تحریک انصاف حکومت کا تیسرا بجٹ

تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا تیسرا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ یہ بجٹ 8 ہزار 487 ارب روپے پر مشتمل ہے جس میں اگلے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا ہے، جبکہ وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک اضافہ، پنشن میں 10 فیصد اضافہ اور کم سے کم تنخواہ 20 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔ اس بجٹ میں نو سو ارب سے زائد سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے

Read more

افغانستان میں ملکی مفاد بھی مدنظر رکھنا ہوگا

افغانستان سے امریکی فوجی انخلا جاری ہے لیکن اس وقت اصل پریشانی کی بات یہ ہے کہ انخلا مکمل ہونے کے بعد کیا ہوگا؟ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کیا غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ایک مرتبہ پھر افغان سرزمین خانہ جنگی کا شکار تو نہیں ہوگی؟ افغانستان چار دہائیوں سے تندور سے بڑھ کر دہک رہا ہے اور اس کی حدت تمام خطے کو لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ گزشتہ سال طالبان اور امریکا کے مابین قطر

Read more

چند مثبت خبروں کا تذکرہ

درویش کی ناقص رائے میں اخباری سطور کی اہمیت ہے اور انہیں قارئین کی امانت سمجھتا ہوں، لہذا یہاں ذاتی معاملات جسم و جان اور ذہن و قلب پر گزری واردات کا بہت کم ذکر کرتا ہوں۔ قارئین اور ان کی رائے چاہے مثبت ہو یا منفی لکھنے والے کے لیے بہرحال اثاثہ ہیں۔ تحریر خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو پڑھنے والے میسر نہ ہوں تو ایسے لکھے کا کچھ حاصل نہیں۔ سب سے خوش نصیب لکھاری میری

Read more

پانی کی قلت

وفاق اور سندھ کی حکومت کے درمیان پانی کی قلت کے سبب کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں اطراف سے بیان بازی جاری ہے۔ اسی دوران ایشیائی ترقیاتی بینک نے دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گندم، مکئی، گنا، کپاس، چاول اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں چھ فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اے ڈی بی پی کی رپورٹ میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی تغیر سے زراعت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان

Read more

غزہ پر جارحیت، قصور ہمارا اپنا

رمضان المبارک کے آخری عشرے سے غزہ پر جاری اسرائیلی فائرنگ و بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 200 سے زائد ہو چکی ہے۔ یہ جھگڑا بیت المقدس کے ایک محلے سے متعدد فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی سے شروع ہوا۔ اسرائیلی پولیس نے ان خاندانوں کو نکال کر ان کے گھر آباد کار یہودیوں کو دے دیے۔ اس واقعہ کی وجہ سے فلسطینی مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ اسرائیلی پولیس

Read more

بشیر میمن کے انکشافات

احتساب کے عمل میں حکومتی مداخلت کا یقین تو تھا ہی مگر ایمانداری کی بات ہے یہ اندازہ ہرگز نہیں تھا کہ مداخلت اس قدر کھلم کھلا اور اعلی سطحی ہوگی۔ ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی روداد بتا کر ہلچل مچا دی ہے۔ بشیر میمن کے بقول ”اس ملاقات میں وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر مملکت داخلہ و احتساب شہزاد اکبر اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان

Read more

حکومت کی مسلمہ نااہلی

حکومت کی نااہلی و نالائقی پر اگر کسی کو شک باقی تھا تو اب ختم ہو گیا ہو گا۔ وزیراعظم صاحب اٹھتے بیٹھتے ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں کوئی بتائے کیا ریاست مدینہ ایسے معاہدے کرتی ہے جس پر عمل نہیں ہو سکتا اور بعد ازاں جنہیں توڑنا پڑے۔ پھر اگر کر ہی لیا تھا تو اچانک معاہدے کی مدت ختم ہونے سے قبل مذہبی جماعت کے رہنما کی گرفتاری اور اس قدر سخت ردعمل کی کیا ضرورت پیش

Read more

وزیراعظم کا اعتراف اور شوکت ترین کا بیان

اس حکومت کے سامنے معیشت کی بحالی کے سوا اور کوئی چیلنج نہیں تھا لیکن اب اپنے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو ہٹا کر وزیراعظم نے ایک طرح سے اعتراف کر لیا ہے کہ معیشت بھی ان سے نہیں سنبھل سکی۔ اب وزیراعظم نے معاشی تباہی کا عمل روکنے کے لیے اکنامک ایڈوائزری کونسل تشکیل دی ہے، جس میں نجی شعبہ سے بھی تیرہ افراد شامل ہیں۔ اس کونسل کے ممکنہ کنوینیئر اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے بھی وہی باتیں کہیں ہیں جو ہم ایسے طالب علم عرصے سے کہہ رہے تھے۔

Read more

سیز فائر کا اعلان اور خدشات

ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب نے بھارتی انتخابات کے موقع پر نریندر مودی کی جیت کی دعا کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ ان کی جیت سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔ نریندر مودی نے مگر حکومت بنانے کے فوراً بعد راجیہ سبھا میں تین بل منظور کروا کر کشمیر کی حیثیت تبدیل کر دی۔ صدارتی حکم کے تحت پیش کیے گئے پہلے بل کے ذریعے بھارتی آئین کے آرٹیکل تین سو ستر

Read more

ایک اور شخص جو مسنگ پرسن ہو گیا!

بہت سے لوگ اب اس شخص کو سوچتے ہیں، جو کبھی اسٹیس کو کے خلاف مزاحمت بن کر ابھرا تھا۔ وہ شخص جو وہ آئی پی کلچر کے خلاف تھا۔ کبھی وہ وی آئی پی موومنٹ کے خلاف بڑھ چڑھ کر تقریریں کیا کرتا تھا۔ وہ شخص جو گلیمرائزڈ زندگی گزارنے کے باوجود میڈیا سے شرماتا تھا۔ وہ شخص جو رواداری پر یقین رکھنے والا تھا۔ عوام کے مذہبی جذبات کو ابھار کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی

Read more

ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کے لئے عبرت کا سامان

حالیہ ضمنی انتخاب حکومت کی مقبولیت جانچنے کے لیے کافی ہیں۔ مانتے ہیں حلقہ جاتی سیاست کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور اصل سیاست مقامی ہوتی ہے۔ تاہم ایسا بہت کم دیکھا گیا ہے کہ حکومتی جماعت ضمنی انتخابات میں وائٹ واش سے دوچار ہو جائے۔ صورتحال اس نہج تک پہنچنے میں کوئی سمجھ نہ آنے والا فارمولا یا اچنبھے کی بات نہیں۔ تحریک انصاف کی حقیقی یا غیر حقیقی جو بھی مقبولیت تھی وہ صرف اور صرف نعروں اور

Read more

سیاسی کارکن رہنماؤں کی کہہ مکرنیوں کے تابع نہیں

چند روز قبل ایک سفر سے واپس آ رہا تھا کہ کھانا کھانے کی غرض سے ہائی وے پر بنے ایک ہوٹل پر گاڑی روکی۔ جہاں ایک کونے میں زمین پر چھ سات سال کا بچہ سویا ہوا تھا، اتنے میں ایک لڑکا جس کی عمر دس بارہ سال ہو گی آیا اور اس نے سوئے ہوئے بچے کے بال کھینچ کر اٹھایا اور تھپڑ مار کر لوگوں کی جانب بھیک مانگنے کے لیے دھکیل دیا۔ اس بچے کی آنکھیں

Read more

کشیدگی میں کمی حکومت کے لیے ضروری ہے

قائداعظم کے بعد ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ مقبولiت کسی سیاستدان کو نہیں ملی۔ ان کے بد ترین مخالف بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ نہایت ذہین، بیدار مغز اور صاحب علم شخص تھے۔ وہ جہاں جاتے عوامی سمندر ان کی جھلک دیکھنے کو امڈ آتا، ننگے پیر اور پھٹے کپڑوں والے لوگ گھنٹوں پہلے سے ان کی گزرگاہ پر کھڑے ہوتے تھے۔ کوئی شک نہیں کہ وہ عوامی نفسیات سے کھیلنا جانتے تھے اور اس پذیرائی میں روٹی کپڑا

Read more

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کی رپورٹ اور ڈینیئل پرل کیس

حکومت کے پاس کرپشن کے خلاف جہاد کی بات اور چوروں کو پکڑیں گے،  این آر او نہیں دیں گے کی تکرار کے سوا کارکردگی کے میدان میں تھا کیا؟ حکمراں جماعت کو برسر اقتدار آئے اڑھائی برس کا عرصہ گزر چکا، یعنی وہ اپنی آئینی مدت کا نصف حصہ گزار چکی، الیکشن سے قبل عوام سے جو بڑے بڑے وعدے اور دعوے کیے گئے تھے، ان میں سے کوئی ایک بھی پوری نہیں ہوا۔ ہر بات کے جواب میں

Read more

براڈ شیٹ، پی ڈی ایم اور پاک امریکا تعلقات

کوئی شک نہیں کہ کرنٹ افیئرز کے نام پر ہمارے اخبارات میں جو خامہ فرسائی ہوتی ہے اس میں چسکہ فروشی یا ذاتی ایجنڈے کی تبلیغ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہمارے قارئین کی اکثریت بھی اخباری کالمز کو محض چسکے کی طلب یا اپنی سیاسی عصبیت کی تسکین کی خاطر ہی پڑھتی ہے۔ جہاں اس میں لکھاریوں کا قصور ہے کہ ہر کوئی کسی نہ کسی سیاسی بت کی پوجا میں مصروف اور اس کی مدح سرائی فرض سمجھتا

Read more

جو بائیڈن کے لیے چیلنج

عام بے وقوف شخص کی غلطی کی سزا اس کی ذات تک محدود رہتی ہے مگر، ایسا شخص اگر حکمران ہو تو اس سے سر زد ہونے والی حماقتوں سے بسا اوقات اس کی قوم کی عمر بھر کی کمائی اور محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔ اس فعل کے مضر اثرات اس طرح جان کو چمٹتے ہیں کہ چھڑانے کی سر توڑ کوشش بھی کامیاب نہیں ہوتی۔ جتنے مرضی ہاتھ پیر مارے جائیں، دلدل سے نکلنے کی کوئی تدبیر

Read more

کیا امریکی جمہوریت خطرے میں ہے؟

ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات کر کے ایسے کسی نا خوشگوار واقعے کو روکنے کی سعی کی ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹرمپ جب تک صدارتی منصب پر فائز ہیں ، تمام ادارے ان کے احکامات ماننے کے پابند ہیں۔ امریکی آئین میں آرٹیکل 25 واحد راستہ ہے جس کے ذریعے نائب صدر کابینہ کی منظوری سے صدر کو اختیارات سے محروم کر سکتا ہے، جس سے اس نے انکار کر دیا ہے یا پھر کانگریس سے مواخذے کی تحریک لائی جا سکتی ہے ، جس کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی اور یہ عمل بھی طویل ہے البتہ کانگریس ٹرمپ کو آئندہ انتخاب لڑنے کے لیے نا اہل ضرور قرار دے سکتی ہے۔

Read more

قاتل کٹہرے میں کب پہنچیں گے؟

سانحہ ساہیوال کے وقت بھی وزیراعظم عمران خان تھے اور انہوں نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ سہمے ہوئے بچوں، جن کے والدین کو ان کی آنکھوں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالا گیا، کو دیکھ کر ابھی تک صدمے میں ہوں۔ ریاست اب ان بچوں کا ذمہ لے گی اور ان کی مکمل دیکھ بھال کرے گی، ساہیوال واقعے پر عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ بالکل جائز اور قابل فہم ہے۔ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ قطر سے واپسی پر نہ صرف ذمہ داروں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی بلکہ میں پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لوں گا اور اس کی اصلاح کا آغاز کروں گا۔

Read more

سال جو ضائع ہوا

وقت کا پہیہ رواں رہنا ہے۔ ازل سے اس کی چال جس ترتیب سے جاری ہے ابد تک اسی طرح برقرار رہے گی۔ ماہ و سال یونہی آتے اور جاتے رہیں گے کیونکہ وقت کا کام ٹھہرنا ہے اور نہ یکساں رہنا۔ گزرے بہت سے برسوں کی طرح دو ہزار بیس بھی تلخ یادوں اور بہت سی ادھوری حسرتوں کے ساتھ رخصت ہو گیا۔ دو ہزار بیس کے آغاز میں کورونا کی وبا چین سے اٹھی اور اس نے پوری

Read more

وزیراعظم کی اپنی بکل میں چور

کوئی بھی محب وطن، با شعور شہری کسی کرپٹ آدمی کا دفاع کر سکتا ہے اور نہ کرپشن کے خلاف کارروائی کی مخالفت۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہمیشہ کرپشن کے خاتمے کی آڑ میں سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ ہمارے ہاں ہر شعبے میں بے پناہ کرپشن ہے اور یہ روز بروز بڑھ رہی ہے لیکن، یہ بھی ماننا پڑے گا کہ کسی بھی دور میں

Read more

مکالمے کا بنیادی نکتہ عوامی مفاد ہونا چاہیے

احتجاجی جلسوں کے سلسلے میں لاہور کا جلسہ پی ڈی ایم کا آخری پاور شو تھا۔ لاہور میں مینار پاکستان کے سائے تلے پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد ایک بار پھر کتنے بندے تھے کی بحث ہو رہی ہے اور گیارہ جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد کے جلسے کا موازنہ دو ہزار گیارہ کے تحریک انصاف کے جلسے اور جونیجو مرحوم کی حکومت میں محترمہ بینظیر بھٹو کے استقبالی جلوس سے کیا جا رہا ہے۔ جلسے کے شرکا کی تعداد سرکاری ذرائع پولیس، اسپیشل برانچ اور آئی بی کی رپورٹس کے حوالے سے چار سے پانچ ہزار جبکہ ”آزاد ذرائع“ بیس سے پچیس ہزار بتا رہے ہیں۔

شرکا کی درست تعداد کا اندازہ لگانے سے قبل یہ حقیت ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ جلسہ گیارہ جماعتوں کی مشترکہ کاوش تھی۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ ان میں سے کئی جماعتیں پنجاب میں اثر و رسوخ کی حامل نہیں لیکن یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت جے یو آئی پورے ملک میں کہیں بھی بڑی تعداد میں لوگ جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ لاہور مسلم لیگ نون کا گڑھ رہا ہے جہاں مشرف جیسا فوجی آمر بھی اس جماعت کی قوت ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔

Read more

وزیراعظم صاحب میڈیا تابعدار ہی ہے

ماضی میں عمران خان صاحب میڈیا کی آزادی کے بڑے حامی تھے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ میڈیا سے بہت نالاں ہیں۔ حالانکہ عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچانے کا غیبی ہاتھوں کے سوا کوئی اور ذمہ دار ہے تو وہ صرف میڈیا ہے اس کے باوجود وہ میڈیا سے خوش نہیں۔ اپنے ایک تازہ فرمائشی انٹرویو میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کی حکومت میڈیا کے نشانے پر رہتی ہے اور میڈیا ان کی کارکردگی درست بیان نہیں کرتا۔ کاش وزیراعظم صاحب یہ شکوہ کرتے وقت مہربانی فرما کر یہ بھی بتا دیتے کہ وہ کیا کارکردگی ہے جو بیان نہیں ہو رہی تو میڈیا کے لیے سہولت ہو جاتی۔

کرپشن کے خاتمے، میرٹ کے نفاذ اور انصاف کی فراہمی کے نام پر اقتدار میں آنی والی تحریک انصاف کا محض دو سال کے دوران کس الزام سے دامن داغدار نہیں جس پر وہ مخالفین کو مطعون کیا کرتی تھی۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب کرپشن کا نیا اسکینڈل اور رولز کی سنگین خلاف ورزی کی نئی داستاں سننے کو نہ ملے لیکن پھر بھی میڈیا پر اس طرح بات نہیں ہوتی جیسے ماضی کے حکمرانوں کے خلاف ہوا کرتی تھی۔ اب ڈھائی سال بعد میڈیا میں چند آوازیں اٹھنا شروع ہوئی ہیں تو پی ٹی وی کو بی بی سی بنانے کے دعویدار وزیراعظم صاحب دلبرداشتہ ہو گئے ہیں۔

Read more

ملتان جلسہ

گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کو کورونا کے خطرے کے پیش نظر جلسے جلوس سے روکنے کی اخلاقی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گلگت میں انتخابات کے موقع پر خود وزیراعظم اور ان کے وزراء ہزاروں لوگوں کے اجتماعات سے ایس او پیز کی دھجیاں اڑا کر خطاب کرتے رہے، جونہی مگر اپنا سیاسی مقصد پورا ہوا کورونا کو آڑ بنا کر نہ صرف اجتماعات پر پابندی کا اعلان کر دیا بلکہ اپوزیشن سے مطالبہ شروع کر دیا کہ وہ اس پابندی کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی احتجاجی تحریک ختم کر دے۔

اس کے بعد بھی لیکن اپنی روش نہ بدلی، ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے سے صرف دو روز قبل وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر جنہیں تحریک انصاف کا سمجھدار چہرہ سمجھا جاتا اور جو کورونا کی صورتحال کی مانیٹرنگ اور بچاؤ کے اقدامات تجویز کرنے کی خاطر قائم کیے گئے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ بھی ہیں، نے ایک بڑے مجمعے سے خطاب کیا جس میں کورونا سے بچاؤ کی خاطر بتائی جانے والی احتیاطی تدابیر ان کے سامنے پامال ہوتی رہیں۔

Read more

کورونا کی دوسری لہر اور اپوزیشن کی تحریک

رواں سال کے آغاز میں جب وطن عزیز میں کورونا کی وبا نے پہلی بار سر اٹھایا اس وقت پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور بلاول بھٹو زرداری کا موقف تھا کہ کسی بھی قسم کے معاشی نقصان کی پروا کیے بغیر سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ ہونا چاہیے کیونکہ سب سے پہلی ترجیح عوام کی جان کا تحفظ ہے اور اس وقت تمام اپوزیشن جماعتیں بھی ان کے موقف کی ہمنوا تھیں۔ اس وقت مگر وفاقی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کا اصرار تھا کہ ہماری بڑی آبادی دیہاڑی دار طبقے پر مشتمل ہے جس کے پاس اتنا سرمایہ نہیں کہ گھر بیٹھ کر ان کا چولہا جلتا رہے اور نہ حکومت کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ اتنی بڑی تعداد کو گھروں میں بیٹھے ضروریات زندگی مہیا کر سکے لہذا ہم مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ حکومت اور اپوزیشن کی اسی لڑائی کے باعث کورونا سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح پالیسی نہ بن سکی اس کے باوجود مگر خدا نے اپنا کرم کیا اور کورونا کی پہلی لہر زیادہ نقصان پہنچائے بغیر گزر گئی۔

Read more

وسیع تر قومی مکالمہ لازم ہے مگر…

انسان کو روز اول سے کسی نظام حکومت کی ضرورت رہی ہے۔ قدیم دور کے انسان بھی اپنی مذہبی، معاشی اور سماجی ضروریات کے تحفظ کے لئے کسی اتھارٹی کے قیام کی خواہش رکھتے تھے۔ اسی لیے چند خاندان مل کر قبیلہ بناتے اور پھر کوئی طاقتور شخص اس کی سرداری پر قابض ہو جاتا۔ زمانے نے کچھ ارتقائی مراحل طے کیے تو مختلف قبائل کے اشتراک سے ریاستیں وجود میں آئیں، اور ان کا نظام و انصرام سنبھالنے والے

Read more

امریکی پالیسی میں تبدیلی آئے گی؟

امریکا دنیا کی اکلوتی سپر طاقت ریاست ہے اور اس کی اندرونی سیاست میں آنے والی ہر تبدیلی کے اثرات دنیا محسوس کرتی ہے اسی لیے پوری دنیا کی نظریں امریکہ کے صدارتی الیکشن کے نتائج پر لگی ہوئی تھیں۔ حالیہ امریکی صدارتی انتخاب ماہ نومبر کی تین تاریخ کو منعقد ہوئے جس کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق جوبائیڈن نے اپنے حریف ٹرمپ پر واضح سبقت حاصل کرلی ہے۔ عموماً امریکی انتخابی مہم میں روزگار، تعلیم اور صحت سے متعلق پالیسی کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے، حالیہ انتخابات کی خاص بات مگر صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی ناقص پالیسی کے سبب کورونا وبا کے بعد امریکا میں پیدا شدہ صورتحال اور کورونا وبا کے سبب بنائے گئے ارلی ووٹنگ سسٹم پر بحث رہی۔

Read more

ورکرز کنونشن کی روئیداد

گزشتہ روز ضلع سانگھڑ میں مسلم لیگ نون کی مقامی قیادت کی طرف سے منعقد کیے گئے ورکرز کنونشن سے خطاب کے لیے مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال، محمد زبیر، مفتاح اسماعیل، شاہ محمد شاہ اور کھیل داس کوہستانی تشریف لائے۔ اسٹیج کی نظامت میری ذمہ داری تھی۔ قائدین کے خطاب سے قبل میں نے پشاور کی مسجد میں ہونے والے دہشتگردی کے افسوسناک واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم دشمن کے اس بزدلانہ و مکروہ فعل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ پاک مرحومین کے درجات بلند فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد از جلد صحتیاب فرمائے۔ ہماری یہ بھی دعا ہے کہ اللہ ہمیں دہشتگردی کے ناسور سے بطور قوم متحد ہو کر لڑنے اور اس پر قابو پانے میں کامیابی عطا فرمائے۔ کوئی بھی سیاسی بات کرنے کی بجائے میں نے ایک اور تشویشناک اور قابل مذمت واقعے پر بھی چند گزارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر میکرون نے نبی اکرمﷺ کے بارے بنے گستاخانہ خاکے اور کارٹون شاہراہوں اور بڑی عمارات پر سر عام لگانے کا حکم دیا ہے۔

Read more

حکمران تو دکھائی دیتے ہیں لیکن وزیر اعظم کہاں ہیں؟

اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم اب تک گوجرانوالہ اور کراچی میں کامیاب احتجاجی جلسے کر چکا ہے۔ جوں جوں اپوزیشن کی تحریک آگے بڑھ رہی ہے، کسی بڑے نقصان کا خطرہ بھی اسی رفتار سے بڑھتا جا رہا ہے۔ احتجاج اور جلسے جلوس اپوزیشن کا کام ہے، لیکن حکومتیں حواس باختہ نہیں ہوتیں، بلکہ تدبر سے نمٹا کرتی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب تو خود کئی بار اپوزیشن کو احتجاج کی دعوت دے چکے ہیں لیکن ابھی محض دو ہی جلسے ہوئے ہیں کہ ملک میں انارکی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

حکومت نام کی شے ملک میں نظر نہیں آ رہی، جس طرح معاملات چل رہے ہیں، صاف محسوس ہو رہا ہے حکومت بد حواس ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں۔ ملک اس وقت جس گمبھیر صورت احوال کا شکار ہے اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، کیوں کہ معاملات بگاڑنے اور اس نہج تک پہنچانے میں بڑا کردار اس کے وزیروں اور مشیروں کا ہی ہے۔ گزشتہ انتخابات کے بعد سے لے کر اب تک اپوزیشن نے کئی بار حکومت کی جانب دست تعاون بڑھایا لیکن ہمیشہ بدلے میں اسے چوروں ڈاکوؤں کی جانب سے این آر اور کے حصول کی کوشش کے طعنے سننے کو ملے۔

Read more

مہنگائی: حکومت کے لیے اصل خطرہ

مسئلہ، مسائل کے انبار کا ہے اور نہ وسائل کے فقدان کا، بلکہ اصل مسئلہ ہے نیت، اہلیت اور ترجیحات کا۔ سونے پہ سہاگا، انتقامی نفسیات بھی۔ گزشتہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا، اس کے سامنے دو بڑے چیلنج تھے۔ ایک ملک میں چہار سو پھیلی دہشت کی فضا کا خاتمہ، دوسرا توانائی کے بحران پر قابو پانا۔ تسلیم کرنا چاہیے کہ گزشتہ حکومت بہت سی روایتی اور غیر روایتی مشکلات کے با وجود، ان امتحانات سے عہدہ برا ہونے میں کامیاب رہی۔

یہ کہنے میں بھی مضائقہ نہیں کہ اگر حکومت کے ماتحت ادارے، دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے میں کما حقہ تعاون نہ کرتے، تو تنِ تنہا حکومت یہ بار گراں اٹھانے میں نا کام رہتی۔ موجودہ حکومت کو بھی اپنی ابتدا سے، دو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ یعنی ملک کی دگرگوں اقتصادی صورت احوال میں بہتری لانا اور ملک کو در پیش سنگین بیرونی خطرات سے نمٹنا۔ پچھلی حکومت بڑی حد تک اپنا ٹارگٹ صرف اس وجہ سے پورا کرنے میں کامیاب ہوئی کہ نا صرف اس کی سوچ میں یکسوئی تھی بلکہ وہ غیر ضروری سیاسی محاذ آرائی سے بھی احتراز کرتی رہی۔

Read more

اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات! لمحہ فکر

ملکی سیاسی ماحول میں تلخی، نئی بات نہیں۔ یہ ہمیشہ موجود رہی ہے۔ کچھ عرصے سے مگر یہ تلخی، خطرناک حد چھوتی نظر آ رہی ہے۔ ہر گزرتے لمحے، سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے باعث خدانخواستہ کسی بڑے سانحے کا خطرہ نظر آ رہا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے ساٹھ فی صد حصے پر مشتمل، سب سے بڑے صوبے کی نمائندہ جماعت کے خلاف، مسلسل ایسے اقدامات ہو رہے ہیں، جس سے یہ تاثر یقین میں بدل رہا ہے کہ واقعتاً اس کا وجود مٹانے کی کوششیں ہو رہی ہے۔

مسلم لیگ نون میں خرابیاں ہو سکتی ہیں، مگر باوجود اپنی تمام تر کوتاہیوں اور جملہ خرابیوں کے، بہرحال وہ ایک ملک گیر جماعت ہے۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے، ہمیں ففتھ جنریشن وار کا سامنا ہے اور دشمن ”خفیہ سازشی منصوبوں“ کے ذریعے ہمیں لسانی بنیادوں پر تقسیم کر کے کمزور کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، لیکن اس نازک موڑ پر بھی احتیاط کا دامن تھامنے کی بجائے اپوزیشن کا وجود تک برداشت نہیں کیا جا رہا۔ حالاں کہ اس وقت ملک گیر جماعتوں کا وفاقی سیاست میں موجود رہنا قومی سلامتی اور وحدت کے لئے نا گزیر ہے۔

Read more

یہ دو ہزار کی دہائی نہیں

دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمن اسمبلیوں سے رکنیت کا حلف لینے کے ہی خلاف تھے۔ انتخابات کے بارے ان کا موقف تھا کہ یہ جھرلو اور فراڈ ہیں جن میں تاریخ ساز دھاندلی ہوئی ہے اور عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ لہذا اپوزیشن کو چاہیے وہ اس جعلی اسمبلی کا حصہ نہ بنے اور از سر نو صاف و شفاف الیکشن کے مطالبے میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو۔

Read more

نواز شریف کی تقریر کافی نہیں

سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر پھر سے زیر بحث ہے حالانکہ اس تقریر کے الفاظ غیر متوقع نہیں تھے۔ اسی سے ملتے جلتے الفاظ میں میاں صاحب پہلے بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ ان کے خلاف اقدامات کرپشن نہیں بلکہ کسی اور جرم کی سزا میں اٹھائے گئے ہیں۔ ایک بار پھر انہوں نے عوام کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ مسئلہ بد عنوانی کا نہیں، اصل مسئلہ اس ملک میں حکمرانی کے تصور پر بحث کا

Read more

شرعی سزا ہی علاج ہے

لاہور سیالکوٹ موٹر وے ایم 11 پر گزشتہ ہفتے ایک خاتون پر اس کے بچوں کے سامنے جو قیامت گزری اس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اس اندوہناک واقعے کا کرب و الم ہر با ضمیر نے محسوس کیا اور ہر کوئی اب تک غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ وطن عزیز میں درندگی کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تواتر سے پیش آتے رہے ہیں لیکن حالیہ واقعے میں ملزمان نے ایک ماں کے ساتھ اس کے کمسن بچوں کے سامنے جس ظلم کا مظاہرہ کیا اس کی مذمت الفاظ میں ممکن نہیں ہو سکتی۔

قارئین اس قسم کے واقعات کے نہ رکنے کی ایک وجہ معاشرے کی فکری تقسیم بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ تقسیم کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ کسی بھی سانحے اور بڑی سے بڑی قیامت کی گھڑی میں بھی ہم باہم اتفاق کا مظاہرہ کرنے اور ایک بیانیے پر اکٹھا ہونے میں ناکام رہتے ہیں اسی لیے آج تک ہم کسی مسئلے کا حل ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہر مرتبہ اس قسم کے واقعات کے بعد بجائے اس کی وجوہات کے خاتمے یا مجرمان کو ڈھونڈ کر انہیں سخت سزا سنانے کے، پہلے سے طے شدہ باتوں کو چھیڑ لیا جاتا ہے یا کوئی نہ کوئی سیاسی پہلو نکال کر مخالفین پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔ نتیجتاً دوسرا فریق بھی اپنے مسلک کا دفاع شروع کر دیتا ہے اور اصل مسئلہ پس پشت پڑا رہ جاتا ہے۔ صرف سیاسی ہی نہیں گزشتہ کچھ عرصہ سے مذہب اور معاشرت سے متعلق مسائل میں لبرلز اور مذہب پسندوں میں خیالات کی تقسیم اختلاف رائے سے بڑھ کر نفرت اور کدورت تک پہنچ چکی ہے۔

Read more

صرف تجاوزات گرانا مسئلے کا حل نہیں

اس ملک میں ایک مسئلہ نہیں۔ یہاں کوئی معاملہ ایسا نہیں جو سیدھا ہو اور کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں عافیت ہو۔ جب بارش کم برسے تو قحط کی کیفیت ہوتی ہے اور اگر برسات زیادہ ہو جائے تو لوگ سیلاب سے مرنے لگتے ہیں۔ رواں سال بارشیں معمول سے کچھ زیادہ ہوئیں جس کے بعد سے پورا ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ کبھی کبھار سوچتا ہوں آخر یہ ملک چل کیسے رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتا اس زوال

Read more

سیاستدانوں کے ساتھ جرنیلوں کا احتساب کیسے ہو گا؟

کچھ دنوں سے ذہن میں پھر چند سوالات ابھر رہے ہیں کہ کیا احتساب کا دائرہ کسی فرد، گروہ یا ادارے سے مخصوص ہو سکتا ہے؟ کسی بھی فرد، گروہ یا ادارے کے احتساب سے فرار یا استثنیٰ کے بعد احتساب کے معانی و مقاصد کا حصول ممکن ہو سکتا ہے؟ احتساب کی لپیٹ میں آئے شخص کا اسے انتقام یا سازش قرار دینا درست ہے؟ احتسابی عمل کے نفاذ کے ذمہ دار خواص ہی محاسبے اور جواب دہی سے

Read more

گیارہ اگست کی تقریر پر بحث

تہتر برس قبل ہمارے اجداد ایک قطعہ ارض حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن زمین کا وہ ٹکڑا جو انتھک محنت اور لا زوال جد وجہد سے حاصل ہوا تھا، پون صدی گزرنے کے بعد بھی گھر بن سکا اور نہ اسے حاصل کرنے والے ایک خاندان۔ ہمارے ساتھ ہی ہندوستان نے آزادی حاصل کی۔ وہاں پہلے روز ہی چند بنیادی باتوں پر اتفاق ہو گیا اور آج تک وہ اسی سمت گامزن ہیں۔ افسوس ہمارے ساتھ اس کے

Read more

کچھ کرنے کو اب بھی وقت ہے

مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں 5 اگست کا دن خصوصی اہمیت کا حامل ہو چکا ہے اور اس سال اس دن کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ تھی کیونکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پامالی اور دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی بدولت مقبوضہ کشمیر کے خصوصی اسٹیٹس کے خاتمے کے بعد یہ پہلا 5 اگست تھا۔ یعنی اس تاریخ کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے اور آرٹیکل

Read more

کشمیری بچے کو انصاف نہیں ملے گا

سال 2015 میں ترکی کے ساحل پر اوندھے منہ مردہ حالت میں پڑے تین سالہ شامی بچے ایلان کردی کی تصویر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی تو اسے دیکھ کر انسانیت لرز گئی تھی۔ ایلان کردی کے اس المناک واقعہ کے بعد یورپ کے بہت سے ممالک نے اپنے دروازے شام کے پناہ گزینوں کے لیے کھول دیے تھے۔ گزشتہ دنوں ایسی ہی ایک اور تصویر نظر آئی جس میں ایک بچہ اپنے نانا کی لاش کے

Read more

جج کی برطرفی سے نظام عدل کی ساکھ بحال ہوگی؟

کیا احتساب عدالت کے جج کی برطرفی نظام عدل کی ساکھ بحال کر سکتی ہے؟ کسی بھی ریاست کا نظم و ضبط برقرار رکھنے میں انصاف کی بلا امتیاز فراہمی کا بہت بڑا کردار ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ریاست مستحکم نہیں رہ سکتی جب تک وہاں نظام عدل فعال نہ ہو۔ عدل و انصاف سماج اور معاشرے کا بھی جزو لاینفک ہے۔ اسی طرح نظام عدل کی شفافیت، فعالیت اور غیر جانبداری تمام طبقات کے لئے شکوک سے بالاتر رہنا نہایت ضروری ہے۔ نظام عدل اس وقت ہی فعال ہو سکتا ہے جب تک معاشرے کے تمام افراد کا اس پر یقین یکساں قائم ہو اور اس کی غیر جانبداری کسی بھی شک و شبہے سے بالاتر ہو۔

نظام عدل کی جانبداری کی صورت طاقت کا توازن بری طرح متاثر ہو سکتا ہے اور ایسے معاشروں میں استحکام کی کوئی ضمانت نہیں رہتی۔ جن ریاستوں اور معاشروں میں نظام عدل کمزور یا غیر فعال ہو وہاں لوگ اپنے باہمی اختلافات کو زور بازو سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کے سبب انارکی پھیلنا شروع ہوتی ہے، اور اس انارکی کا اختتام ریاستی و معاشرتی نظام کا شیرازہ بکھرنے پر ہوا کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے عدلیہ کا کام صرف واقعاتی اور مقبول انصاف فراہم کرنا ہی نہیں بلکہ بر وقت، نظریاتی اور عقلی پیمانے پر پورا اترنے والا انصاف فراہم کرنا عدلیہ کی اصل ذمہ داری ہے۔

Read more

عمران خان چند نشستیں بچانے کی فکر کریں

تحریک انصاف کی حکومت معاشی محاذ اور کورونا وبا سے نمٹنے میں ناکام تھی ہی لیکن اس کے لیے نئی آزمائش اتحادیوں کی ناراضی کی صورت میں بھی سامنے آ چکی ہے۔ بی این پی کے سربراہ اختر مینگل بجٹ سیشن کے دوران قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر حکومت سے اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ ایک اور اتحادی شاہ زین بگٹی نے بھی اسی قسم کا اشارہ دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب چہار اطراف

Read more

اسمارٹ لاک ڈاؤن کا کوئی فائدہ نہیں

ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ تھا تو اسی طرح بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی تھیں اور تنقید کی جا رہی تھی کہ لاک ڈاؤن جاری رہا تو غریب بھوک سے مر جائیں گے۔ حکومت نے تنقید سے گھبرا کر عجلت میں لاک ڈاؤن ختم کر دیا جس کا نتیجہ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ہلاکتوں کی صورت میں اب سامنے ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے لوگ غیر ذمہ دار اور لا پروا ہیں۔ سب سے زیادہ

Read more

غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنا ہوں گے

مالی سروے 20۔ 2019 پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر مشیر خزانہ کا کہنا تھا موجودہ حکومت کو معاشی بحران ورثے میں ملا، جب ہم نے اقتدار سنبھالا ہمارے اخراجات آمدن سے کافی زیادہ تھے۔ برآمدات میں اضافے کی شرح صفر تھی جبکہ گزشتہ حکومت کے آخری 2 سالوں میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16۔ 17 ارب ڈالر سے گر کر 9 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کورونا کی وبا سے مجموعی ملکی پیداوار کو 3 ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، مشیر خزانہ نے بتایا کہ ہمارے دور میں جاری خسارے میں کمی ہوئی ہے، اسٹیٹ بینک سے ہم نے کوئی قرضہ نہیں لیا، بیرونی سرمایہ کاری 137 فیصد بڑھی، جبکہ مہنگائی 9.1 فیصد رہی، اور ہم اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔ کورونا وائرس کے باعث 2 کروڑ 73 لاکھ افراد کا روزگار خطرے میں پڑ گیا، جزوی لاک ڈاؤن پر زرعی اور غیر زرعی شعبے میں ایک کروڑ 25 لاکھ سے ایک کروڑ 55 لاکھ، مکمل لاک ڈاؤن پر ایک کروڑ 87 لاکھ افراد سے ایک کروڑ 91 لاکھ افراد کی بیروزگاری کا خدشہ ہے۔

Read more

یہ زندگی ہے

انسان فطرتا بے چین اور غیر مطمئن ذہن کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ ہر لمحہ اس کی خواہشات اور ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔ یہ سلسلہ اس کی جہان فانی میں آمد سے لے کر عالم بالا روانگی تک بلا تعطل جاری رہتا ہے۔ انسانی بچے کو دیکھیں وہ پیدا ہونے کے بعد بیٹھنے، بیٹھنے کے بعد گھٹنوں کے بل رینگنے، پھر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ خوب سے خوب تر کی اس جستجو کے

Read more

یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا

ہمارا المیہ یہ ہے کہ منصوبہ بندی کی صلاحیت ہم میں نہیں۔ پیشگی آزمائش کا ادراک کرتے ہوئے اقدامات آج تک ہم سے نہیں ہوئے۔ ہمیشہ اولے پڑنے کے بعد سر ڈھانپنے کا خیال آتا ہے۔ بلکہ نقصان اٹھانے کے بعد بھی رد عمل میں سنجیدگی کی بجائے اچھل کود زیادہ ہوتی ہے۔ اس بندر کی طرح جس کے دیگر ہمسائے اپنے جنگل کے شیر کی جارحیت سے بہت تنگ تھے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی شیر کا نوالہ بن جاتا۔ اس مصیبت سے نمٹنے کی کوئی تدبیر جنگل کے رہائشیوں کے پاس نہ تھی۔

Read more

اداروں میں کھینچا تانی میں قوم کا نقصان

ہمارے ہاں اداروں کے درمیان محاذ آرائی اور ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت اسی وقت سے جاری ہے جب سے یہ ملک وجود میں آیا ہے۔ گزشتہ ستر سالوں میں اختیارات سے تجاوز کا رونا ہر دور میں کسی نا کسی ادارے کی جانب سے کسی نہ کسی حد تک لازما موجود رہا ہے۔ درآں حالیکہ ہمارے پاس ایک آئین موجود ہے جس میں ریاستی ڈھانچے کے خدوخال اور تمام ریاستی ستونوں کے افعال و دائرہ کار کی بابت

Read more

اپوزیشن کیوں حواس باختہ ہے؟

انسان محدود صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوا ہے کوئی بھی شخص عقل کل اور ہر فن مولا نہیں ہو سکتا۔ تحریک انصاف کو حکومت میں لانے والے خواہ وہ ووٹر ہوں، صحافی یا پھر غیبی ہاتھ اپنے ذاتی مقاصد کے سوا ان کے پیش نظر یہ مقصد بھی تھا کہ عمران خان ایماندار شخص ہیں اور وہی کرپشن کی دیمک سے متاثر اس ملک کی بنیادیں مضبوط کر سکتے ہیں۔ ان خوش فہموں کو توقع تھی کہ خان صاحب کے

Read more

اٹھارہویں ترمیم نہ چھیڑیں

تکرار کی عادت نہیں لیکن بار بار کہنا پڑ رہا ہے کہ اس وقت ہمارا مسئلہ وسائل کا فقدان نہیں بلکہ بیان بازی اور غیر سنجیدگی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ کورونا کا مسئلہ چند روز کی بات نہیں۔ جب تک کورونا وائرس سے مدافعت کی ویکسین تیار نہیں ہوتی دنیا کا کوئی ملک محفوظ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ وبا پر قابو پانے میں ایک بار کامیابی مل بھی گئی تو اس کے دوبارہ پھوٹ پڑنے کا خطرہ پھر بھی موجود رہے گا۔ اب تک اس وائرس کی تباہ کاری سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے یعنی لاک ڈاؤن۔

Read more

مولانا طارق جمیل صاحب نے کیا غلط کہہ دیا؟

سچ کا بھاشن دینا آسان ہے لیکن سچائی کا سامنا کرنا نہایت مشکل۔ آگے بڑھنے سے قبل واضح کرتا چلوں اس کالم نگار کی مولانا طارق جمیل صاحب سے دو طرفہ شناسائی نہیں۔ مولانا صاحب بہت بڑے داعی اور مبلغ ہیں جن کے دنیا بھر میں لاکھوں مداح ہیں۔ چند سال قبل کہیں وہ بیان کے لیے تشریف لائے جہاں بڑی تعداد میں لوگ انہیں سننے کے لیے موجود تھے منتظمین کی مہربانی سے مجھے اچھی جگہ مل گئی۔ دعا

Read more

یہ قیادت کا بحران ہے

بحران کے دنوں میں نظریں قیادت کی جانب اٹھتی ہیں۔ ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ بیشتر ممالک اس کڑے وقت میں سنجیدہ قیادت سے محروم ہیں اور جن افراد کے ہاتھ میں مہار ہے وہ چرب زبانی سے اپنی کوتاہیاں دوسروں کے سر ڈالنے کی کوشش میں ہیں۔ کورونا کی وبا بلا تخصیص تمام ممالک کو گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ امیر غریب کوئی ریاست اس کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ الا چند ممالک کے جو قیادت کی قوت

Read more

عمران خان اور مراد علی شاہ کو درمیانی راستہ نکالنا چاہیے

کورونا وائرس اگر دست انسانی کا شاخسانہ ہوتا تو بیان بازی سمجھ آ سکتی تھی، لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ آسمانی آفت ہے، تو ایک دوسرے پر لعن طعن کا فائدہ؟ غلطیاں وفاق سے بھی کم نہیں ہوئیں اور سندھ سرکار کی پالیسی بھی بہت زیادہ مثالی نہیں۔ مسئلہ مگر نیت سے زیادہ اہلیت و قابلیت جس کا فقدان دونوں جگہ ہے اور یہ مسئلہ طعنہ زنی سے نہیں، باہمی تعاون سے حل ہو گا۔ مراد علی شاہ کا

Read more

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

لاوا تہہ خاک عرصہ دراز تک پکتا ہے خبر لیکن ارتعاش سطح پر آنے کے بعد ہوتی ہے۔ ایف آئی اے کی رپورٹ لیک ہونے کے بعد جو ہنگامہ برپا ہے اس کی وجہ وہ نہیں جو بظاہر نظر آ رہی ہے بلکہ حقیقی عوامل اور ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ دہائیاں تو بحران کے آغاز سے ہی مچ رہی تھیں اس وقت مگر وزیراعظم صاحب پرسکون بیٹھے رہے اچانک پھر ایسا کیا ہوا کہ انہوں نے تحقیقات

Read more

وقت عمل کا ہے، الزام تراشی کا نہیں

گزرا ہوا وقت کبھی واپس آ نہیں سکتا اور جو زیاں ہو جائے کبھی اصل صورت بحال ہو نہیں سکتا۔ ماضی کو کوستے رہنے سے حال بھی خراب رہتا ہے اور حال خراب رہے تو مستقبل برباد ہونا بھی لازم ہے۔ پہلے بھی کہہ چکا دوبارہ عرض کیے دیتا ہوں یہ وقت لکیر پیٹنے کا نہیں۔ تفتان میں جو حماقت ہونی تھی ہو چکی، جو نقصان ہونا تھا ہو گیا اب الزام تراشی کا کوئی فائدہ نہیں۔ درست ہے کہ

Read more

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا

زمانے کے تغیر پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ حوادث کو روکا نہیں جا سکتا۔ عصری تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہی دانائی ہے۔ بدلتے حالات کے موافق اپنی فطرت بدلنا ہی عقلمندوں کا شیوہ ہے۔ زمانے کا رخ پہچاننے کی صلاحیت، نرم خوئی، حلم و بردباری اور لچک جس کی سرشت میں نہ ہو کامرانی و راحت کبھی اس کا مقدر ہو نہیں سکتی۔ سختی، خود رائی، تمکنت اور انانیت مضبوطی کردار کی نشانی ہے نہ راست بازی

Read more

آگاہی دیں، جھوٹ نہ پھیلائیں

عام افراد کی ذہنی صلاحیت کے بارے کیا لکھا جائے؟ یہاں بظاہر پڑھے لکھے اور ممتاز نظر آنے والے بھی جہالت، کج بحثی کی علت میں مبتلا اور افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ بنی نوع انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ اس کی جسمانی ساخت نہیں بلکہ عقل و شعور اور غور و تدبر کی صلاحیت کی بدولت عطا ہوا۔ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اور تحقیق و جستجو سے کام لے کر ہی موجودہ دور میں بقا

Read more

حکومت نئے صوبوں کی بے وقت راگنی سے اجتناب کرے

حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت میں سے پونے دو سال گزار چکی ہے مگر عوامی فلاح کا کوئی ایک کام اب تک مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں وسائل محدود ہیں جبکہ مسائل بے پناہ۔ لیکن پھر بھی حکومت اگر خلوص نیت اور درست سمت میں سفر کرتی تو عوام کی محرومیاں ختم نہ بھی ہوتیں کم از کم امکان ضرور پیدا ہو سکتا تھا۔ سنجیدگی سے مگر کام کرنے کے بجائے آئے

Read more

عورت مارچ کا ہنگامہ

ہماری بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تقسیم کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ کسی سانحے اور بڑی سے بڑی قیامت کی گھڑی میں ہم ایک دوسرے کے کندھے پر دست تسلی رکھنا گوارا نہیں کرتے تو ہمارے ہاں بامقصد مکالمہ کس طرح ممکن ہے؟ عورت مارچ متنازعہ ہونے کا بڑا سبب ہماری کج بحثی اور بغیر دلیل اپنے موقف پر اڑنے کی عادت ہے۔ ہم کسی مسئلے کا حل ڈھونڈنے میں آج تک ہمیشہ ناکام اسی لیے

Read more

افغانستان: خدشات اب بھی موجود ہیں

افغانستان چار دہائیوں سے تندور سے بڑھ کر دہک رہا ہے اور اس کی حدت تمام خطے کو لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ گزشتہ دنوں طالبان اور امریکا کے مابین قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد اس آگ کے سرد پڑنے کی امید ضرور پیدا ہوئی ہے لیکن حتمی طور پر قیام امن اور افغان مسئلے کے حل سے متعلق خدشات اب بھی باقی ہیں۔ اس معاہدے سے قبل گزشتہ ہفتے تمام فریقین کی جانب

Read more

مسلم لیگ (ن) عوام کو بیوقوف نہ سمجھے

فواد چوہدری صاحب ایسے میزائل ہیں جن کے متعلق یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنی صفوں پر گریں گے یا مخالفین پر۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار ان کے نشانے پر تھے۔ عثمان بزدار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بیڈ گورننس کی وجہ سے پی ٹی آئی کو آئندہ الیکشن میں نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس متعلق اپنی تشویش کے اظہار کے لیے انہوں نے پارٹی چیئرمین

Read more

مہنگائی کم نہ ہوئی تو حالات سنبھالنا مشکل ہوگا

قارئین اور ان کی رائے چاہے مثبت ہو یا منفی لکھنے والے کے لیے اثاثہ ہیں۔ تحریر خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو پڑھنے والے میسر نہ ہوں تو ایسے لکھے کا کچھ حاصل نہیں۔ سب سے خوش نصیب لکھاری میری نظر میں وہ ہیں جنہیں پڑھنے والے نہ صرف ان سے محبت کرتے ہیں بلکہ ان کی غیر حاضری پر انہیں مس بھی۔ مجھے اعتراف میں باک نہیں کہ ”نہ تو دانا ہوں نہ ہی کسی ہنر میں

Read more

کرپشن تو ختم نہیں ہوئی مہنگائی پر ہی قابو پالیں

کسی جگہ چوری ہو گئی۔ چوری کے شبہے میں چند افراد کو قاضی کے سامنے پیش کیا گیا۔ تفصیلات سے اندازہ ہو رہا تھا کہ چور پیش کردہ افراد میں سے ہی ہے لیکن کوئی اپنا جرم تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا۔ قاضی صاحب نہایت زیرک اور معاملہ فہم تھے۔ صورتحال دیکھ کر انہوں نے اعلان کیا کہ میرے پاس ایک ایسا ورد ہے جسے پڑھنے کے بعد جس شخص نے چوری کی ہو گی اس کی داڑھی میں

Read more

پھر وکلاء گردی

فیصل آباد میں ڈسٹرکٹ بار کے انتخابات کے کے موقع پر امیدواروں کے حامیوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی اور فائرنگ کرنے والوں میں ایک خاتون وکیل بھی شامل تھی۔ ڈسٹرکٹ بار میں سالانہ انتخابات کی پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری تھی کہ امیدواروں کے حامیوں کی جانب سے نعرے بازی اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی گئی۔ پولیس نے کارروائی کی تو وکلاء مزاحمت کر کے ساتھی وکلاء کو پولیس حراست سے چھڑا

Read more

ایران: دیکھو اور انتظار کرو پالیسی بہتر ہے

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد عالمی منظرنامے پر ہلچل ہے اور مشرق وسطی میں کسی نئی جنگ یا تیسری عالمی جنگ کے خدشات بیان کیے جا رہے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب بنیادی طور پر فرقہ ورانہ نظریات کے فروغ اور ایرانی توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے کام کرتی ہے اور یہ حکومت کے ماتحت نہیں بلکہ براہ راست روحانی پیشوا اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو جوابدہ ہے۔ عراق میں امریکی ڈرون

Read more

دعا ہے دو ہزار بیس بہتر ثابت ہو

وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے رواں رہنا ہے۔ ازل سے اس کی چال جس ترتیب سے جاری ہے ابد تک اسی طرح برقرار رہے گی۔ ماہ و سال یونہی آتے اور جاتے رہیں گے کیونکہ وقت کا کام نہ تو ٹھہرنا ہے اور نہ یکساں رہنا۔ آج تک گزرے بہت سے سالوں کی طرح دو ہزار انیس بھی کئی تلخ یادوں اور بہت سی ادھوری حسرتوں کے ساتھ رخصت ہو گیا۔ دو ہزار انیس کے آغاز تک حکومت سے

Read more

کہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی

دسمبر گزشتہ کئی سالوں سے مختلف حوالوں سے میرے لیے المناک رہا ہے۔ اس ماہ کے آغاز سے ہی طبیعت پر عجیب اضطرار اضطراب اور اضمحال کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ وجود کے نہاں خانوں میں سرد مہری اور تاریکی در آتی ہے۔ نہ کسی سے ملنے کا جی چاہتا ہے نہ کسی سے مخاطب ہونے کو۔ نہایت شدت سے خواہش ہونے لگتی ہے کہ ایسی جگہ مل جائے جہاں بالکل سناٹا ہو۔ دور دور تک کسی ذی روح

Read more

عدلیہ نے اپنا فرض ادا کیا ہے

حالیہ دنوں میں عدالتوں نے دو مقدمات کے فیصلے سنائے جو ماضی کی غلطیوں کے مداوے کی کوشش کے ساتھ ساتھ ملکی مستقبل کے لیے خوش آئند اور وسیع تر اثرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں آئین شکنی و سنگین غداری کے مقدمے کی۔ جس کی سماعت کرتے ہوئے خصوصی عدالت نے ملزم پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا حکم سنایا۔ اس مقدمے کی بنیاد نومبر دو ہزار سات میں آئین کی معطلی اور ملک

Read more

16 دسمبر۔ کاش ہم سبق سیکھیں

یہ دیس انتھک محنت اور بے مثال قربانیوں سے حاصل کیا گیا تھا۔ اپنے قیام کے کچھ ہی عرصہ بعد 16 دسمبر اکہتر کو دنیائے اسلام کی یہ سب سے بڑی ریاست دولخت ہو گئی۔ اس منحوس دن کی یاد سے دل کے نہاں خانوں میں چنگاریاں بھر جاتی ہیں اور آنکھوں میں اشکوں کی برسات اتر آتی ہے۔ اس عظیم سانحے کا محرک بننی والی اپنی غلطیوں سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے اسے بنگالیوں کی بیوفائی اور اغیار کی

Read more

دعا کریں Consensus ہو جائے

گزشتہ ہفتہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے طریقہ کار کی بابت سپریم کورٹ آف پاکستان میں لیے گئے نوٹس پر بننے والی خبروں کے حوالے سے خاصہ ہنگامہ خیز رہا۔ چند روز قبل ہی وزیراعظم صاحب نے ایک صحافی سے ملاقات میں فرمایا تھا کہ وہ رواں سال مارچ میں ہی ذہن بنا چکے تھے کہ جنرل قمر باجوہ کو جانے نہیں دینا۔ اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اگست سے ہی وفاقی کابینہ وزیراعظم

Read more

دسمبر واقعی آ رہا ہے!

ہمارا دیس کرہ ارض کے جس گوشے میں واقع ہے وہاں دسمبر میں سرد و خشک ہواؤں، طویل و خنک راتوں اور گہری دھند کا بسیرا ہوتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کیا وجہ ہے مگر ایسا ہوتا دیکھا ہے جب گرمی کا اختتام ہوتا ہے ماحول پر ٹھنڈ چھانے لگتی ہے تو ان دنوں جذبات و احساسات میں بھی پہلے جیسی گرمجوشیاں برقرار نہیں رہتی۔ تمام شوخیاں اور سر مستیاں ماند پڑنے لگتی ہیں۔ تعلقات میں چھوٹی موٹی تلخیاں پیدا

Read more

انصاف کا پیمانہ ایک جیسا نہیں

نواز شریف کو لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے علاج کے لیے حکومتی شرائط کے برعکس بیرون ملک جانے کی اجازت ملی تو وزیراعظم صاحب سرکاری و سیاسی مصروفیات سے دو دن کی چھٹی لے کر اپنے گھر بنی گالا جا بیٹھے۔ یہ بات خلاف معمول تھی، کیونکہ اس سے قبل عمران خان کے چھٹی پر جانے کی خبر کبھی سنائی نہیں دی۔ کچھ تجزیہ کاروں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ عدلیہ کے فیصلے پر نا خوش ہیں

Read more

ڈیل، استعفی اور بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

پوری دنیا جانتی ہے میاں نواز شریف کی جسمانی حالت اس وقت سخت تشویشناک ہے۔ وہ بلڈ پریشر، شوگر اور عارضہ قلب سمیت درجن سے زائد بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ان کی پوری میڈیکل ہسٹری پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور حکومت ہی کے قائم کردہ میڈیکل بورڈز کی زبانی بچہ بچہ سن چکا ہے۔ ویسے تو نواز شریف کی صحت پچھلے کئی مہینوں سے خراب تھی مگر چوہدری شوگر مل کیس میں نیب کی جانب سے انہیں

Read more

نواز شریف کی صحت اور مولانا کا آزادی مارچ: حکومت چکی کے دو پاٹوں میں

میاں نواز شریف العزیزیہ ریفرنس میں ملنے والی سزا کے دن لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں خاموشی سے پورے کر رہے تھے۔ کبھی کبھار کسی ملاقاتی کی زبانی ان سے منسوب بیان سامنے آ جاتا تو توجہ دوبارہ ان کی طرف ہو جاتی۔ ورنہ لیگی رہنما تو نیویں نیویں رہ کر اپنی کھال بچانے کی فکر میں تھے ہی متوالے بھی حالات سے سمجھوتا کر چکے تھے۔ اچانک مگر نیب نے یہ کہہ کر کہ شریف فیملی سے دوران

Read more

دھرنا، وہی حالات رہیں گے فقیروں کے

دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمن اسمبلیوں سے رکنیت کا حلف لینے کے ہی خلاف تھے۔ انتخابات کے بارے ان کا موقف تھا کہ یہ جھرلو اور فراڈ ہیں جن میں تاریخ ساز دھاندلی ہوئی ہے اور عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ لہذا اپوزیشن کو چاہیے وہ اس جعلی اسمبلی کا حصہ نہ بنے اور از سر نو صاف و شفاف الیکشن کے مطالبے میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو۔

Read more

 تقریر اچھی ہو گئی، اب آگے سوچیں

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہر سال ستمبر میں منعقد ہوتا ہے۔ جہاں دنیا بھر کے سربراہان مملکت اپنے ممالک کا نقطہ نظر مختصرا بیان کرتے ہیں۔ یہ ایک رسمی کارروائی ہے اور اس پلیٹ فارم کا حاصل وصول کچھ بھی نہیں۔ اس بار مگر اس اجلاس اور اس میں وزیراعظم پاکستان کے خطاب کا غیر معمولی شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ اس کی بڑی وجہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی اسٹیٹس

Read more

دھوکہ دہی بند کر دیں

نجانے کیوں ہم یہ سادہ سی بات سمجھنے کو تیار نہیں ہو رہے کہ ملکوں کے باہمی تعلقات کبھی لیلی مجنوں والے نہیں ہوا کرتے۔ نہ ہی ریاستوں کا دوسری ریاستوں کے ساتھ بے غرض دوستی کا بندھن ہوتا ہے۔ گیارہ ستمبر کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں یہ دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان نے پچاس سے زیادہ ممالک کی حمایت سے ایک مشترکہ بیان پیش کر دیا ہے۔

Read more

فضل الرحمن کے دھرنا کا نتیجہ نواز شریف کی ڈیل سے جڑا ہے

مولانا فضل الرحمن صاحب حکومت سے نجات کی خاطر لاک ڈاؤن کے اعلان پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ مولانا صاحب بے پناہ اسٹریٹ پاور کے حامل ہیں اور وہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں ہیں لیکن پھر بھی انہیں اپوزیشن کی دیگر بڑی جماعتوں کی حمایت میسر نہ ہوئی تو ان کے لیے اپنی توقع کے مطابق نتائج حاصل کرنا دشوار ہو سکتا ہے۔ تادم تحریر ن لیگی رہنماؤں کی اکثریت اس مہم جوئی میں پڑنے پر

Read more

دعا کریں امریکا اور طالبان کی لائن سیدھی ہو جائے

امریکا اور طالبان مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ بھی جاتے تو بین الافغان ڈائیلاگ سے قبل فوری طور پر افغانستان میں امن کی امید نہیں تھی۔ بین الافغان مذاکرات اب تک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان خود کو افغانستان کا حقیقی اسٹیک ہولڈر اور اشرف غنی حکومت کو کٹھ پتلی تصور کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی مطالبہ افغان سر زمین سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ قابض افواج وہاں

Read more

افغانستان اور کشمیر۔ خارجہ پالیسی کا امتحان

امریکی صدر ٹرمپ افغانستان پر مسلط کردہ اٹھارہ سالہ جنگ جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی بھرپور کوشش ہے کہ اگلے صدارتی انخلا سے قبل وہ افغان طالبان کے ساتھ کسی با عزت سمجھوتے پر پہنچ کر اپنی افواج واپس بلا لیں۔ ٹرمپ اگلی مدت کے لیے دوبارہ صدر منتخب ہونا چاہتے ہیں تو انہیں اس جنگ کو ختم کرنا پڑے گا۔ بصورت دیگر ان کے لیے یہ معرکہ سر کرنا بہت مشکل ہو جائے گا کیونکہ

Read more

داخلی و معاشی استحکام کے بغیر کچھ ممکن نہیں

بھارتی سرکار نے رواں ماہ کشمیر کی امتیازی حیثیت برقرار رکھنے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا تھا۔ گزشتہ ستر سالوں سے بھارت مختلف حیلوں سے کشمیری عوام کی نسل کشی کی ڈھکی چھپی کوششوں میں مصروف تھا۔ صدارتی حکم کے ذریعے مذکورہ آرٹیکل کا خاتمہ مگر کشمیری عوام کی نسل کشی کی سیدھی سادھی اور اعلانیہ ترکیب ہے۔ آج سے قبل غیر کشمیری شخص پر وادی میں جائیداد خریدنے اور ملازمت حاصل کرنے جیسی پابندیاں

Read more

وہی کریں جو انڈیا کرتا ہے

جس وقت امریکی صدر ٹرمپ عمران خان کو اپنے پہلو میں بٹھا کر کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر رہا تھا، درویش کا ماتھا اسی وقت ٹھنک گیا تھا۔ بہت سے دانشوروں نے اس بات پر بغلیں بجائیں، زور قلم استعمال کر کے امید بھرے مضامین باندھے کہ کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہو چکا، یہ نہ صرف انڈیا کی سفارتی شکست ہے بلکہ اسے اب کشمیر پر با معنی مذاکرات ہر صورت کرنے پڑیں گے۔ میری تحریر

Read more

مقبوضہ کشمیر کی امتیازی حیثیت ختم کرنے کی کوشش

امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے کشمیر کے مسئلے میں ثالثی کی پیشکش پر بھارت میں صف ماتم بچھ گئی تھی۔ اگرچہ فورا حکومتی ترجمانوں کی جانب اس کی تردید آ گئی تھی۔ لیکن اس کے بعد بھارتی میڈیا اور اپوزیشن کی طرف سے زور و شور سے یہ مطالبہ سامنے آیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بذاتِ خود پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر اس امر کی وضاحت کریں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مودی نے حالیہ انتخابی

Read more

پاک امریکا تعلقات میں اعتماد برقرار رہے گا؟

وزیراعظم عمران خان کا تین روزہ سرکاری دورہ امریکہ ختم ہو چکا ہے۔ لیکن اس دورے کے بارے میں ملکی و غیر ملکی میڈیا میں خبریں، تبصرے اور تجزیے اب تک جاری ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ یہ دورہ نہ صرف پاک امریکا تعلقات میں موجود حالیہ سرد مہری کے تناظر میں فیصلہ کن موڑ کا حامل ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کی تباہ ہوتی معیشیت اور داخلی عدم استحکام کے حوالے سے بھی اس کے دور رس اثرات

Read more

تعصب نہ چھوڑیں مگر قومی مفاد کا خیال تو رکھیں

ملکی سیاسی منظر نامے سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ یہاں ہر چند دنوں بعد کچھ ایسا ہو جاتا ہے جس کے باعث چاروں طرف تھرتھلی مچ جاتی ہے۔ پھر سب سے پہلے نیوز چینلز بریکنگ نیوز کے چنگھاڑتے سائرن کے ساتھ مرچ مصالحہ لگا کر اس واقعے کو پیش کرتے ہیں۔ بعد ازاں شام چھ سے رات گیارہ تک ہونے والے تمام کرنٹ افیئرز کے پروگرامز میں اسی موضوع کے بخیے ادھیڑے جاتے ہیں۔ موضوع سے متعلقہ تمام

Read more

ڈیلی میل کا الزام اور برطانوی ادارے کی تردید

ملکی سیاسی جماعتوں کے درمیان گالم گلوچ اور لفظی جنگ بڑھتے بڑھتے سنگین نوعیت کے الزامات پر پہنچ چکی ہے۔ یہ الزامات ملکی میڈیا اور اندرون ملک تک ہی محدود نہیں رہے۔ بلکہ ان کی بازگشت اب بین الاقوامی میڈیا اور بیرون ملک بھی سنائی دینے لگی ہے۔ گزشتہ دنوں برطانوی اخبار ڈیلی میل میں ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ ڈیلی میل کی 2500 الفاظ کی یہ سٹوری پاکستان میں 2005 ء کے زلزلہ زدگان کے لیے آنے والی امداد میں

Read more

عدلیہ کا اعتبار اٹھ گیا تو عوامی عدالتیں سجیں گیں

کسی بھی ریاست کا نظم و ضبط برقرار رکھنے میں انصاف کی بلا امتیاز فراہمی کا بہت بڑا کردار ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ریاست مستحکم نہیں رہ سکتی جب تک وہاں نظام عدل فعال نہ ہو۔ عدل و انصاف سماج اور معاشرے کا بھی جزو لا ینفک ہے۔ اسی طرح نظام عدل کی شفافیت، فعالیت اور غیر جانبداری تمام طبقات کے لئے شکوک سے بالاتر رہنا نہایت ضروری ہے۔ نظام عدل اس وقت ہی فعال ہو سکتا ہے جب تک

Read more

شکایات حد سے نہ بڑھ جائیں

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کو پارٹی اجلاس میں شرکت کے لیے فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے اے این ایف نے گرفتار کر لیا۔ ان پر منشیات اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں سے تعلقات کا الزام لگایا گیا ہے۔ رانا ثناءاللہ کچھ عرصہ سے متواتر کہہ رہے تھے کہ انہیں اپنی گرفتاری کا خدشہ ہے۔ گرفتاری سے دو روز قبل بھی پارلیمنٹ میں انہوں نے دو رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اپنی

Read more

زور آور ہوائیں کہیں کی چنگاری کہیں بھی رکھ سکتی ہیں

وقت کبھی یکساں نہیں رہتا، اس کا پہیہ ہمیشہ گردش میں رہتا ہے۔ نہ اچھے دن دائمی ہو سکتے اور نہ برا وقت مسلسل ٹھہر سکتا ہے۔ ثبات تغیر کو ہی حاصل ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی لوگ اصول اور نظریات کو داؤ پر لگاتے ہیں۔ کیا کیا پینترے بدلتے ہیں ہونی مگر ہو کر رہتی ہے۔ چالاکی یا ذہانت برا وقت آنے سے نہیں روک سکتی۔ حالات کا جبر تھا یا مجبوری کا تقاضہ پیپلز پارٹی ڈیڑھ سال سے

Read more

نالائقی ہے یا نیت خراب ہے

اس ملک میں دودھ شہد کی ندیاں تو کبھی بہتی نظر نہیں آئی مگر زیادہ عرصہ نہیں گزرا یہ صرف سال پرانی بات ہے۔ اسی ملک میں اسٹاک مارکیٹ پچاس ہزار پوائنٹس سے زائد پر ٹریڈ کر رہی تھی۔ معاشی شرح نمو یعنی جی ڈی پی گروتھ ریٹ 8۔ 5 فیصد تک پہنچ چکا تھا اور عالمی اداروں کے تخمینے کے مطابق مزید اضافہ متوقع تھا۔ شرح سود چھ فیصد کے لگ بھگ تھی۔ مہنگائی اور افراط زر کے اشاریے بھی کنٹرول میں تھے۔ روپے کی قدر ایک جگہ پر مستحکم تھی۔

Read more

عدلیہ سے چھیڑ چھاڑ مہنگی پڑ سکتی ہے

ہمارے ہاں اداروں کے درمیان محاذ آرائی اور ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت اسی وقت سے جاری ہے جب سے یہ ملک وجود میں آیا ہے۔ گذشتہ ستر سالوں میں اختیارات سے تجاوز کا رونا ہر دور میں کسی نہ کسی ادارے کی جانب سے کسی نہ کسی حد تک لازما موجود رہا ہے۔ کہنے کو تو ہمارے پاس ایک متفقہ آئین موجود ہے جس میں ریاستی ڈھانچے کے خدوخال اور تمام ریاستی ستونوں کے افعال ودائرہ کار کی حد بندی کی گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگر کسی ایک ریاستی ستون کو دوسرے ریاستی ستون سے، یا کسی ریاستی ادارے کے سربراہ کے متعلق اختیارات کے ناجائز استعمال یا پھر ریاست کے مفاد کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہوں تو اس شخصیت کے مواخذے اور ان شکایات کے با وقار انداز میں ازالے کے لیے بھی آئین میں طریقہ کار درج ہے۔

Read more

صاحب احتساب کا احتساب: پارلیمانی کمیٹی مناسب فورم ہے

نیب سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر قائم کیا جانے والا ادارہ ہے۔ اپنے قیام سے اب تک یہ ہمیشہ حکومت وقت کے دباؤ میں رہتا اور اس کے ہاتھوں استعمال ہوتا آیا ہے۔ اسے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے نومبر 1999ء میں سیاستدانوں کو بلیک میل کرنے کے لیے قائم کیا تھا۔ انہوں نے کنگز پارٹی قائم کرنے کے لیے اسے موثر طریقے سے استعمال کیا۔ بلیک میلنگ اور سیاسی مقدمات کی بدولت سیاست دانوں کی وفاداریاں

Read more

انتقام کو انصاف کون سمجھے گا؟

عام سوچ ہے کہ احتساب سے زیادہ مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانا نیب کے قیام کا مقصد ہے۔ ہر شخص جانتا ہے جب سے یہ ادارہ قائم ہوا اس کے حصہ میں کوئی بڑی کامیابی نہیں آئی۔ حالانکہ نیب بے پناہ اختیارات کا حامل ادارہ ہے۔ وہ جب چاہے کسی کو بھی گرفتار کرکے ایک خاص مدت تک حراست میں رکھ سکتا ہے۔ اس کے باوجود نیب کا دائرہ کار اک خاص طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے افراد تک

Read more

تحریک انصاف سے سوال تو بنتا ہے

وزیراعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں معیشت اور ڈالر کے اتار چڑھاؤ پر جو لوگ سائنسدان بن کر تبصرے کرتے ہیں، انہیں معیشت کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ معیشت کو اس حال تک پہنچانے کے ذمہ دار کون ہیں؟ ستر سال کی خرابی کا حساب آٹھ ماہ کی حکومت سے نہیں لیا جا سکتا۔ درویش کو معیشت بارے کم از کم اپنی کم علمی کا ضرور اعتراف ہے۔ یہ بھی عرض کرتا چلوں معاشی امور یا حساب کتاب کا گورکھ دھندہ کبھی میری دلچسپی کا موضوع نہیں رہا۔

Read more

سو جوتے، سو پیاز

سو پیاز اور سو جوتے والی کہاوت سنی ہو گی۔ ہر کہاوت یا محاورے کے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہو گا، گزرے زمانے میں بادشاہوں کا دور تھا وہ عجب شاہانہ مزاج رکھتے تھے۔ پل میں توشہ تو کبھی پل میں ماشہ، ان کی سزائیں بھی عجیب و غریب ہوا کرتی تھیں۔ بادشاہ سزا سنانے سے قبل یہ نہیں سوچتے تھے کہ ملزم کی مجھ سے وابستگی کتنی قدیم ہے یا اس کا جرم کیا ہے۔ بس جو منہ سے کہہ دیا وہ حرف آخر۔ چوں چراں، اگر مگر کی گنجائش کے بغیر۔

Read more

مسلم لیگ (ن): تنظیم نو یا عہد نو؟

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی نشستیں 88 ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں اس جماعت کی نمائندگی تقریبا حکومتی تعداد کے برابر ہے۔ اس کے باوجود دونوں ایوانوں میں پچھلے آٹھ ماہ سے وہ اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں ناکام رہی ہے۔ پنجاب میں حکومتی اتحاد یک طرفہ ایوان چلانے میں نہ صرف کامیاب ہے بلکہ اسے کوئی پریشانی یا روک ٹوک نہیں۔ قومی اسمبلی میں لیکن پیپلز پارٹی اور اس کے جواں سال رہنما بلاول بھٹو زرداری

Read more

پشتون تحفظ موومنٹ: بھاپ نہیں، ایندھن روکیں

جنرل قمر جاوید باجوہ نے دورہ پشاور کے دوران طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”پی ٹی ایم کوئی مسئلہ نہیں۔ اس تحریک کی طرف سے جن مسائل کی نشاندہی کی جا رہی ہے وہ جائز معاملات ہیں۔ البتہ بعض افراد غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بنتے ہوئے دہشت گردی کا شکار ہونے والے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ دہشت گردی کی وجہ سے تکالیف اٹھا چکے ہیں اور ان کا

Read more

اس حکومت سے توقع فضول ہے

آٹھ ماہ سے زائد وقت گزر چکا، ایوان میں اب تک کوئی قانون سازی ہوئی اور نہ اس متعلق کوئی سنجیدہ کاوش نظر آئی۔ قومی اسمبلی کا حالیہ سیشن بھی ہنگامے اور شور شرابے کی نذر رہا۔ حکومتوں کی ذمہ داری اور ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ ایوان کو پر سکون انداز میں تصفیے و تنازعے سے بچا کر چلایا جائے۔ یہ اپنی نوعیت کی شاید پہلی حکومت ہے جو حزب مخالف کے گلے پڑنے کو ہمہ وقت تیار نظر

Read more

تبدیلی کا بھوت اتر گیا، بحران کا سونامی بپھر گیا

خود فریبی تھی، جس کے سر رومان کا نام منڈھا، وہ کیفیت تحلیل ہو رہی ہے۔ تبدیلی کا بھوت جن ذہنوں پر بھی طاری تھا، بعضوں سے اتر چکا۔ بعضوں کے اتر رہا، اور جو زیادہ ہی بیمار ہیں، لازم ہے جلد ان سے بھی اتر جائے گا۔ تبدیلی کے غبارے میں ہوا بھرنے کے لیے کیا کیا پاپڑ نہ بیلے گئے۔ جھرلو پھیر کر جہاں بھر کے لوٹے اور کھوٹے سکے اکٹھے ہوئے۔ زبانیں خشک کر دی گئیں، لبوں پر قفل ڈالے گئے۔ لوگوں کو ڈرایا دھمکایا گیا، نہ ماننے والوں پر مقدمات قائم ہوئے۔

Read more

اسد عمر کا استعفی

چہ میگوئیاں تین چار روز سے جاری تھیں کہ تحریک انصاف کے معاشی افلاطون اسد عمر صاحب کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ حکومتی وزراء اس خبر کو نہ صرف خود رد کرتے رہے بلکہ خبر دینے والے صحافیوں کو پیمرا کی طرف سے نوٹس بھی بھجوائے گئے۔ اسی باعث درویش کو کھل کر اپنی رائے بیان کرنے کی ہمت نہ ہوئی مگر پچھلے کالم میں ڈھکے چھپے لفظوں میں حکومتی تقسیم اور معاشی پالیسیوں کے باعث اسد عمر پر آنے والے وبال کا کچھ ذکر ضرور کیا۔

Read more

احتساب اس طرح مکمل نہیں ہو گا

شہباز شریف صاحب کو ہفتوں حراست میں رکھا گیا۔ الزام کچھ گرفتاری کا بہانہ کچھ اور۔ فواد حسن فواد، احد چیمہ جیسے قریبی افراد کو ترغیب، تحریص، دھونس، دھمکی، لالچ ہر ممکن طریقے سے وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تمام تر سرکاری ریکارڈ کی چھان بین ہوئی۔ اس کے باوجود مگر کوئی ثبوت دستیاب نہ ہوا اور وہ رہا ہوئے۔ اب خبر ہے کہ شہباز شریف کے خلاف کیسز میں نیب کی نمائندگی کے لیے نعیم بخاری کا انتخاب کیا گیا ہے۔نیب بخاری کی وجہ شہرت پانامہ کیس ہے جس میں وہ عمران خان کے وکیل تھے۔ ان کی شریف خاندان کے ساتھ ذاتی مخاصمت بھی ہے جو ہر با خبر شخص کے علم میں ہو گی۔

Read more

سر بچانے کی کوشش

تحریک انصاف کو حکومت میں لانے والے لوگ خواہ وہ ووٹرز ہوں، صحافی یا پھر غیبی ہاتھ اپنے اپنے مقاصد کے سوا شاید ان کے پیش نظر یہ مقصد بھی تھا کہ عمران خان ایماندار شخص ہیں اور وہی کرپشن کی دیمک سے متاثر اس ملک کی بنیادیں مضبوط کر سکتے ہیں۔ مزید توقع تھی اس کام کے لیے ان کے پاس عزم و ارادہ بھی موجود ہے۔ لیکن کیا دانائی اور معاملہ فہمی کی صلاحیت کے سوا یہ تین خوبیاں کسی منزل تک پہنچا سکتی تھیں؟ غیر جانبداری سے تجزیہ ہو تو یہ خوبیاں بھی عمران خان کی شخصیت میں موجود نہیں، مگر کچھ دیر کو یہ تسلیم کر بھی لیں تو دانائی اور معاملہ فہمی کے سوا ملک کو مصائب کے بھنور سے وہ کس طرح نکال سکتے تھے۔

Read more

تبدیلی مسئلے کا حل نہیں

حکومتی وزراء بالخصوص اسد عمر نے قسم اٹھائی ہے حکومت کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دینی۔ ان کے بیانات کی وجہ سے پہلے بھی ڈالر کی قیمت میں یکلخت اضافہ ہوا جس سے ملکی قرض بھی بڑھا اور اسٹاک مارکیٹ بیٹھنے سے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوبے۔ اس کے بعد بھی زبان و بیان کی بے احتیاطی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ تازہ بیان سماعت فرمائیں! آئی ایم ایف سے رجوع نہ کیا تو ملک کا دیوالیہ نکل جائے گا۔ یہ ارشاد سننے بعد سر کے بال نوچنے کو جی چاہتا ہے۔

اب اگر آئی ایم ایف سے رجوع ہوا بھی تو اس عالمی ساہوکار سے خیر کی کیا توقع ہو گی؟ مہنگائی کی شرح اس سطح پر پہنچنے کی وجہ اس حقیقت سے نظر چرانا ہی تھا۔ مجھ ایسے جہلا بھی اول روز سے چیخ چلا رہے تھے بیل آؤٹ پیکج کے سوا حکومت کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ اس ادراک میں اتنی دیر صاف ظاہر کرتی ہے کہ انقلابی حکومت کے معاشی افلاطون کی سمجھ بوجھ معیشیت متعلق کتنی ہے۔

Read more