پیپل کا پوتر پیڑ اور ڈھونگی پنڈت


یہ پیپل کا پیڑ پوتر ہے۔ بھگوان کا روپ ہے۔ اس کی پوجا کرو گے تو سورگ میں جاؤ گے۔ اور اس سنسار کے سارے دکھوں سے بھی مکتی پا جاؤ گے۔ پنڈت بولا اور گاؤں کے بیچوں بیچ چوپال میں لگے پیڑ کے گرد چبوترہ بنا کر اس پر دھونی رما کر بیٹھ گیا۔

گاؤں والے پیڑ کے گرد اکٹھے ہو کر چڑھاوے چڑھانے لگے۔ پنڈت کے گرد چڑھاووں کا ڈھیر لگ گیا لیکن وہ آنکھیں بند کیے گیان دھیان کرتا رہا۔ کبھی کوئی ضرورت مند زیادہ آہ وزاری کرتا تو آنکھیں کھول کر اسے دیکھتا، ایک نظر چڑھاووں پر ڈالتا اور دوسری مجمعے کی تعداد پر، اور آشیر باد دے کر دوبارہ گیان دھیان کرنے لگتا۔

کچھ دن بعد پنڈت کو یہ لگا کہ لوگ کم ہونے لگے ہیں۔ اس نے سر اٹھا کر درخت پر نظر ڈالی تو منت کے نئے باندھے گئے دھاگے بھی کم لگے۔ اس کی نظریں درخت پر بیٹھے ایک گدھ پر پڑیں۔ وہ غصے سے چلا اٹھا ”اپمان، پیپل بھگوان کا اپمان۔ یہ گدھ دکھن والے گاؤں میں برگد کے نیچے بیٹھے ناستک بدھ بھکشو نے بھیجا ہے۔ اسے درخت سے دور رکھو۔ ورنہ گاؤں پر بھگوان کا کرودھ ہو گا اور اس کا ستیاناش ہو جائے گا“۔

پورا گاؤں درخت کے نیچے اکٹھا ہو گیا۔ سب ڈھول تاشے پیٹ کر گدھ کو اڑانے کی کوشش کرنے لگے۔ ایک دو جذباتی نوجوانوں نے گدھ کو پتھر مارنے یا درخت پر چڑھ کر اسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن پنڈت نے منع کر دیا کہ مقدس پیڑ کی بے حرمتی ہو گی۔ دو تین دن بعد گدھ اڑ گیا۔ لیکن گاؤں والے دوبارہ درخت کے گرد جمع ہونے لگے۔ اور پھر آہستہ آہستہ ان کی تعداد دوبارہ کم ہونے لگی۔

پنڈت نے آنکھیں کھولیں، مجمع کم ہوتے دیکھ کر چلا اٹھا ”یہ کوا پیپل بھگوان پر کیوں بیٹھا ہے؟ یہ گدھ دکھن والے گاؤں میں برگد کے نیچے بیٹھے ناستک بدھ بھکشو نے بھیجا ہے۔ بھگوان پیپل کا اپمان ہوا ہے۔ گاؤں پر بھگوان کا کرودھ ہو گا اور اس کا ستیاناش ہو جائے گا“۔

گاؤں والے یہ نعرہ سنتے ہی جمع ہونے لگے۔ ہر طرف نعرے گونجنے لگے۔ لوگ غصے سے پبھر گئے۔ ڈھول تاشے پیٹے جانے لگے۔ کوا گھبرا کر اڑ گیا۔

کچھ دن بعد پنڈت کو یہ لگا کہ لوگ پھر کم ہونے لگے ہیں۔ اس نے سر اٹھا کر درخت پر نظر ڈالی تو منت کے نئے باندھے گئے دھاگے بھی کم لگے۔ اس کی نظریں درخت پر بیٹھے ایک کبوتر پر پڑیں۔ وہ غصے سے چلا اٹھا ”اپمان، بھگوان کا اپمان۔ یہ کبوتر دکھن والے گاؤں میں برگد کے نیچے بیٹھے ناستک بدھ بھکشو نے بھیجا ہے۔ اسے درخت سے دور رکھو۔ ورنہ گاؤں پر بھگوان کا کرودھ ہو گا اور اس کا ستیاناش ہو جائے گا“۔

گاؤں والے یہ خبر سنتے ہی جمع ہونے لگے۔ ہر طرف نعرے گونجنے لگے۔ لوگ غصے سے پبھر گئے۔ ڈھول تاشے پیٹے جانے لگے۔ لیکن کبوتر نے گھونسلہ بنا لیا تھا اور اڑنے پر تیار نہیں تھا۔ ہفتے بھر مجمع لگا رہا لیکن کبوتر کو نہ اڑایا جا سکتا۔ آخر پنڈت نے گاؤں والوں سے کہا کہ وہ یہاں ایک ہفتے تک مرن جاپ کرے گا جس کے بعد بھگوان کوئی اپائے بتائے گا جس سے یہ راکھشس کبوتر مر جائے گا۔ اس دوران گاؤں والے روز آ کر چڑھاوے چڑھائیں اور ماتھے ٹیکیں۔ ہفتے بھر تک گاؤں والے یہی کرتے رہے۔ آخر شنی وار کو جاپ ختم ہوا اور صبح سویرے گاؤں والے درخت کے پاس پہنچے تو پنڈت کے پاس پٹاری میں ایک ناگ دیکھا۔

بھگوان خود ناگ دیوتا کے روپ میں آئے ہیں اور اس پاپی کبوتر کو نرکھ میں پہنچائیں گے۔ پنڈت نے یہ کہہ کر پٹاری درخت پر رکھ دی اور اس کا ڈھکنا ہٹا دیا۔ ناگ دیوتا پٹاری سے نکلے، پاس ہی اوپر والی ڈال پر کبوتر نظر آیا تو اس کو چٹ کر گئے۔ سارے گاؤں میں جے جے کار ہو گئی اور پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں چڑھاوے چڑھنے لگے۔ پورب، اتر اور پچھم کے گاؤں سے بھی لوگ آنے لگے۔

پھر ایک دن صبح سویرے لوگ پیپل کے پوتر پیڑ کے پاس پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ پنڈت جی کا بدن نیلا پڑ گیا ہے اور وہ بیکنٹھ جا چکے ہیں۔ اس درخت پر اب ناگ دیوتا کا پورا قبیلہ موجود تھا۔

رفتہ رفتہ پیپل کے پوتر پیڑ کے آس پاس اتنے ناگ ہو گئے کہ گاؤں کے لوگوں کو گاؤں چھوڑنا پڑ گیا اور وہ دکھن کے گاؤں میں جا کر رہنے لگے اور برگد کے درخت پر منت کے دھاگے باندھنے لگے۔

یہ قدیم ہندو کلاسیک پنچ تنتر کی ایک حکایت ہے مگر جدید بھارت کو دیکھیں تو نریندر مودی جی ایسے ہی پیڑ پر ناگ پال رہے ہیں۔ کبھی ان کے پوتر پیڑ کے دشمن وہ مسلمان نوجوان قرار پاتے ہیں جو ہندو ناریوں سے ویاہ کرتے ہیں تو کبھی گئو رکھشا کے نام پر وہ خون بہانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس کا انجام وہی ہو گا جو ڈھائی ہزار سال پرانی یہ حکایت بیان کرتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 664 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar