واویلا مچانے کی ضرورت نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنی صحافتی عمر کے کئی برس 1980 کی دہائی سے میں نے خارجہ امور کے بارے میں رپورٹنگ کی نذر کئے ہیں۔ پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات اس حوالے سے اہم ترین رہے۔ پیشہ وارانہ فرائض نبھانے کے لئے بھارت کے بے تحاشہ سفر بھی کئے ہیں۔ دلی کے علاوہ وہاں کے کئی اور شہروں میں بھی خجل خوار ہوتا رہا۔ کئی برس کی تگ ودو کے بعد بالآخر دریافت یہ کیا کہ دُنیا بھر کی اشرافیہ کی طرح ہمارے حکمران بھی ’’بڑا جانور‘‘ ہیں۔ ان کی مرضی ’’بچہ دیں یا انڈہ‘‘۔

2014 سے حکمران اشرافیہ پریشان تھی کہ ہمارے ازلی دشمن کے ساتھ نواز حکومت دوستانہ تعلقات استوار کرنے کو مری جا رہی ہے۔ وجہ اس کی یہ بتائی گئی کہ شریف خاندان محض اپنے کاروبار کو قومی مفادات بالائے طاق رکھتے ہوئے فروغ دینا چاہ رہا ہے۔ بھارت کے مبینہ طور پر تھلے لگنے کا آغاز نواز شریف کے دوسرے دورِ اقتدار میں ہوا تھا۔ ان دنوں کے بھارتی وزیر اعظم-اٹل بہاری واجپائی کو بس میں بیٹھ کر لاہور آنے کی دعوت دی گئی۔ موصوف اس شہر میں قیام کے دوران ایک عشائیے میں شرکت کے لئے جا رہے تھے تو جماعت اسلامی نے احتجاجی مظاہرے کے ذریعے ان کا راستہ روکنا چاہا۔ بے دریغ پولیس تشدد کے استعمال سے سڑکیں کھولی گئیں۔ بعدازاں کارگل بھی ہو گیا۔ اس کا فائدہ اٹھانے کے بجائے نواز شریف 4 جولائی 1999 کے روز واشنگٹن چلے گئے۔ امریکہ کے یومِ آزادی کے دن صدر کلنٹن کو مجبور کیا کہ وہ ان سے ملاقات کا وقت نکالے۔ ملاقات ہوگئی تو کارگل کے محاذ پر جیتی بازی کو مذکرات کی میز پر ہار دیا۔ اس کی وجہ سے سیاسی اور عسکری قیادت کے مابین جو بدگمانیاں اُبھریں ان کا انجام جنرل مشرف کی جانب سے  12 اکتوبر 1999 کی رات اٹھائے قدم سے ہمارے سامنے آگیا۔

کارگل کے ’’ذمہ دار‘‘ قرار پائے جنرل مشرف کو لیکن واجپائی ہی نے آگرہ آنے کی دعوت دی۔ دونوں کے مابین ہوئے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔ بھارتی پارلیمان پر ہوئے ایک حملے کی وجہ سے بھارتی افواج بلکہ 2002 کا پورا سال پاکستان سے ملحق سرحد پرحالتِ جنگ میں تعینات رہیں۔ بالآخر 2003 کے آغاز میں سیز فائر سمجھوتہ طے پا گیا۔

بات مگر سیزفائر تک ہی محدود نہ رہی۔ دونوں ممالک کے مابین خفیہ مذاکرات کا ایک طویل سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ کئی ’’باخبر‘‘ حضرات دعویٰ کرتے ہیں کہ مذکورہ مذاکرات کی بدولت مسئلہ کشمیر کا معقول حل بھی ڈھونڈ لیا گیا تھا۔ پاکستان میں لیکن مشرف حکومت کے خلاف عدلیہ بحالی والی تحریک شروع ہوگئی۔ بعدازاں 2008 آ گیا۔ نئے انتخابات کے بعد جنرل مشرف کو استعفیٰ دینا پڑا۔ آصف علی زرداری ان کی جگہ ایوان صدر میں براجمان ہوئے۔ ان کے اقتدار سنبھالنے کے چند ہی دن بعد مگر ’’ممبئی‘‘ ہوگیا۔ پاکستان اور بھارت باہمی کشیدگی کے ماحول میں واپس لوٹ گئے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت انہیں ’’نارمل‘‘ بنانے کی کاوش میں اُلجھی نظر نہیںا ٓئی۔ ویسے بھی افغانستان اور اس سے جڑی دہشت گردی نے اسے پریشان کر رکھا تھا۔

2013 کے انتخابات کے بعد مگر نواز شریف تیسری بار پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔ بھارت میں بھی نریندر مودی برسرِ اقتدار آگیا۔ اسلام آباد میں امید بندھی کہ واجپائی کے جانشین سے نواز شریف معاہدہ لاہور کے تحت طے ہوئے بندوبست کا احیاء کروا لیں گے۔ بات مگر بنی نہیں۔ ہمارے محبانِ وطن کو بلکہ شکوہ یہ رہا کہ کلبھوشن جیسے دہشت گرد جاسوس کی رنگے ہاتھوں گرفتاری کے باوجود نواز شریف سجن جندل جیسے بھارتی صنعت کاروں کو پاکستان بلا کر اپنے کاروباری مفادات کی نگہبانی کر رہے ہیں۔ پانامہ کی وجہ سے بالآخر وہ وزارت عظمیٰ کے منصب سے فارغ بھی ہو گئے۔ 2018 کے انتخابات نے عمران خان صاحب کو یہ منصب عطا کیا۔ ’’وقت‘‘ گویا بدل گیا اور انگریزی کا ایک محاورہ ہمیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وقت کے ساتھ ترجیحات بھی بدل جایا کرتی ہیں۔

بھارت کے ساتھ مخاصمانہ ماحول برقرار رکھنا عمران حکومت کی ترجیح نہیں۔ اس کا بنیادی ہدف پاکستان میں کرپشن کا خاتمہ ہے۔ سیاستدانوں کا روپ دھارے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘‘ کو عبرت کے نشان بنانا ہے۔ اس ہدف پر کامل توجہ مرکوز رکھنے کے لئے لازمی ہے کہ بھارت کے ساتھ دوستانہ نہ سہی مگر معمول (نارمل) دِکھتے سفارتی تعلقات بحال ہوں۔ عالمی سیاست کے طاقتور کرداروں کو ویسے بھی یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ جنوبی ایشیا کے دو ازلی دشمن اب ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہوچکے ہیں۔ ان کے مابین آریا پار والی جنگ ہوگئی تو محض جنوبی ایشیا ہی نہیں دُنیا کے دیگر کئی ممالک بھی ایٹمی اثرات کی وجہ سے تباہ وبرباد ہو جائیں گے۔ دونوں ممالک کو لہٰذا خاموش سفارت کاری کے ذریعے صلح صفائی کی تلقین ہوتی ہے۔

پاکستان کے ساتھ اس تناظر میں سفارت کاری مگر ’’خاموش‘‘نہیں رہی۔ FATF نامی ایک آسیب بھی نمودار ہوچکا ہے۔ اس نے ہمیں اپنی گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے۔ اس کی تسلی کے لئے ہم نے گزشتہ برس 9 سے زیادہ قوانین انتہائی عجلت میں پارلیمان سے منظور کروائے تھے۔ وہ اگرچہ ابھی تک ہمیں ’’گرے لسٹ‘‘ سے باہر نکلوانے میں مددگار ثابت نہیں ہوئے۔ FATF سے مذاکرات کا ذمہ عمران حکومت نے لاہور سے منتخب ہوئے جواں سال اور بلندآہنگ حماد اظہر صاحب کے کاندھوں پر ڈال رکھا ہے۔ وہ اب ڈاکٹر حفیظ شیخ کی فراغت کے بعد وزیر خزانہ بھی تعینات ہوگئے ہیں۔ تعلق ان کا بھی لاہور ہی کے ایک کاروباری خاندان سے ہے۔ ان کے بزرگوں کے شریف خاندان سے دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ حماد اظہر صاحب کو لیکن اس خاندان کی مبینہ ’’کرپشن‘‘ ناقابل برداشت محسوس ہوتی ہے۔ ان کی حب الوطنی بھی مشکوک نہیں۔

وزارتِ خزانہ کا منصب سنبھالتے ہی حماد اظہر صاحب نے اعلان کر دیا کہ بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ شریف خاندان کے وفادار اس فیصلے کی بابت طنز کے نشتر برسا رہے ہیں۔ یہ نشتر مگر کارگر ثابت نہیں ہوں گے۔ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ فی الوقت بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے میں پاکستان دُنیا کے سامنے ’’ٹھوس‘‘ پیش قدمی لیتا نظر آئے۔ حماد اظہر کو دورِ حاضر کا ’’طارق فاطمی‘‘ بنانے کی کوششیں ناکام رہیں گی۔ عمران خان صاحب کو بھی ’’مودی کا یار‘‘ پکارا نہیں جا سکتا۔ ان کا کوئی ذاتی کاروبار نہیں ہے۔ اگر اب بھی کرکٹ کھیل رہے ہوتے تو کہانی گھڑی جا سکتی تھی کہ وہ درحقیقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ بحال کروانے کو بے چین ہو رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں سے اب وہ بحال ہو بھی گئے تو عمران خان صاحب کو کوئی ذاتی فائدہ نصیب نہیں ہو گا۔ پاکستان کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے وہ ان میچوں پر تبصروں کے ذریعے بھی ایک دھیلہ نہیں کما سکتے۔

بھارت سے چینی کی فی الفور درآمد اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس دھندے کے مقامی اجارہ داروں کو ان کی اوقات میں لایا جائے۔ وہ باہم مل کر چینی کے من مانے نرخ طے کردیتے ہیں۔ منافع کمانے کی ہوس مگر یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔ سٹہ بازی سے انہیں مزید بڑھایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ذخیرہ ہوئی چینی کو سیاسی دبائو بڑھاتے ہوئے بیرون ملک بھیجنے کا بندوبست یقینی بنایا جاتا ہے۔ ریاستِ پاکستان چینی کی برآمد سے منافع کمانے کی بجائے اسے باہر بھیجنے والوں کو ’’امدادی رقوم‘‘ ادا کرتی ہے۔ تانکہ چینی کا کاروبار چلتا رہے۔ کئی دہائیوں سے چینی کے اجارہ دار ہوئے سیٹھوں پر مبنی مافیا کو اب عمران حکومت نے عبرت کا نشان بنانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ رمضان کی آمد کے قریب یہ اجارہ دار چینی کو ناقابلِ برداشت حد تک گراں بنا سکتے تھے۔ ان کی سازش ناکام بنانے کے لئے بھارت سے چینی کی درآمد عمران حکومت کی درحقیقت پاکستان سے غریب گھرانوں کی بابت فکرمندی کا واضح اظہار ہے۔ اس کے خلاف واویلا مچانے کی ضرورت نہیں۔

دھانسو انگریزی زبان میں لکھے مضامین کے ذریعے ’’ماہرین معیشت‘‘ ہمیں یہ بھی سمجھاتے رہتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت فقط اس صورت میں خوش حال ہوسکتی ہے اگر یہاں سے زیادہ سے زیادہ برآمدات ہوں۔ کپڑے کی صنعت اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ کپڑا تیار کرنے کے لئے مگر کپاس کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں یہ جنس پیدا کرنے والے ہزاروں ایکڑ کئی برسوں سے بتدریج گنے کی کاشت کی جانب موڑ دئیے گئے۔ ناقص بیچ اور موسمیاتی تبدیلیوں نے اس کی فصل کو مزید نقصان پہنچایا۔ اقتدار میں باریاں لینے والی ماضی کی حکومتوں نے اس جانب مگر کبھی توجہ ہی نہیں دی۔ پاکستان میں اس بار کپاس کی فصل تقریباَ تباہ ہوگئی۔ کپڑے کی صنعت کو رواں رکھنے اور اس کے ذریعے ہونے والی برآمدات کی بدولت ڈالروں کے حصول کے لئے ضروری تھا کہ کپاس کی فراہمی کا فوری بندوبست ہو۔ بھارت سے اسی لئے رجوع کیا گیا ہے۔ زمینی راستوں سے چینی کے علاوہ کپاس بھی فوری اور نسبتاَ سستے داموں فراہم ہوجائے گی۔ اس کی بابت واویلا مچانے میں وقت ضائع کیوں کریں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply