کردار کے حمام میں ننگے مرد اور مظلوم خواتین


محمد نواز شریف کی نااہلی کے بعد پانامہ دستاویزات میں آنے والے تقریبا چارسو پچاس نام سب کو بھول چکے ہیں اور خود مسلم لیگ ن یہ سوال کرتے ہوئے خود کو حق بجانب سمجھتی ہے کہ “ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا؟”۔

عمران خان ابھی جشنِ فتح کی تھکن نہیں مٹانے پائے تھے کہ ان کی اپنی ہی جماعت کی ایک رکن قومی اسمبلی عائشہ گلا لئی نے ان کی فتح کا مزہ کر کرکرا دیا۔ لب لباب یہ کہ “عمران خان بدکردار ہے اورتحریک انصاف میں خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں “۔ عمران خان پر ہی کیا موقوف ان کے ترجمان نعیم الحق بھی نچلے نہیں بیٹھے۔ ایک ٹویٹ اور پھر پریس کانفرنس کے بعد سے ملک کے اخبارات اور ٹیلی ویژن سکرینوں پر صرف اسی معاملے کا چرچا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان میں دہشت گردی قصہ پارینہ بن چکی اور ملکی سلامتی کو لاحق بیرونی خطرات بھی ٹل چکے۔ بھارت، افغانستان، ایران اورامریکہ کے ساتھ ساتھ عرب ملکوں سے بھی تمام تر معاملات نہایت خوش اسلوبی سے طے کر لئے گئے ہیں، پاکستان میں سول سپرمیسی کو بخوشی تسلیم کر لیا گیا ہے، آئین حقیقی معنوں میں بالادست ہوچکا اور وطن عزیز کے ہر غریب کو انصاف اس کی دہلیز پر میسر ہے۔ ہر پاکستانی کو اپنے گھر پر پینے کا صاف پانی مفت مہیا کیا جا رہا ہے اور صحت کی سہولیات بھی ارزاں ہیں، گلی کوچوں میں کچرے سے رزق چھانتے اور ورکشاپوں میں اپنے نصیب کی کالک اس معاشرے کے منہ پر ملتے اڑھائی تین کروڑ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے بہترین سکولوں میں داخلہ دلوا دیا گیا ہے۔

تعمیر و ترقی کا عمل نہایت تیز رفتاری سے جاری ہے۔ ملک میں بجلی وافر مقدار میں میسر ہونے کی وجہ سے بھارت کو برآمد کی جارہی ہے،  نہ صرف بجلی بلکہ پاکستان کی دوسری برآمدات میں بھی دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہورہی ہے جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر ابل ابل پڑتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرے ان سارے خوابوں کی تعبیر ہنوز دلی دوراست کی عملی تفسیر ہے۔ سوچنے کی بات مگر یہ ہے کہ اگر قوم کے تمام تر مسائل ابھی حل طلب ہیں تو دانشواران قوم پر کیا افتاد آن پڑی ہے کہ اچانک عمران کے کردار کو ”باٹھ تریٹھ“ کرنے پر تلے ہیں۔

عائشہ گلالئی کی طرف سے پریس کانفرنس کے بعد معاملہ عمران خان تک نہیں رکا، تحریک انصاف نے جب دیکھا کہ شیریں مزاری کی سربراہی میں ان کی اپنی خواتین کی پریس کانفرنس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑا تو انہوں نے عائشہ احد سے کمک طلب کی۔ کم عقلی اور حماقت کا بدترین مظاہرہ ہے کہ عائشہ احد کے دائیں بائیں فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر یاسمین راشد براجمان تھیں۔ گویا مردانگی کی انتہا یہ ہے کہ اپنے سیاسی فائدے کے لئے بھی خواتین کو استعمال کیا جا رہا ہے اور افسوس تو یہ ہے کہ خواتین بھی یہ خدمت خوشی سے بجا لارہی ہیں۔ معاشرے کے ناخواندہ اور پسماندہ طبقوں میں خواتین کو ونی، سوارا  اور غیر ت کے نام پرتو مال غنیمت کے طور پر استعمال کیاہی جاتا تھا۔ اب یہ نیا چلن ہے کہ پڑھے لکھے لو گوں کی بداعمالیوں کی سزا بھی عورت کو ہی بھوگنا پڑے گی۔ کیا یہ عائشہ گلالئی کے الزامات کا جواب ہے؟

اپنے من کی میل دور کئے بغیر دوسروں کے دامن پر کیچڑ اچھالنے سے کیا آپ پا ک صاف ہو جائیں گے؟ مسلم لیگ ن کی انگلی پر ناچنے کا الزام عائشہ گلالئی پر ابھی ثابت نہیں کیا جاسکا لیکن تحریک انصاف نے اس بات کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا کہ اگر ان کی قیادت کی طرف انگلی اٹھائی گئی تو جمہوری طریقے سے جواب دینے کی بجائے وہ خواتین کو استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ ایک خاتون کے بارے میں ڈکٹیٹر کے پروردہ فواد چودھری کی بازاری زبان ان کی نیت کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کا احوال بھی آشکار کر رہی ہے۔

لیڈر شپ تو اپنے کارکنوں کی تربیت کرتی ہے، یہ کیسی قیادت ہے جس نے اپنے کارکنوں کو شتر بے مہار بنا ڈالا ہے۔ عائشہ گلالئی کی ٹویٹ کے فوراَ بعد خاکسار نے عرض کی تھی کہ کپتان کو نہیں بلکہ انصاف کے معروف تقاضوں کے عین مطابق عائشہ گلالئی کو عمران خان پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت فراہم کرنا ہیں بصورت دیگر وہ جھوٹی اور خواتین کے لئے باعث شرم مثال بن جائیں گی۔ اب چونکہ عائشہ گلا لئی پارلیمان کی اخلاقیات کمیٹی کو اپنا اور اپنے والد کا موبائل فون دینے پر تیار ہیں تو کمیٹی کا خیر مقدم کرنے کے بعد عمران خان کو یوٹرن نہیں لینا چاہیے۔

ذاتی طور پر میں کسی کے ذاتی عیوب کو اچھالنے کے حق میں نہیں کہ ہمارا معاشرہ اوردین ہمیں دوسروں کی پردہ پوشی کی تلقین کرتا ہے لیکن مکافات عمل شروع ہو چکا اور اب یہ معاملہ کھل چکا ہے تو عمران خان کو چاہیے کہ معاملہ مزید بگاڑنے کی بجائے خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی سعی کریں یا قوم سے معافی طلب کریں تاکہ یہ کھیل ختم ہو۔  اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو آئندہ انتخابات تک نہ صرف یہ بلکہ ان کی جوانی کی دوسری کہانیاں بھی ان کے لئے مسلسل در د سر بننے والی ہیں۔

کسی کی عزت کا پاس نہ ہو تو اس خاتون کی کہانی لکھوں لاہور کی صحافتی برادری اور سیاستدان جس کے چشم دید گواہ ہیں؟  کپتان نے جس کے گھر کو جہنم بنا ڈالا اور جب اس نے عمران خان کے کرتوتوں سے پردہ اٹھایا تو بالاآخر اس کا گھر اجڑ گیا، اس لئے کہ اس کا خاوند بھی اپنی بیوی نہیں بلکہ کپتان کا ہمنوا تھا۔ حمزہ شہباز کی ترجمانی میرا منصب نہیں لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ عائشہ گلا لئی کے الزامات جنسی ہراسگی کا معاملہ ہیں جبکہ عائشہ احد کے الزامات خانگی تنازعات سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرے لئے دونوں خواتین یکساں احترام کے لائق ہیں۔ باوجود اس کے کہ عائشہ احد نے تحریک انصاف کا کندھا بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے لیکن ان کو کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اول تو عدالت ان کے دعوے کو مسترد کر چکی ہے اور دوسرا وہ میڈیا کو بھی آج تک کوئی ایسا ناقابل تردید ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں جو حمزہ شہباز کو ان کا خاوند ثابت کرتا ہو۔ اپنی پریس کانفرنس میں بھی انہوں نے یہ تو بتایا کہ ان کے پاس شریف خاندان کے متعدد افراد کے پیغامات موجود ہیں لیکن ابھی تک ان کی طرف سے میڈیا کے لئے ایسا کچھ جاری نہیں کیا گیا جو ان کے موقف کو تقویت دیتا ہو۔ فردوس عاشق اعوان کو اپنا وکیل کر کے عائشہ نے خود اپنا مقدمہ خراب کر لیا، اللہ ان کے حال پر رحم کرے اور تحریک انصاف پر بھی کہ کم عقلی ان پر ہمیشہ سے غالب رہی ہے۔

ایک مرد ہونے کے ناطے یہ بات میرے لئے باعث تشویش ہے کہ اس معاشرے کا ہر بااختیار اور طاقتور مرد اپنی پسند کی خاتون سے جبری تعلق کو بھی برا نہیں جانتا بلکہ اپنا حق گردانتا ہے لیکن مشکل وقت میں اس تعلق کا اقرار تو درکنار خواتین کو بدنام کر نا ہمارا شیوہ ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ اس معاملے میں بعض خواتین بھی مردوں کی معاون بن جاتی ہیں۔ معاف کیجئے گا ! مرد اور خاتون کی تخصیص کئے بغیراگر ہم اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو کتنے ہیں جن کا ضمیر ان کو اس الزام سے بری الذمہ قراردے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ چند مثالوں کے علاوہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں لیکن دل ہمارے اس قدر فراخ ہیں کہ اپنی بہنوں بیٹیوں کو اپنی آزاد مرضی کے ساتھ اپنے خاوند کے انتخاب کا حق دینے کو بھی ہم تیار نہیں ہیں اور نام استعمال کرتے ہیں معاشرتی روایات اور اسلام کا۔

اسلام نے تو کھلے لفظوں میں ان کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ساتھی کا انتخاب کر سکیں۔ بہتر ہوگا کہ ہر کوئی اپنے کردار کا جائزہ خود لے۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے سے گریز کیجئے کیونکہ اس سے آپ کے ہاتھ اور دامن بھی آلودہ ہوگا۔ انسان خطاکار ہے اور اپنی غلطیوں پر پشیمان ہونے والوں پر رحم کرنا خالق کائنات کی روش ہے،  اس لئے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیجئے اور ان کا بوجھ خواتین کے ناز ک کندھوں پر ڈالنے کی مردانگی مت دکھائیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