ایک شیر ضیاء۔۔۔ دوسرا کون؟

آج صبح صبح نجانے کیوں ایک یاد ذہن کے کینوس پر اپنا سیاہ و سفید رنگ چھوڑ گئی۔ اپنا پہلا اردو سیریل جنگل میں نے ضیاء کے سفاک دورِ عروج میں لکھا۔ میری عمر اس وقت 26 سال تھی۔ ایک دن پی ٹی وی کراچی سینٹر سے کال آئی کہ اسلام آباد سے پی ٹی وی کے بڑے صاحب آئے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ جی ایم کراچی سخت پریشان تھے کہ آپ کو آنا ہوگا، میری نوکری

Read more

مدھوبالا، دلیپ کمار اور بھٹو۔۔۔ کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا

دلیپ کمار اور مدھوبالا کی محبت ہندوستانی فلم کی تاریخ کا ایک جادوئی باب ہے۔ دلیپ کمار نے 1922 میں پشاور میں آنکھ کھولی جب کہ مدھو بالا 14 فبروری 1933 کو دہلی میں پیدا ہوئییں۔ 1942 میں مدھو بالا پہلی بار ایک فلم میں جلوہ گر ہوئے۔ اس برس بننے والی فلم بسنت میں مدھو بالا نے اپنے حقیقی نام ممتاز سے اداکارہ ممتاز شانتی کی بیٹی کا رول کیا تھا۔ مدھوبالا کو مقبولیت 1949 میں بنی فلم محل

Read more

حقیقت کو پھانسی نہیں دی جا سکتی

وہ ایک دن تھا لیکن شاید دن نہیں تھا کیونکہ دن کو روشنی ہوتی ہے، اُجالا ہوتا ہے، سب کچھ صاف صاف نظر آتا ہے۔ تو پھر وہ رات تھی لیکن شاید رات بھی نہ تھی کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا لیکن یہاں کچھ سائے موجود تھے جو ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ وہ کچھ کر رہے تھے مگر یہ نہیں جانتے تھے کس کے لیے کر رہے ہیں اور اس کے اثرات کیا

Read more

جب بھٹو نے جلاد سے کہا ’پھندا کھینچو۔۔۔فنش اٹ‘

4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو رات دو بجے راولپنڈی کی سینٹرل جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گيا۔

ان کو راولپنڈی جیل کے زنانے حصے میں ایک سات بائی دس فٹ کی کوٹھری میں قید کیا گیا تھا۔

بھٹو کو ایک پلنگ، گدا، چھوٹی سی میز، اور ایک بک شیلف دی گئی تھی۔ بغل میں ایک چھوٹی سی کوٹھری تھی جہاں ان کے لیے ایک قیدی کھانا بناتا تھا۔

Read more

بھٹو کی پھانسی میں امریکیوں کا کردار

”مسٹر بھٹو ہم تمھیں ایک عبرت ناک مثال بنا دیں گے“ اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے ایک اور مثال دی۔
”مسٹر بھٹو! جب سامنے سے ریل گاڑی آتی دکھائی دے تو عقلمند آدمی پٹڑی سے ہٹ جاتا ہے“
ذوالفقار بھٹو نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا اور ڈاکٹر ہنری کسنجر کو اپنا موقف منوائے بغیر واپس جانا پڑا۔

بھٹو اور امریکی وزیرخارجہ ڈاکٹر ہنری کسنجر کے درمیان ہوئے اس مکالمے کو سابق چیف آف سٹاف ڈی جی آئی ایس آئی بریگیڈیئر (ر) سید احمد ارشاد ترمذی اپنی کتاب ”حساس ادارے“ میں لکھا ہے

Read more

بھیا ڈھکن فسادی کہتے ہیں کہ بھٹو اسلام دشمن تھا

بھیا ڈھکن فسادی نے قہوے کا پیالہ اٹھایا اور آنکھیں سکیڑ کر بولے ’تم جو بھی کہو، لیکن حقیقت یہی ہے کہ بھٹو اسلام دشمن تھا‘ ۔
ہم: بھیا اس نے کیا اسلام دشمنی کی ہے؟ ہمیں بھی بتائیں تاکہ ہم بھی اسے برا جانیں۔

بھیا ڈھکن فسادی: دیکھو وہ شراب پیتا تھا۔
ہم: واقعی گناہ تھا، لیکن کیا کسی کا ذاتی گناہ اس کی اسلام دشمنی سمجھی جائے گی؟ اگر آپ کسی پر بہتان لگائیں تو کیا یہ گناہ بھی آپ کی اسلام دشمنی کے لیے حجت سمجھا جائے گا؟

بھیا ڈھکن فسادی: دیکھو بہتان طرازی اور شراب پینا دو مختلف درجے کے گناہ ہیں۔
ہم: درست فرمایا۔ لیکن سنا ہے کہ دونوں پر ہی درے پڑتے ہیں۔ ویسے فی زمانہ ’میٹھا پان‘ کھانے والے مشائخ کو تو آپ اسلام دشمن قرار نہیں دیتے ہیں۔ یہ محبت بھٹو کے ساتھ ہی کیوں مخصوص ہے؟

Read more