سانحہ ساہیوال: عمران خان کو کیا کرنا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں سانحہ ساہیوال کے طرز کے پہلے بھی سانحات گزرے ہیں، مگر بڑے دُکھ کی بات یہ ہے کہ ہر مرتبہ ہی قوم رو دھو کر خاموش ہو جاتی ہے، حکمران ہوں کہ سیاست دان سب ہی سینہ کوبی اور آہ فغان کرتے ہیں اور پیش آئے سانحہ پر بھرپور مذمت کا اظہار کرتے ہیں، سانحہ کے شکار افراد کے لئے ہاتھ اُٹھا کر بخشش و مغفرت اور جنت الفردوس میں درجات کی بلندی کے لئے اللہ کے حضور دُعا اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں، جبکہ آئندہ ایسے واقعات کی تدارک کے لئے حقیقی معنوں میں بغیر کچھ کیے تیز اور آہستہ قدموں کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پھر بے حس عوام اور رنگ ریلیوں میں مگن حکمران اگلے کسی بڑے قومی سانحے تک سب کچھ بھول کر قومی خزانہ لوٹ کھانے میں لگ جاتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ کبھی بھی کسی نے قومی سانحات کی اصل حقائق جاننے اوراِن میں ملوث افراد کو کڑی سزا دینے اورآئندہ ایسے سانحات کے تدارک سے متعلق قانون سازی کا نہیں سوچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم ستر سال سے سانحہ ساہیوال جیسے قومی سانحات سے دوچار ہورہی ہے، اللہ جانے کب تک یہ سلسلہ جاری رہے؟

اِس سے بھی کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے کہ دنیا کے جن ممالک اور معاشروں میں پارلیمانی نظام حکومت قائم ہے۔ اُن کے ایوانوں کا کام تو وقت اور زمانے کے لحاظ سے پولیس اصطلاحات سمیت دیگر ضروری معاملا ت میں اصطلاحات کرنا ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ایوانوں میں تو کسی قسم کی دائمی قانون سازی کی بجائے، یہاں تو نصف صدی سے زائد عرصے سے ایوان نمائندگان صرف سٹرکیں بنوانے، گٹر صاف کروانے، شہراور گاؤں کی گلی کوچوں کو برقی قمقموں سے سجانے، اپنے مخالفین کے گھر گرانے اور اپنے حامیوں اور ہم خیال افراد کے گھر بنانے کے احکاما ت جاری کر کے سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے ٹٹوجتنا کام کر کے اپنا قومی فریضہ ادا کر دیا ہے، اور قوم کی خدمت کر دی ہے، عرض یہ کہ ہمارے ایوان تو جیسے چھوٹے موٹے سیاسی اور ذاتی مسائل حل کرنے اور پیدا کرنے کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے محدود ہو گئے ہیں۔

ایوان جہاں قانون سازی کی جانی چاہیے تھی، آج ہمارے ایوان حکمرانوں اورسیاستدانوں کے ذاتی اور سیاسی نوعیت کے لڑائی جھگڑے حل کرنے والے مچھلی بازار بن گئے ہیں۔ جہاں چیخ چلا کر مسائل پیدا کئے جاتے ہیں، پھراُنہیں حل کرنے کی کروڑوں، اربوں اور کھربوں کی بولیاں لگائی جاتی ہیں، جو جتنی بھاری بولی دیتا ہے، اُسے مسائل حل کرنے کی آڑ میں مسائل پیدا کرنے کا ٹھیکہ دے دیا جاتا ہے، کسی معاملے میں جس کی بولی کم لگتی ہے وہ اپنا کام کمیشن اور پرسنٹیج سے نکال لیتا ہے، ایسا برسوں سے ہو رہا ہے۔ افسوس ہے کہ پاکستانی قوم ستر سال سے عام انتخابات میں جنہیں ووٹ دے کر اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لئے قانون سازی کرنے کی ذمہ داری سونپ کر ایوانوں میں پہنچاتی ہے وہی قوم کے سوداگر ثابت ہوتے آئے ہیں۔

معاف کیجئے گا، آج عوام کو مہنگائی، بھوک و افلاس، کرپشن، لوٹ مار اور قومی لٹیروں کا خاتمہ کر کے نیا پاکستان بنانے اور عوامی توقعات کے مطابق ریلیف دے کر تبدیلی کے نام پر اقتدار حاصل کرنے والی رواں پی ٹی آئی کی حکومت بھی کوئی نیا کر دِکھانے والی نہیں ہے۔ آج یہ بھی اپنے پیش رو (سابق بے حس حکمرانوں نواز شریف اور آصف علی زرداری ) کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی مہنگا ئی بے لگام ہو گئی ہے۔ بلکہ پہلے سے زیادہ آزاد ہوگئی ہے۔ صبح مہنگائی کچھ ہوتی ہے۔ تو دوپہراور شام تک اِس کا رنگ ہی کچھ اور ہو کر بے قابو ہو جاتا ہے۔ حکومت بھی ہے کہ جو پہلے والوں کی طرح تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کے بوجھ تلے دبا کر قوم و مُلک کی ترقی کی راہ دکھا کر اپنے گاڑی کا وزن کھینچ رہی ہے۔ کیوں کہ اِس نے اپنے پہلے چھ ماہ میں دو بجٹ پیش کر کے ثابت کر دیا ہے کہ یہ عوام کے لئے اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں کر سکتی۔ ابھی تک حکومت ایک بھی ایسی قانون سازی کرنے سے قاصر رہی ہے جو مفاد عامہ کے لئے ہو۔

حکومت قانون سازی سے قاصر کیوں نہ ہو؟ اِس نے ابھی تک سنجیدگی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا ہے، نہ توسابق کرپٹ حکمرانوں نواز و زرداری اور اِن کے چیلے چانٹوں کو ابھی تک کڑی سزا دِلوانے کے لئے اپنے تئیں کچھ کیا دکھایا ہے۔ اور نہ ہی عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں اور دعووں کے مطابق مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر سمیت بے لگام مہنگائی اور پولیس گردی کے خاتمے کے لئے قانون سازی کی ہے۔ ابھی تک تو حکومت زبانی جمع خرچ کر کے قوم کو سبز باغ اور سُنہرے خواب دکھانے میں ہی لگی ہوئی ہے اِسے سوچنا چاہیے کہ  گول مول باتوں سے حکومت نہیں چلا کرتی ہے۔

بہر کیف، آج سانحہ ساہیوال پر اپوزیشن اور عوام جس طرح واویلا کر رہے ہیں یہ بھی اپنی جگہ ہے، سانحہ ساہیوال تو ایک بہانہ ہے اصل میں اپوزیشن بالخصوص ن لیگ اور پی پی پی والے سانحہ ساہیوال پر چیخ چلا کر اپنی کرپشن پر پردہ ڈال رہے ہیں اور اپوزیشن والے نواز شریف، شہباز شریف، زرداری، مولانا فضل الرحمان سانحہ ساہیوال کے مرحومین کی لاشوں پر سیاست کر کے اپنا سیاسی قد اُونچا کر رہے ہیں حالانکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور دیگر قومی سانحات پلٹ پلٹ کر باریاں لینے والی دونوں جماعتوں پی پی پی اور ن لیگ کے دورِ حکمرانی میں ہی رونما ہوئے ہیں اِن سانحات کے متاثرین کو تو ابھی تک ایک رتی کا بھی انصاف نہیں ملا ہے مگر آج دونوں کرپٹ جماعتوں نے سانحہ ساہیوال پر چیل کی طرح چیخ چلاتے آسمان سر پر اُٹھا رکھا ہے۔ جیسے یہ بڑے انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔

اِس موقع کا وزیراعظم عمران خان بھر پور فائدہ اُٹھائیں اور تُرنت ایوان میں قانون سازی کی ابتدا پولیس اصطلاحات سے کر دیں۔ پھرخود لگ پتہ جائے گا کہ کون سی جماعت ہے جو پولیس کو سیاسی اثررسوخ سے پاک رکھنا چاہتی ہیں؟ اور کون نہیں چاہتا کہ خالصتاً عوامی مفادات اور تحفظات کے لئے پولیس اصطلاحات کی جائیں؟ وزیراعظم عمران خان ساتھ ہی ایوان سے یہ بل بھی پاس کروا دیں کہ کسی بھی علاقے میں پیش آئے سانحہ کا ذمہ دار علاقے کا تھانہ انچارج ہوگا، اگر 72 گھنٹوں میں کسی سانحہ یا واقعہ کے مجرم گرفتار نہ کیے گئے تو متعلقہ تھانے کے انچارج سمیت تین اہلکاروں کے ہاتھ کاٹے جا ئیں گے پھر دیکھیں مُلک کے کسی بھی تھانے کی حدود میں کسی قسم کی کوئی واردات ہو جائے۔

کیوں کہ قوی اور قومی خیال یہی ہے کہ آج مُلک کے طول ارض میں جس قسم کے بھی جرائم رونما ہو رہے ہیں۔ اِن کی پشت پناہی متعلقہ تھانے کرتے ہیں۔ آج وزیراعظم عمران خان کی جتنے بھی دن کی حکومت باقی ہے۔ اگرآج یہ سخت نوعیت کی پولیس اصطلاحات کرتے ہیں۔ تو قوم کا اِن پر اعتماد بحال ہوجائے گا ورنہ؟ قوم رواں حکومت پر کئی سوالیہ نشان لگا نے میں حق بجانب ہوگی۔

اگرچہ، اَب تک کی آنے والی اطلاعات کے مطابق سانحہ ساہیوال کی ابتدائی رپورٹوں میں کئی سقم سا منے آئے ہیں، جن کی وجہ سے ایک عام شہری تذبذب کا شکار ہے، کچھ کا یہ خیال ہے کہ مقتولین بے قصور اور بے گناہ تھے۔ مگر بہت سے پاکستا نی اِس سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کسی قسم نا اہلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اَب جیسا بھی ہے سانحہ ساہیوال نے قوم کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔

اصل حقائق سامنے آنے تک سارا مُلک ایک کشمکش میں مبتلا ہے۔ جبکہ مرحومین کے لواحقین سمیت مُلک کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سانحہ ساہیوال پر بنائی جانے والی جے آئی ٹی کی کسی وضاحت کو درست تسلیم کرنے سے صاف انکاری ہے۔ تاہم متاثرین سانحہ ساہیوال سمیت ایسے کروڑوں پاکستانی شہری بھی ہیں۔ جن کا حکومت سے یہ مطالبہ ہے کہ سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے جن اشخاص پر مبنی جے آئی ٹی بنا ئی گئی ہے اِس میں اکثر سی ٹی ڈی کے افراد شامل ہیں۔

بھلا کب یہ چاہیں گے کہ اِن کے ساتھی مجرم قرار پائیں۔ اِس پس منظر میں لازمی ہے کہ سانحہ ساہیوال کے مقتولین اور اِن کے لواحقین کو فوری انصاف کی فراہمی کے لئے حکومت جوڈیشنل کمیشن بنائے جو غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، تحقیقات کرے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرکے انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ بس ایسا اِسی صورت میں ممکن ہے کہ جب حکومت کی جانب سے سانحہ ساہیوال پر فی الفور جوڈیشنل کمیشن بنایا جائے اور ذمہ داران کو کڑی سزا دی جائے تاکہ پھر ایسا کوئی قومی سانحہ قومی پولیس کے ہاتھوں نہ رونما ہونے پائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •