لال حویلی سے ابھرے بقراطِ عصر کی "دلیری”

انگریزی کا ایک لفظ ہے Provocateur Agent۔ فرانسیسی زبان سے مستعار لیا یہ لفظ ایسے شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو لوگوں کے دلوں میں اشرافیہ کے خلاف نسلوں سے جمع ہوئے غصے کو بھڑکاتا ہے۔ آتش غضب بھڑکانے کا مقصد مگر انقلاب برپا کرنا نہیں ہوتا۔ اصل ہدف ”حقیقی آزادی“ یا ”انقلاب“ لانے کے خواہاں افراد کو تشدد کی جانب دھکیلتے ہوئے ریاست کے روبرو بے نقاب کرنا ہوتا ہے۔ دلوں میں بھڑکتی آگ والے نہایت سوچ سمجھ

Read more

نون لیگ کا مینارِ پاکستان میں کامیاب جلسہ

سیاسی جماعتوں کو آزاد منش صحافی نہیں اندھی عقیدت میں مبتلا پیروکار مطلوب ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے میں اس ضمن میں پیدائشی معذور ہوں۔ اسی باعث سوشل میڈیا کی قوت کو حال ہی میں دریافت کرنے والے مسلم لیگ (ن) کے بے شمار معتقد ان دنوں مجھے خبطی اور بدکار بڈھا پکارتے ہوئے اپنے تئیں زچ کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف اور خواجہ آصف صاحب جیسے جواں سال رہ نما

Read more

نواز شریف کو ”حفاظتی ضمانت“ کا مستحق بنانے کی تگ و دَو

سیاسی امور پر انگریزی اخبارات کے لئے عمر بھر رپورٹنگ کے بعد اردو کالم نگاری میں گھس آئے مجھ جیسے بے ہنر جن استادوں کے لکھے سے اپنی زبان درست رکھنے کی کوشش کرتے ہیں عرفان صدیقی ان میں سرفہرست ہیں۔ کالم نگاری سے اب وہ عملی سیاست کی جانب بھی راغب ہوچکے ہیں۔ نواز شریف کی اکثر تقاریر کا متن تیار کرتے ہیں۔ گزشتہ تین برس سے سینٹ کے رکن بھی ہیں اور اپنے پیش کردہ اس قانون کے

Read more

عمران خان مزید ”خطرے ناک“ کیوں ہوئے

دو سے زیادہ مرتبہ اس کالم میں یہ واقعہ لکھ چکا ہوں۔ نواز شریف صاحب کی چار برس بعد لندن سے وطن واپسی کے تناظر میں اسے دہرانا ضروری ہے۔ ہوا یہ تھا کہ 2021 کے دسمبر میں مسلم لیگ (نون) کے ایک اہم رہ نما کے فرزندکی اسلام آباد کے ایک مشہور ہوٹل میں دعوت ولیمہ تھی۔ میں اس میں شرکت کے لئے مہمانوں سے بھرے ہال میں داخل ہوا تو مسلم لیگ (نون) کے تین کے قریب رہ

Read more

"اسرائیل کے لئے ڈیجیٹل سفارت کاری”

دنیا کے تقریباً ہر ملک میں انتہا پسندوں کے گروہ سوشل میڈیا کے ذریعے مذہبی اور نسلی بنیادوں پر نفرت پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں۔ چند ممالک میں یہ نفرت انتہائی منظم انداز میں پھیلاتے ہوئے مذہبی اقلیتوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے گھروں سے فرار ہونے کو مجبور بھی کیا گیا۔اس تناظر میں برما کے روہنگیا مسلمانوں اور سری لنکا کی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ بدھ انتہا پسندوں کے ہاتھوں جو گزری اسے کئی لکھاریوں نے

Read more

پاک بھارت کرکٹ میچ اور پی سی بی کے پھنے خان

کرکٹ سے دلچسپی نہ رکھنے کے باوجود میں ہفتے کی دوپہر اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ بڑی سکرین والے ٹی وی کے سامنے بیٹھ گیا۔ بھارت کے شہر احمد آباد میں پاکستان اور بھارت کا میچ ہونا تھا۔ یہ شہر بھارت کے صوبے گجرات کا مرکز ہے۔ نریندر مودی اس صوبے کا کئی برسوں تک وزیر اعلیٰ رہا۔ اپنے اقتدار کے دوران اس نے دریافت کیا کہ پورے بھارت میں مقبول ہونا ہے تو ہندوانتہاپسندی کو ڈھٹائی سے اختیار

Read more

نواز شریف کے مستقبل پر بدستور سوالیہ نشان

معاملہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے تمام ججوں پر مشتمل بنچ کے زیر غور تھا۔اس سے متعلق کارروائی بھی ملک کی تاریخ میں پہلی بار کئی گھنٹوں تک ٹی وی سکرینوں کے لئے براہ راست نشر کرنے کو میسر رہی۔ بدھ کی شام بالآخر ایک مختصر فیصلہ بھی سنادیا گیا ہے۔اس کے باوجود میرے اور آپ جیسے لاکھوں پاکستانی یہ طے نہیں کرپارہے کہ بدھ کی شام جو فیصلہ آیا ہے اس کی بدولت نواز شریف چار سال تک

Read more

کاش فل کورٹ کی کارروائی براہ راست نشر نہ ہوتی

”بھرم برقرار“ رکھنے والا فقرہ میں نے کئی بار لکھا اور دوسروں سے سنا ہے۔ اس فقرے کی مگر بہت ٹھوس حوالے سے اہمیت منگل کے دن سپریم کورٹ کے فل بنچ کی کارروائی براہ راست دیکھنے کی بدولت دریافت ہوئی ہے۔ یہ کارروائی دیکھتے ہوئے کئی بار دل میں یہ خواہش بھی ابھری کہ کاش عزت مآب چیف جسٹس صاحب ہماری اعلیٰ ترین عدالت کی کارروائی ٹیلی وڑن سکرینوں پر براہ راست دکھانے کی روایت متعارف کروانے سے اجتناب

Read more

نسلوں سے اُبلتے غصے کا عملی اظہار

بھارت کے سوشل میڈیا پر چھائے ہندو انتہا پسندوں کا ایک گروہ ان دنوں بہت شاداں ہے۔ گزرے ہفتے کے روز جب فلسطینی مزاحمت کاروں کی ایک تنظیم کے لوگ غزہ کی پٹی سے پرندوں کی طرح اُڑکر اسرائیل کے جنوب میں بسائی آبادیوں میں اُترے تو دنیا ہکا بکا رہ گئی۔ فلسطینیوں کو ان کی زمین سے زبردستی جلاوطن کرنے کے بعد جو بستیاں آباد ہوئی تھیں وہاں مقیم کئی افراد کو مزاحمت کاروں نے اغوا کر لیا۔ مزاحمت

Read more

اسرائیل کے دفاع میں ایک نئی سازشی کہانی

متعصب مفروضوں کی بنیاد پر گھڑی سازشی تھیوریوں سے میں چڑجاتا ہوں۔ ہفتے کے دن فلسطینی مزاحمت کاروں کی ایک تنظیم نے غزہ سے غباروں کی طرح اڑکر اسرائیل کے جنوب میں صہیونی آباد کاروں کی بسائی بستیوں میں جو کارروائیاں کیں انہوں نے لیکن حیران کردیا ہے۔ مسلسل سوچ رہا ہوں کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کی صلاحیتوں کو کیا ہوا۔ یہ سوچتے ہوئے البتہ ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ نائن الیون نے بھی سی آئی

Read more

کیا اسرائیل واقعی حماس کے حملے سے بے خبر تھا؟

ذہن میرا ضرورت سے زیادہ منطقی ہے۔ بڑھاپے میں د اخل ہو جانے کے بعد ’آتش نمرود‘ میں بے خطر کودنے سے بھی خوف کھاتا ہوں۔ اسی باعث پریشان ہوئے دل کے ساتھ اصرار کر رہا ہوں کہ آتش انتقام سے مغلوب ہوئی اسرائیلی ریاست اب غزہ کی پٹی میں کئی دہائیوں سے جانوروں کی طرح محصور کیے 20 لاکھ فلسطینیوں کو نہایت سفاکی سے موت کے منہ میں دھکیلنا چاہے گی۔ اس کی جانب سے برتی سفاکی نام نہاد

Read more

یک سطری صحافت اور عباس اطہر کی سنسنی خیز سرخیاں

بدھ کے دن اوپر تلے درپیش آئے تین معاملات کی وجہ سے میں گھبرا گیا۔ جن تجربات سے ایک ہی دن گزرنے کا اتفاق ہوا انھوں نے احساس دلایا کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے صحافت اب ’یک سطری‘ ہو گئی ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ محض چند الفاظ پر مبنی ’سرخی‘ یا ہیڈ لائن ہی قاری یا ناظر ’پوری خبر‘ کی صورت لیتے ہیں۔ جس زمانے میں میری عمر کے لوگوں نے صحافت شروع کی تھی ان

Read more

اگّے تیرے بھاگ لچّھیئے

شام سات بجے سے رات کے بارہ بجے تک ہماری ٹی وی سکرینوں پر بے شمار ٹاک شوز ہوتے ہیں۔ میری دانست میں ان کی وساطت سے عقل و دانش کے ”موتی“ بکھیرے نہیں جا سکتے۔ اپنی سرشت میں یہ ”وقت گزاری“ پروگرام ہیں۔ میں خود بھی ان دنوں طویل وقفے کے بعد ایک ٹاک شو کی میزبانی کر رہا ہوں۔ اس کے ذریعے مگر مہمانوں کی ”فراست“ کے بجائے اپنے ساتھی میزبان کے ساتھ مل کر ”اپنی مدد آپ“

Read more

”ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے“

ریاست اور اس کے اداروں کی تقدیس اور تعظیم گزشتہ کئی صدیوں سے ہماری جبلت میں شامل رہی ہے۔ رواں صدی کے آغاز میں لیکن سوشل میڈیا نے ہر فرد کو ”خودمختاری“ کے واہمے میں مبتلا کرنا شروع کر دیا۔ اپنے دل میں آئی بات ہر شخص اب برجستہ بیان کردیتا ہے۔ وہ اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا ہے تو دیکھنے والوں کی کماحقہ تعداد اس کے بیان کردہ خیالات کو شیئراور لائیک کے ذریعے سراہتی ہے۔ یہ عمل

Read more

نواز شریف اپنا بھرم برقرار رکھیں

منیر نیازی کی ایک پنجابی نظم ہے۔اسے پڑھتے ہوئے میں ہمیشہ حیران ہو جاتا ہوں۔ ’وقت‘ اور اس کی بے ثباتی کو اس نظم سے بہتر انداز میں بیان کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ نظم کا عنوان ہے:’ویلے تو وڈی کوئی حقیقت‘ یعنی وقت سے بڑھ کر بھی ا یک حقیقت۔ بنیادی پیغام اس نظم کا یہ ہے کہ ہر وقت کا اپنا ’سچ‘ ہوتا ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ ’سچ‘ بھی بدلتا رہتا ہے اور اس کی حمایت

Read more

نواز شریف کی”نیک چال چلن” کی ضمانت؟

اپنے گھر سے پورے دس برس تک پیدل چلتے ہوئے لاہور کے رنگ محل مشن ہائی سکول جانا پڑا تھا۔ میرے راستے میں سنہری مسجد سے قبل کشمیری بازار آتا تھا۔ اس بازار میں سٹیشنری کے علاوہ ہمارے خطے کے چند معروف اور قدیمی اشاعتی اداروں کی گودام نما دوکانیں بھی تھیں۔پنجاب کے نواحی قصبات سے کتب فروش ان کے ہاں آکر کتابیں خریدا کرتے تھے۔ جن کتابوں کو وہاں تشہیری انداز میں سجایا گیا ہوتا ان میں ہیررانجھے اور

Read more

سیاسی جماعتوں کی بیانیہ سازی

”صحافت“ جب ”بیانیوں“ کی جنگ بن جائے تو ”حقائق“ وقعت کھو دیتے ہیں۔ سچ اور جھوٹ میں امتیاز کے خاتمے کے بعد وہ ”علاقہ“ شروع ہوجاتا ہے جسے ٹرمپ کے امریکہ کا صدر منتخب ہوتے ہی اس کی ایک دھانسو ترجمان نے ”مابعد الاحقائق“ کا عنوان دیا تھا۔ بہرحال ہمارے ہاں اگر سیاسی جماعتوں کی ”بیانیہ سازی“ کے عمل پر غور کیا جائے تو اس میدان پر تحریک انصاف کا کامل اجارہ نظر آتا ہے۔ دورِ حاضر میں لوگوں کے

Read more

نواز شریف کا "بھولپن”

اپنے قائد کی محبت میں مسلم لیگ (نون) کے کئی سرکردہ رہ نما یکسو ہو کر دہائی مچانا شروع ہو گئے ہیں کہ ٹی وی سکرینوں پر چھائے کئی ”اینکر“ نواز شریف کو وطن واپسی سے روکنے کی خاطر گمراہ کن خبریں پھیلارہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم مگر گھبرائیں گے نہیں۔ 21 اکتوبر کے دن ہر صورت لندن سے لاہور پہنچ جائیں گے۔ یہ کالم لکھنے کے علاوہ گزشتہ چند ہفتوں سے میں نے ایک ٹی وی کے لئے ٹاک

Read more

نواز شریف کی وطن واپسی اور نون لیگ کی ری برانڈنگ

شہباز شریف بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ہوں گے۔ قابل اعتبار عذر تراشنا مگر ان کے بس کی بات نہیں۔ اسی باعث لندن پہنچنے کے بعد صحافیوں کو سمجھا نہیں پائے کہ وہ ’ہنگامی‘ دِکھتے انداز میں اپنے بڑے بھائی سے ایک اور ملاقات کے لیے لاہور میں محض دو دن گزارنے کے بعد واپس کیوں لوٹ آئے ہیں۔ ’صلاح مشورے‘ والا جواز قابل اعتبار سنائی نہیں دیتا کیونکہ اپنی حکومت کے اختتام کے بعد سابق وزیر اعظم تقریباً تین

Read more

”ون اینڈ اونلی“ سوال

مسلم لیگ (نون) کے صدر جناب شہباز شریف صاحب لندن سے وطن لوٹ کر ابھی کمر بھی سیدھی نہیں کر پائے ہوں گے کہ انہیں ایک بار پھر ”ہنگامی“ دِکھتے حالات میں بدھ کی سہ پہر سے برطانیہ پرواز کے لئے فلائٹ اور نشست ڈھونڈنے کی مشقت سے گزرنا پڑا۔ ہو سکتا ہے کہ جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں تو وہ قطر ائرلائن کی پرواز سے لندن پہنچ چکے ہوں گے۔ لاہور پہنچنے کے چند ہی گھنٹوں بعد

Read more

”ون اینڈ اونلی“سوال

مسلم لیگ (نون) کے صدر جناب شہباز شریف صاحب لندن سے وطن لوٹ کر ابھی کمر بھی سیدھی نہیں کر پائے ہوں گے کہ انہیں ایک بار پھر ”ہنگامی“ دِکھتے حالات میں بدھ کی سہ پہر سے برطانیہ پرواز کے لئے فلائٹ اور نشست ڈھونڈنے کی مشقت سے گزرنا پڑا۔ ہوسکتا ہے کہ جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں تو وہ قطر ایئرلائن کی پرواز سے لندن پہنچ چکے ہوں گے۔لاہور پہنچنے کے چند ہی گھنٹوں بعد شہباز صاحب

Read more

کینیڈا کے ساتھ پرانی بھارتی مخاصمت کا اب اظہار

اپنے صحافتی کیرئیر میں مجھے بارہا بھارت میں کئی ہفتوں کے قیام کے دوران فقط اس ملک کے داخلی اور خارجہ امور کے بارے میں رپورٹنگ کے علاوہ تفصیلی کالم بھی لکھنا ہوتے تھے۔ 2005 ءسے مگر بھارت پر توجہ سے جی بھر گیا۔ جنرل مشرف کے آخری برسوں میں ہمارے ہاں کی سیاست ویسے بھی ”عوامی اور جمہوری“ ہوتی محسوس ہوئی۔ اس جانب توجہ موڑی تو بالآخر عدلیہ تحریک شروع ہو گئی اور بتدریج میں ٹی وی شوز کا

Read more

چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیارات سے گریز کا عندیہ

گزشتہ کئی ہفتوں سے دن میں کئی بار انتہائی غریب لوگوں سے گفتگو کا موقعہ مل جاتا ہے۔ شدید مہنگائی کے بوجھ سے خود کو لاوارث اور بے بس محسوس کرتے لوگوں کے دلوں پہ چھائی مایوسی مجھے زندگی سے کامل اکتاہٹ کی جانب دھکیل رہی ہے۔ اس کی وجہ سے نازل ہوئی اکتاہٹ کے سبب مجھے عزت مآب چیف جسٹس صاحب کا یہ فیصلہ پسند نہ آیا کہ اپنا منصب سنبھالنے کے فوری بعد وہ ایک ایسے موضوع کی

Read more

نئے چیف جسٹس کی سربراہی میں فل کورٹ کی تشکیل

ریاست کے تین ستونوں میں سے کمزور ترین قانون ساز ادارے ہیں جنہیں میں اور آپ ووٹوں سے منتخب کرتے ہیں۔ ہمارے ووٹ کو مگر عزت نہیں دی جاتی۔اصرار ہوتا ہے کہ جاہل اور غریب لوگوں کا ہجوم قیمے والے نان کھلانے والے فیاض شخص کواپنا ووٹ بسااوقات ذات برادری کی لاج رکھتے ہوئے بھی دے دیتا ہے۔ اسے قومی یا صوبائی اسمبلی میں بھیج دینے کے بعد اس کے عمل پر نگاہ بھی نہیں رکھتا۔عوام کی نگرانی سے آزاد

Read more

”ڈنگ ٹپاؤ“ صدر کی مہم جوئی؟

ہیجان پھیلاتی ”خبروں“ کے ذریعے اپنا دھندا چلانے والوں کے لئے پیر کا دن بہت سودمند رہا۔ عوام کی اکثریت جبکہ یہ دعائیں مانگتی رہی کہ سری لنکا کے شہر کولمبو میں بارش جاری رہے اور پاکستان بھارت کے ہاتھوں ایشیا کپ کے لئے ہوئے کرکٹ میچ میں ریکارڈ بناتی شکست سے محفوظ رہے۔ دعائیں ہماری رنگ نہ لائیں۔ ہیجان فروشوں کی ”خبر“ بھی لیکن منگل کی صبح یہ کالم لکھنے تک درست ثابت نہیں ہو پائی ہے۔ ”خبر“ تھی

Read more

جغرافیائی حقیقتیں اور بڑھک بازی

پاکستان اور بھارت کے باہمی اور دیرینہ اختلافات دونوں ممالک کے اچھے خاصے معقول صحافیوں کو بھی بسا اوقات تھڑے بازوں والی بڑھک لگانے کو مجبور کر دیتے ہیں۔ میری دانست میں بھارت کے صف اول کے صحافی شیکھر گپتا کے ساتھ بھی ہفتے کے دن ایسا ہی معاملہ ہو گیا ہے۔ اپنے دورہ بھارت کے دوران عالمی معیشت کے 20 مہا کھلاڑی تصور ہوتے ممالک کی کانفرنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے ایک عظیم

Read more

حکمرانوں سے کشادہ دلی کی توقع؟

تحریک انصاف کے مخالفین کو یہ حقیقت کھلے دل سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ اس جماعت کے حامیوں نے پراپیگنڈا کے محاذ پر متاثر کن اجارہ قائم کر لیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر نہایت مہارت سے وہ کوئی ایسا نکتہ اٹھاتے ہیں جسے میڈیا کے لئے نظرانداز کرنا ممکن ہی نہیں۔ پیشہ ورانہ یا ”دیگر“ وجوہات کی بنیاد پر پاکستان کا روایتی میڈیا اگر اس نکتے کو نظرانداز کردے تب بھی عالمی میڈیا اس کے ذکر کو مجبور

Read more

حکمرانوں سے کشادہ دلی کی توقع؟

تحریک انصاف کے مخالفین کو یہ حقیقت کھلے دل سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ اس جماعت کے حامیوں نے پراپیگنڈا کے محاذ پر متاثر کن اجارہ قائم کر لیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر نہایت مہارت سے وہ کوئی ایسا نکتہ اٹھاتے ہیں جسے میڈیا کے لئے نظرانداز کرنا ممکن ہی نہیں۔ پیشہ وارانہ یا ”دیگر“ وجوہات کی بنیاد پر پاکستان کا روایتی میڈیا اگر اس نکتے کو نظرانداز کردے تب بھی عالمی میڈیا اس کے ذکر کومجبور ہوجاتا

Read more

کامل مایوسی کی فضا میں امید کی توقع؟

ریاست کے نہایت ہی طاقت ور حلقوں کی جانب سے امید تو یہ دلائی جا رہی ہے کہ سب ”ٹھیک ہو جائے گا“ ۔ دل مگر مطمئن نہیں ہو پا رہا۔ میری مایوسی کی اصل وجہ عمران مخالف سیاسی جماعتوں کا گزشتہ برس کے اپریل میں ہوا یہ فیصلہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ان کے منصب سے ہٹائے جانے کے بعد فوری انتخاب کروانے کے بجائے قومی اسمبلی کی ”آئینی مدت“ ہر صورت

Read more

چودھری پرویز الٰہی کی ”ڈولی ڈنڈا“ حراست

اپنی عادت کے برعکس منگل کی صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھنے کو قلم نہیں اٹھایا۔ ٹی وی اور لیپ ٹاپ کھول کر چودھری پرویز الٰہی کے بارے میں تازہ ترین جاننے کے تجسس میں الجھ گیا۔ چودھری صاحب سے دیرینہ شناسائی ہے۔ باہمی عزت و احترام والا تعلق ہے۔ ان سے قربت کا مگر دعوے دار نہیں کیونکہ اسلام آباد میں مقیم ہونے کی وجہ سے ملاقاتیں ان کے کزن چودھری شجاعت حسین کے ساتھ بہت زیادہ رہی ہیں۔

Read more

متحرک ہونا آرمی چیف کا

بالآخر آرمی چیف کو خود متحرک ہونا پڑا ہے۔ گزرے ہفتے کے آخری دو دن انہوں نے لاہور اور کراچی کے بڑے صنعت کاروں کے ساتھ ”کھلی کچہری“ میں گزارے۔ ان کے خطاب کے بعد سوال و جواب کے طویل سیشن بھی ہوئے۔ جو گفتگو ہوئی اس کی تفصیلات سرکاری ذرائع سے ہوبہو ہمارے سامنے نہیں آئیں۔ کامران خان صاحب جیسے سینئر صحافیوں نے البتہ ان کی مصروفیات کے کلیدی نکات واہداف بہت مہارت سے بیان کر دیے ہیں۔ ان

Read more

بجلی کے بل میں انکم ٹیکس؟

مجھ بے وقوف کو ابھی تک یہ گماں لاحق تھا کہ انکم ٹیکس وہ ٹیکس ہوتا ہے جو حکومت اپنے شہریوں سے ان کی آمدنی پر وصول کرتی ہے۔ گزشتہ چنددنوں سے مگر وطن عزیز میں بجلی کے ہوشربا بلوں کی بابت ماتم کنائی کا آغاز ہوا تو دھیرے دھیرے یہ دریافت بھی کرنا شروع کردیا کہ ان بلوں میں ’’انکم ٹیکس‘‘ کے نام پر بھی خاطرخواہ رقم اینٹھی جارہی ہے۔ اپنی تسلی کے لئے دس کے قریب صارفین کے

Read more

عوامی اضطراب کے باوجود نون لیگ کی خوش فہمی

اتوار کی رات نیند بہت دشواری سے نصیب ہوئی۔ معمول کے مطابق اٹھنا ممکن نہ رہا۔ تقریباً آٹھ بجے سے لیکن سرہانے رکھا موبائل ”گوں گوں“ کرنا شروع ہو گیا۔ بالآخر اٹھانا ہی پڑا۔ مسلم لیگ (نون) کے صف اول کے ایک رہ نما کا فون تھا۔ وہ نوائے وقت کے دیرینہ قاری ہیں۔ پیر کی صبح میرے لکھے کالم کو پڑھ کرناراض ہو گئے۔ مجھے فی الفور بتانا چاہا کہ میں نے ”شہبازصاحب کے ساتھ زیادتی کی ہے“ ۔

Read more

غلط بیانی کا مرتکب ٹھہرائے صدر کا نیا حکم نامہ

ہمارے نام نہاد’ ’تحریری آئین“ کی اصل اوقات عموماََ ان ہی افراد کے ہاتھوں بے نقاب ہوتی رہی ہے جو اپنے تئیں ”آئین کے تحفظ  کیلئے“ اساطیری دلاوروں کا روپ دھارے میدان میں نکل آتے ہیں۔ان دنوں ایسے ”ڈرامے“رچانے پر عارف علوی کا اجارہ ہے۔ موصوف 2018ء سے ایوان صدر میں براجمان ہیں۔عمران خان کی دیوانہ وار محبت نے انہیں اس مقام تک پہنچایا تھا۔ سابق وزیر اعظم سے وفاداری بشرط استواری نبھانے کو بے چین رہتے ہیں۔یہ حقیقت مگر

Read more

سچا کون ہے؟

اتوار کے دن سے یہ کالم لکھنے کے علاوہ ٹی وی سکرینوں پر بھی ہذیانی کیفیت سے مغلوب ہوا اپنے خدشات کا اظہار کئے چلے جا رہا ہوں۔ یہ بات مگر قریب ترین دوستوں کو بھی سمجھانہیں پایا کہ اتوار کے روز ایک ٹویٹ لکھ کر ایوان صدر میں براجمان عارف علوی نے درحقیقت پاکستان کے ریاستی بندوبست کی بابت پورے عالم کو چونکادیا ہے۔موصوف کا ”اللہ کو گواہ “ بناکر ریکارڈ پر لایا شکوہ نہایت مہارت سے یہ دعویٰ

Read more

ہمارا بے لگام ریاستی بندوبست

مبینہ طورپر ایک ”تحریری آئین“ کے تحت چلائے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں گزشتہ برس کے اپریل سے مسلسل ایسے واقعات ہو رہے ہیں جو واضح طورپر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہمارا ریاستی بندوبست کاملاً بے لگام ہو چکا ہے۔ کہانی آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے شروع ہوئی تھی۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے مستعفی ہو جانے کے بعد وہاں ”گورنر راج“ رہا۔ کچھ دنوں کو حمزہ شہبازشریف کی نظام سقہ نما حکومت

Read more

”پتلی تماشہ“

کاش میرے دل ودماغ میں مستقبل کے جو نقشے نمودار ہورہے ہیں انہیں سادہ زبان میں کھل کر بیان کرسکتا۔ عمر تمام صحافت کی نذر کردینے کے بعد مگر اپنی محدودات یا پنجابی والی ”اوقات“ کے سوا کچھ دریافت نہیں کیا۔ ویسے بھی فارسی سے قربت نے اردو کو استعاروں کی سہولت سے مالا مال کر رکھا ہے۔ سچ بیان کرنے کی تاب نہ ہو تو ہاتھ گھماکر ان کی بدولت ”ناک“ کو گرفت میں لایا جا سکتا ہے۔ یہ

Read more

نگران حکومت کو طاقتور وزیر خزانہ کی ضرورت

انوار الحق کاکڑ کی بطور نگران وزیر اعظم حیران کن تعیناتی نے مجھ سادہ لوح کو یہ باور کرنے کو اکسایا کہ وطن عزیز میں سیاسی منظر نامے تشکیل دینے والی ”ڈیپ سٹیٹ“ یا ”دریں دولت“ نہایت خاموشی سے ایک حکمت عملی تیار کرچکی ہے۔ ممکنہ حکمت عملی کا اولیں ہدف نگران حکومت کو ایسی ٹیم فراہم کرنا ہے جو اقتدار سنبھالتے ہی برسوں سے جمع ہوئے مسائل سے نبردآزما ہونے کے لئے برق رفتاری سے ایسے اقدامات لینا شروع

Read more

ہیولوں کا تعاقب اور ندامت

یورپ کے فلسفیوں نے ”وقت“ کے تصور کو جانچنے میں بہت دیر لگائی۔ پنجابی زبان کے بے شمار محاورے ان کے برعکس صدیوں سے ”ویلے“ کی اہمیت کو مسلسل اجاگر کرتے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ”ویلے“ (بروقت) اور ”کویلے“ (وقت کھو دینے) کے مابین تفریق کی پہچان پر بھی بہت اصرار رہا۔ ایک محاورہ تو یہ بھی کہتا ہے ”وقت“ کھودینے کے بعد ”کویلے“ میں ادا ہوئی نماز زمین پر سرٹکرانے کے سوا کسی اور فعل کی نمائندگی نہیں

Read more

قرعہ فال انوار الحق کاکڑ کے نام

ایمان دارانہ عاجزی سے یہ اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ اپنی عمر تمام رپورٹنگ کی نذر کردینے کے باوجود میں یہ اندازہ لگانے میں قطعاََ ناکام رہا کہ بالآخر انوار الحق کاکڑ نگران حکومت کے وزیر اعظم نامزد کردئیے جائیں گے۔خود کو تسلی دینے کے لئے محض یہ جواز ہی پیش کرسکتا ہوں کہ عرصہ ہوا عملی صحافت چھوڑ رکھی ہے۔ عمران حکومت کے دوران ٹی وی سکرینوں کے لئے ممنوع قرار پایا تو ”گوشے میں قفس کے“ مزید

Read more

خودکش پارلیمان

”کوئی تو ہے“ جو نہایت ہوشیاری سے ہمارے میڈیا کی تمام تر توجہ اہم موضوع سے ہٹا کر اصولی طورپر فروعی معاملہ کی جانب موڑ دیتا ہے۔ بدھ کا تمام دن بھی ایسے ہی ایک سوال کا جواب ”طے“ کرنے کی نذر ہوگیا۔ جولائی 2018ء کے انتخابات کی بدولت وجود میں آئی قومی اسمبلی کا یہ آخری دن تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نہایت سنجیدگی سے یہ جاننے کی کوشش ہوتی کہ اس برس میں ہوئے انتخابات کی

Read more

گیم اب سیاستدانوں کے ہاتھ سے نکل چکی

جس بدھ کی صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں اس کی شام وزیر اعظم شہباز شریف صدر مملکت کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھجوا دیں گے۔ انہوں نے فوری طور پر مذکورہ استدعا پر منظوری کے دستخط ثبت نہ کیے تب بھی آئندہ 48 گھنٹوں میں جولائی 2018 ءکے انتخابات کی بدولت وجود میں آیا پارلیمان کا ایوان زیریں ازخود تحلیل ہو جائے گا۔ ہمارے تحریری آئین کے دیے قواعد و ضوابط کے کامل اتباع میں

Read more

ڈاکٹر حفیظ شیخ کے سر بیٹھتا ہُما

کسی کو اقتدار میں بٹھانے یا وہاں سے ہٹانے کے لئے جو محلاتی سازشیں ہوتی ہیں ان کا کھوج لگانے کی مجھے بطور رپورٹر علت لاحق رہی ہے۔ مذکورہ علت مگر صحافیانہ تجسس تک ہی محدود رہی۔ ذاتی طور پر میں کسی خاص شخص کے سر پر اقتدار کا ہما بٹھانے کی سازش میں کبھی ملوث نہیں رہا۔ نہ ہی کسی شخصیت کے سیاسی زوال سے کبھی ذاتی لطف اٹھایا ہے۔ عملی صحافت سے بتدریج کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے

Read more

انٹرنیٹ کی بنائی متوازی دنیا

پیر کی صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین اس وقت تک اٹک جیل میں دوراتیں گزارچکے ہیں۔ ان کے دیرینہ حامیوں کو مگر کامل یقین ہے کہ ہائی کورٹ کھلتے ہی ان کی درخواست ضمانت باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کر لی جائے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج ہی کسی وقت درخواست پر دلائل کا وقت طے کر دیا جائے جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم

Read more

دائروں کی صورت میں مسلسل جاری سفر

مسلح نہیں بلکہ فقط سیاسی جدوجہد سے ہمارے بزرگوں نے قائد اعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں کے لئے پاکستان کی صورت ایک نیا وطن حاصل کیا تھا۔ اسے چلانے کے لئے مگر اہل اور ”دیانتدار“ سیاستدان ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔ قیام پاکستان کے چند ہی برس بعد ”پروڈا“ کے عنوان سے ایک قانون بنانا پڑا۔ اس کے ذریعے سندھ کے ”مرد آہن“ کہلاتے ایک قد آور سیاستدان ایوب خان کھوڑو کو بدعنوانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ذلت

Read more

اپنی سیاسی قیادتوں کے غلام ہمارے نام نہاد نمائندے

عمر کے جس حصے میں داخل ہو گیا ہوں وہاں عموماً آپ کے کئی لمحات ”غم جہاں کے حساب“ میں صرف ہو جاتے ہیں۔ ”پارلیمان کی بالادستی“ 1985 سے میرے دل و دماغ پر حاوی رہی ہے۔ اس تصور کو اجاگر کرنے کے لئے اس برس غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے انتخاب کی بدولت ”بحال“ ہوئی قومی اسمبلی کے بارے میں اسلام آباد سے نکالے غیر سرکاری اخبار ”دی مسلم“ کے لئے پریس گیلری لکھنے کا انتہائی لگن سے آغاز

Read more

اپنے ”دیدہ ور“ کی سیاست

انٹرنیٹ کی ایجاد سے قبل ہی انسان نے دریافت کررکھا تھا کہ ”دیدہ ور“ درحقیقت حقیقی دنیا میں وجود نہیں رکھتے۔ انہیں پراپیگنڈہ کی بدولت ”ایجاد“ کیا جاتا ہے۔دوسری جنگ عظیم سے قبل والے جرمنی اور اٹلی میں ہٹلر اور مسولینی کی صورت ایسا ہی ہوا تھا۔ برطانیہ کی غلامی کے دوران ہمارے خطے میں کئی افراد نے قومی حمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔سرسید جیسے افراد نے اگرچہ جذبات بھڑکانے کے بجائے ”عقلی بنیادوں“ پر

Read more

"مولوی مدن” والی بات

یہ واقعہ ہوئے تقریباََ 6 ہفتے گزر چکے ہیں۔دل سے مگر اسے نکال نہیں پایا ہوں۔ دل سے زیادہ اثر اس واقعہ کا بلکہ میرے ذہن پر ہوا ہے۔ اس کے ذکر سے قبل البتہ تفصیل بیان کرنا ضروری ہے۔ میرے ایک بھائیوں سے بھی زیادہ عزیز دوست ہیں۔انسان دوست، مخلص اور یاروں کے یار قسم کے مہربان ہیں۔ساری عمر سرکاری نوکری میں گزاری۔سی ایس ایس کے بعد جس شعبے میں گئے ان کی دوستیاں فقط وہیں تک محدود نہیں

Read more

مہنگائی سے خوفزدہ مسلم لیگ نون کے امیدوار

مسلم لیگ (نون) کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے تین سرگرم افراد سے اتفاقا الگ الگ ملاقاتیں ہو گئیں۔ یہ تینوں 1990 ءکے آغاز سے قومی یا پنجاب اسمبلیوں کے انتخاب میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ مرکز میں اہم وزارتیں انہیں کبھی نصیب نہیں ہوئیں۔ وہ اور ان کا خاندان مگر اپنے حلقوں میں نواز شریف کے ثابت قدم وفادار شمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے کم از کم دو نے تمام تر دباؤ کے باوجود جنرل مشرف کے دور

Read more

ہمارے سیاسی قائدین کے انگوٹھا لگانے والے فدویان

حکمرانوں کی جانب سے ہر فیصلے کو شک کی چھلنی سے گزارنا صحافی کی جبلت میں شامل ہوتا ہے۔جو قدم اٹھانے کی تیاری ہو رہی ہو اس کی بابت حکمران جماعت کے اراکین پارلیمان کی جانب سے منتخب ایوانوں میں سوال اٹھنا شروع ہو جائیں تو معاملہ مزید مشکوک ہوجاتا ہے۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے نگران وزیر اعظم کو جس انداز میں ”بااختیار“ بنایا گیا ہے اس کے حوالے سے بھی ایسا ہی واقعہ ہوا ہے۔قانون تو بالآخر

Read more

جمہوری نظام کو اپنے ہی ہاتھوں لگائی جانے والی گرہیں

منگل کی رات بستر پر کروٹیں لیتے گذرگئی۔ دل میں ابلتے وسوسوں اور خوف نے گہری نیند سے محروم رکھا۔ میری پریشانی کی کوئی ذاتی وجہ نہیں تھی۔دل یہ سوچ کر اداس وپریشان ہوتا رہا کہ ہمارے ”جمہوری نظام“ کے خود ساختہ چمپئن اپنے ہی ہاتھوں سے ایسی گرہیں لگانے کو کیوں آمادہ ہوگئے جنہیں کھولنے کے لئے بالآخر پنجابی محاورے والے ”دانت“ استعمال کرنا پڑیں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو ”گرہیں“ لگانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ان

Read more

مسلم لیگ (ن) کے لئے خود کش حملہ

اسحاق ڈار صاحب کا آئندہ انتخابات کی نگرانی کے لئے بنائی عبوری حکومت کا وزیر اعظم ”نامزد“ ہونا میری دانست میں تو اب ناممکن ہو گیا ہے۔ ان کی ممکنہ ”نامزدگی“ کی داستان جس انداز میں پھیلی ہے اس نے مگر مسلم لیگ (نواز) کی سیاسی ساکھ کو شدید زک پہنچائی ہے۔ اس حوالے سے جو کہانی چائے کی پیالی میں طوفان کی طرح اٹھی اس کا ذمہ دار فقط میڈیا کو ٹھہرانا سراسر زیادتی ہوگی۔ ہمارے ایک نوجوان رپورٹر

Read more

کھڑکی توڑ رش لینے والی سائفر کہانی کا انجام

سابق وزیر اعظم کے دور اقتدار میں بہت ہی بااختیار رہے اعظم خان کے ”اعترافی بیان“ نے چند دنوں سے میڈیا میں تھرتھلی مچارکھی ہے۔ موصوف کے بیان کا جو حصہ ہمارے سامنے لایا گیا وہ اس امر کی واضح الفاظ میں تصدیق کرتا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے ابتدا میں اپنی حکومت کے خلاف ”رجیم چینج“ کی داستان پھیلانے کے لئے امریکی حکومت کی جانب سے مبینہ طورپر ملے جس دھمکی آمیز پیغام کو بنیاد بنایا تھا وہ

Read more

ڈھیٹ ہڈی کے حامل سیاستدان

اسحاق خاکوانی صاحب سے دیرینہ شناسائی ہے۔ نہایت مہذب، خلیق اور وضع دار شخصیت کے حامل ہیں۔ ان کی سیاسی سوچ سے میں عموماً اتفاق کرتا ہوں مگر سیاسی عمل کے حوالے سے ان کی ترجیحات سے اکثر اختلاف رہا۔ خاکوانی صاحب اختلافات کو تاہم دوستانہ مسکراہٹ سے برداشت کرنے کے عادی ہیں اور اپنے دفاع میں جذبات کے بجائے دلائل کو فوقیت دیتے ہیں۔ دیرینہ مراسم کے باوجود ہم دونوں کے مابین طویل عرصے سے سرسری گفتگو بھی نہیں

Read more

تیزی سے بڑھتے "شک شبہے”

گزشتہ برس کے اپریل سے ہمارے ہاں اضطراب ،ہیجان اور خاص طورپر بلھے شاہ کے بتائے ”شک شبے“ کے جس دور کا آغاز ہوا ہے وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ہماری ریاست کے تمام دائمی اداروں اور اہم سیاستدانوں کو باہم مل کر اضطراب سے نجات کی کوئی صورت دریافت کرنا ہوگی۔ وگرنہ جو ابتری پھیلے گی اس پر قابو پانا کسی کے لئے بھی ممکن ہی نہیں رہے گا۔ ٹھنڈے دل سے سوچیں تو عمران

Read more

عالمی عذاب بنی روس یوکرائن جنگ

اکثر اس کالم میں مارشل میک لوہان کا ذکر بھی رہتا ہے۔ کینیڈا کا مشہور محقق جس نے ٹیلی وژن کے متعارف اور مقبول ہوجانے کے بعد اس کے”ابلاغ کی محدودات“ کو دریافت کیا۔اس کی ”اوقات“ پہچان لی تو ٹی وی کو ”ایڈیٹ باکس“کا نام دیا۔گزشتہ دنوں سے مگر میک لوہان ایک اور تناظر میں یاد آ رہا ہے۔ کئی مہینوں سے یہ سوچتے ہوئے حیران ہو جاتا ہوں کہ روس کو یوکرین پر حملہ کئے تقریباََ 20 ماہ  گزر

Read more

”دیدہ ور“ کی منتظر قوم

گزشتہ ہفتے کا آخری کالم میں نے چیک ناول نگار میلان کندیرا کی موت کے بعد تعزیتی انداز میں لکھا تھا۔ لکھتے ہوئے یہ فکر لاحق رہی کہ شاید قارئین کی اکثریت اسے نظرانداز کرنے کو ترجیح دے گی۔ کندیرا کمیونسٹ نظام سے اُکتا کر 1975 ءمیں پیرس چلا گیا تھا۔ جلاوطنی میں کئی برس گزارنے کے بعد اس کے لکھے ناولوں کو 1980 ءکی دہائی میں بہت پذیرائی ملی تھی۔ غالباً اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ

Read more

کندیرا کی موت

اس کالم میں اکثر میلان کندیرا کا ذکر رہا ہے۔ عرصہ ہوا میں اسے تقریباً بھول چکا تھا۔ بدھ کی سہ پہر مگر موبائل فون پر سرسری نگاہ ڈالنے کے بعد اس کی موت کی خبر ملی تو دل اداس ہو گیا۔ کندیرا کا شمار ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جس کے ناولوں نے میری سوچ کو 1990 ء کی دہائی میں حیران کن انداز میں بدل دیا تھا۔ ایک پڑھے لکھے دوست سے خبر ملی کہ ان دنوں چیکو

Read more

یورپی یونین کی جمہوریت اور انسانی حقوق سے”محبت”

دو روز قبل چھپے ایک کالم میں تفصیل سے بیان کرچکا ہوں کہ بلھے شاہ کے بتائے ”شک شبے“ کے موجودہ دور میں میرے چند صحافی دوستوں کی یورپین یونین کی دعوت پر برسلز موجودگی کو کس انداز میں مشکوک اور سنسنی خیز بنانے کی کوشش ہوئی۔ تحریک انصاف کے عشق میں گرفتار مبصرین نے اگرچہ یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی کہ پاکستان کے نمایاں ”ذہن سازوں“ کی وساطت سے طاقت ور اور خوش حال یورپی ملکوں کا اتحاد

Read more

اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم تقریب

گزشتہ کئی برسوں سے اس کالم میں آپ کو اکتا دینے کی حد تک ابلاغ کے ہنر کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی ضرورت نہایت شدت سے ان دنوں محسوس کی جب ہماری ریاست کے چند طاقت ور افراد نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان ’پانچویں پشت کی ابلاغی جنگ‘ کی زد میں ہے۔ مبینہ ’جنگ‘ کو شکست دینے کے لیے صحافتی شعبے سے چند محبان وطن کا چناﺅ ہوا۔ان کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ انھیں

Read more

صحافی دوستوں کا دورہ برسلز

1980 کی دہائی میں اسلام آباد سے نجی طور پر نکالے واحد انگریزی روزنامہ ”دی مسلم“ کا جوان اور متحرک رپورٹر ہونے کی وجہ سے میں اس شہر میں مقیم سفارتکاروں کے لئے ”اندھوں میں کانا راجہ“ ہو گیا تھا۔ تقریباً ہر روز کسی نہ کسی سفارتی تقریب میں شرکت کے علاوہ سفارت کاروں سے ون آن ون ملاقاتیں بھی کرنا ہوتیں۔ ہماری ”ایجنسیاں“ مذکورہ ملاقاتوں اور تعلقات کی بابت ناخوش محسوس کیا کرتی تھیں۔ زمانہ بھی جنرل ضیا الحق

Read more

آئی ایم ایف کی نمائندہ کی عمران خان سے ملاقات

تحریک انصاف کے دیرینہ حامیوں کی کثیر تعداد 9 مئی کے بعد سے کافی اداس دکھ رہی تھی۔ کئی برسوں سے عمران خان کا سینہ پھلا کر دفاع کرنے کی وجہ سے چرب زبانوں کے ایک بڑے گروہ نے گزشتہ حکومت میں نمایاں اور بارعب عہدے حاصل کیے تھے۔ ان کا اخلاقی فرض تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں گھروں میں خوف سے دبک کر بیٹھے کارکنوں کو تھوڑی بہادری دکھاتے ہوئے حوصلہ دیتے۔ وہ مگر ہماری سیاسی تاریخ

Read more

سویڈن واقعہ پر خان صاحب کا احتجاج”اچک” لینے کی حکومتی تدبیر

اپنے دین کی کلیدی علامات کے بارے میں ہم پاکستانی بہت جذباتی ہیں۔بنیادی طورپر ”عقل کا غلام“ ہوتے ہوئے بھی مجھ گنہگار نے اس کی بابت کبھی شرمندہ محسوس نہیں کیا۔نہایت خلوص اور عقیدت پر مبنی ان جذبات کو تاہم چند جماعتیں اور افراد جب خالصتاََ سیاسی مفادات کے حصول کے لئے بھڑکانے کی کوشش کریں تو جی جل جاتا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے پریشان ہوجاتا ہوں کہ واضح طورپر مفادپرستانہ بنیاد پر بھڑکائی ایسی تحریک کو نام نہاد ”عالمی

Read more

نیب ترمیمی آرڈیننس میں ڈالی ”باریک واردات“۔

تین دہائیوں سے مختلف حکومتوں کے عروج وزوال کا ضرورت سے زیادہ متحرک رپورٹر ہوتے ہوئے بہت قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔وقت نے سکھایا ہے تو فقط یہ کہ ”حکمرانی“ کے لئے میسر چہرے تو بدلتے رہتے ہیں مگر ان کے اطوارقطعاََ نہیں بدلتے۔ شہباز شریف کی قیادت میں گزشتہ برس کے اپریل میں قائم ہوئی حکومت بھی اس تناظر میں مختلف نہیں۔ اس میں شامل کئی افراد 1999 سے ”احتساب“ کے نام پر بنائے بندوبست کے ہاتھوں ذلیل ورسوا

Read more

"اخبار کی موت” کا آنیوالا سال

اتوار کی صبح اٹھ کر اپنا کالم لکھنے کے بعد دفتر بھجوا دیا تو حسب عادت اخباروں کے پلندے سے رجوع کیا۔ عید کی تعطیلات کے بعد شائع ہوئی ”خبروں“ کی اکثریت ”باسی“ تھی۔ ٹی وی یا سوشل میڈیا کی بدولت وہ کئی گھنٹے قبل ہمیں مل چکی تھیں۔  ان پر نگاہ ڈالتے ہوئے ایک بار پھر یہ خیال جی کو اداس کرنے لگا کہ میرا صحافت کے حوالے سے ”اصل عشق“ یعنی اخبار واقعتا زوال کی جانب بڑھ رہا

Read more

آئی ایم ایف ڈیل اور ’معتبر دانشوروں‘ کا سیاپا

حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ آرائی سے اکتائے دل ودماغ کو دیگر موضوعات کی تلاش میں مدد دینے کے لیے عید کی چھٹیوں سے قبل میں نے چند کتابیں الماریوں سے ڈھونڈ کر نکالیں۔ سوشل میڈیا سے ہر ممکن پرہیز کا عہد باندھا اور کم از کم دو کتابیں ختم کرڈالیں۔ارادہ تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے عید گزرنے کے بعد پہلا کالم ان کتابوں کی بدولت دریافت ہوئے کسی موضوع پر لکھوں گا۔ اسے مناسب حد تک شیئرز اور

Read more

تاریخ اور حال پر نظر رکھنے کی ضرورت

میں اس خواہش سے تاریخ کا مطالعہ ہرگز نہیں کرتا کہ وہاں سے کوئی ”سنہری عہد“ یا ”ہیرو“ تلاش کرنے کے بعد آ پ کو قائل کرنا شروع ہوجاﺅں کہ ہمیں ویسے ہی ”ہیرو“ کی ضرورت ہے جو ”عہد زریں“ کا احیا کرسکے۔ شاید یہ بات میرے قارئین کی اکثریت کو بہت ناگوار سنائی دے گی۔ یہ اصرار کرنے سے مگر باز نہیں رہ سکتا کہ ”عہد زریں“ محض ایک فسانہ ہے۔دور کا ڈھول ہے۔ دورِ حاضر کی مشکلات سے

Read more

نو مئی کے واقعات سے استوار ہوئی غضب کی فضا

خدارا سوشل میڈیا پر حاوی فروعات کو سختی سے نظرانداز کرتے ہوئے تلخ حقائق کا سامنا کریں۔ اس بات کا ادراک کرلیں کہ نو مئی کے روز ہوئے واقعات نے ہماری ریاست کے طاقت ور ترین ادارے کو غضب ناک بنادیا ہے۔ وہ ایک بار پھر یہ ثابت کرنے کو مجبور محسوس کررہا ہے کہ ریاستی قوت کا وہ حتمی حامل ہے۔اسے ”بلوائیوں“ کے گروہ جھکا نہیں سکتے۔ 9 مئی کے روز ایسی ہی ایک کوشش ہوئی تھی۔ اس کے

Read more

مجلسِ شوریٰ میں رچایا "جمہوری تماشہ”

1980 کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی جب امریکہ کے نومنتخب صدر ریگن اور ہمارے ان دنوں کے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیا الحق کے مابین افغانستان کو ”جہاد“ کے ذریعے کمیونسٹ روس کی فوج سے آزاد کروانے کے لئے پنجابی محاورے والا ”سٹ پنجا (معاہدہ)“ ہو گیا تو چند منافقانہ فیصلے بھی لینا پڑے۔ دنیا کے روبرو خود کو ”جمہوریت“ کی حتمی علامت  ثابت کرتے امریکہ نے جنرل ضیاء سے تقاضا کیا کہ وہ اپنی ”آمرانہ“

Read more

موجودہ حکومت اور گزشتہ کئی دہائیوں کا بوجھ

بارہا  اس کالم میں یاد دلاتا رہتا ہوں کہ پاکستان کے غریب اور سفید پوش طبقات کا ’دیوالیہ‘ تو عرصہ ہوا ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک برس سے سوال فقط اتنا تھا کہ ریاستِ پاکستان بھی اس سے محفوظ رہ پائے گی یا نہیں۔ جناتی انگریزی میں ہمیں ملکی معیشت کی بابت آگاہ رکھنے والے مسلسل دہائی مچاتے رہے کہ ریاست کو دیوالیہ سے بچانے کے لیے آئی ایم ایف کی ہر بات سرجھکا کر مان لیں۔مفتاح اسماعیل نے تاہم

Read more

اداس دل کے ساتھ

اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے اندازِ سیاست کا میں کبھی مداح نہیں رہا اور میرے لکھے متعدد کالم اس امر کے گواہ ہیں۔اس کے باوجود منگل کی شام سے دل ابھی تک اداس ہے۔ سبب اس اداسی کا سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ایک وڈیو ہے۔مذکورہ وڈیو میں دونوں حضرات اسلام آباد کی ایک ضلعی عدالت سے ضمانت منسوخ ہوجانے کے بعد پولیس کی گرفت سے بچنے کی خاطر ”فرار“ ہو رہے ہیں۔ فرض کیا یہ دونوں حضرات

Read more

سینٹ میں "مکاری” سے ڈالی گئی واردات

بخدا ملکی سیاست اور معیشت کی بنیاد پر ذہن میں گونجتے سوالات سے گھبرا چکا ہوں۔ایک بے اختیار شہری ہوتے ہوئے بھی لیکن اپنی عمر ”صحافت“کی تہمت کے ساتھ گزارنے کی وجہ سے کامل بے حسی بھی اپنے نصیب میں نہیں۔ہفتے کے پانچ دن مسلسل غیر متعلق نظر آتے معاملات کے بارے میں یاوہ گوئی میں مصروف رہوں گا تو قارئین اکتا جائیں گے۔آنکھ اور کان لہٰذا ملکی معاملات کے حوالے سے ہر وقت کھلے رکھنا ضروری ہے اور تقریباََ

Read more

آج بھی برقرار”دبئی چلو” والا چلن

موجودہ حکومت کی ترجمانی یا دفاع میرا دردِ سر نہیں۔ اندھی نفرت کے اسیر ہوئے افراد مگر سوشل میڈیا پرتواتر سے دہائی مچائے چلے جارہے ہیں کہ حال ہی میں یورپ میں روزگار کی تلاش میں لیبیاسے یونان پہنچنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھونے والے بدنصیبوں کودرپیش آئے سانحہ کی ذمہ دار فقط یہ حکومت ہے۔ گزشتہ برس کے اپریل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اس نے مہنگائی کی آگ بھڑکائی۔ پاکستانی روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے

Read more

"ہیجان پیدا کرنے والا کارخانہ”

ابھی تک آپ یقینا دریافت کرچکے ہوں گے کہ گزشتہ کئی دنوں سے میں وطن عزیز کے سیاسی اور اقتصادی معاملات پر لکھنے سے گریز کی صلاحیت حاصل کرنا چاہ رہا ہوں۔بنیادی وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کالم میں بہت غوروغوض کے بعد اٹھائے سوالات کے تسلی بخش جوابات ہی نہیں ملتے۔مثال کے طورپر دل دہلا دینے والا سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان ”دیوالیہ“ کی جانب بڑھ رہا ہے یا نہیں۔دیوالیہ کے امکان کو ”دل دہلا دینے

Read more

ڈونلڈ ٹرمپ اور آئندہ امریکی صدارتی انتخابات

گھبرائے دل کے ساتھ اوپر تلے پاکستان کے معاشی مسائل کی بابت سوالات اٹھاتے کالم لکھنے سے اکتا گیا ہوں۔ جو سوالات اٹھائے ان کے تسلی بخش جوابات بھی نہیں ملے۔ غالب کی بیان کردہ ’ہورہے گا کچھ نہ کچھ….‘ والی بے نیازی مجھے نصیب نہیں ہوئی۔ اسی باعث فیصلہ کیا کہ پاکستان کے بجائے دیگر ممالک کے معاملات میں جھانکا جائے۔ وہاں سے بھی ایسے موضوعات تلاش کرنے کو ترجیح دی جائے جو طبیعت کو پھکڑپن کے لیے اکسائیں۔

Read more

خدارا نئے خیالات متعارف کرائیں

عالم فاضل لوگوں کی بے پناہ تعداد صدیوں سے فطرت انسانی کے کلیدی بھیدوں کا کھوج لگانے میں مصروف رہی ہے۔ حتمی رائے مگر ابھی تک طے نہیں ہو پائی۔ اس کے باوجود مجھ جیسے دیہاڑی دار کالم لکھتے ہوئے ہر موضوع کو ”عقل کل“ والی رعونت کے ساتھ زیر بحث لانے سے باز نہیں رہتے۔ گزشتہ کئی دنوں سے اعتراف کر رہا ہوں کہ ملکی سیاست سے متعلق کئی سوالات کے جواب ڈھونڈتے ہوئے یہ فیصلہ نہیں کر پا

Read more

طارق ملک کا استعفیٰ : ایک بری خبر

طارق ملک سے میری چار سے زیادہ ملاقاتیں نہیں ہوئیں۔ مذکورہ ملاقاتیں بھی محض اتفاقاً اور مشترکہ دوستوں کے ہاں ہوئی تھیں۔ موصوف کا ذکر تاہم محترمہ بے نظیر بھٹو بہت شفقت سے کیا کرتی تھیں۔ ان کی دانست میں طارق ملک نے دورِ حاضر میں ڈیٹا جمع کرنے کی اہمیت کو تخلیقی انداز میں سمجھا اور اس کے لیے مطلوب ہنر پر گرفت کے حامل بھی ہوگئے۔ غالباً اسی بنیاد پر طارق ملک کو 2008ء کے انتخابات کے بعد

Read more

"سپنے” کی بھی حد ہوتی ہے

عام پاکستانیوں کی اکثریت کی طرح علم معاشیات کی مبادیات سے قطعاََ لاعلم مجھ ”صحافی“ کو بھی مختلف حکومتوں کے وزرائے خزانہ کی جانب سے نئے مالی سال کا بجٹ متعارف کروانے والی تقاریر سمجھ نہیں آتیں۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے ہماری حکومتیں مگر ”خسارے“ کا بجٹ ہی متعارف کرواتی رہی ہیں۔سادہ زبان میں ایسا بجٹ بنیادی پیغام یہ دیتا ہے کہ حکومت ریاستی بندوبست چلانے کے لئے میرے اور آپ پر لگائے ٹیکسوں کے ذریعے مطلوبہ رقوم جمع

Read more

"رجیم چینج” کی دہائی میں "دیوالیہ” کا شور

بولنے سے پہلے سوچنے کی ہمیں عادت نہیں۔ غالباََ اسی باعث میری ماں جیسی سادہ اور مہربان عورتیں اپنے بچوں سے دردمندانہ فریاد کرتیں کہ کوئی لفظ ادا کرنے سے پہلے ہمیشہ یاد رکھو کہ ”قبولیت“ کی گھڑیاں بھی ہوا کرتی ہیں۔ جس خواہش کا فی الوقت غصہ سے مغلوب ہوکر اظہار کر رہے ہو ”قبول“ بھی ہوسکتی ہے۔ وہ ”قبول“ ہوگئی تو لینے کے دینے پڑجائیں گے۔ ”قبولیت کی گھڑی“ کے بارے میں ہمارے اجتماعی شعور میں فکرمند ماﺅں

Read more

زلمے خلیل زاد اور ’پائیدار جمہوریت‘

ہفتہ کی رات سونے سے قبل ارادہ باندھ لیا تھا کہ اتوار کی صبح اٹھ کر جہانگیر ترین کی قیادت میں تحریک انصاف سے جدا ہوئے افراد پر مشتمل ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کو زیر بحث لاﺅں گا۔ روایتی ا ور سوشل میڈیا مذکورہ جماعت کو ’کنگز پارٹی‘ پکارے چلاجارہا ہے۔یہ مگر بتانہیں رہا کہ ’کنگ‘ یعنی بادشاہ کون ہے جس کی سہولت کے لیے ’استحکام‘ کے عنوان سے ایک نیا گروہ متعارف کروایا گیا ہے۔ ہمارے ’ریاستی

Read more

فارمیشن کمانڈرز کانفرنس اور 9 مئی کی ’سازشی منصوبہ بندی‘

پاک فوج کے کور کمانڈر جب فارمیشن کمانڈروں کے ساتھ مل کر کوئی اجلاس کریں تو یہ غیر معمولی حد تک ایک جامع عمل ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک اجلاس کے بعد بدھ کی شام مسلح افواج کے محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے ایک پریس ریلیز کا اجرا ہوا ہے۔اس کالم کے دیرینہ اور باقاعدہ قاری غالباً میرا یہ دعویٰ فی الفور تسلیم کرلیں گے کہ مذکورہ پریس ریلیز کی سخت گیر زبان نے مجھے ہرگز حیران نہیں کیا۔

Read more

اب ”صحافت“ کی ساکھ لٹنے کی دہائی کیوں

کسی بھی موضوع پر قلم اٹھاﺅں۔ چند شاعروں کے کچھ مصرعے ذہن میں فوراََ  گونجنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی مصرعوں میں مرحوم باقی صدیقی کی لکھی اس غزل کا وہ مصرعہ بھی ہے جسے اقبال بانونے گاکر شاہکار بنادیا ہے۔جی ہاں ”داغ دل ہم کو یاد آ نے لگے“۔ رزق کے حصول کےلئے مزید ذرائع ڈھونڈنے کی کاوش میں پیر کے روز ایک شام اور دو روز کے لئے لاہور گیا تھا۔اپنا کام نمٹاکر منگل کی رات واپس

Read more

آئین کی بالادستی کا”واہمہ”۔

زندگی کی حقیقتیں ہماری ذاتی خواہشات سے بے نیاز ہوتی ہیں۔سیاست سے جڑے حقائق بھی ایسی ہی بے اعتنائی برتتے ہیں۔ اپریل 2022ء سے ہمارے سیاسی منظر نامے پر ابھرے حقائق کا بغور جائزہ لیتے ہوئے لہٰذا میں یہ لکھنے کو مجبور ہوا کہ سابقہ حکومت کی برطرفی کے بعد تحریک انصاف کے بانی نے جس انداز میں اپنی فراغت کو ”امریکی سازش“ پکارتے ہوئے ”حقیقی ا?زادی“ کا نعرہ بلند کیا ہے اس کی شدت بروقت انتخاب کو ناممکن نہ

Read more

”آتی ہے اردو زباں آتے آتے“

ہو سکتا ہے بقول ابن انشاء”یہ باتیں جھوٹی باتیں “ہوں۔ ہماری ریاست کے طاقت ور ترین اداروں کے ساتھ دیرینہ ”قربت“ کے کئی دعوے دار مگر مجھ گوشہ نشین کو گزشتہ تین دنوں سے بتائے چلے جارہے ہیں کہ حکومتی قوانین وضوابط کے تحت چلائے ٹی وی چینلز کے مالکان کو صاف الفاظ میں بتادیا گیا ہے کہ کرکٹ سے سیاست کی جانب راغب ہونے کے بعد بالآخر کچھ عرصے تک ہمارے وزیر اعظم رہے صاحب کے ساتھ اب ”بس

Read more

9مئی کے واقعات اور انتہا پسندی کا بچگانہ پن

اس کے انجام کو فی الوقت بھلادیں اور تسلیم کرلیں کہ انقلاب روس جب وقوع پذیر ہوا تو اسے ایک تاریخ ساز واقعہ مانا گیا۔ یہ دنیا کے اس ملک میں ہوا جو ’مشرقی‘ کہلوانے سے شرماتا تھا مگر یورپ کے ’مہذب‘ ممالک اسے سفید فام اور مسیحی ہونے کے باوجود ’اپنا‘ سمجھنے کو آمادہ نہ تھے۔ رقبے کے اعتبار سے دنیا کے اس سب سے بڑے ملک کی بنیادی شناخت ’زرعی‘ تھی۔ صدیوںتک ’غلام‘ اس کی زمینوں کو سرسبز

Read more

ریاست کا”بس بھئی بس” والا معاملہ

میرا کھسکا ہوا دماغ دو روز سے مزید کھسک رہا ہے۔ اخبارات کھولتا ہوں تو ان میں نمایاں انداز میں اطلاع دی جا رہی ہوتی ہے کہ عمران خان کے ساتھ ہماری ریاست کا ”بس بھئی بس“ والا معاملہ ہو گیا ہے۔ اب ان کی جماعت میں سے نام نہاد ”الیکٹ ایبلز“ کو نکال کر ایک ”کنگز پارٹی“ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کالم یہاں تک پڑھ لینے کے بعد آپ کے ذہن میں فوراََ سوال یہ اٹھنا چاہیے

Read more

مئی کے مہینے میں ”خوشگوار“ موسم

بہت دنوں سے اعتراف کئے چلے جارہا ہوں کہ ذہن میرا واقعتا ”کھسک“ چکا ہے۔یہ فقرہ پڑھنے کے بعد آپ لوگوں کی اکثریت کے ذہن میں جائز بنیادوں پر میرے لئے تجویز یہ آنا چاہیے کہ اگر کسی موضوع پر توجہ مرکوز نہیں کر پا رہے۔ منتشر خیالات سے ذہن کوپراگندہ بنارکھا ہے تو یہ کالم لکھنا چھوڑ دو۔ کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرو اور اس کے لئے ہمت وسکت موجود نہیں تو گھر بیٹھ کر اللہ سے لولگاﺅ

Read more

آئی ایم ایف کا ”پُر امن“ پیش رفت کا حکم

کرونا کی وبا کے دنوں میں میرے عزیز دوست ندیم افضل چن صاحب کا ادا کردہ ایک فقرہ بہت مشہور ہوا تھا۔ موصوف ان دنوں سابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہوا کرتے تھے۔ غالباً کسی سرکاری بریفنگ کی بدولت کرونا کی وجہ سے ممکنہ تباہی اور نقصانات سے آگاہ ہوئے تو گھبراہٹ میں اپنے ذاتی معاون کو فون ملادیا۔ مقصد اس فون کا معاون کو یہ سمجھانا تھا کہ وہ ندیم صاحب کے دوستوں اور حامیوں کو سخت احتیاط

Read more

"خرچے” کے بعد حاصل ہوئے نتائج۔

کسی نہ کسی وجہ سے مشہور ہوئے چند افراد کی بابت منیر نیازی صاحب کے ادا کردہ طنزیہ فقرے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زبان زد عام ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ ”جگت“ لاہور کی تہذیب کا نمایاں حصہ رہی ہے۔ادیبوں اور شاعروں نے اس صنف کومعاصرانہ چشمک کیلئے استعمال کرتے ہوئے اپنے تئیں ایک لطیف ہنر بنا دیا۔ سعادت حسن منٹو نے اس ہنر کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے اپنے دور کے بڑے ناموں کے ”خاکے“

Read more

’خطرے ناک‘ عمران خان اور رانا ثنااللہ کے ’انکشافات‘

عمران حکومت کو محلاتی سازشوں کے ذریعے ہٹاکر برسراقتدار آنے والوں کی اکثریت ’کائیاں اور تجربہ کار‘ سیاست دان ہونے کی شہرت رکھتی ہے۔ 2018ء میں اقتدار گنوانے اور اپریل 2022ء میں اس کے دوبارہ حصول کے باوجود یہ ’نابغے‘ ابھی تک اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پائے کہ عمران خان کی اصل قوت ان کی ’مہارت بیانیہ‘ ہے۔ روایتی میڈیا کو تیزی سے پچھاڑتے سوشل میڈیا کی اہمیت کو انھوں نے ہمارے تمام سیاست دانوں سے بہت پہلے

Read more

اسد عمر کا ”اچھے دنوں“ کا انتظار

”ہم درد کے ماروں“ کو بالآخر مان لینا چاہیے کہ ”اپنے“ اپنے ہی رہتے ہیں۔ خدانخواستہ ان کے ہاتھوں لاہور کی خدیجہ شاہ سے منسوب کوئی حرکت نہ سرزد ہوجائے تو اکثر ان کی خطاﺅں کو درگزر کر دیا جاتا ہے۔ تازہ ترین مثال ہمارے ”اصل مالکوں“ کی جانب سے تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر کے ساتھ ہوا ”مشفقانہ“ سلوک ہے۔ 9 مئی کے بعد سے عمران خان کی بنائی جماعت کے خلاف کڑے وقت کا آغاز ہو

Read more

”ٹکر“ کے لوگوں سے ٹاکرا

گزری جمعرات میں طلعت حسین کے ٹی وی شو میں شامل ہوا۔ 9 مئی 2023 کے واقعات اس شو کا موضوع تھے۔ عاشقان عمران کا غضب بھرا ردعمل اس ضمن میں خصوصی طور پر زیر بحث آیا۔ ٹی وی سکرین پر دانشوری بگھارنے کا مجھے شوق نہیں۔ علم ابلاغ کے مہا گرو میک لوہان نے 1960 کی دہائی ہی میں جامع تحقیق کے بعد ہم جیسے جاہلوں کو سمجھا دیا تھا کہ ٹی وی ”ایڈیٹ باکس“ یعنی یاوہ گوئی کا

Read more

سیاست ِ عمران کے بیرونی سہولت کار

برطانیہ کی طرح امریکہ میں بھی عمران خان کے چاہنے والے بے شمار ہیں۔ امریکہ میں مقیم عاشقان عمران کی اکثریت ان کے پاکستانی نژاد برطانوی مداحین کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوش حال ہے۔ وہ انتہائی پڑھے لکھے طبقات کی نمائندہ ہے۔شوکت خانم ہسپتال کو باقاعدگی سے فراخدل چندہ دیتے ہیں۔اپنی خوش حالی اور اثر ان دنوں عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر بحال کرنے کے لئے بھی دل وجان سے استعمال کررہے ہیں۔ان کی کاوشوں کی

Read more

عمران خان کی جلاوطنی کی قیاس آرائیاں

شدید بے یقینی کے ان دنوں میں ”تجزیے“ کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اس کے باوجود میرے کچھ ”با خبر“ دوست ہیں جو نجی محفلوں میں تواتر سے دعویٰ کررہے ہیں کہ عمران خان کو ہماری ریاست کے کرتا دھرتا بیرون ملک منتقل ہونے کے ”پیغامات“ بھیجنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ وطن عزیز جن ”انہونیوں“ کی زد میں ہے ان کی شدت اتنی حیران کن نہ ہوتی تو میں اپنے دوستوں کی بتائی خبر پر

Read more

اب فواد چودھری ”وہ“ نہیں رہے

منگل کی رات جیو کے منیب فاروق کے پروگرام کی ریکارڈنگ کے بعد گھر لوٹنے سے قبل چند باخبردوستوں کی محفل میں بیٹھنے کا موقع نصیب ہوا۔ میرے سمیت وہ دوست بھی فواد چودھری کے دیرینہ شناسا تھے۔ ذاتی تعلق میرا اگرچہ ان کے تایا چودھری الطاف حسین مرحوم سے بہت گہرا رہاہے۔ سیاست کو وہ ایک بے رحم کھیل تصور کرتے تھے اور اس تناظر میں بنائی دوستیاں اور دشمنیاں ڈٹ کر نبھاتے۔ مجھے گماں تھاکہ فواد چودھری ان

Read more

مہربان سائبان بالآخر رخصت ہوا

شعیب ہاشمی صاحب کافی عرصہ سے علیل تھے۔ ان کی بابت ”بری خبر“ آنے کے بارے میں لہٰذا میں کئی مہینوں سے تیار تھا۔ اس کے باوجود پیر کے روز ان کے انتقال کی مصدقہ خبر ملی تو جی دہل گیا۔ یوں محسوس ہوا کہ اپنے ساتھ میری جوانی کا بہت بڑا حصہ بھی وہ لے گئے ہیں۔ یادداشتوں کا ذخیرہ یک دم خالی ہو گیا۔ شعیب صاحب پکے لاہوری تھے۔ اس شہر کے قدیمی گھرانوں کے حسب نسب اور

Read more

مولانا کا دھرنا، خانہ جنگی کے لئے ٹھوس مواد

نظریاتی اعتبار سے مجھے مولانا فضل الرحمن کا پیروکار اور حلیف تصور کیا ہی نہیں جاسکتا۔ ملکی سیاست کے بارے میں برسوں تک پھیلی رپورٹنگ کی وجہ سے اگرچہ میں انہیں ایک زیرک سیاستدان تصور کرتا ہوں۔ ان کی جماعت بھی حیران کن حد تک منظم ہے۔ اس کا حالیہ ثبوت وہ قافلے ہیں جو مولانا کی انتہائی عجلت میں دی کال کے فوری بعد سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بے شمار علاقوں سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونا

Read more

عمران خان کی ضد اور پی ٹی آئی کا مستقبل

بدھ کی سہ پہر سے آڈیو لیکس کا لامتناعی سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ مقصد اس کا عام پاکستانیوں کو باور کروانا ہے کہ عمران خان کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد کور کمانڈر لاہور سے مختص ’جناح ہاﺅس‘ پر مشتعل ہجوم کا دھاوا ہرگز ’برجستہ‘ نہیں تھا۔ تحریک انصاف کی مقامی قیادت اسے اکسانے اور بھڑکانے میں بھرپور حد تک ملوث تھی۔ مذکورہ لیکس کے بعد افواجِ پاکستان کے ترجمان ادارے کی جانب سے ایک بیان جاری ہوا۔

Read more

مشتعل ہجوم کی پرکار ”برجستگی“

مجھے ہرگز خبر نہیں تھی کہ عمران خان کو منگل کے روز ہر صورت گرفتار کرنے کا ارادہ باندھ لیا گیا ہے۔ اس دن صبح اٹھتے ہی لیکن جو کالم لکھا وہ سابق وزیر اعظم کے خلاف ”بس بھئی بس“ والی فضا دیکھ رہا تھا۔ بہرحال اب وہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ الزام کرپشن کا ہے جو عمران خان سے قبل آصف علی زرداری اور نواز شریف جیسے رہ نماؤں کے خلاف بھی بروئے کار لایا گیا تھا۔ نیب نے

Read more

”آئین کا تحفظ“ صرف پنجاب کیلئے ؟

صحافیوں کو اتوار کے دن ”خبر“ کبھی کبھار ہی ملتی ہے۔ اسی باعث متحرک رپورٹر اس روز چھٹی کو بضد رہتے ہیں۔ گزشتہ اتوار تاہم چیف جسٹس عمر عطا بندیال صاحب نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رونق لگا دی۔ ان کے خطاب کی بابت میں اگرچہ قطعاََ لاعلم تھا۔ ٹیلی فون مگر کھڑکنا شروع ہو گیا۔ واٹس ایپ اور ٹویٹر کے ذریعے سوالات بھی آئے۔ شناسا مہربان اب تک یہ سمجھ ہی نہیں پائے ہیں کہ

Read more