سٹیل مل کے ملازمین، چیف جسٹس اور امریکی کاروباری شخص راجر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سٹیل مل کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین جس ذہنی، جسمانی و مالی اذیت سے دوچار ہیں۔ شاید ہی کسی ادارے کے ملازمین کو ایسے مسائل درپیش ہوں۔ میری رہائش ادارے کی رہائشی کالونی میں ہے۔ اور ادارہ قریباً پانچ سالہ بندش کے بعد جن مسائل کا شکار ہے۔ اس کے بد ترین ہولناک اثرات کے شکار ادارے کے حاضر سروس اور خاص طور پر ریٹائرڈ ملازمین ہیں۔ سٹیل مل اپنی نوعیت کا واحد فولاد ساز ادارہ ہے۔ ادارے اور اس کے ملازمین کی اہمیت سے انکار صنعت فولاد سازی سے نا شناس افراد ہی کر سکتے ہیں۔

چند ماہ قبل پلانٹ سے ایڈمن بلڈنگ کی طرف جانے کا ارادہ کیا، تو دیکھا کہ چیئرمین بورڈ پاکستان سٹیل اور افسران بالا چند غیر ملکیوں کے ساتھ پلانٹ کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں۔ پلانٹ کا یہ دورہ غیر متوقع تھا۔ بجلی پلانٹ پر موجود نہ تھی۔ بہرحال افسران بالا مہمان حضرات کو بلاسٹ فرنس 1 کا دورہ کرانے لے گئے۔ چیئرمین بورڈ فون پر گفتگو کے بعد میرے پہلو میں آ کر گویا ہوئے: ”بلاسٹ فرنس 2 کہاں ہے؟“ جواب سننے کے بعد پوچھا: ”اور تیسری فرنیس کی جگہ کہاں ہے؟“ ان مختصر سوال جواب کے بعد سب ڈائریکٹر صاحب اور امریکی مہمان کی گفتگو سننے میں منہمک ہو گئے۔

فرنس 1 کے دورے کے بعد فرنس 2 کی طرف سب روانہ ہوئے۔ مہمانوں میں سے ایک مقامی صاحب نے مختصر تعارف کے بعد پوچھا: ”کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ امریکی کون ہے؟“ جواب نفی میں پا کر انہوں نے بتایا کہ ان کا نام راجر ہے۔ بہت بڑی کاروباری شخصیت ہیں۔

دورے کے اختتام پر راجر صاحب نے فرمایا: ”سٹیل مل ملازمین ایک اثاثہ ہیں۔ ملازمین کی مہارت کے بغیر مل کی بحالی نا ممکن ہے۔ ہم کو مل کی بحالی کے لیے ان ملازمین کی ضرورت ہو گی۔ ساتھ ہی کہا کہ بحالی کس طرح ہو گی۔ اس حوالے سے سفارشات تیار کر کے ہمیں فراہم کی جائیں۔“ راجر صاحب کی ملازمین کے بارے میں رائے سن کر ذہن فوری طور پر چیف جسٹس عدالت عظمی کی جانب گیا۔ اور ملازمین سٹیل مل کے بارے میں ان کے وہ جملے یاد آئے۔ جو ہفتہ دو ہفتہ پہلے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ان سے سر زد ہوئے تھے۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سٹیل مل کے تمام ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کر دیا جائے۔ یہی سوچتے رہے کہ چیف جسٹس صاحب جن کا کام فوری عدل و انصاف فراہم کرنا ہے۔ ملازمین کے بارے میں درست رائے رکھتے ہیں یا ایک بڑا کاروباری امریکی شخص راجر۔

کورونائی وبا کی وجہ سے نجی و سرکاری اداروں کی جزوی بندش کا حکم نامہ جاری ہوا، تو افسران بالا کی طرف سے سوال ہوا کہ کیا آپ چھے سات افراد سے شفٹ چلا سکتے ہیں؟ رفقائے کار کے تحفظ کی خاطر آمادگی ظاہر کر دی۔ 19 مارچ سے بلا ناغہ مجھ سمیت دیگر چار افراد انتہائی نا مساعد حالات میں متواتر دن اور رات کی ڈیوٹیز تا حال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور جو ملازمین ان حالات میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے بھی ادارے کی طرف سے کسی مزید مالی سہولت یا چھٹیوں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

ماہ رمضان میں اطلاع آئی کہ سٹیل مل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے جناب چیف جسٹس کے ارشاد عالیہ کی روشنی میں ایک سمری بنا کر اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھیجی ہے۔ جس میں تمام ملازمین کی بر طرفی کی سفارش ہے۔ بروز تین جون اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملازمین کی برطرفی کی منظوری دے دی۔ اب یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

جناب چیف جسٹس کے ملازمین کی برخاستگی کے بارے میں کلمات اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ملازمین کو بر طرف کرنے کے فیصلے کے بعد ملازمین حکومت وقت اور اہم ملکی اداروں کے سربراہوں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کون لوگ ہو تسی؟

وفاقی کابینہ جس کی سربراہی بظاہر عمران خان کرتے ہیں۔ اس میں اسد عمر بھی شامل ہیں۔ اور ایک سے زائد بار وزیر اعظم اپنے رفقائے کار صدر مملکت عارف علوی اور اسد عمر کے ساتھ عام انتخابات سے قبل سٹیل مل اور اس کے ملازمین کی حالت زار دیکھنے کے لیے تشریف لائے۔ اور سٹیل مل کی بحالی اور ملازمین کی فلاح و بہبود کے سنہری خواب حسب عادت و معمول دکھا کر رخصت ہو لیے۔ وزیر اعظم اور ان کے رفقائے کار کی ان تمام اچھی اچھی تقاریر کی ویڈیوز موجود ہیں۔ جو انہوں نے دورہ سٹیل مل کے دوران کیں۔

چیف جسٹس صاحب کو تو کچھ عرصے بعد سٹیل مل کی اہمیت کا احساس ہو گیا۔ اور انہوں نے فرمایا: ”سٹیل مل چل پڑے تو جہاز اور ٹینک بھی یہاں بن سکتے ہیں۔“ شاید وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جب ملازمین کی برطرفی سمری منظوری کے لیے پیش کی جائے، تو وزیر اعظم اور جناب اسد عمر صاحب کو اپنی اچھی اچھی تقریریں اور وعدے یاد آ جائیں۔ اور وہ سٹیل مل کی بحالی اور ملازمین کی حالت زار کے حوالے سے سنجیدہ ہوں۔ اور برطرفی کے کمیٹی کے فیصلے کی منظوری نہ دیں۔

اگر حکومت وقت نے ملازمین سٹیل مل کی بر طرفی کا حتمی فیصلہ کر ہی لیا ہے، تو ملازمین کو کم از کم واجبات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔ اور گولڈن شیک ہینڈ کی رقم موجودہ مہنگائی اور ملازمین جن کی تنخواہیں گزشتہ دس سال سے نہیں بڑھی ہیں، کو مد نظر رکھتے ہوئے دی جائے۔ تاکہ ملازمین اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلہ کرنے کی حالت میں ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *