رہبران قوم جب ”سیاستدان“ بن جائیں۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وجود میں آنے سے بہت پہلے سے لے کر 1958 تک کوئی رہنما ایسا نہیں تھا جو ”سیاستدان“ تھا۔ ہر رہنما سیدھا سادہ، سچا، مخلص اور نہایت دیانتدار رہبر رہنما کے علاوہ کسی بھی قسم کی ”سیاسی“ بیماری کا شکار نہیں تھا۔ ہر رہنما کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہوا کرتا تھا کہ وہ اپنا تن من دھن، اپنی قوم پر لٹا کر اگر اسے دنیا میں سرخ روئی سے ہمکنار کر سکتا ہے تو گویا اس نے دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرلی۔

جب 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا تو پاکستان میں کوئی ایک رہنما بھی ایسا نہیں تھا جس نے اپنی ذاتی جمع پونجی تک پاکستان اور پاکستانی قوم پر نچھاور نہ کردی ہو۔ کسی نے اپنی جائیدادیں اور کوٹھیاں سرکاری عمارتوں اور سفارت خانوں میں تبدیل کر دیں اور کسی نے پاکستان کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تک اپنے ذاتی کھاتوں سے ادا کرنے کا ایک ایسا فریضہ انجام دیا جو اس پر واجب بھی نہیں تھا۔

بر صغیر انڈو پاک انگریزوں کے دور میں مختلف نوابین کی زیر نگرانی دی ہوئی جاگیروں اور ریاستوں پر مشتمل تھا اور قانوناً نہ تو پاکستان ان ریاستوں کو بالجبر چھین کر پاکستان میں ضم کرنے کا کوئی قانونی جواز رکھتا تھا اور نہ ہی ایسا کچھ ہندوستان کر سکتا تھا البتہ اگر کوئی ریاست از خود کسی کے ساتھ الحاق کرنا چاہتی تو حکومت برطانیہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ جس مغربی پاکستان کی پٹی پر اس وقت پاکستان سمٹ کر رہ گیا ہے اس کا آدھے سے زیادہ رقبہ نوابوں کے زیر نگیں تھا اور اگر وہ چاہتے تو حکومت برطانیہ سے قانونی تحفظ حاصل کر سکتے تھے لیکن پاکستان کے نقشے میں جو جو ریاستیں تھیں ان سب نے فوری اور غیر مشروط طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کر کے ایثار و قربانی کی اعلیٰ مثالیں رقم کیں۔

یہاں تک کی تاریخ میں کوئی ایک رہنما بھی ایسا نہیں تھا جس میں ذرہ برابر بھی خوئے ”سیاستدانی“ موجود ہو۔ بے شک یہ سلسلہ ایک طویل عرصے تک جاری رہا اور اس سلسلے کی آخری کڑی نواب زادہ نصراللہ خاں کو کہا جا سکتا ہے جنھوں نے پاکستان کی خاطر اپنی ذاتی جائیداد اور دولت کی قربانی تو ضرور دی ہوگی لیکن پاکستان کا ایک دھیلا بھی اپنی ذات پر استعمال نہیں کیا ہوگا۔

اس بات کا دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا کہ اب کوئی ایک رہنما بھی ایسا نہیں رہ گیا جو اب تک صرف ”رہنما“ ہو لیکن اب ”سیاستدانوں“ کی اتنی زیادہ کثرت ہو چکی ہے کہ ان کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں رہ گیا۔ اب ہر رہنما، قوم کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرنے کے علاوہ کچھ اور کرتا نظر ہی نہیں آتا۔ جھوٹ کا یہ عالم ہو گیا ہے کہ مسند اقتدار پر آنے سے قبل جو مرضی آئے وہ منھ سے پھوڑ دینے کے بعد اقتدار میں آتے ہی اپنے ہر وعدے اور دعوے سے یوں پھر جاتا ہے کہ توتا چشم توتے بھی اپنی آنکھیں پھوڑ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

1958 کے فوجی انقلاب کے بعد کوئی ایک حکومت بھی ایسی قائم نہیں ہو سکی جو عوام سے کیے گئے وعدوں پر پوری اتری ہو۔ حکومتیں سویلینوں کی قائم ہوئی ہوں یا افواج پاکستان نے تختہ اقتدار پر خود ہی براجمان ہونے کا شوق پورا کرنے کی ٹھان لی ہو، اقتدار میں آنے سے قبل قوم سے پہلے خطاب میں جن جن دعوؤں کے ساتھ مسند اقتدار پر بیٹھیں، اس پر کسی ایک حاکم نے بھی عمل نہیں کیا۔ ہر آنے والی سول اور عسکری حکومت نے مہنگائی، بد امنی اور کرپشن ختم کرنے کا وعدہ اور دعویٰ تو ضرور کیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد ان ہی سے گٹھ جوڑ (این آر او) کیا گیا۔ مہنگائی کے جن کو کوئی ایک حکمران بھی بوتل میں بند نہ کر سکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور بدعنوانی مسلسل عروج پاتی گئی اور ہر دور پہلے دور سے بد سے بدتر ہوتا چلا گیا۔

2018 سے پہلے پہلے جتنی حکومتیں بھی قائم ہوئیں بے شک سب کی سب جھوٹ اور مکار ہی ثابت ہوئیں لیکن یہ ضرور ہوا کہ ان کے وعدوں اور دعوؤں میں سے کچھ نہ کچھ ضرور پورے ہوتے نظر آئے۔ 2018 کے ”سلیکشن“ کے نتیجے میں جو حکومت تشکیل پائی ہے اس لحاظ سے تاریخ میں ایک بد ترین مقام رکھتی ہے کہ یہ اب تک اپنے کسی ایک وعدے یا دعوے کو پورا نہیں کر سکی بلکہ اس نے جتنے بھی دعوے اور وعدے قوم سے کیے ان سب کے بر خلاف اقدامات اٹھا کر قوم و ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکر کھڑا کر دیا ہے۔

اگر اس کے کیے گئے دعوؤں اور وعدوں کا شمار کر کے یوٹرنوں کو بیان کرنا شروع کر دیا جائے تو کالم، کالم سے بڑھ کر داستان کی صورت اختیار کرجائے۔ مختصر طریقے سے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ 2018 سے قبل کی تمام حکومتوں کے سارے جھوٹ کو اگر سامنے رکھا جائے تو وہ موجودہ حکومت کے جھوٹ کے پہاڑ کے سامنے رائی کا دانہ بھی نہ کہلا سکے۔

شکایت یہ نہیں کہ جھوٹ کی ہر حد پھلانگ دی گئی ہے، گلہ یہ ہے کہ اتنے سفید جھوٹوں اور جھوٹ کے نتیجے میں پاکستان کو ہر لحاظ سے پہنچنے والے نقصانات پر حاکم وقت سمیت کسی وزیر مشیر کے چہرے پر کسی بھی قسم کی کوئی شرمندگی نظر نہیں آتی۔ بے حسی کی یہ وہ حد ہے جہاں سے واپسی کے سفر کی کوئی امید رکھنا خام خیالی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ لگتا ہے کہ بات انسانی دسترس سے باہر کی ہو چکی ہے۔ اللہ ہی کوئی ہدایت دے تو دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply