پیش منظر کا پس منظر

کیا پیش منظر اور پس منظر کا وجود ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ پیش منظر کو سمجھنے کے لئے، کیا پس منظر جاننا ضروری ہے اور اسی طرح، کیا پس منظر، پیش منظر کا پیش خیمہ ہے۔

کسی منظر کو سمجھنے اور جاننے کے لئے، اس پس و پیش کی گہرائی، وسعت اور ان کے آپس کے تعلق کو، کیوں کر تولا یا ماپا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے دور اندیشی ہی لازمی ہے یا قرب ذہانت سے ہی کام چل سکتا ہے۔ ایک ہی منظر مختلف سطح کی ذہانت کے حامل کو ایک ہی سا دکھائی دیتا ہے یا اس کے لیے بلا واسطہ اور بالواسطہ، مخفی اور نمایاں سطح پر، شعوری اور عقلی مہم جوئی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ مختلف ذہنی حیثیت اور کیفیت ایک ہی مرکز پر کیوں کر یکسو ہو سکتی ہے۔

Read more

راجہ تری دیو رائے نے مجھے شرمندہ کر دیا

مقررہ دن اور وقت پر ہماری فائنل ملاقات شروع ہوئی اور ان کی خواہش پر لائبریری سے حاصل کردہ کتاب، میں نے انھیں تھما دی اور وہ میری لائی ہوئی کتاب پڑھنے میں محو ہوئے اور میں ان کا چہرہ! دراصل وہ ایک مختصر دورانیہ کا پروگرام تھا جو مہاتما بدھ کے حوالے سے منایا جانے والے Festival of Lights کے موقع پر، 1980 کی دہائی میں تیار کیا جانا تھا۔ عام طور پر ایسے پروگراموں کے لئے، سکرپٹ رائٹر

Read more

دلیپ کمار نے انکل سرگم کو پٹائی سے بچا لیا

سفارت خانے کی تقریب جاری ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے یا تو تعارف حاصل کر رہے ہیں یا اپنی گفت و شنید میں مصروف ہیں۔ ہر کسی کی توجہ دلیپ صاحب پر ہے۔ وہ اس وقت مرکز نگاہ ہیں۔ اب سفیر، دلیپ کمار صاحب کا تعارف فاروق قیصر سے کرا رہے ہیں۔ دلیپ صاحب، انکل سرگم کے سراپے سے تو بہ خوبی متعارف ہیں، مگر منظر پر دکھائی نہ دینے والے، فاروق قیصر سے تعارف تو بنتا ہے۔ وہ فاروق

Read more

احمد رشدی نے پلک جھپکتے، ہمیں صحافی بنا دیا

یہ خبر کیسے ہم تک پہنچی، یہ تو یاد نہیں کیوں کہ وہ زمانہ محض ایک چینل کا تھا اور ٹکر کا تصور بھی تب تک وجود میں نہیں آیا تھا، جس کی تکرار کبھی نہ کبھی دیکھنے والے کی توجہ حاصل کر ہی لیتی ہے۔ ضرور یہ خبر کسی اخبار میں ہی دیکھی گئی ہو گی کیوں کہ اپنی دلچسپی کی خبریں آدمی سے کہاں دور رہ سکتی ہیں۔ اور یہ خبر اتنی غیر اہم بھی نہیں تھی کہ

Read more

پروفیسر زکریا ساجد اور کلاس کے آخری پانچ منٹ

کلاس کے لئے جوں ہی گھنٹی بجتی، اور ہونے والی کلاس ان کے لئے مخصوص ہوتی، تو سارے طالب علم صحیح معنوں میں الرٹ ہو جاتے کہ دیکھیں آج کس کی باری ہے! دراصل ان کا مشاہدہ ہی اس قدر گہرا تھا کہ وہ جان لیتے تھے کہ کس طالب علم نے کہاں ڈنڈی ماری ہے۔ کون پڑھائی سے کتنا غافل ہے۔ کون کوری ڈورز میں ہی چکر لگاتا رہتا ہے۔ کون ہوسٹل اور کینٹین کا زیادہ رسیا ہے۔ ان

Read more

علم اور رویے میں تعلق کیسے قائم کیا جائے؟

نہیں معلوم، اطلاعات کی یلغار سے، فی زمانہ اپنی کوئی متوازن رائے قائم کرنا، کسی واقعے کے حقیقی وجوہات تک پہنچنا یا کسی معلوم شخصیات کے نامعلوم پہلوؤں کو غیر جانبدارانہ رویہ رکھتے ہوئے سمجھنا، اب ممکن ہے کہ نہیں۔ درحقیقت، جاننے کا عمل اس قدر سہل ہو چکا ہے کہ بلا تردد، آپ کسی موضوع، کسی شعبہ زندگی، کسی مکتبہ فکر، کسی علمی شاخ سے متعلق جو چاہیں ( اور اگر مبالغہ نہ ہو تو جب چاہیں ) حاصل

Read more

اتنی اہم خبریں، اتنی کم عمر کیوں ہوتی ہیں

آپ ابھی اپنے ذہن پر زور دیں کہ پچھلے ہفتے یا ہفتوں میں جو خبر صبح شام آپ کے حواس پہ سوار تھی، اور آپ متاثرہ فرد یا افراد کو اس کا حق دلانے یا اس کو حق ملتا دیکھنے کے لئے نہایت مضطرب تھے، اب اس کا کہیں ذکر کیوں نہیں، حالانکہ ابھی وہ تمام خبریں، اپنے منطقی انجام کو تو نہیں پہنچیں تھیں۔ اس طرح آپ فلیش بیک کرتے ہوئے، سوچتے جائیں اور حیران ہوتے جائیں۔ آپ کو

Read more

مان لیں، ستار ایدھی ہم میں سے نہیں تھا

وہ جگہ، جہاں لوگ عمل سے دور، صرف باتوں کے عادی ہوں۔ وہ جگہ، جہاں خود نمائی، روزمرہ زندگی کا چلن ہو۔ وہ جگہ جہاں منافقت پر فخر کیا جاتا ہو۔ وہ جگہ جہاں، چیزوں ہی نہیں، رشتوں میں بھی ملاوٹ کی جاتی ہو۔ وہ جگہ ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جاتا ہو۔ وہ جگہ جہاں دوسروں کے مسائل سے لاتعلق رہنے کا رواج ہو۔ وہ جگہ جہاں دکھاوے کی نیکی اور جتانے کے لئے کی گئی، بھلائی کا ڈھول پیٹا جاتا ہو۔ وہ جگہ جہاں والدین کی طرف سے بچوں کو ، حرص و ہوس کی تعلیم دی جاتی ہو۔ وہ جگہ جہاں دیانتداری، حماقت اور چاپلوسی، زمانہ شناسی قرار دی جاتی ہو۔ وہ جگہ جہاں انسانوں سے محبت اور مروت نہ رکھنے کے بہانے ڈھونڈنے جاتے ہوں۔

یہ کیسے یقین کر لیا جائے کہ ایک ایسا شخص بھی آیا تھا۔

Read more

الفاظ کی بارش میں معنی کی تلاش

اس بارے میں شاید ہی کسی کو اختلاف نہ ہو کہ اس کرہ ارض میں وجود میں آنے والی یا لائی جانے والی ہر نئی دریافت یا ایجاد، اپنے اندر، اچھے اور برے، دونوں پہلو لیے ہوئے ہوتی ہے۔

بی بی سی نے، کچھ برس پہلے، ایک بہت لاجواب ٹاک شو کیا تھا جس کی اہمیت کا اندازہ اس کے شرکا سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ تمام ماہرین، مختلف میدانوں کے نوبل انعام یافتہ تھے اور گفتگو کا موضوع تھا کہ کیا کسی ایجاد کے مرحلے کے دوران میں یہ تعین کرنا ممکن ہے کہ وہ دنیا کے لئے فائدہ مند یا نقصان دہ ہو گی۔ شرکا عمومی طور پر متفق تھے کہ ایسا شاید ممکن نہ ہو۔ بصورت دگر اس ممکنہ ایجاد کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

Read more

کیا سب MIZARU بن جائیں

کبھی وہ دور تھا کہ اطلاع، خبر، اور معلومات، سر توڑ کوشش کے بعد حاصل ہوتی تھی اور اب، سوشل میڈیا کے متعارف ہونے کے بعد، عالم یہ ہے کہ یہ خود بہ خود آپ کے دسترس میں چلی آتی ہے۔ یہ ہی نہیں، یہ خود، آپ پر با آسانی، حملہ آور ہوتی ہے اور ہوئے چلی جاتی ہے۔ ان حالات میں، اب نہ صرف رائی کا پہاڑ بنانا آسان ہے، بلکہ اگر کوئی چاہے تو پہاڑ کو رائی بھی

Read more

طارق عزیز، اپنے فلمی کرداروں میں بھی انقلابی

اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ، باوجود اس کے کہ طارق عزیز ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، پاکستان ٹیلی ویژن (اور میزبانی) ان کی شناخت بنی۔ اس کی ایک وجہ تو ان کی پاکستان ٹیلی ویژن سے ابتدائی وابستگی تھی، دوسرے پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد بھی ان کے پاکستان ٹیلی ویژن سے مسلسل متعلق رہنے سے، یہ ربط مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔

وہ ساٹھ کی دہائی سے اس سے وابستہ ہوئے اور پھر ستر کی دہائی سے کبھی تسلسل اور کبھی توقف کے ساتھ اس چھوٹی سکرین پر ان کا راج رہا۔ جب کہ ابلاغ کے باقی ذرائع پر ان کا یہ تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔ ریڈیو ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا ابتدائی ساتھی تھا، جب کہ فلم انڈسٹری میں وہ ساٹھ کی دہائی ہی سے شامل ہوئے مگر، اپنے دوسرے سیاسی دور کے شروع ہونے کے بعد، اس دل چسپی کا مظاہرہ نہ کر سکے جس کا وہ خصوصاً ستر کی دہائی تک کر چکے تھے۔

Read more

جان لیوا کورونا اور ہمارا معاشرتی رویہ

کورونا کی دہشت اور وحشت، تاحال نہ صرف قائم ہے بلکہ دنیا بھر کے مختلف خطوں میں اس کے سبز پاؤں، پوری شدت سے اپنی چھاپ ثبت کیے جا رہے ہیں۔ انسانوں سے اس کی پنجہ آزمائی مختلف سطح پر جاری و ساری ہے۔ ماہرین اور محققین ابھی تک یہ اندازہ لگانے سے یکسر قاصر ہیں کہ اس کا یہ زور، کب کمزور ہو گا اور انسان کب اس کے دائرہ اثر سے مکمل نجات حاصل کر پا ئے گا۔

Read more

طارق عزیز، ایک ہمہ جہت شخصیت

انور شعور صاحب کا ایک بہت خوبصورت مصرعہ ہے، ”خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ“ طارق عزیز اس مصرعے کا مکمل عکس تھے۔ ان کا ٹی وی میزبان ہونا، سیاست میں آنا، براڈکاسٹر بننا، فلموں میں اداکاری اور فلم سازی کے کام میں حصہ لینا، یہ ان کا وہ ظاہر ہے جو کوئی بھی آسانی سے دیکھ سکتا ہے اور اس کے بارے میں جان سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ سارا ظاہر، پس منظر میں ہونے والی اس انتھک محنت اور شبانہ روز جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس کے لئے، طارق عزیز صاحب، ماضی میں مسلسل سرگرم عمل رہے، تاکہ اپنے اس مستقبل کی تعمیر کر سکیں، جو ان کے دل میں، حقیقت کا روپ دھارنے کو مضطرب ہو گا۔

Read more

کورونا: ایک منصف جلاد

نہیں معلوم کہ انسانی تاریخ میں اس سے قبل ایسا ہوا ہو کہ کسی آفت نے بلا تفریق رنگ و نسل، ملک و ملت، حسب و نسب، مال و دولت، اور مذہب و عقیدہ، تمام انسانوں کو ایک صف میں لا کھڑا کیا ہو۔ کسی امتیازی سلوک کے بغیر، کسی پسند و نا پسند کے بغیر، کسی دوست اور دشمن کی تخصیص کے بغیر۔ اور انسانی تاریخ میں اس قربانی کو بھی بھلایا نہیں جا سکے گا جو اس آفت

Read more

احمد حسن دانی: زندگی کے مختلف راستوں کے متلاشی

یہ اتفاق تھا کہ 1997 میں، جب چکوال کے مقام پہ جانوروں کے قدیم ڈھانچے دریافت ہوئے، ہماری پرو فائل ڈوکو منٹری بھی اس شخصیت کے حوالے سے تھی، جنہیں دنیا بھر میں پاکستان کا ممتاز آرکیالوجسٹ، تاریخ دان اور ماہر لسانیات تسلیم کیا جاتا تھا۔ پاکستان میں اعلی تعلیمی سطح پہ آرکیالوجی کو متعارف کرانے کا سہرا بھی ان ہی کے سر ہے۔ احمد حسن دانی سے جو لوگ آگاہ ہیں، وہ اس بات کی تائید کریں گے کہ

Read more

کورونا کی کنفیوژن

آج کل جتنا زبان زد عام لفظ کورونا ہے، شاید کوئی اور لفظ نہیں، اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ اس کا دائرہ اثر صرف ایک زبان تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کی زبانوں میں اسی کا طوطی بول رہا ہے۔ اپنے مفہوم کی طرح یہ لفظ ان دنوں تاجور بھی ہے اور طاقتور بھی! اس کی برتری کے خاتمے کے خواہش مند ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، مگر محض بے بسی کی صحیح تصویر بنے۔ یہ بے بس افراد وہ نہیں جنہیں عوام الناس کہا جاتا ہے، ان میں ہر نوع کے ماہرین، محققین اور منتظمین، اس سوال کے آگے لاجواب دکھائی دیتے ہیں۔

Read more

شائستہ زید: ایک قابل تقلید مثالی شخصیت

یہ ہماری بہت مختصر اور ابتدائی ملاقات تھی اور تا حال یہ طے نہیں ہوا تھا کہ اس پرو فائل ڈاکیومنٹری کے کیا خدو خال ہوں گے۔ ہم اس وقت ٹیلی وژن کے ٹرانسمیشن سٹوڈیوز کے کنٹرول روم میں مو جود تھے اور شاید انھیں اس وقت بھی اپنے کسی اسائنمنٹ کی جلدی تھی، سو میں نے محض یہ بنیادی سوچ ان سے شیئر کی کہ اس پروفائل ڈاکیومنٹری کو مونولاگ کی شکل دیتے ہیں، ان کے پر جوش اور تائید ی رد عمل سے ہم خیالی کی طرف پیش قدمی شروع ہوئی۔

Read more

استاد ناشناس کی افغانستان کے بارے میں ایک پیش گوئی

یہ تب کی بات ہے جب افغانستان کے مایہ ناز گلوکار ناشناس افغانستان چھوڑ کر پاکستان کے راستے بیرون ملک روانگی کا ارادہ باندھ چکے تھے۔ پاکستان ٹیلی وژن کو جب ان کی، پاکستان میں موجودگی کا پتا چلا تو فوری طور پر ان کے ساتھ ایک ریکارڈنگ شیڈول کی گئی کہ جانے یہ موقع دوبارہ کب ملے۔ اس اہم کام کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے، اس کی انجام دہی کے لئے شعیب منصور کا انتخاب کیا گیا۔

ناشناس صاحب کا شمار ان گلوکاروں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ موسیقی سے لگاؤ رکھنے والا ایسا شاید ہی کوئی ہو گا جو ان کو دیکھنے، ملنے اور سننے کا متمنی نہ ہو، سو یہی پذیرائی انھیں پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن میں بھی ملی اور پی ٹی وی اسٹوڈیوز کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہاں ناشناس، بذات خود اپنی دل موہ لینے والی آواز کا جادو جگائیں۔ اس خصوصی ریکارڈنگ کے لئے، ناشناس کی شخصیت کی مناسبت سے افغانستان کی ثقافت سے ہم آہنگ سیٹ تعمیر کیا گیا۔ وہ خود بھی افغانستان کے مخصوص روایتی کرتے میں ملبوس ہوئے

Read more

ایک آدمی، سب سے جدا، محمد اکرم ڈوگر کی یاد میں

(مرحوم تین مئی 2020 کو حرکت قلب بند ہونے کے سبب انتقال فرما گئے )

جامعہ کراچی میں بی اے آنرز صحافت کا پہلا دن، ایک دوسرے سے اجنبی، پہلی بار ایک چھت کے نیچے جمع ہو رہے ہیں۔ اجنبیت نے، نہ چاہتے ہوئے بھی سب کو پر تکلف بننے پر مجبور کیا ہوا ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو، جب ایک دوسرے کے نام سے بھی آشنائی نہیں، تو بے تکلفی کیوں کر ممکن ہے۔ اسی سہمے سہمے ماحول میں کلاس ختم ہونے کی گھنٹی بجی اور ٹیچر کے کلاس سے جانے کے بعد، ان کے پیچھے سٹوڈنٹس بھی اس اجنبی ماحول سے نکلنے کے لے پر تول رہے ہیں کہ اچانک ایک آواز نے سب کی توجہ حاصل کرلی ”ہم نے یہاں چار سال گزارنے ہیں تو کیوں نہ ہم ایک دوسرے سے آج ہی متعارف ہو جایں ں“ ۔ لہجہ سادہ، کسی قدر دہقانی رنگ کی آمیزش، سانس بھی معمول سے تیز!

Read more