پاکستانی ریاست کے اسلامی پہلوان


 mujahid aliپاکستان ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات تو استوار کرنا چاہتا ہے لیکن اس مقصد کے لئے اسے ابھی بہت سی رکاوٹوں کو عبور کرنا ہو گا۔ اب یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ صرف وزیراعظم نواز شریف کی خواہش یا وزیراعظم نریندر مودی کی لاہور یاترا سے مسائل حل ہونے شروع نہیں ہوں گے۔ اس مقصد کے لئے ریاست کے ان تمام اجزائے ترکیبی کو کہ جن کے ملنے سے ریاست بنتی ہے، یہ طے کرنا ہو گا کہ کیا تصادم کی پالیسی ترک کر کے ایک پرامن خطے کے خواب کی تکمیل کا وقت آ گیا ہے یا ابھی ان بازوﺅ ں کو مزید آزمانا ہے جو نعرہ تو ایک امن پسند انسان دوست مذہب کے بلند کرتے ہیں لیکن اسی عقیدہ کے نام پر گولہ بارود کے ذخیرے پر بیٹھے رہتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر دشمن کے گھر میں گھس کر اس کی ہمت اور حوصلہ آزمانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ بس فرق صرف یہ ہے کہ دھماکے اور شیطنیت کے مظاہرے یہ لوگ کرتے ہیں اور اس کی قیمت پاکستان کے عوام کو اپنے خون اور اپنی سہولتوں کی قربانی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ کبھی آرمی پبلک اسکول کے بچے اور کبھی باچا خان یونیورسٹی کے نوجوان ان عناصر کی زد پر ہوتے ہیں جو ہمارے پروردہ اسلامی پہلوانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک دوسرے ہمسایہ ملک میں پروان چڑھ رہے ہیں۔

پاکستان بھارت کے مجرموں کا سراغ لگانے اور انہیں ان کے کئے کی سزا دینے میں دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے اور نہ ہی افغانستان اس بات کی پرواہ کرنے کے لئے تیار ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا معاملہ مستقل تعطل کا شکار ہے۔ چار ملک جن میں دو بڑی طاقتیں اور پاکستان و افغانستان شامل ہیں کے نمائندے گزشتہ ایک ماہ کے دوران تین بار یہ فیصلہ کرنے کے لئے ملاقات کر چکے ہیں کہ کون سے طالبان امن کے بہی خواہ ہیں اور کن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا جا سکتا ہے اور وہ کون سے اسلحہ بردار شر پسند گروہ ہیں جن کی بیخ کنی کے لئے پاکستان کو فوجی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ جن عناصر کو تیرہ برس کی جنگ کے بعد امریکہ کی سرکردگی میں 40 کے لگ بھگ ملکوں پر مشتمل فوج ایساف ختم نہ کرسکی ، ان سے پاکستان تن تنہا کیسے نمٹ سکتا ہے۔ لیکن یہ کابل کے ساتھ اسلام آباد / راولپنڈی کا وعدہ ہے۔ آثار یہ دکھائی دیتے ہیں کہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے ہونے والی ملاقاتوں میں دوست طالبان میں مذاکرات کے مقابلے میں مفسد یا ناقابل قبول طالبان کے خلاف کارروائی کی بات زیادہ ہوتی ہے۔ کم از کم کابل حکومت کا یہی خیال ہے کہ جو طالبان مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتے انہیں فوجی طور پر نیچا دکھایا جائے اور اس معاملہ میں پاکستان اس کی مدد کرے۔ اس دعوے کی دلیل بھی سادہ ہے کہ جو لوگ آپ نے برس ہا برس کی محنت اور محبت سے پروان چڑھائے ہیں، اب ان سے نمٹنا بھی آپ ہی کا کام ہے۔

پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کو سارے مسائل کا حل سمجھ لیا ہے۔ بات دنیا کے کسی پلیٹ فارم پر ہو قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی اور 50 ہزار پاکستانیوں کی قربانی کی دلیل ہماری طرف سے حتمی حجت بنی ہوئی ہے۔ فی الوقت ہم بلوغت کی اس منزل پر نہیں پہنچے ہیں کہ یہ جان سکیں کہ قاعدے کے بعد تدریس کے مراحل میں پہلی جماعت اور اس کے بعد کے درجنوں کی کتابوںکا مطالعہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ آپریشن ضرب عضب یقینا فوج کی بڑی کامیابی ہے لیکن یہ بھی فوج ہی کا موقف ہے کہ اسی آپریشن کی مکمل کامیابی کے لئے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ گویا یہ ایک ایسی جنگ ہے جو ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت لڑی جا رہی ہے لیکن عسکری پہلو کامیاب ہے اور سویلین شعبے میں اس عسکری کامیابی کے ثمرات کو حقیقی اور مستقل بنانے کے لئے جو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ حکومت کے پاس اس سوال پر اپنے دفاع کے لئے سب سے تگڑا وکیل چوہدری نثار علی خان ہے جو مخالفین پر برستا تو ہے لیکن جب اس کی اپنی وزارت کی ناکامیوں کا سوال اٹھایا جائے تو دلیل موصوف کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ ایک ایسی صورت میں جب ایک منصوبے کے نصف حصے پر عمل نہ ہو رہا ہو تو یہ سوال تو فوج کو خود اپنے آپ سے کرنا چاہئے کہ پھر آپریشن ضرب عضب جاری رکھنے کا کیا فائدہ ہے۔ اس فوج کشی کے ذریعے آپ کچھ لوگوں کو مار رہے ہیں۔ ان کے کچھ ساتھی فرار ہو کر افغانستان میں پاکستان میں اپنے سہولت کاروں کے ہاں پناہ لیتے ہیں اور جب بھی انہیں موقع ملتا ہے وہ حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہ جنگ ایک خاص نظرئیے اور مخصوص سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے شروع ہوئی ہے۔ دہشت گرد عناصر اس سوچ کے نمائندے ہیں اور ان قوتوں کے آلہ کار ہیں جو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ آرمی پبلک اسکول ، باچا خان یونیورسٹی اور پٹھان کوٹ ائر بیس کے سانحات اس کا ثبوت ہیں۔ ایسے میں یہ نعرہ کب تک کام کرے گا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ اگر ان حالات کو نہیں بدلا جائے گا جن کی وجہ سے یہ عناصر فروغ پاتے ہیں، وہ نرسریاں بند نہیں ہوں گی جہاں ان انتہا پسندوں کی تربیت ہوتی ہے، اس مذہبی تبدیل نظرئیے کو تبدیل نہیں کیا جائے گا جو انہیں روحانی غذا اور عوامی مقبولیت کے لئے دلیل فراہم کرتا ہے اور قوم و ملک کے ان رہبروں کی پہچان نہیں ہو سکے گی جو خود ساختہ نظریہ پاکستان پر عملدرآمد اور اسلامی مملکت کے قیام کی جدوجہد اور اسلام کے نام پر بے دریغ بے گناہوں کا خون بہانے والوں میں فرق کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں …. تو آخر اس جنگ کا انجام کیا ہے۔

پاک فوج کو اب اس بات کا جواب دینا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے مثبت اور منفی پہلو کیا ہیں۔ اس میں کامیابی کی شرح ناکامی کے مقابلے میں کتنی ہے اور جس سیاسی حکومت کی اعانت کے لئے آرمی چیف ہر دوسرے تیسرے روز وزیراعظم ہاﺅس میں فوٹو سیشن کے لئے جاتے ہیں، کیا وہ فوج کی عسکری کامیابیوں کے تحفظ کے لئے کوئی انتظامی اور نظریاتی ڈھانچہ استوار کر رہی ہے۔ یا ابھی یہی صورت ہے کہ دونوں اپنی اپنی بات سناتے ہیں لیکن دوسرے کی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کی ضرورت اور اس میں کامیابیوں کے دعوﺅں پر اعتراض کی گنجایش نہیں ہے لیکن یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کے خدوخال صرف پاک فوج کے کمانڈروں کے علم میں ہیں۔ میدان جنگ تک کسی غیر جانبدار مبصر یا جنگی رپورٹر کو رسائی نہیں ہے۔ جو باتیں ہم تک پہنچائی جاتی ہیں وہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ذریعے سامنے آتی ہیں۔ گویا جنگ ، اس کی پیش رفت اور کامیابی کے بارے میں یکطرفہ موقف بتایا جاتا ہے اور یہ امید کی جاتی ہے کہ اسے تسلیم کر لیا جائے۔ قوم اسے تسلیم کرتی ہے اور پاک فوج پر اپنی محبتیں بھی نثار کرتی ہے لیکن کوئی سچائی اس وقت تک ثابت نہیں ہوتی جب تک اسے غیر جانبدار معلومات کی بنیاد پر پرکھ نہ لیا جائے۔ آپریشن ضرب عضب کے سلسلہ میں یہ کسوٹی کون فراہم کرے گا؟

آپریشن ضرب عضب کو شروع ہوئے دو برس ہونے کو ہیں۔ کسی بھی فوجی آپریشن کے لئے یہ بہت زیادہ مدت ہے۔ فوج یکطرفہ طور سے یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس بارے میں وہی حتمی فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اس آپریشن کے بارے میں ایسی قومی بحث کا آغاز ہو سکے جو بالآخر ملک کے اندر جاری اس جنگ کو انجام تک پہنچا سکے۔ فی الوقت دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے نام پر فوج اپنے نشانے پر آئے ہوئے ”دشمن“ کو مار رہی ہے اور یہ دشمن موقع ملتے ہی بے گناہ شہریوں یا سکیورٹی فورسز سے خود کش حملوں یا بم دھماکوں کی صورت میں حساب برابر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دس لاکھ کے لگ بھگ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر دربدر ہیں۔ میڈیا یا سیاسی و فوجی مذاکرہ میں ان لوگوں کا ذکر ضمنی فقرے کے طور پر ہی سننے کو ملتا ہے۔ حالانکہ اس جنگ کے منفی اثرات کی سب سے زیادہ مستند کہانی یہی لوگ بتا سکتے ہیں۔ اس دوران علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد گروہ ان بے گھر اور بے آسرا لوگوں کی محرومی اور مجبوری سے فائدہ اٹھا کر انہیں اپنے مقاصد کے لئے بھرتی کر رہے ہیں۔ اس طرح آپریشن ضرب عضب کی صورت میں بدلہ اور انتقام کا جو بھیانک سلسلہ شروع ہو اہے ، اس کے ختم ہونے کا کوئی امکان بظاہر نظر نہیں آتا۔

اس کی ایک صورت تو یہ تھی جو پٹھان کوٹ حملہ کے بعد سامنے آنے کا امکان پیدا ہوا تھا کہ پاکستان ان جہادیوں کو پکڑ کر سزا دلوائے گا جو دو ملکوں کے تعلقات میں اپنی شرانگیزی کی وجہ سے بگاڑ پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ پاکستان ابھی یہ قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ وزیراعظم نے اس سانحہ کی تحقیقات کرنے کے لئے جو خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بنائی تھی اس نے یہ تو واضح کر دیا ہے کہ جیش محمد کے لیڈر مولانا مسعود اظہر کا اس دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بھارت کے موقف دو ٹوک ہے۔ یہ شخص طیارہ اغوا کر کے بھارتی جیل سے رہا کروایا گیا تھا لیکن پاکستان میں اسے محبوب اور محفوظ رکھا گیا ہے۔ بھارت کو اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لئے اس کا سر پلیٹ میں چاہئے تا کہ وہ بدلے میں ”جامع مذاکرات“ کی تیاری کے لئے اپنے سیکرٹری خارجہ کو پاکستانی سیکرٹری خارجہ سے ملنے کی اجازت دے دے۔

پاکستان کو قومی سکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے بھارت میں اپنے ہم منصب کو جو جواب دیا ہے اس کا خلاصہ تو یہی ہے کہ پاکستان ابھی تک کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے صرف سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو کافی نہیں سمجھتا۔ اور نہ ہی یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے کہ دہشت گردی مختلف گروہوں میں تقسیم کر کے اور نت نئے نام دے کر ان کی تباہ کاری اور بربریت سے بچا نہیں جا سکتا۔ اسی لئے مسعود اظہر اور اس کے ہمزاد حافظ سعید بھی محفوظ ہے بلکہ چند روز پہلے کشمیر کا نام لے کر ملک کی منتخب سیاسی حکومت کے لتے بھی لے چکا ہے۔ اسی قبیل کا ایک مولوی ضمانت کروانے میں ناکام ہو کر اب سابقہ فوجی سربراہ پرویز مشرف کو اپنے بھائی اور بچے کا خون معاف کرنے کی باتیں کر رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ باتیں پیچیدہ ہیں اور لوگوں کو سمجھ نہیں آتیں۔ لیکن وہ اب یہ ضرور سمجھنے لگے ہیں کہ ان کا صاف سا مطلب یہ ہے کہ امن ابھی دور ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali