لکھنا لکھانا کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکھا اس لیے جاتا ہے کہ پڑھا جائے، پڑھا اس لیے جاتا ہے کہ سمجھا جائے، سمجھا اس لیے جاتا ہے کہ سمجھایا جائے، سمجھایا اس لیے جاتا ہے کہ جذباتی ردعمل کی بجائے عقلی استدلال کا راستہ اختیار کیا جائے، یہ راستہ اس لیے اختیار کیا جاتا ہے کہ رویوں میں اعتدال آئے اور اعتدال ہی وہ صفت ہے جو بہت سے مسائل کے حل میں ممد ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں پرنٹ اور آن لائن اخبارات کی فہرست پر نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں رجوع کیے جانے کے قابل اردو، انگریزی اور علاقائی زبانوں میں پچاس کے قریب اخبارات ہیں، ان میں مذہبی اخبارات کی تعداد دس سے کم ہے۔ اگر ہر اخبار میں مضامین، کالم، تجزیے لکھنے والوں کی اوسط تعداد دس لگائی جائے تو لکھنے والے پانچ سو سے بمشکل ہی زائد ہوں گے۔ ان میں تجربے، علم یا الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہونے کے سبب معروف ہونے والوں کی تعداد 25 یا تیس ہوگی جن میں شاید آدھے یا ان سے کم مقبول ہوں (بہت حد تک سنے جانے کی خاطر اور کسی حد تک پڑھے جانے کے لیے بھی)۔

اگر اخبارات کی تعداد اشاعت کا ملا جلا اندازہہ پچیس لاکھ لگایا جائے، جن میں سے مضامین، تجزیے اور کالم پڑھنے والے لوگ پانچ فیصد ہوں تو معروف و مقبول پچیس کے علاوہ باقی پونے پانچ سو لکھنے والوں کے مضامین سوا لاکھ لوگ پڑھتے ہوں گے ۔ دائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاست کا رجحان رکھنے والے اور سیکیولر، جمہوری طرز فکر کے لکھاریوں کو پڑھنے اور سمجھنے والے قارئین کی تعداد اگر برابر براپر بھی لگائی جائے تو یہ بنیں گے تقریباً بیالیس بیالیس ہزار افراد، پھر ان میں سے اگر ارد گرد کے لوگوں کو اپنے پسندیدہ لکھنے والے /والوں سے ہم آہنگ اپنا موقف سمجھانے والوں کی تعداد ایک تہائی رکھی جائے تب یہ بھی تقریباً بیالیس ہزار بنتے ہیں۔ فرض کر لیتے ہیں کہ یہ شدومد سے دس دس افراد کو اپنا ہم خیال بنا لیتے ہیں تو ایسے لوگوں کی تعداد سوا چار لاکھ ہو جائے گی۔

اس کے برعکس ایک سیاستدان چاہے وہ کسی بھی قبیل کا کیوں نہ ہو اپنی ایک تقریر سے دسیوں ہزاروں بلکہ لاکھوں کو متاثر کر سکتا ہے کیونکہ ہمارے جیسے ملکوں میں عام لوگوں کے لیے سیاسی تقاریر عقلی استدلال کی بجائے جذباتی دوہراہٹوں (Rhetorics) پر مبنی ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ الیکٹرونک میڈیا پر مقبول ہونے والے اکثر صحافیوں اور لکھنے والوں نے بھی یہی وتیرہ اپنا لیا ہے۔ حب الوطنی، قوم کا درد، قومی ترقی، قانون کی بالا دستی کے سے الفاظ سن سن کر اب لوگوں کے دل اوبھنے لگے ہیں کیونکہ الیکٹرونک میڈیا جو بالخصوص سرمایہ دارانہ معیشت کا ’بھونپو‘ ہے، اس میں سے الیکٹرونک صحافیوں /تجزیہ نگاروں کو خاطر خواہ حصہ ملنے لگا ہے، جو ظاہر ہے ان کا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جس طرح اشتہارات دینے والی کمپنیوں کا اور چینل کے مالکان کا، لیکن ان کی اپنی زندگی پیسے کی ریل پیل سے ویسے ہی بننے لگی ہے جیسے کہ سیاستدانوں کی جس میں ”جس تن لگیاں سو تن جانے“ کی سی نہ تو گہرائی ہوتی ہے اور نہ ہی ایسے حالات میں کہی جانے والی ایسی باتوں میں گیرائی کا عنصر مستحکم ہوتا ہے۔

دہراہٹوں اور جذباتی گفتگو کرنے والوں کو تو نہ جانے کیا ملتا ہوگا لیکن ان اخبارات جنگ، ایکسپریس، نوائے وقت میں چھپنے والے اردو مضامین کو پڑھنے والے پانچ چھ ہزار لوگوں میں سے آدھے اس لیے آدھ میں چھوڑ دیتے ہوں گے کہ وہ اپنے پسندیدہ تجزیہ نگار کی کہی یہی باتیں ٹی وی اور انٹرنیٹ پر نشر کردہ پروگرام دیکھنے اور سننے والے ہزاروں یا شاید لاکھوں لوگوں کے ساتھ پہلے ہی دیکھ سن چکے ہوتے ہیں یوں الیکٹرونک میڈیا ہی وہ وسیلہ رہ جاتا ہے جو لوگوں کی سوچ کا رخ متعین کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن اس میں بھی ”ٹاک شوز“ تفریح و تفنن کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

لکھے کو پڑھنے کی خاطر ظاہر ہے پہلے تو تعلیم یافتہ ہونا چاہیے اور پھر سیاسی طور پر باعلم بھی ہونا چاہیے، یہ دونوں ہوں بھی تب بھی آٹے دال اور ان سے بڑھ کر اشیائے صرف کے حصول کی کوششوں نے لوگوں کو اس قدر مصروف کر دیا ہے کہ وہ شام کو جسمانی طور پر اور بیدار ہو کر ذہنی طور پر نڈھال ہوئے ہوتے ہیں، مستزاد یہ کہ کسی کا کالم، تجزیہ یا مضمون بھی پڑھنا پڑ جائے، سمجھنا پڑ جائے پھر سمجھانا پڑھ جائے اور یہ آس بھی رکھنی پڑے کی سمجھنے والا آگے بھی کسی کو سمجھائے گا۔

ہمارے عوام کو ایسے سیاستدان چاہئیں جو ”ماورائے آئین“ کو ”ماروائے آئین“ کہتے ہوں اور ایسے علامہ چاہئیں جو سلیم صافی کو انٹرویو دیتے ہوئے علامہ اقبال کا زبان زد عام شعر ”نیل کے ساحل سے لے کر۔ ۔ ۔“ ہی بھول جائیں جو بیچارے صافی کو یاد دلانا پڑے۔ لوگوں کی اکثریت کو لکھنے لکھانے والوں کی لکھی باتوں سے غرض نہیں ہے ویسے بھی سبھی لوگ ایک تو جلدی میں ہیں، دوسرے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں، تیسرے ان کی خواہش ہے کہ سارے مسئلے جس قدر جلدی ممکن ہو، حل ہو جائیں۔

تو کیا ایسے میں لکھنا چھوڑ دیا جائے؟ ہونا تو ایسے ہی چاہیے لیکن عادت، خواہش اور امید کا کیا کیا جائے کہ ہم لکھنے والے اکثر یہی سوچتے ہیں کہ شاید لوگوں کے دل میں ہماری بات اتر جائے کوئی عمل جاریہ شروع ہو جائے۔ شاید لوگ جذباتیت سے نکل کر حقائق کی گنجھلک، دشواراور نسبتاً تاریک گھاٹی میں اپنی سوچ کے چراغ جلا کر اس میں ہی اچھائی، بہتری اور ترقی کی راہ ڈھونڈنے کی جانب مائل ہو جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •