بیڈ گورنس، سٹے بازی اور قلمی فالج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے میاں ایک کاروباری آدمی ہیں۔ ہمارے ایک رشتہ دار جو ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ ہیں کل ہمارے گھر آئے۔ وہ آتے ہی اپنا سر تھام کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے آغاز ہی کچھ ناقابل اشاعت گالیوں سے کیا اور فرمایا ”یہ فلاں کا پتر ہے اسے کون بتائے کہ یہ اب وزیراعظم ہے اور اس کا کام حکومت کرنا ہے اور اسے اب حکومت کرنی چاہیے مگر یہ لگاتار صرف ایک چورن بیچ رہا ہے، اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتا ہے، پتا نہیں نشے میں ہوتا ہے، آج ایک بات کرتا ہے کل دوسری بات کرتا ہے اور پھر جواب میں وہی راگنی چھیڑ دیتا ہے جو پچھلے تین سال سے جاری ہے۔

ایک دن اٹھ کر کہتا ہے ہم انڈیا کے ساتھ تجارت کریں گے مارکیٹ ایک دم سے اوپر اٹھ جاتی ہے، ہر چیز کے ریٹ بڑھ جاتے ہیں، دوسرے ہی دن ہوش آتا ہے یا پھر نشہ اتر جاتا ہے تو کہتا ہے انڈیا سے تجارت مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر کیسے ہو سکتی ہے۔ اوئے فلاں فلاں کے پتر تیرا ستیاناس ، تجھے نہیں پتا کہ یہ مسئلہ بہتر سال پرانا ہے تو پہلے کیا بھنگ پینے گیا تھا۔ بیان آتے ہی مارکیٹ ایک دم سے بیٹھ جاتی ہے۔ عجیب چغد آدمی ہے ، مجال ہے جب سے آیا ہے اس نے سکون سے کاروبار کرنے دیا ہو۔

اس کی ان حماقتوں کی وجہ سے ہر طرف سٹے بازی کا راج ہے۔ ابھی کل ایک صاحب مل میں آئے، میرا تعلق ٹیکسٹائل سے ہے، اور مجھے چینی کی پوری ڈلیوری آرڈر بک پکڑا گئے کہ یہ فلاں فلاں چینی کے ہول سیل تاجر ہیں ان کو آپ یہ آرڈر دیتے جائیں، آپ کو پیمنٹ ملتی جائے گی۔ یعنی مل نے چینی شوگر مل سے ڈلیوری کیے بغیر صرف کاغذوں میں بیچی جب کہ وہ وہیں سٹاک رہی اور جب ریٹ بڑھ گئے تو دو نمبر طریقے سے نکال دی۔ اگر مسولہ لاکھ کا ڈلیوری آرڈر ہے تو وہ بیس لاکھ میں نکلا۔

بھئی ہر طرف سٹے اورجوئے کا راج ہے۔ ڈیمانڈ اور سپلائی میں کوئی مطابقت نہیں بلکہ شدید بگاڑ ہے۔ مصنوعی قلت پیدا کر کے چیزیں مہنگی کی جا رہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حکومت کا کام ہے کہ چوکسی سے ریٹ فکس کرے اور مارکیٹ میں استحکام لے کر آئے اگر کہیں کوئی ان سٹیبلٹی پیدا کرے تو ان سٹے بازوں کی کمر توڑے تاکہ تاجر سکون سے کاروبار کر سکے مگر حکومت ہر حماقت کے بعد نشے سے مدہوش اٹھتی ہے اور راگ الاپنا شروع کر دیتی ہے کہ فلاں چور ہے ، فلاں چور ہے اور پچھلی حکومت نے بیڑا غرق کر دیا ہے۔

بس یہ کچھ حکومت کے نام پہ ہو رہا ہے۔ سبزی سے لے کر زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی چیز پہ یہی سٹے بازی چل رہی ہے۔ روزمرہ گھر میں پکنے والی سبزی کو ہی دیکھ لیجیے۔ اب منڈی میں بیٹھے آڑھتی کیا کرتے ہیں،  پورے کا پورا کھیت خرید لیتے ہیں۔ مصنوعی قلت پیدا کر کے جب دل چاہتا ہے ریٹ بڑھا دیتے ہیں۔ جب کہ حکومت کو اس عدم استحکام اور کرپشن کی جڑ کی کوئی خبرہی نہیں ، وہ بس لگاتار ایک ہی بھونپو بجا رہی ہے۔ اسے کون بتائے کہ ابے جا اب تو حکومت کر کے دکھا۔

اب ایک چھوٹی سی مثال لیجیے۔ بیٹے کو نیا موبائل لے کر دینا تھا ، دو دن میں مارکیٹ اوپر نیچے ہوئی۔ ریٹ ایک دم سے دس ہزار بڑھ گیا۔ اب ایسے حالات میں سٹے بازوں اور سٹاکر کی تو چاندی ہے اور حکومت وہ ہے جو گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہی ہے۔ مرغی کے گوشت سے لے کر ضروریات زندگی کی ہر چیز اسی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور تاجر کیا کرے۔ اپنے بال نوچے یا پھر اس حکومت کی ماں بہن ایک کرے۔“

اس کے بعد ناقابل اشاعت گالیوں کا ایک سلسلہ تھا اور ہم ان تمام باتوں کا کیا جواب دیتے ، اس غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام نے تو پورے ملک کو لپیٹ رکھا ہے نہیں پتا کہ حکومت کیا کر رہی ہے اور نہیں پتا کہ اپوزیشن کیا کر رہی ہے۔ بیچ میں وہ کون ہے جو ان کٹھ پتلیوں کو ناچ نچوا رہا ہے مگر اس عدم استحکام سے ہمارے قلم پہ بھی جیسے فالج کا اثر ہوا ہے۔ ہمارا قلم بھی ایک عرصے سے فالج کا شکار ہے سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا اور کیونکر لکھا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply