گلگت بلتستان کے انضمام کی کاغذی کارروائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنائے جانے پر بحث ہے۔ بعضوں کے نزدیک یہ بس ایک گپ ہے اور بعض سمجھتے ہیں کہ فیصلہ ہو چکا ہے۔ بعضوں کو مارے خوشی کے یقین نہیں آ رہا اور بعض معترض ہیں کہ فیصلہ جہاں ہونا چاہیے تھا وہاں نہیں ہوا۔ جو بھی ہو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے ذمہ داران یہ ٹھان چکے ہیں کہ اگر آگے نہیں بڑھ سکتے تو پیچھے بھی نہیں ہٹیں گے۔

ایسا لگتا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ گزشتہ سات دہائیوں سے ایک ہی موقف پر ڈٹے رہنے سے انھیں نقصان ہوا ہے اور اب جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ہر لحاظ سے انڈین یونین میں ضم کر لیا ہے تو یہ وقت ہے کہ وہ بھی گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنا کر باقی فوائد کے ساتھ ساتھ چین پاکستان معاشی راہداری کے ثمرات سے مستفید ہوں۔

یہ فیصلہ بنیادی طور پر پاکستانی ریاست کے ذمہ داران کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کو جوں کا توں رکھنے یا پاکستان میں ضم کرنے سے مسئلہ کشمیر کو خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ان کی نظر سے دیکھیں تو گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنانے کے فائدے زیادہ ہیں اور نقصانات کم۔ فائدہ فوری ہے اور نقصان جب ہوگا تب دیکھا جائے گا۔ اور فائدہ ایسا ہے کہ جس سے نقصان کو روکا یا کم سے کم کیا جا سکے گا۔

یہ فیصلہ ایک اور طرف اشارہ بھی کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کی ٹرانسفارمیشن اب ریورس (reverse) نہیں ہو سکتی۔ جو ہو چکا وہی آج کی حقیقت ہے جو ہونا چاہیے تھا یا ہو سکتا تھا وہ بس خواب ہے۔ یہ فیصلہ یہ بھی بتاتا ہے کہ پیسیو سیٹلمنٹ (passive settlement) سے جو کشمیر پاکستان کو مل گیا وہ پاکستان کا ہے اور جو بھارت کو مل گیا اس پر بھارت کا قبضہ رہے گا۔ اگر کشمیر کی انفرادی حثیت ختم کرنے سے بھارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تو پاکستان کو کراچی معاہدے سمیت آزاد حکومت کے ساتھ کیے گئے کسی بھی معاہدے کو ختم کرنے سے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچے گا۔

لیکن یہ فیصلہ جو مسئلہ کشمیر کی مستقل سیٹلمنٹ کے مترادف ہے کشمیر کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کردے گا۔ لائن آف کنٹرول کے انٹرنیشنل بارڈر بنتے ہی کشمیر کے اصل تشخص کو بحال کرنے یا کشمیریوں کی راے شماری کے سارے امکانات ختم ہو جائیں گے۔ اور یوں کشمیر ہمیشہ کے لیے گلگت بلتستان، جموں کشمیر اور آزاد کشمیر کے مختلف ٹکروں میں تحلیل ہو جائے گا۔ بالکل ایسے ہی جیسے کردستان کے علاقے ترکی شام اور عراق میں منقسم ہیں۔

ہاں یہ ممکن ہے کہ گلگت بلتستان کے پاکستان میں باقاعدہ ضم ہونے سے جہاں پاکستان، چین اور گلگت بلتستان کے خواص کو فائدہ ہوگا وہیں شاید کچھ فائدہ یہاں کی عوام کو بھی ہو جائے۔ جہاں ایک طرف خواص کے لیے سرمایہ داری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے وہیں عوام کے لیے روزگار کا کوئی سلسلہ بھی شروع ہو سکتا اورساتھ ہی ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کا پاکستان میں شامل ہونے کا مطالبہ بھی پورا ہو جائے۔ خواہ مستقبل میں اس کے جو بھی نتائج نکلیں۔

گلگت بلتستان کے پاکستان میں انضمام سے نقصان یہاں کے قوم پرستوں کو ہوگا جنھیں آج بھی عوامی حمایت حاصل نہیں اور جو آنے والے چند سالوں میں مزید غیر مقبول ہو جائیں گے۔ شاید یہ وقت وہ اپنی حکمت عملی کو درست کرنے اور قابل حصول اہداف طے کرنے میں صرف کریں یا پھر نیو نارمل کے ساتھ نئی سیاست شروع کریں۔

آزاد کشمیر میں صورت دلچسپ ہے۔ یہاں جہاں ایک طرف قوم پرستوں کو نقصان ہوگا وہیں یہاں کی سابق حکمران جماعت مسلم کانفرنس بھی اپنی بچی کچھی ساکھ کھو بیٹھے گی۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر کے کشمیری قوم پرست تقسیم کشمیر کے خلاف اس لیے ہیں کہ وہ کشمیر کو ایک خودمختار ریاست بنانا چاہتے ہیں جبکہ مسلم کانفرنس گلگت بلتستان کے انضمام کے خلاف اس لیے ہے کہ وہ پورے جموں وکشمیر کو آزاد کروا کر پاکستان میں شامل کرانا چاہتی ہے۔

آزاد کشمیر میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نون کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گلگت بلتستان جیسا ہے ویسا رہے یا پاکستان میں ضم ہو جائے۔ انھیوں تو اس بات سے بھی فرق نہیں پڑے گا کہ آزاد کشمیر ایسے ہی رہے یا پاکستان کا آئینی حصؔہ بن جائے۔ ہاں شاید انھیں اس بات سے فرق پڑے کہ آزاد کشمیر کو صوبہ بنایا جائے یا میرپور ڈویژن کو پنجاب میں شامل کر دیا جائے اور مظفرآباد اور پونچھ کو خیبر پختونخوا میں۔

گلگت بلتستان ہو یا آزاد کشمیر اگر آپ اس خطے کی تاریخی تبدیلیوں (جیسا کہ گلگت سے کشمیر کے سٹیٹ سبجیکٹ رول کو ختم کرنا) اور یہاں کے انفراسڑاکچر (جیسا کہ یہاں بننے والے ڈیمز وغیرہ) کو دیکھیں تو آپ با آسانی یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اس خطے اور پاکستان کے کسی دوسرے علاقے میں کوئی فرق نہیں یعنی یہ خطہ پہلے سے ہی عملی طور پر پاکستان کا حصہ ہے۔ اب صرف کاغذی طور پر ایسا کرنا باقی ہے۔ لیکن یہ کاغذی کارروائی اتنی بے ضرر نہیں جتنی بے ضرر نظر آتی ہے۔

عمران خوشحال فری لانس جرنلسٹ اور پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔ رابطے کے لیے ان کی ویب سائیٹ imrankhushal.com وزٹ کیجیئے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خوشحال

عمران خوشحال PORTMYFOLIO.COM کے بانی اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئیجیز کے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشن میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔ وہ ڈیلی ٹائمیز سمیت متعدد پاکستانی اخبارات اور ویب سائیٹس کے لیے لکھتے ہیں۔

imran-khushaal-raja has 5 posts and counting.See all posts by imran-khushaal-raja