڈیا اور حکومت کی توجہ کا مرکز سعودی ولی عہد کا دورہ رہا۔ اسی دوران مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فوجی کانوائے پر بارود بھری گاڑی کی مدد سے خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 46 انڈین فوجی جہنم واصل ہو گئے۔ جس کے بعد حسب توقع انڈین میڈیا پر آہ و فغاں شروع ہو گئی، بغیر ثبوت و تحقیقات لمحاتی تاخیر کے بغیر الزام پاکستان اور جیش محمد پر لگا۔

Read more

ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

ملکوں کے درمیان تعلقات افراد یا لیلی مجنوں والے نہیں ہوا کرتے۔ بہت بار پہلے بھی عرض کر چکا ہوں، نہیں یقین تو بین الاقوامی تعلقات کے کسی ادنی طالب علم سے پوچھ دیکھیں۔ ملکوں کے آپسی تعلقات باہمی اعتماد، مفاد اور سلامتی کے لحاظ سے دوسری ریاست کے کردار کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیے جاتے ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کوئی نئی کہانی یا آج کی بات نہیں یہ پون صدی کا قصہ ہے۔ نہ ہی کچھ نیا ہوا ہے جس پر ہنگامہ برپا ہے، معاشی اور اسٹریٹجک دونوں جہتوں میں باہمی تعاون ہمیشہ سے موجود ہے۔

بلکہ میری نظر میں معاشیات اور اسٹریٹجک معاملات کو الگ کر کے سوچنا نری حماقت ہے۔ نیوکلیئر پروگرام کے لیے پاکستان کی مالی معاونت، ایٹمی دھماکوں کے بعد ادھار تیل کی فراہمی، پچھلی حکومت کو تین ارب ڈالر کی ادائیگی کیوں یاد نہیں۔ یہ نہیں کہ بدلے میں سعودیہ کو ہم سے کچھ نہیں ملا اس کی فوجی تربیت تقریبا پاک افواج نے کی۔ متعدد مواقع پر سعودیہ کی مدد کے لیے فوجی دستے بھی یہاں سے گئے۔ ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہہ چکے اور وقتا فوقتا یقین دہانی کراتے رہتے ہیں، حرمین شریفین کے تحفظ یا مقدس مقامات کی حرمت پر آنچ آئی تو پاکستان کسی بھی انتہائی اقدام سے دریغ نہیں کرے گا۔

Read more

بھرم بازی مہنگی پڑ سکتی ہے!

چار دن قبل ایک خبر واٹس ایپ کے ذریعے ملی کہ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا اور طالبان وفد اور امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کی ملاقات قائد انقلاب صاحب سے بھی متوقع ہے۔ تشکیک کے مارے ذہن میں اس وقت سے بہت سے وسوسے سر اٹھا رہے ہیں، اور بہت سے خدشات ذہن میں ابھر رہے ہیں۔ افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے اور وہاں سے آنے والی خبر کا حقائق کی روشنی میں تجزیہ کرنے والوں میں سلیم صافی صاحب کا معتبر مقام ہے۔

Read more

لال حویلی کی خالہ فسادن

درویش کو اپنی منہ پھٹ اور بات دل میں نہ رکھنی والی عادت کا اعتراف ہے۔ جو بات ناقص ذہن میں سما جائے مصلحتوں کو نہ سمجھتے ہوئے کہہ دینے کا عادی ہوں۔ بچپن میں اکثر اساتذہ سے بھی اختلاف رہا، وجہ نزاع بات بے بات سوال پوچھنے اور استاد کی نقل کرنے یا رٹا لگانے کے بجائے اوٹ پٹانگ سوالات پوچھنا اور نصاب پر انحصار کے بجائے تشکیک کا مارا ذہن رہا۔ بہت بار مار کھائی سزا پر بغاوت

Read more

این آر او: کاٹھ کے گھوڑے میں کونسا لشکر چُھپا ہے؟

سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہونے والی مملکت میں آج تک جمہوریت کی پنیری نشونما نہیں پا سکی۔ جمہوریت کی شاہراہ پر گھسٹتا لنگڑاتا جو بھی سفر طے ہوا اس کی راہ میں بھی ہمیشہ کانٹے بکھرے رہے۔ مختلف لسانی اکائیوں کو ایک قوم اور ایک جغرافیے پر متحد کرنا ایسا محیر العقول کارنامہ تھا جو سیاسی جدوجہد کے سوا کسی دیگر طریق سے ہرگز منزل سے ہمکنار نہ ہوتا۔ یہ کامیابی مگر برقرار یا دیرپا کیوں نہ رہی

Read more

آگ بھڑکنے سے پہلے پشتونوں کی آواز سن لیں!

افغانستان اور پاکستان دونوں پڑوسی ممالک ہیں اور دونوں کی امن و سلامتی ایک دوسرے سے منسلک۔ بد قسمتی سے دونوں ممالک پچھلی چار دہائیوں سے بدترین انارکی اور دہشتگردی کا شکار رہے۔ طرفہ تماشا ہے اس کا ذمہ دار بھی دونوں ایک دوسرے کو ہی قرار دیتے ہیں۔ ہمارا موقف شروع سے یہ ہے پشتونوں کی حمایت کے نام پر افغان حکومتیں یہاں شورش اور بدامنی کو فروغ دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ادارے افغانستان کو

Read more

ابھی اس کھیل کے کچھ منظر باقی ہیں

کسی اور کی نہیں، قائد انقلاب کی تشخیص ہے۔ غذائی قلت کے باعث چالیس فیصد ملکی آبادی کی دماغی نشونما مکمل نہیں ہوئی۔ بڑا المیہ ہے۔ اس سے بڑا المیہ مگر یہ ہے کہ بقیہ ساٹھ فیصد میں سے بیشتر کی آنکھوں پر بھی عصبیت کا جالا گہرا ہے۔ ایسوں کے متعلق ہی تکرار کے ساتھ ان سطور میں کئی بار عرض کر چکا یہ قوم نہیں بلکہ سیاسی عقیدتوں کی بنیاد پر منقسم ہجوم ہے۔ اسی وجہ سے انہیں

Read more

حج سبسڈی

وزیر اطلاعات فواد چوہدری صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ حج پر حکومت کی جانب سے ادا کی جانے والی سبسڈی اسلام کے فلسفہ حج سے ہی متصادم ہے، یہ عبادت صرف استطاعت رکھنے والوں پر واجب ہے۔ کیا یہ عبادت ہو گی کہ بیس کروڑ غریب لوگوں کی جیب سے پیسہ نکلوا کر لاکھ سوا لاکھ افراد کو حج کرایا جائے۔ انہوں نے مزید فرمایا حکومت حج کے پیسوں سے ایک روپیہ تک نہیں کماتی۔ شروع میں خبر آئی

Read more

فیصلہ سازوں کو زیادہ عرصہ آپ بھی منظور نہیں رہیں گے

حکم حاکم کے بعد تعمیل کے سوا کوئی راستہ ہو سکتا ہے؟ ارشاد ہوا ملک ففتھ جنریشن وار کا شکار ہے اس لیے پراپیگنڈے اور جائز نا جائز شک و شبہے کو عوام کے ذہن میں مت انڈیلیں۔ صرف چھ ماہ سنہرے دنوں کی امید پر چپ ہو جائیں، جو کھیل ہو رہا اس میں رخنہ اندازی کی جرات نہ کریں، ہم ایسے کم حوصلہ اور مزدوری پر گزارہ کرنے والے لہذا چپ ہوگئے۔ اس تنبیہ کے بعد ہم نے عالمی میڈیا سے ازخود نظریں چرانا شروع کر دی، مبادا ففتھ جنریشن وار کے ٹولز ہماری کوتاہ سوچ کو متاثر نہ کر دیں۔

Read more

چوہدراہٹ کا خیال اب دل سے نکال دیں

جوں جوں گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی دنیا میں عوام کے ذہنوں میں قوم پرستی کا لاوا بھی بڑھ رہا ہے۔ خبر نہیں دونوں باتوں میں تعلق ہے یا نہیں مگر، بہرحال سین کچھ ایسا ہی ہے۔ برطانوی وزیراعظم کا بریگزٹ پر ڈٹ جانا، بھارتی یوم جمہوریہ پر عوام کا بہت سی ریاستوں میں یوم سیاہ منانا، برازیل کے صدر کی طرف سے ماحولیاتی تنظیموں کی طرف سے مسلسل خبردار کرنے اور اس کے سنگین اثرات کے باوجود کرہ ارض کے پھیپھڑوں یعنی امیزون کے جنگلات کی کٹائی پر مصر رہنے کے پیچھے یہی عامل کار فرما ہے۔

دنیا کے عوام کی بدلتی اس سوچ کا سبب ان کے ذہنوں میں، بیداری پیدا ہونا ہے کہ ان کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل ہوئے محصولات کو ان کے حکمران یا اسٹیبلشمنٹ مہم جوئیوں میں جھونک دیتے ہیں۔ تقریروں اور تحریروں سے شروع ہوئی اس سوچ کو پرتشدد ہونے سے روکنے کے لیے اکثر حکمران اپنی پالیسی میں تبدیلی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسی نابغہ شخصیت کی دریافت بھی بڑھتے قوم پرستی کے جرثوموں کا نتیجہ ہے۔ ان کی پوری الیکشن کمپین کا نچوڑ تھا کہ وہ دنیا بھر میں پھنسے امریکی سینگوں کو واپس نکالیں گے اور ان کی تمام توجہ اپنے عوام کی فلاح اور معیشیت کے تحفظ پر ہوگی۔

Read more

فراڈ تو نہ کریں

آج دنوں بعد صبح سویرے دھوپ نکلی ہے۔ تیز، سنہری اور گرمائش سے بھرپور۔ گزرے ہفتے کی ابتدا سورج کی آنکھ مچولی سے ہوئی مگر پھر اس نے ایسی کہر کی چادر اوڑھی کہ ماحول کے ساتھ دل کے نہاں خانوں میں بھی تاریکی اتر آئی۔ جذبات بھی موسم کی طرح سرد پڑ گئے نہ کچھ کہنے کو دل چاہتا نہ سننے کو۔ دو حرف لکھنا گویا پہاڑ سر کرنے کے مترادف ہو چکا تھا۔ یار لوگ ایسے موسم کو خوب انجوائے کرتے ہیں بلکہ سرمایہ و وقت برباد کر کے بالائی علاقوں میں پڑاؤ ڈال لیتے ہیں۔

یہ جاننے کے باوجود کہ سردی میں پرانی چوٹ پھر سے درد دینا شروع کر دیتی ہے۔ شاید یہ یقین ان کی بے فکری کی بنیاد ہو کہ ایسی چوٹوں کا شافی علاج آج موجود ہے اور سیکنڈز میں افاقے کے لیے پین کلر اسپرے بھی۔ مجھ ایسے کچھ درد دل سے مجروح مگر ایسے بھی ہیں جن کی چوٹوں کے لیے نہ کوئی دوا کارگر ہوتی ہے اور نہ دعا۔ ایسی ٹیسیں بس اندر ہی درد دیتی ہیں اور جسم کو سلگائے رکھتی ہیں تا آنکہ قدرت ہی اپنا رحم کرے۔ چند سال پیشتر ایسے ہی دنوں میں دل کو بہلانے کی خاطر چند نا مکمل افسانے اور کچھ مکمل غزلیں لکھیں،

Read more

عدالتی اور پولیس نظام کی اصلاح ضروری ہے

2019 امن و امان کے لحاظ سے پاکستان کے لیے کیسا ثابت ہوگا۔ پوچھنے میں یہ سوال جتنا سیدھا اور آسان ہے اس کی گتھی سلجھانا اتنا ہی پیچیدہ اور مشکل۔ اس پر بحث جاری تھی درمیان میں سانحہ ساہیوال ہو گیا تمام لوگ، دانشور، کالم نویس اور دفاعی تجزیہ کار سب کچھ چھوڑ چھاڑ مقتول ذیشان کا شجرہ کھنگالنے اور سی ٹی ڈی کی بربریت اور پولیس نا اہلی کی طرف توجہ مرکوز کر بیٹھے۔ کوئی شبہ نہیں یہ سانحہ بدترین سفاکی اور بربریت کا مظاہرہ ہے اور یہ پہلی بار نہیں ہوا۔

ماضی میں انگنت ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ دو ہزار گیارہ میں رینجرز کے اہلکاروں نے کراچی کے ایک پارک میں سرفراز نامی نوجوان کو باوجود منت سماجت گولیوں سے بھون رکھ دیا۔ شور شرابہ ہوا، دفع وقتی کی خاطر کیس چلا، سزا بھی ہوئی لیکن اب سنا ہے کہ خاموشی سے مذکورہ اہلکار آزاد ہو چکے۔ کئی سالوں تک چوہدری اسلم عفریت بنا بیٹھا رہا، بالآخر ایک خودکش حملے میں مارا گیا۔ اس کے بعد اس کی گدی راؤ انوار نے سنبھال لی، تین سال تک چار سو زائد افراد مبینہ طور پر اس کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

