بنتِ حوا کے ساتھ ایک اور مذاق


anwar ghaziخواتین کے تحفظ کے لیے پنجاب اسمبلی میں جو نیا بل منظور کیا گیا ہے اس کے مندرجات پڑھ کر ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ عورت کی طرف سے شکایت کرنے پر مرد کو دو دن کے لیے گھر سے باہر نکالا جا سکے گا۔ جیل میں بند کیا جائے گا۔ سزا دی جاسکے گی۔ قارئین! حکومت پاکستان نے تحفظِ حقوق نسواں سمیت خواتین کے تحفظ اور معاشرے میں ان کے حقوق سے متعلق متعدد قوانین وضع کیے ہوئے ہیں، ان کی موجودگی میں کسی نئے قانون کی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پنجاب اسمبلی میں یکایک خواتین کے تحفظ کے لیے نیا بل پیش کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ ان کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما ہیں؟ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مغرب نواز این جی اوز کی یہ کارستانیاں ہیں اور غیرشعوری طور پر پنجاب اسمبلی کے معزز اراکین نے اس پر مہرتصدیق ثبت کردی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ غبار چھٹ جانے اور اسلام کی حقیقت آشکارا ہوجانے کے باوجود مغرب وامریکا نے اسلام، مسلمانوں اور خصوصاً مسلم خواتین پر ظلم کے حوالے سے پروپیگنڈا مہم شروع کررکھی ہے۔ مغرب مسلمانوں پر ہر وقت اس قسم کے جملے کستا رہتا ہے: ”تم نے عورت کی آزادی سلب کررکھی ہے۔ اسلام میں عورت کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا۔ عورت مرد کے شانہ بشانہ کام کرے اور یہ مطالبات کیے جاتے ہیں کہ عورت کو بھی طلاق کا حق ہونا چاہیے۔ پردہ عورت کی آزادی سلب کرتا ہے۔ عورت کو بھی چار شادیوں کی اجازت ہونی چاہیے….“ یہ اور اس جیسے بیسیوں پروپیگنڈا نعروں کے ذریعے مسلمان خواتین کو اسلامی احکام سے بہکایا اور ورغلایا جاتا رہا اور آج بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ یہ سبھی کچھ مغرب اور مغربی تہذیب کی نقالی میں کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے طرئہ امتیاز ”خاندانی نظام“ کے دیدہ و نادیدہ د ±شمن دراصل ایسی تحریکیں چلاکر انہیں جلد کامیابی سے ہمکنار کررہے ہیں۔ آگے بڑھتے ہوئے یہ جانتے ہیں کہ مغربی تہذیب کی حقیقت کیا ہے؟ مغربی تہذیب یہ ہے کہ عورتوں سے زیادہ سے زیادہ جنسی تسکین حاصل کی جائے اور کوئی ذمہ داری بھی نہ آئے۔ اس لیے وہ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ باہر نکال رہے ہیں، اس کے لیے مغرب نے سب سے زیادہ توجہ بے حیائی، بے پردگی اور فحاشی وعریانی پر دی ہے۔ اور کون نہیں جانتا کہ بے پردگی کے بے شمار نقصانات ہیں۔ گھر تباہ ہوجاتا ہے۔ اس گھر میں سکون نہیں رہتا۔ میاں بیوی میں ہم آہنگی نہیں رہتی۔ دونوں میں بداعتمادی پیدا ہوجاتی ہے۔ اولاد تباہ اور آوارہ ہوجاتی ہے۔ ان کی تربیت نہیں ہوسکتی۔ انہیں والدین کی توجہ اور شفقت بھی حاصل نہیں ہوتی۔ انسان کی تربیت میں سب سے بڑا حصہ محبت کا ہوتا ہے اور اس گھر میں محبت نہیں رہتی۔ عصمت برباد ہونے سے انسان کا انتہائی قیمتی زیور لٹ جاتا ہے اور آپس کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ عصمت انسانی تعلقات کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب یہ ٹوٹ جائے تو سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ معاشرہ برباد ہوجاتا ہے۔ خاندان معاشرے کا بنیادی یونٹ ہے، لہٰذا جب خاندان برباد ہوا تو پورا معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔ انسان ہر لمحے سکون کا متلاشی ہے۔ دنیا میں ہر انسان خواہ کسی بھی حیثیت کا مالک ہےں، وہ سکون کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس ماحول میں رشتہ داریاں ختم ہوجاتی ہیں۔ وہاں صرف شہوت پوری کرنا ’رشتہ داری‘ ہوتی ہے۔

ان مفاسد کو دیکھنے کے بعد یورپ میں یہ تحریک شروع ہے کہ عورت کو واپس گھر میں لایا جائے اور بڑے بڑے ممالک اور اہم ترین شخصیات اس کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔ روس کے صدر ’گوربا چوف‘ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے: ”عورت کو واپس گھر لایا جائے تاکہ خاندانی نظام کی بحالی کے ساتھ ساتھ گھریلو سکون دوبارہ مل سکے جو کسی زمانے میں ہوا کرتا تھا۔“ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پوری دنیا کے دانشور کہہ رہے ہیں کہ عورت کو واپس گھر میں لایا جائے تاکہ ان کا تباہ شدہ خاندانی نظام بحال ہوسکے، مگر ہمارے ارباب حل وعقد عورت کو شتر بے مہار کرنے اور مادر پدر آزادی دینے پر تلے ہوئے ہیں،یا للعجب! دیکھیں! اسلام نے عورت کو گھر کا ماحول فراہم کرکے اس کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کا مقدس رشتہ فراہم کیا جبکہ مغرب اور مغرب زدہ لوگوں نے گھر سے باہر نکال کر عورت کو بھی تباہ کیا اور اپنا خاندانی نظام بھی برباد کرڈالا۔

آج مغرب پریشان ہے اور پھر عورت کو گھر تک محدود کرنے پر سوچ رہا ہے کےونکہ عورت کو’باہر‘ نکالنے مےں جتنے نقصانات ہورہے ہےں ان کی تلافی ممکن نہےں۔بس ایک ہی حل ہے کہ عورت کو اس کے فطری فریضے کی ادائیگی کے لیے گھر کی ملکہ بنادیا جائے…. لیکن افسوس کہ ہم عورت کو ”باہر“ نکالنے کے لیے طرح طرح کے ایسے بل منظور کروانے پر ت±لے ہوئے ہیں جن کی شقیں اور بنیادی مقصد ہی شریعت سے بھی متصادم ہے۔اگر عورت کو مظلومیت سے نکالنا ہے تو پھر اس سے مکمل پردہ کروانا ہوگا، اسے معاشرے کی غلیظ نظروں سے بچانا ہوگا، اس کی دینی تعلیم کا خوب اہتمام کرنا ہوگا، اسے معاش کی فکر سے آزاد کرنا ہوگا، اسے بازار، دکان، دفتر، انڈسٹری اور تجارت کے لیے بکاﺅ مال بننے سے بچانا ہوگا۔ اگر یہ کام نہ کےے تو عورت کی عزت اسی طرح تار تار ہوتی رہے گی۔وہ ظلم وجبر کی چکی مےں اسی طرح پستی رہے گی۔ عورتوں کی اسمگلنگ ہوتی رہے گی۔ خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ان کے ساتھ ریپ ہوتے رہیں گے۔ وہ اجتماعی زیادتیوں کا شکار ہوتی رہے گی۔ وہ نفسیاتی مریض بنتی رہے گی۔ ان کو دفتروں مےں گھسیٹا جاتا رہے گا اور نادان لڑکیاں دھوکہ باز اور ہوس پرست مردوں کے ساتھ بھاگ کر عبرت ناک انجام تک پہنچتی رہےں گی۔ حدود آرڈیننس اور حقوقِ نسواں سے متعلق قوانین بنتے رہیں گے لےکن بنتِ حوا کا تحفظ نہےں ہوگاکےونکہ یہ لوگ سمجھنے میں غلطی کررہے ہیں۔ جن چیزوں کو وہ آزادی کہتے ہیں وہ عورت پر ظلم ہے اور جن کو وہ ظلم کہتے ہیں ”بنتِ حوا“ کی حقیقی آزادی وہی ہے۔شیخ سعدی نے ایسے ہی موقع کے لئے شاید کہاتھا

بترسم کہ نرسی بکعبہ اے اعرابی
کہ ایں راہ کہ تو می روی بترکستان است

”مجھے ڈر ہے کہ تو کعبہ تک ہرگز نہیں پہنچے گاکیونکہ جس راستہ پر تو چل رہا ہے یہ ترکستان جاتا ہے،مکہ جاتا ہی نہیں۔“حقوقِ نسواں کے علمبردار جن چیزوں کو اختیار کرکے عورت کومظلومیت سے نکالنا چاہتے ہیں وہ اسباب تو اس کی مظلومیت کے ہےں ہی نہیں۔ عورتوں کے تحفظ کے لیے تو پہلے سے بہت سے قوانین موجود ہیں اور مزید یہ بل بھی منظور کروالیا گیا ہے اور آیندہ بھی ہوتے رہیں گے لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے حوا کی بیٹیوں کے آنچل بدستور تار تار ہوتے رہیں گے۔ ہم حدود قوانین کو نام نہاد روشن خیالی کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے لیکن قوم کی بیٹیاں وڈیروں، چودھریوں، سرداروں، خانوں اور جاگیر داروں کے شکنجے میں اسی طرح پستی رہیں گی۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “بنتِ حوا کے ساتھ ایک اور مذاق

  • 28-02-2016 at 2:24 am
    Permalink

    سبحان اللہ مولانا یہ کوئی مضمون نہیں پراگندہ خیالی کی حلیم کہیے
    فرماتے ہیں
    “بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مغرب نواز این جی اوز کی یہ کارستانیاں ہیں اور غیرشعوری طور پر پنجاب اسمبلی کے معزز اراکین نے اس پر مہرتصدیق ثبت کردی ہے”
    دوسری طرف ارشاد فرما رہے ہیں
    “آج مغرب پریشان ہے اور پھر عورت کو گھر تک محدود کرنے پر سوچ رہا ہے کےونکہ عورت کو’باہر‘ نکالنے مےں جتنے نقصانات ہورہے ہےں ان کی تلافی ممکن نہےں۔بس ایک ہی حل ہے کہ عورت کو اس کے فطری فریضے کی ادائیگی کے لیے گھر کی ملکہ بنادیا جائے”

    یعنی این جی اوز نے جس مغرب کی محبت میں یہ نیا جھنجٹ پیدا کر دیا وہ مغرب خود اپنے کیے پر شرمندہ ہے اور روشنی کے زمانوں کی طرف لوٹنا چاہتا ہے تو مولانا یہ خبر ان این جی اوز تک نہیں پہنچی کیا اگر وہ ایسی ہی مغرب پرست ہیں تو انہیں مغرب کے تازہ ترین خیالات کا احساس کرنا چاہیے تھا یہ کیا ظلم کر دیا

    گورباچوف کی کتاب؟ کتاب کا نام کیا ہے؟ وہ بھی ساتھ لکھ دیا کریں جہلا کو سہولت رہے گی ۔۔۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں “کتنے افسوس کی بات ہے کہ پوری دنیا کے دانشور کہہ رہے ہیں کہ عورت کو واپس گھر میں لایا جائے تاکہ ان کا تباہ شدہ خاندانی نظام بحال ہوسکے”
    جناب عالی کچھ ان دانشوروں کا اتہ پتہ بھی بتاتے جاتے تاکہ قوم کو گھریلو تشدد، قرآن پاک سے شادی، ونی اور دیگر ایسی رسومات وغیرہ جیسی برکات کی قدر جاننے میں آسانی ہوتی
    آپ کا کوئی علاج نہیں جناب

  • 28-02-2016 at 5:47 am
    Permalink

    حضور ایک سادہ سا سوال ہے، اگر ایک مرد عورت پہ تشدد کرے تو اسلام کیا کہتا ہے، یہ اس کا قانونی حق ہے؟ اگر اسی قانون کو اسلامی قانون کہ کر نافذ کر دیا جاے تو یہ ٹھیک رہے گا؟ اعتراض آپ کو قانون پہ ہے، یا یورورپ سے درآمدہ قانون پر؟
    کیا ہمارا خاندانی نظام عین اسلامی نظام ہے جسے بچانے کے لیے ہمیں سر دھڑ کی بازی لگا دینی چاہیے؟
    کیا وڈیرے جاگیر دار کی بیٹیوں، بہووں پہ یہ قانون لاگو نہیں ہوگا؟ ان کی بیبیاں اپنے شوہروں کو اندر نہیں کرا سکیں گی؟ سچ کہوں تو انھی کی بیبیاں اس قانون کا استعمال جانتی ہوں گی، ایک عام عورت بے چاری کیا سمجھے قانون سے کیسے مدد لی جا سکتی ہے۔
    ہم نے تو اکثر علماے دین کے منہ سے یہی سنا کہ یوروپ نے سارا کا سارا نظام اسلام ہی سے مستعار لیا ہے، اب ہم اپنا کھویا ہوا دین یوروپ سے واپس لینا چاہتے ہیں، تو کس بات کا اعتراض؟

  • 28-02-2016 at 4:56 pm
    Permalink

    حضرت! ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت کو گھر میں قید کرنے کے فوائد و ثمرات گنوانے کی بجائے آپ یہ بتائے کہ اسلام عورتوں پر تشدد، ان کی مرضی کے بغیر ان کے نکاح، ان کے نہ چاہتے ہوئے ان کوجبری طور پر حقِ زوجیت ادا کرنے کو کہنے اور اس پر مذہبی تعلیمات کی تشریحات کا غازہ ملنے کے بارے مزہب خود اور اور شارحینِ مذہب کیا کہتے ہیں؟ اسلام نے آپ کے مطابق عورتوں کو عزت و تکریم اور قدرومنزلت دی ہے اور یقیناََ دی ہے تو ذرا یہ بھی بتائے کہ اس کی نوعیت کیا ہے اور وہ اپنی اصل میں کیا ہےَ؟؟ یقیناََ یہ نہیں ہے کہ ان سے زندہ رہنے، خواہشات پالنے اور اپنی مرضی سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا جائے جیسا کہ ہمارے مذہبی طبقات کی تشریحاتِ احکام سے معلوم ہوتا ہے!!!

  • 28-02-2016 at 6:56 pm
    Permalink

    Ghazi sb, we expected from you some reasonable objections, and alternative picture of Islamic protection given to women, emotional speeches and demagoguery have served no purpose in the past, won’t do in the future either. Plz give us some insight into Islamic protections and privileges available to women so that a meaningful argument may be made for the better understanding of the issues.

Comments are closed.