اس بحث کی تصدیق کے لیے دور جانے یا فوت ہونے اور پھر فوت ہونے کے بعد دنیا میں واپس، ابلاغ ڈھونڈنے کی مطلق ضرورت نہیں ہمیں دنیا میں ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کی زندگیوں میں پاے جانے والے (اگر کوئی ہو تو ) فرق کو پہلے تلاش اور پھر اس کا موازنہ کرنا پڑے گا، اور اس بات کا غیر متعصبانہ اور بے لاگ مشاہدہ اور تجزیہ کرنا پڑے گا کہ زیادہ خوش، خوشحال، کامیاب اور خود انحصار (دنیاوی اور زندگی کی حد تک ) کون ہے؟
رہی بات فلسفیانہ تاویلات کی تو کسی جانور کو دیکھ کر انڈے کا تصور کر لینا غلط ہو گا کیونکہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ جانور بچے دیتا ہو، یا اس کی افزائش نسل کا کوئی اور طریقہ کار ہو جیسے بعض یک خلوی جانداروں، بیکٹیریا اور وائرسز میں ہوتا ہے لہذا صرف قیاس کو کسی تجربے کی بنیاد اور عمل، تصور کر لینا درست نہ ہو گا۔ اسی طرح آپ نے روح کے دائمی قرار کو تصور، قیاس اور اینٹی تھیوری سے ثابت کرنے کی جو کوشش فرمائی ہے، مجھے اس سے اتفاق نہیں میری نظر میں اس تمام فنامنا کو ایک نئے اور مختلف نقطہ نظر سے دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔
Read more