Read more

سیاسی عدم استحکام اور قصہ 18 ویں ترمیم کا

مملکت خداداد کا پہلا آئین مرتب ہونے میں تقریباً نو سال لگے۔ 12 مارچ 1949 ء کو لیاقت علی خان نے آئین ساز اسمبلی میں قراردادِ مقاصد پیش کی، جو علامہ شبیر احمد عثمانی نے تیار کی تھی۔ اسمبلی نے بل کا مسودہ تیار کیا، جو کہ 29 فروری 1956 ء کو پاکستان کا آئین قرار پایا۔ اس وقت ملک میں افراتفری بہت تھی۔ ون یونٹ پالیسی کی وجہ سے مغربی پاکستان کے صوبوں کے مابین عدم اطمینان پایا جاتا

Read more

پاکی داماں کی حکایت بڑھائی کیوں؟

ریاست خداداد میں کار مملکت کو شفاف رکھنے کے واسطے بہت سے ادارے ہیں جن میں سے ایک نیب بھی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک صرف اپوزیشن جماعتوں، یا ایک خاص نقطہ نظر رکھنے والے لوگوں کو ہی نیب سے شکایت تھی۔ اس وقت موجودہ حکومتی بزر جمہران اس کی شان میں قلابے ملا رہے تھے اور جب بھی کوئی اپوزیشن رہنما نیب کی حراست میں آتا خوب بغلیں بجتی۔ بھنگڑے لگتے، حکومتی ترجمانوں کی طرف سے باوجودیکہ نیب آزاد اور خود مختار ادارہ ہے نوید سنائی جاتی آئندہ فلاں فلاں شخص کی باری آنے والی ہے۔

طرفہ تماشا ہے وہی زبانیں اور کردار جو نیب اور چیئرمین نیب کی مدح سرائی میں مصروف تھے، اب وہ ایسے دہائیاں دے رہے ہیں گویا پابجولاں انہیں انگاروں پر چھوڑ دیا ہو۔ سمجھا بجھا، چیخ چلا کر تھک گئے، احتساب کے نام پر رچایا جانے والا یہ ڈرامہ درست نہیں۔ بلکہ اس طریقہ کار سے مجرموں کو مزید تقویت ملے گی اور وہ پہلے سے توانا ہو کر ابھریں گے۔ مذکورہ سوچ رکھنے والوں کو چوروں اور ڈاکوؤں کا حمایتی مشہور کیا جاتا اور زیادہ تکرار کرنے والوں پر لفافہ پکڑنے اور ملک دشمنی کا لیبل لگتے بھی دیر نہ لگتی۔ وہی فواد چوہدری جو نیب کی ترجمانی بھی رضاکارانہ انجام دے رہے تھے، اب ان کا فرمان ہے ”سرکاری ہیلی کاپٹر کے نا جائز استعمال کا کیس“ چلا کر نیب وزیراعظم پاکستان کی توہین کر رہا ہے

Read more

شام سے امریکی انخلا، کان کھڑے کرلیں

امریکی معیشت کا بڑا انحصار دفاعی صنعت پر ہے، لہذا دنیا بھر میں تنازعات کو فروغ دینے اور برپا ہونے والی جنگوں کے پیچھے اس کا ہاتھ ضرور موجود ہوتا ہے۔ موجودہ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے اپنے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ایک بار پھر نہ صرف وہ کھوئی عظمت رفتہ بحال کریں گے بلکہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا خاتمہ اور معاشی بہتری ان کی اولین ترجیح ہو

Read more

بزبان ٹرمپ مودی کی تذلیل پر خوش نہ ہوں، دور کی سوچیں

جب سے ہوش سنبھالا، خارجہ امور، پاکستان کے بین الاقوامی معاملات اور سویلین ملٹری تعلقات سے بہت دلچسپی رہی۔ جب سے لفظوں کی گھسیٹا کاری شروع کی اس دوران بھی یہ کوشش رہی جد و جہد کشمیر، پاک بھارت چپقلش، افغانستان کی صورتحال، بڑی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے مفت میں ریاست کا پراکسی کردار، پڑوس اور خلیج کے ممالک میں سینڈوچ بنی حالت اور سویلین ملٹری تعلقات کو سمجھنے اور اپنی ناقص سوچ دنیا تک پہنچانے کی کوشش کروں۔

Read more

تبدیلی کے خواب دیکھنے والوں کو ابتری کی تعبیر ملی

اسی باعث دل ناداں نے واقعتا تبدیلی کی امید باندھ لی اور اس تبدیلی کے مظاہر دیکھنے کے لیے قائد انقلاب کی ڈیڈ لائن مکمل ہوتے ہی پہلی فرصت میں فقیر نے رخت سفر باندھا۔ ناسازی طبیعت کے باوجود بائی ایئر یا پبلک ٹرانسپورٹ کے بجائے ذاتی گاڑی پر سفر کو ترجیح دی۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے، شرقا غربا اور شمالا جنوبا پورے ملک میں پھرا۔ ہر صوبے، شہر حتی کہ قابل ذکر گاؤں میں بھی لوگوں سے میل ملاقات کی۔ سرکاری دفاتر، ہسپتال، اسکولز، پولیس چوکیوں، دکانداروں اور ڈھابوں تک نگاہ دوڑائی۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں، ہر سال کے آخر میں اس فقیر کا یہی معمول ہے۔ بلا مبالغہ ملک کے ہر کونے میں کاروبار حیات اور عام آدمی کی زندگی پہلے سے ابتر اور دگرگوں نظر آئی۔ ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص انقلابی حکومت کو کوستا اور سر پیٹتا نظر آیا، اور یہ منظر کیوں نہ ہوتا؟ اعداد و شمار سامنے ہیں دیکھ لیں، اسٹاک مارکیٹ، جی ڈی پی گروتھ روٹ، افراط زر، روپے کی بے قدری اور کاروباری مندی دیدہ بینا ہو تو سب کچھ سمجھا دے گی۔ ”قومی سلامتی“ کے اداروں سے متعلقہ افراد سے ملاقات میں انہیں بھی اس صورتحال پر کسی حد تک متفکر دیکھا۔ ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے احباب، جن کی زبانیں انقلاب کی مالا جپتے نہ تھکتی تھیں، وہ بھی شرمسار شرمسار نظریں چراتے ملے۔

Read more

کمزور ہاضمہ ملکی مسائل کی بنیاد ہے

یہ کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہوگا کہ حکومت اور سیاست دانوں پر تو صرف مختاری کی تہمت ہی ہوا کرتی ہے۔ اصل اختیار و اقتدار تو بیوروکریسی، عدلیہ، خلائی مخلوق اور آج کے دور میں کافی حد تک میڈیا کے پاس موجود ہے۔ اسی لیے ملک کے مسائل کے حل کی ذمہ داری بھی بڑی حد تک انہیں اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ ملکی حالات کی تصویر دیکھتے ہوئے کوئی بچہ بھی اندازہ لگا سکتا ہے، مذکورہ ادارے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کس حد تک کامیاب ہوئے۔

ان اداروں کی جانب سے اپنے فرائض کی درست انجام دہی میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں اہم عہدوں پر فائز افراد کی بڑی تعداد مڈل کلاس بیک گراؤنڈ رکھتی ہے۔ اس مڈل کلاس طبقے کے ذہن میں دولت، قوت اور شہرت کے حصول کی خواہش بہت شدید پیمانے پر موجود ہوتی ہے۔ اسی لیے ذرا سی قوت اور اختیار ملنے پر مڈل کلاس طبقے کے افراد اکثر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور ہواؤں میں اڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ بندے کو بندہ سمجھنے سے ہی انکاری ہوجاتے ہیں۔ پھر اپنی کرسی پر بیٹھ کر اپنا اصل کام کرنے کے بجائے ”سلطان راہی“ کی طرح بڑھک بازی شروع کردیتے ہیں نتیجتاً صاحب بہادر کی شہرت اور بھرم بازی کی دیرینہ حسرت تو پوری ہوجاتی ہے مگر فرائض منصبی کہیں پس پشت پڑے رہ جاتے ہیں۔

Read more

تحریک انصاف کو ووٹ کیوں دیں؟

ملک میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کب کا ہو چکا۔ بڑی حد تک لوگوں کو امکان نظر آ رہا ہے کہ یہ معرکہ جولائی کی پچیس تاریخ کو لڑا جائے گا۔ اس تاریخ کے اعلان کے بعد نئے کاغذات نامزدگی کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دینے کی وجہ سے شکوک و شبہات نے سر ابھارا تھا کہ خبر نہیں آنے والے دنوں میں حالات کس کروٹ بیٹھیں؟ سپریم کورٹ نے مگر دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے

Read more