Author: ظفر اللہ خان
سی پیک کو کالاباغ کون بنا رہا ہے؟
سی پیک رفتہ رفتہ تنازعات کی نذر ہو رہا ہے۔ سی پیک کو کون متنازع بنا رہا ہے؟ تنازعات کی وجوہات کیا ہیں؟ کون کہاں کھڑا ہے؟ اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔ دیکھیے ایک بات تو معلوم ہے کہ لکھنے والازبان کی چاشنی ، لہجے کے آہنگ اور دلیل کی باڑھ سے خوشمنا کل کی تصویر بنانے کی جستجو میں ہوتا ہے۔ لکھتے ہوئے جذبات کی مناسب آنچ کا استعمال بھی شجر ممنوعہ نہیں۔ مشکل مگر یہ ہے
Read moreسی پیک منصوبہ: یہ ہاتھی کس کروٹ بیٹھے گا؟
بات چین کے (OBOR) سے شروع ہوئی تھی اور گوادر تک پہنچ گئی۔ اب دیکھتے ہیں کہ سی پیک(CPEC) کی بذات خود کیا تفصیل ہے۔سی پیک کی بنیاد مئی 2013 میںچینی وزیراعظم کے دورہ پاکستان کے ساتھ پڑی تھی۔اس وقت پاکستان میں میر ہزار خان کھوسو کی نگران حکومت تھی جبکہ آصف علی زرداری صدر تھے۔23 مئی 2013 کو مفاہمت کی یاداشتوں(MOUs) پر دستخط ہوئے تھے جس میں(long-term Economic Corridor plan, maritime cooperation and satellite navigation) کے منصوبے شامل تھے۔
Read moreگریٹ گیم میں گوادر کی اہمیت
منظر یہ ہے کہ اوبار(One Belt,One Road) چین کی معاشی برتری کا خواب ہے جس پر ٹریلین ڈالرز کی لاگت آنی ہے۔ اوبار کا ایک بنیادی جزو سی پیک(CPEC) ہے۔ سی پیک کی بنیاد گوادر پورٹ ہے۔ پہلے گوادر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر گوادر پورٹ کی اہمیت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ گوادر کی کہانی یوں توصدیوں پرانی ہے مگر تفہیم کی خاطر ایک مختصر جائزہ لازم ٹھہرتا ہے۔ 1780 کے ابتدائی عشرے میں سلطان
Read moreسی پیک کیا ہے اور گریٹ گیم کیا ہے؟
دنیا کے سیاسی اور معاشی نظام کو سمجھنے کے لئے جغرافیہ کے معاملات سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ جغرافیے پر ایک نظر ڈالتے ہیں تاکہ مستقبل میں ہونے والی معاشی کشمکش کی صورت حال واضح ہو سکے۔ یہ معلوم ہے کہ آج کی دنیا روایتی جنگ کی بجائے معاشی برتری کی جنگ لڑ رہی ہے۔ معاشی برتری کی اس جنگ میں اس وقت امریکہ، چین اور یورپی یونین مضبوط فریقین کے طور پر کھڑے ہیں۔ فری مارکیٹ اکانومی میں معاشی منڈیوں
Read moreاستاد شومن کے گلے میں طوق
لکھنے کو کتنے پامال موضوعات دستیاب ہیں پر یہ دل دیکھو، خس خانہ و برفاب کی حسرت میں اٹکا ہے۔ اسے دیوسائی کی کنواری جھیل کے کنارے بیٹھ کر فروری کے ابر آلود خنک صبحوں میں سورج کی تپش کی تلاش ہے۔ چارسدہ کے کسی حجرے میں منگئی اور رباب پر آدم خان اور درخانی کی داستان الفت کا گیت ایک بار پھر سننا ہے۔ تھر کی ریت پر وہ چاندنی رات اور وہ لوک گیت۔ ’ کدی آو نی
Read moreچارسدہ یونیورسٹی…. گرہ کھل گئی
شر سے کبھی خیر بھی برآمد ہونے کی سبیل ہو جاتی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (حلقہ درہ آدم خیل و پشاور) کے امیر خلیفہ عمر کے شر انگیز ویڈیو پیغام نے جہاں ان کا مکروہ چہرہ دکھا دیا ، وہاں صف بندی وا ضح کرنے کی سبیل بھی پیدا کر دی۔ اب تصویر واضح ہے. بھارتی قونصل خانے کے تیس لاکھ کی کہانی تمام ہوئی۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ذمہ داری قبول نہ کرنے اور ابہام
Read more

