جمہوری دور میں بیرونی سازش کا الاپ


حسیب داؤد

haseebمیں مشکل سے ابھی بارہ سال کا ہی تھا اور ابھی سکول میں پڑھتا تھا جب میرے کانوں میں اکثر سیاسی باتوں کی گونج رہتی تھی کیونکہ ملکی حالات اور سیاست پر بات چیت کرنا میرے والد صاحب اور ان کے بھائیوں کا محبوب مشغلہ تھا۔ گو کہ میں اس وقت اتنا سمجھدار نہیں تھا اور اکثر اوقات سوچ میں ڈوب جاتا تھا کہ یہ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ کیا یہ ہر وقت سیاست پر لگے رہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ بھٹو ایک لیڈر تھا مگر اس کی پالیسی سے کافی نقصان پہنچا، نواز شریف صاحب کی اسمبلی ٹوٹ گئی ہے اور بینظیر صاحبہ نے الیکشن جیت کرا قتدار سنبھال لیا ہے، جب میں سیاسی تناظر میں گفتگو سن رہا ہوتا تھا تو ایک بات سن کر میرے کان کھڑے ہو جاتے تھے اور دماغ چوکنا ہوجاتا تھا اور وہ بات یہ تھی کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے لئے کچھ بیرونی طاقتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور حکومتوں کے آنے جانے میں بھی یہی قوتیں ملوث ہوتی ہیں۔ میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا کہ یہ بیرونی طاقتیں کونسی ہیں میں نے یہ تو سنا تھا کہ اللہ نے اپنی راہ میں جنگ لڑنے والے مسلمانوں کی غیب سے مدد فرمائی فرشتے بھیجے اور مسلمانوں کو فتح سے ہمکنار کروایا مگر یہ کون سی طاقتیں ہیں جو کسی کو بھی ایک ملک کی حکمرانی سے نواز دیتی ہیں۔ اکثر اوقات حجام کی دکان پر ہوتا تو کچھ گلی محلے کے تجزیہ کار اپنا تجزیہ پیش کرتے نظر آتے کہ یہ سب امریکہ کی سازش ہے وہ چاہتا ہی نہیں کہ پاکستان میں استحکام ہو اور حکمران بھی اس کی مرضی سے ہی آتے ہیں اور اس کی مرضی پر ہی کام کرتے ہیں۔ خیر آج میں ان صاحب کے بارے میں سوچتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ شاید وہ اس وقت تک دماغی طور پر انگریزوں کی قید میں ہی جی رہے تھے۔ خیر وقت گزرتا گیا اور اکثر اوقات ان کانوں کی گونج میرے کانوں میں پڑتی رہی اور میں آج بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کافی سیاستدان بیرونی طاقتیں اور بیرونی سازشیں کا لفظ استعمال تو کرتے آئے ہیں مگر یہ کبھی بتا نہیں سکے کہ یہ بیرونی طاقتیں یا سازشیں کون سی ہیں جو ملک کے اندر ہی کی جاتی ہیں اور ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے اور آیا اگر ایسا کچھ ہے تو یہ طاقتیں کون سی ہیں اور یہ سازشیں کون کرتا ہے؟

ماشااللہ آج ہمارے ملک میں جمہوریت ہے اور اقتدار جمہوری طور پر ایک حکومت سے دوسری حکومت کو منتقل ہوا ہے لیکن آج بھی مجھے ایسی کچھ باتیں سننے کو مل رہی ہیں کہ ہمارے ملک میں کچھ بیرونی قوتیں ہیں جو سازشیں کر رہی ہیں جو ملک کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی اور ترقیاتی منصوبے جس میں سب سے بڑا منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری ہے اس منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں گویا یہ کہنا بالکل مناسب ہو گا کہ بیرونی طاقتیں اپنے کھیل میں عروج پر ہیں اور حزب اقتدار میں اس قدر کھلبلی مچی ہوئی ہے کہ اپوزیشن کی ہلکی سی آہٹ بھی ان کو شرارت لگتی ہے۔

جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ میں بچپن سے ہی بیرونی قوتوں کے بارے میں سنتا آرہا ہوں اور گزشتہ نام نہاد جمہوری سالوں میں تو کچھ زیادہ ہی سنا جب زرداری صاحب کے دور میں ایک مولانا صاحب اسلام آباد میں اچانک جلال کے ساتھ آجاتے ہیں اور اسلام آباد کو یرغمال بنا لیتے، اپنے ساتھ اپنے پیروکاروں کو بھی لاتے  اور حکومت مخالف نعرے جمہوریت کی تذلیل کیا کچھ نہیں کرتے اور آخر میں کامیاب مذاکرات کر کے اپنی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے چلے جاتے۔ ان کے اس دھرنے کو جمہوری لوگ بیرونی قوتوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ خیر وقت گزرتا ہے اور اقتدار پیپلز پارٹی سے مسلم لیگ ن کو منتقل ہوجاتا ہے اور پارٹی قیادت کا سربراہ ہونے کے ناطے نواز شریف صاحب کو وزیراعظم بنا دیا جاتا ہے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت کا آغاز ہوتا ہے اور اس طرح محسوس ہوتا ہے جیسا کہ میاں نواز شریف صاحب اپنے ساتھ بیرونی قوتوں کا پٹارا لے کر آئے ہیں کیونکہ مسلم لیگ ن کے چھوٹے عہدیدار سے لے کر بڑے عہدیدادر کی زبان پر ہر بات کے جواب میں ایک ہی فقرہ ہیں کہ کچھ جمہوریت مخالف بیرونی قوتیں ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف محاذ کھڑا کیا ہوا ہے چاہے وہ ماڈل ٹاؤن میں نہتے معصوم لوگوں کا قتل ہو یا نیشنل سیکیورٹی کی کوئی خبر لیک ہوئی ہو۔ مجھے آج بھی چوہدری نثار صاحب کی پریس کانفرنس یاد ہے جس میں انہوں نے یہ الفاظ استعمال کئے کہ جس اسلحے سے گولیاں چلائی گئی وہ پولیس کا نہیں تھا۔ یہاں بھی ان کے کہنے کا مقصد وہی پراسرار طاقتیں تھی جن کا میں بچپن سے سنتا آرہا ہوں۔ عمران خان صاحب کا الیکشن دھاندلی کا رونا ہوتا ہے اور اسلام آباد ڈی چوک میں دھرنا ہوتا ہے جس میں درجنوں سے زائد لوگ زخمی ہوتے ہیں، پی ٹی وی کو یرغمال بنا لیا جاتا ہے اور آخر میں ہماری پاک فوج کے بہادر سپاہی آکر پی ٹی وی پر سے قبضہ چھڑواتے ہیں اور نشریات کا آغاز کرتے ہیں۔ آج بھی ہماری عدالت میں یہ مقدمہ چل رہا ہے جس پر صرف تاریخ دی جاتی ہے۔ خیر یہ دھرنے کا الزام بھی وہیں جاتا ہے جہاں باقی کے الزام جاتے ہیں۔ عرض صرف یہ کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی مسئلہ ہو چاہے کراچی آپریشن ہو، مصطفی کمال کی واپسی ہو یا پانامہ لیکس کا ہنگامہ ہو یا نیشنل سیکییورٹی اجلاس کی خبر لیک ہو الزام بیرونی قوت پر۔۔۔

میں خدارا ان حکمرانوں سے اور ان سیاستدانوں سے التجا کرنا چاہتا ہوں کہ الزام تراشی بند کر دیں اور اپنے اندر کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ بیرونی قوتوں پر ڈالنا چھوڑ دیں کیونکہ میرے نزدیک کوئی بیرونی قوت نہیں ہے یہ صرف سیاست دانوں کی نااہلی ہے جس کو یہ حکمران، یہ لیڈر چھپانے کے لئے الزام بیرونی قوتوں پر لگا دیتی ہیں۔ پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ قوتیں صرف جمہوری دور میں ہی کیوں آتی ہیں؟ حزب اقتدار جماعت ہی اس سے کیوں متاثر ہوتی ہے؟ فرض کر لیں اگر کوئی جمہوریت دشمن ہیں بھی تو یہ سیاستدان کس لئے بیٹھے ہیں؟ کیا ہمیں صرف یہ بتانے کے لئے کہ بیرونی قوتیں ہمیں متاثر کر رہی ہیں۔ ان کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہئے کہ غریب آدمی کو صرف دو وقت کی روٹی سے غرض ہوتی ہے امیر آدمی کو پہلا چھپانے کی اور نیا کمانے کی ضرورت ہوتی ہیں۔ بیروزگار کو روزگار کی اور مریض کو علاج کی ضرورتے ہوتی ہے اس سے عام آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جمہوریت رہے یا نہ رہے اس کو اپنی سہولیات سے غرض ہے۔ لہذا سیاست دان بیرونی قوتوں کا راگ الاپنا چھوڑ دیں کیونکہ عوام ان کو ووٹ کے ذریعے مینڈیٹ دے کر لائی ہے کہ یہ عوام کی خدمت کریں اور اگر کوئی طاقت ہے جو ان کو روکتی ہے تو اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور اگر نہیں مقابلہ کر سکتے تو گھر بیٹھ کر آرام سے بستر پر سو جائے مگر یہ خود ساختہ بیرونی قوتوں پر الزام تراشی چھوڑ دیں۔ میں ان کا نہایت ممنون اور شکر گزار ہوں گا۔


Comments

FB Login Required - comments