کیا آپ اپنے ان کہے سچ کا بوجھ لیے پھر رہے ہیں؟


کیا ہمارا خیال ہے کہ جو خواتین می ٹو کی کہانیاں سامنے لے کر آرہی ہیں ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہے؟ کچھ لوگ ذمہ داری کا احساس دلا کر ان کہانیوں کو ڈس کریڈٹ تو نہیں کرنا چاہتے؟ کیا ہم ان عورتوں کو اس طرح ہمت نہیں دلا سکتے ہیں کہ ”ہاں تم اس لمحے کے لیے تیار ہو، جاؤ تم کامیاب ہو گی اور اگر کامیاب نہ بھی ہو ئیں تو کوئی بات نہیں ہم پھر بھی تمہارے ساتھ ہیں“ کیا ہم ان کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلا کر اپنی کہانی بتانے سے روک تو نہیں رہے؟

دو ا قسام کے لوگ ہیں ایک جو کہانی سنانے کی اہمیت سے واقف ہیں اور ایک جو کہانی سنانے کو فضول سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر انہوں نے اپنی کہانی سنا ئی کہ ان کا استحقاق کیسے مجروح ہوا تو اس سے ان کو کیا فائدہ ہوگا؟ تو کیا ہم کو اپنی کہانی بیان کرنے کے فوائد پر نظر ڈالنے کی ضرورت نہیں؟ کیا ہم نہیں جانتے ہیں کہ احساس شرم نے انسانی زندگیوں کو کس طرح سے جکڑا ہوا ہے؟ اگر شرم کا ایندھن اس کو راز رکھنے میں نہیں ہے؟ تو کیا اس کا توڑ اس کو بیان کرنے میں نہیں ہوگا؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ احساس شرم کا بازار ٹھنڈا ہو تو اس کا علاج اپنی کہانی سنانا ہے کہ نہیں؟ اور دوسرے کو سوائےاپنے احساس ندامت قبول کرنے کے اور کیا کرنا ہے؟

کیا ہم ڈاکٹر فورڈ سے کہیں گے کہ اپنی کہانی احساس ذمہ داری سے سناؤ جس نے اپنی کہانی اس طرح سنائی کہ فاکس نیوز کہنے پر مجبور ہوگیا کہ ”رپبلکن برباد ہو گئے“ اور کیا ہم ونیتا نندا کو بتائیں گے کہ اپنی کہانی ذمہ داری سے بیان کرو کہ جس کے بیان کے بعد اگلے چار ہفتوں تک ہر دو گھنٹے پر انڈیا میں ایک اورعورت اپنی کہانی کے ساتھ باہر آتی رہی۔ نہیں یہ ان عورتوں کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ذمہ داری ہے معاشرے کی کہ وہ سچی اور جھوٹی کہانی میں تمیز کرنا سیکھے۔ جو اس تحریک کا ایک ذیلی فائدہ ہو گا کہ بہت سی کہانیاں سننے کے بعد ہم اصلی اور نقلی کہانی میں فرق کر پائیں گے۔

ہم تو وہ لوگ ہیں جو دہلی کے ریپ والے واقعے کے مجرم یا زینب کے قاتل کو پھانسی دینے کی بات آتی ہے تو کہتے ہیں نہیں ہم سزائے موت کے خلاف ہیں ان کو پھانسی مت دو۔ اس ذہنیت کو اور ان حالات کو پھانسی دو جس کی وجہ سے یہ مجرمان اس واقعے تک پہنچے۔ مگر معاشرہ اور نظام ان لوگو ں کو پھانسی دے کر اپنے کو بچا لیتا ہے کہ یہ مجرمان مر جائیں اور وہ ذہنیت ویسی ہی چلتی رہے۔ ہم تو نہیں کہتے کہ تشدد کرو لوگوں کو سڑک پر تھپڑ مارو۔

ہم تو کہتے ہیں مکالمہ کرو ان سے معلوم کرو کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ کیا وہ جنسی طور پر دباؤ میں ہیں یا وہ عورت سے نفرت کرتے ہیں اگر جنسی دباؤ ہے تو کیوں ہے اور اگر عورت سے نفرت ہے تو کیوں ہے۔ ان کی وجوہات پر بات کریں۔ نہ کہ ان کی پٹائی کرکے یا ان کو پھانسی دے کر قصہ ہی ختم کردیں۔ آخر ہم تشدد کا جواب تشدد سے کب تک دیتے رہیں گے؟ اگرایک زبان سے کہانی بیان کر رہا ہے تو آپ بھی اپنی کہانی بیان کر لیں۔

میرے پچھلے مضمون ”سلونی چوپڑا، خبر کا جبر اور زاہد تنگ نظر“ پر کچھ تبصرے قابل توجہ ہیں ان پر سیر حاصل گفتگو ہونے کی ضرورت ہے جیسے جنس اور جنسی ہراسانی میں فرق؟ اگر فرق consent کا ہے توکیا یہ صرف ایک لفظ ہے؟ یا اس کا معنی اور مفہوم تفصیل سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ اس کو بالکل نہیں سمجھا جاتا۔

کیا جب ہیلری کلنٹن نے کہا کہ کلنٹن اور مونیکا کے درمیان جو ہوا وہ باہمی رضامندی سے ہوا۔ تو اس میں کلنٹن کی طاقت اور مونیکا کی کمزوری کو سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے؟ اس بیان کے بعد ہیلری فیمنسٹ کہلانے کے قابل رہی یا اس کو ایک مظلوم یا منافق عورت سمجھا جائے؟ کیا مونیکا کی رضامندی کافی تھی یا جس کے پاس طاقت ہوتی ہے اس کو اپنی طاقت کا احساس ہونا ضروری ہے؟ کیا سیکس صرف دو بالکل برابر کا اختیار رکھنے والوں کے درمیان ہونا چاہیے؟

مردوں کا اپنا می ٹو بیان کرنا کیوں ضروری ہے؟ جب وہ لڑکے تھے تو کیا کسی مرد یا عورت نے ان سے جنسی ہراسانی کی؟ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ثبوت کہاں ہے اور جو کہہ رہے ہیں کہ ایسے واقعات بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں ان لوگوں میں کیا فرق ہے؟ ایسا تو نہیں کہ یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟ کیا ثبوت مانگنے والے وہی لوگ تو نہیں جنہوں نے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اپنی کہانیاں اپنے لاشعور کے تہہ خا نوں میں چھپا دی ہیں اور اب دوسروں سے ثبوت کے لیے اس لیے طلبگار ہیں کہ اس پر بحث ہو اور ان کی کہانیوں کو بھی احترام مل سکے؟ اور اسی لیے ایسے واقعات بہت کم رپورٹ ہورہے ہیں۔ کیا ہم اس مخالفت ”ثبوت کہاں ہے“ اور حمایت ”ایسے واقعات کم رپورٹ ہوتے ہیں“ کا آپس میں تعلق اور پیچیدگی کو سمجھ پا رہے ہیں؟ اور کیا اس کو سمجھنے کی کوشش کیے بغیر ہم اس گفتگو کوایک انچ بھی آگے بڑھا پائیں گے؟

پاکستان میں می ٹو تحریک کس جگہ پر ہے؟ جو نام باہر آ ئے ہیں اس میں فیکے، فیصل ایدھی، سحرانصاری کے نام ہیں شبنم، عائشہ گلالئی، ریحام خان، میشا شفیع کے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ شروع میں بہت واویلا ہوتا ہے۔ ان کے حق میں آوازیں اٹھا ئی جاتی ہیں۔ لیکن پھر سب چپ سادھ لیتے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ ظلم ہوا توظالموں سے جواب طلبی کیوں نہیں کی گئی؟ ”معذرت کے ساتھ یہ خواتین بھی کوئی خاص ثبوت نہ دے سکیں“ جیسے احساسات سامنے آتے ہیں۔ کیا ہم سب جس تندی و تیزی سے علم حق بلند کرتے ہیں کیا اس کا حق بھی ادا کرپا تے ہیں؟ عروج ضیاء، کی می ٹو بھی چل رہی ہے۔ جس میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ صرف الزام پہ پر الزام لگائے جا رہی ہیں۔ کیا ہم کو افراد کے بجائے نظریے پر گفتگو کرنی چاھئیے؟

کیا می ٹو صرف عورتوں کی ذمہ داری ہے؟ کیایہ کوئی بہادری کا کام ہے؟ وہ اپنی کہانیاں کیوں بیان کر رہی ہیں؟ اس کے بدلے میں وہ کون سے مسائل کا سامنا کریں گی اور ہم ان کی کیسے مدد کرسکتے ہیں۔ اور کیا ہم ان کی مدد کرنا بھی چاہتے ہیں؟ کیا تبدیلی کی ذمہ دار صرف عورتیں ہیں؟ کیا عورتوں کو اس میں اپنے لیے، مردوں کے لیے اور تبدیلی کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنے کی ضرورت نہیں؟ کیا شخصیتوں سے زیادہ ایسے رویے پکڑ نے کی ضرورت نہیں جس میں سے طاقت، عورت نفرت، یا وکٹم بلیمنگ کی بو آتی ہو؟ چاہے وہ مرد کرے یا عورت۔

ہالی وڈ میں مرد اس تحریک میں شامل تھے بولی وڈ میں بھی بہت جلد مرد اپنی کہانیوں کے ساتھ باہر آنے والے ہیں۔ جیسے کیون سپیسی کے خلاف لڑکوں نے ہی شکایت کی اور اس کی طاقت ہالی وڈ میں ختم ہوگئی۔ بس مردوں کے پاس اس موضوع پر بات کرنے کی جگہ عورتوں سے بھی کم ہے کیونکہ ان کی مردانگی پر سوال آجاتا ہے۔ مردوں کو اپنے کو اس تحریک کا حصہ سمجھنا چاہیے بس ان کو شاید اور سپورٹ کی ضرورت ہے۔ کیا وہ سپورٹ ان کی طرف آرہی ہے؟ می ٹو تحریک مردوں کے خلاف نہیں یہ سیکس کو طاقت کی ساتھ /طرح استعمال کرنے کے خلاف ہے۔ ثبوت ہمارے سامنے ہیں بس ان کو دیکھتے ہی بہت سے نظام چلنج ہو جائیں گے۔ جس میں heteronormalcy بھی شامل ہے۔ یقینا ابھی منزل بہت دور ہے۔ آگ کا دریا ہے اور تیر کے جانا ہے۔

عورت کو مت بتائیں کہ اپنی کہانی ذمہ داری سے بیان کرنی چاہیے کیونکہ اس کو تو پتہ ہے۔ یہ ایک پینڈورا باکس ہے اس میں سے اتنے موضوعات نکلیں گے کہ ہم سب حیران و پریشان ہو جائیں گے۔ اسی لیے بہت سی عورتیں ابھی بھی می ٹو بیان نہیں کر پا تیں۔ ان کے ذہن میں بھی یہی سوال آتے ہیں کہ اس سے کیا فائدہ ہو گا؟ کیا میرے پاس ثبو ت ہے؟ اگر ثبوت مانگے گئے تو میں کیا کروں گی؟ ثبوت کی ضرورت بھی کیا ہے اور کیوں ہے؟ کیا میں اور زخمی ہونے کو تیار ہوں؟ کیا اس سے میرے پیارے تو زخمی نہیں ہو جائیں گے؟ اگر میرے پیارے زخمی ہوئے تو کیا میں ان کو زخمی کرنے یا ہوتا دیکھنے پر تیار ہوں؟ اس سے کتنے خاندان تباہ ہوں گے؟ میں کیوں دلوں خاندانوں اور معاشرے کا بوجھ اٹھائے اٹھائے پھر رہی ہوں؟ نجانے کتنی عورتیں اور مرد اپنے دلوں پر ان کہی کہانیوں کا بوجھ لیے پھر رہے ہیں۔ وہ اپنے ہی سچ سے خوفزدہ ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں