گندم کی تباہ فصل، بدحال کسان اور غیرسنجیدہ حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالیہ تباہ کن بارشوں اور ژالہ باری نے کسانوں کی کمر یوں توڑ کر رکھ دی ہے کہ گندم کی فصل تباہ ہو گئی ہے۔ متاثرہ فصلوں میں مکئی، چنا اور دیگر فصلوں سمیت باغات بھی شامل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ساری فصلیں کسان کے لئے اہم ہوتی ہیں اور سب پیسہ خرچ کرنے کے علاوہ محنت سے تیار ہوتی ہیں لیکن گندم کی فصل ایسی فصل ہے جوکہ ہرطبقے بالخصوص نچلے طبقہ کی بقا کے لئے انتہائی اہم ہے۔ شہروں میں بیٹھے بابو تو سمجھ رہے ہیں کہ گندم کی فصل سے صرف کاشتکار ہی متاثر ہوا ہے۔

حقیقت اس کے برعکس اس طرح ہے کہ گندم سے کسان کے ساتھ ساتھ دیگر محنت کش بھی متاثر ہوئے ہیں جوکہ یوں اس سے جڑے ہوتے ہیں کہ گندم کی بوائی، رقبہ کی تیاری سے لے کر پکائی اور پھر گہائی کے عمل تک مختلف لوگ کاشتکاروں کے ساتھ مل کر اس کی تیاری میں اپنا کردار اداکرتے ہیں۔ مثال کے طورپر کوئی گندم کی کاشت کے لئے ٹریکٹر چلاتا ہے تو کوئی اس کے پانی کی سرد راتوں میں لگانے ذمہ داری لیتا ہے اور کوئی شخص اس کی سپرے کے عمل میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔

اور اس سے حاصل ہونے والی مزدوری سے اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ گندم کی کٹائی سے لے کر منڈی تک پہنچانے میں مختلف لوگ اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور اپنے خاندان اور بچوں کے لئے سال بھر کے لئے کھانے کی گندم جمع کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر گندم کی کٹائی میں لوگ اپنے خاندان کی خواتین، بچوں اور بڑوں کے ساتھ مل کر کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کٹائی کریں اور گندم کا خاص حصہ اس کے معاوضہ میں حاصل کریں جوکہ ان کی سال بھر کی ضروریات کو پورا کر سکے، پھر گندم کا ایک جگہ ڈھیر لگانے کا عمل شروع ہوتا ہے تو اس میں دوسرے لوگ ٹولیاں بنا کر طے شدہ معاوضہ پر کام کرتے ہیں۔

پھر گندم کی گہائی کا عمل آتا ہے تو اور لوگ جو کہ ٹولیاں بنا کر ٹریکٹر، تھریشر پر اس گندم کی فصل کو حقیقی شکل میں لے آتے ہیں۔ یہاں ٹریکٹر اور مزدور اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ یوں پھر اس کو منڈی تک منتقلی میں پلے دار اس کی بوریوں میں بھرائی اور وزن کرنے کے عمل کو مکمل کرتے ہیں۔ اور پھر سات ماہ گزرنے کے بعد کسان اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنی فصل کا معاوضہ وصول کرے۔ گندم کی فصل سے کسان کو صرف گندم ہی حاصل نہیں ہوتی ہے بلکہ بھوسہ بھی حاصل ہوتا ہے۔

بھوسہ کی اہمیت کسان کے لئے گندم سے بھی یوں بڑھ جاتی ہے کہ اس کے ڈنگر ڈھور کے چارہ میں بھوسہ کا ہونا ازحد ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے ڈنگر ڈھور جو کہ اس کے دودھ اور روزی کا بڑا ذریعہ ہیں، ان کو مناسب خوراک مہیا کر سکے۔ بھوسہ اس کو اپنی گندم کی فصل سے تو سستاحاصل ہو جاتا ہے لیکن عام مارکیٹ میں لینے جائے تو اس کی جان نکل جاتی ہے۔ ادھرگندم کی فصل مارکیٹ میں بھی کاروبار کی بڑھوتی کی بڑی وجہ ہوتی ہے۔

اسی طرح کسان سمیت دیگر شراکت داروں کی جیب میں جب گندم کا پیسہ آتاہے تو چاروں اطراف ایک زندگی کے خوبصورت دنوں کا سماں بندھ جاتاہے۔ لوگ گھروں کی تعمیر، بچوں کی شادیوں سے لے کر زندگی کی دیگر ضروریات پوری کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ تعلیم، صحت اور دیگر امور کی طرف بھی بڑھتے ہیں۔ ایک طرف نارمل حالات میں گندم کی فصل تیار ہوجائے تو یہ حالات ہوتے ہیں اور زندگی کے خوبصورت رنگ ہوتے ہیں لیکن اس وقت کیا صورت حال ہو گی جب گندم کی فصل سونا کا رنگ پکڑ چکی تھی، اور وساکھی کا میلہ ہو چکا تھا، کسان اور گندم کی فصل میں دیگر شراکت دار مزدور مختلف کسانوں سے کٹائی کے معاملے پر بات چیت مکمل کرچکے تھے اور بس گندم کی کٹائی شروع کرنی تھی۔

اور ادھر بارشوں کی سلسلہ رک نہیں رہا تھا اور کسان دعاوں میں مصروف تھے کہ پروردگار ہمارے اوپر رحم فرما اور پکی فصلوں کو محفوظ کر دے۔ بارشیں جوکہ اس سال رحمت یوں سمجھ جا رہی تھیں کہ ان کی بدولت گندم کو ایک خاص موسم جب پانی کی ضرورت تھی تو اس وقت ہو رہی تھیں اور فصل بہتر ہو رہی تھی لیکن جوں جوں بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا کسان اور اس کے ساتھ جڑے لوگوں کی نیندیں حرام ہورہی تھیں۔ اس صورتحال میں پرامید تھے کہ قدرت ان پر مہربان ہو گی۔

پھر وہ لمحہ آیا جو کہ کسانوں پر قیامت بن کر گرا کہ بارشوں کی شدت کے دوران ژالہ باری نے کھڑی فصلوں کو تہس نہس کر دیا۔ کسان کی محنت یوں لمحوں میں برباد ہوتی گئی۔ کھاد، بیج، سپرے، ٹریکٹر اور پانی سمیت دیگر امور پر خرچ ہونے والے پیسہ کے علاوہ گندم کے ہاتھ نہ آنے کے معاملے نے اس کو نہ آگے کا چھوڑا اور نہ پیچھے کا۔ وہ یوں کہ ایک تو اس پچھلی جمع پونجی چلی گئی اور دوسری طرف وہ نئی فصلیں جیسے کپاس، تل وغیرہ کاشت کرنے میں مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔

ادھر جیسے اوپر بتایا ہے کہ اس ژالہ باری اور بارشوں سے سے تباہ ہونے والی گندم کی فصل سے کسان اکیلا متاثر نہیں ہوا ہے بلکہ پہلے دن سے رقبہ کی تیاری سے لے کر پانی، کھاد، سپرے، کٹائی، ڈھوائی، گہائی اور تھریشر سے لے کر منڈی تک پہنچانے والے مزدور بھی تباہی کے عمل میں برابر کے متاثر ہوئے ہیں۔ ادھر ڈنگر ڈھور کے لئے بھی جو بھوسہ کاشتکاروں اور دیگر طبقہ کو عام حالات میں حاصل ہوتا ہے، وہ بھی اس تباہی میں پہلے جتنا حاصل ہونے کی توقع نہیں ہے۔

ان بارشوں اور ژالہ باری کو قدرتی آفت قراردے کر جان چھڑائی جا سکتی ہے جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومتی سطح پر کیا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ موسیماتی تبدیلی نے اس ژالہ باری اور بارشوں کے لانے کی بنیادی وجہ ہیں، اس پر بات نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی اس اہم معاملے پر مستقل کام ہو رہا ہے تاکہ موسیماتی تبدیلی کی تباہی سے فصلوں کو بچایاجا سکے۔ حکومتیں سڑکوں، پلوں اورمیٹرو کو ترقی کی علامت اور اپنی ذمہ داری سمجھ رہی ہیں جبکہ زراعت جو کہ فوڈ سیکورٹی ہے، اس کی طرف توجہ بیانات کی حد تک بھی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے لے کر ان کی وفاقی کابینہ بالخصوص پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار اور ان کی کابینہ کی طرف سے کسانوں کی زندگیوں میں تباہی لانے والی بارشوں اور ژالہ باری پر اکا دکا ٹویٹ اور بیان بھی بمشکل سے آیا ہے جبکہ اس صورتحال میں کسان کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، زراعت کے اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت تھی، زرعی بنک جوکہ کسانوں کو قرضوں کی صورت میں اگلی فصل کی کاشت میں مدد کر سکتا ہے، اس کو ہدایت کرنے کا وقت تھا کہ وہ کسانوں کو کپاس وغیرہ کی کاشت کے لئے بلاسود فوری قرضے فراہم کرے، اسی طرح گندم کی فصلیں جہاں تباہ ہوئی ہیں ان اضلاع کو آفت زدہ قرار دے کر کسانوں کے ذمہ زرعی قرضوں کو معاف کیا جائے، ساتھ زرعی بنک عملہ کو اس بات کا پابند کرنا بھی ضروری ہے کہ قرضوں کے عمل میں رشوت خوری اور لوٹ مار سے باز رہیں جو کہ ان کا وتیرہ ہے۔

لیکن حکومت کی جانب سے بدقسمتی سے کسانوں کو یوں گولی دی گئی ہے کہ اندازہ لگایا جا رہا ہے، پھر امداد کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ گندم کی فصل کی تباہی پر سچی بات تو یہ ہے کہ کسان اکیلا ہی نہیں بلکہ پورے شراکت دار بری طرح متاثر ہو گئے ہیں، زرعی علاقوں خاص طورجنوبی پنجاب جوکہ گندم کی گڑھ ہے، وہاں اس سال کسان اور عام آدمی کی زندگی میں آنیوالی مشکلات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ لاکھوں خاندان گندم کی تباہی کے ساتھ بدترین مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں، ان کے خاندان اور بچوں کی روزی چلی گئی ہے۔

یہاں کسان کے ساتھ اس کے شراکت دار غریب طبقہ کے لئے بھی پیکج دینے کی ضرورت ہے، ان خاندانوں کو حکومت بچوں کی تعداد کے تناسب سے گندم فراہم کرے، بصورت دیگر کسان کو امداد دینے سے بحران نہیں ٹلے گا۔ ادھر کاروباری طبقہ سے کسانوں کی بڑی تعداد میں کھاد بیج اور سپرے کی شکل میں قرضہ لیا ہوتا ہے، اس معاملے میں حکومت کوئی ایسا اصول وضع کرے جس سے کسان کو ریلیف مل سکے مطلب کاروباری لوگ اپنا قرضہ اگلی فصلوں پر قسطوں میں وصول کریں۔

یہاں اس بات کی بھی ضرورت تھی وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار ان اضلاع کا دورہ کرتے جہاں گندم کی فصل بارشوں اورژالہ باری سے متاثر ہوئی، ان دوروں میں کسانوں کے وفود سے ملنے کے علاوہ ضلعی انتظامیہ، زراعت اور دیگر متعلقہ اداروں سے افسران سے بریفینگ لیتے۔ اس کے ساتھ فیصلہ کرتے کہ کتنی امداد، کتنی جلدی کرنی ہے اور اگلی فصلوں کی بروقت کاشت کے لئے زرعی بنک سمیت دیگر کون سے مالیاتی ادارے کسانوں کو بلاسود قرضے دیں گے لیکن ابھی تک ان کی طرف سے ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے۔

ہمارے خیال میں عثمان بزدار کسانوں کے اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں ناکہ لہور بیٹھ کر فوٹو سیشن سے وقت پاس کریں۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان بھی حالیہ بارشوں اور ژالہ باری کے بعد گندم کی فصل کی تباہی کے بعد کسانوں اور ان کے شراکت داروں کو ریلیف فراہم کرنے کا وفاقی حکومت کی طرف سے فوری اعلان کریں۔ ادھر جنوبی پنجاب کے سیاستدان جوکہ اقتدار کا آخری قطرہ کو چوسنے کے لئے لاہور اور اسلام آباد میں موجود ہیں اور ان میں سے اکثریت کے پیچھے نیب لگی ہوئی ہے، وہ کسانوں کی دلجوئی کے لئے واپس اپنے حلقوں میں آئیں اور ان کو درپیش چلینج سے نکالنے کے لئے ان کے ساتھ کھڑے ہوں، کسانوں کے لئے امداد کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے ان کی آواز میں آواز ملائیں، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اور کسان اگلی کپاس کی فصل کو کاشت کرنے سے رہ جائے۔ اور اس کو ایک اور بحران کا سامنا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •