آپ کے بیانات معزز عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے: احسن اقبال


سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کیخلاف توہین عدالت کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ آپ کے سر پر ججز کیوں سوار رہتے ہیں،اتنی جرات نہیں کہ بتادیں سازش کون کر رہا ہے،آپ نے ملک کیلئے کیا کیا ہے ؟۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس مظاہرعلی نقوی کی سربراہی میں بنچ نے احسن اقبال کیخلاف توہین عدالت کی سماعت کی،سابق وفاقی وزیر داخلہ اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،عدالتی حکم کے باوجوداحسن اقبال کے وکیل نے ویڈیو کی اصل سی ڈی پیش نہ کی،وکیل احسن اقبال نے کہا کہ میں نے بہت کوشش کی لیکن اصل ویڈیونہیں ملی،جسٹس مظاہر علی نے کہا کہ ہمیں کیسے پتہ چلے گاکہ احسن اقبال نے کہاکیا ہے؟،ویڈیو سے ہی پتہ چلے گاکیس بنتابھی ہے یانہیں؟،عدالت نے استفسار کیا کہ پیمراحکام بتائیں آپ کے پاس ویڈیوکلپ ہے ؟،اس پر پیمرا حکام نے کہا کہ ہمارے پاس احسن اقبال والاکلپ نہیں ہے۔

جسٹس مظاہر علی نے کہا کہ بڑے اورچھوٹے میاں صاحب نے کہہ دیابجلی کے ذمہ دارنہیں،پہلے آپ کہتے تھے وافربجلی بنادی،جیسے مرضی لائٹس جلائیں،بتایاجائے یہ کس کا بیان تھا؟،عدالت نے کہا کہ پیمراوکیل ویڈیوکلپ لاسکتا ہے کیا؟۔

جسٹس مظاہر نے کہا کہ آپ کے سر پر ججز کیوں سوار رہتے ہیں،اتنی جرات نہیں کہ بتادیں سازش کون کر رہا ہے،آپ نے ملک کیلئے کیا کیا ہے ؟

احسن اقبال نے کہا کہ آپ کے بیانات معزز عدالت کے اختیارات میں نہیں آتے ،ایسے سوالات اپوزیشن کو پوچھنے کا حق ہے ،آئندہ میرا کوئی ٹویٹ ججز کے بارے میں نہیں ہو گا،احسن اقبال نے کہا کہ یہ کیس الیکشن مہم میں زیربحث ہے ،جسٹس مظاہرعلی نے کہا کہ آپ کو انتخابی مہم چلانے سے نہیں روک رہے ۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں