عوامی نیشنل پارٹی بمقابلہ پشتون تحفظ موومنٹ


پشتون تحفظ موومنٹ کے پشاور جلسے میں جہاں اور بہت سی باتوں کا تذکرہ تھا وہاں پشتون دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی کی اس تحریک میں عدم شمولیت بھی اہم موضوع تھا۔ زیر نظر خیالات انہی دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ طویل گفتگو کا نچوڑ ہیں۔

خیبر پشتونخوا کے ووٹر کا مزاج رہا ہے کہ آزمائے ہوئے لوگوں کو یکسر مسترد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کام انہوں نے 2008 کے انتخابات میں ایم ایم اے کے ساتھ کیا۔ یہی کام انہوں نے 2013 کے انتخابات میں اے این پی کے ساتھ کیا اور یہی عمل وہ شاید آنے والے انتخابات میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی دوہرائیں۔ بظاہر یہ سیاسی منظرنامے پر نظر رکھنے والوں کا قیاس ہے مگر اے این پی اس قیاس کو حتمی سمجھ کر الیکشن مہم میں کودنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب نواز شریف کو نکالنے اور مسلم لیگ ن کی صدارت سے ہٹانے کے بعد، سینیٹ کے انتخابات میں چیئرمین سینیٹ کے لئے پیپلز پارٹی کا رضا ربانی پر ایک گم نام شخص کو فوقیت دینے کا مطلب سیاسی پنڈت یہی لے رہے ہیں کہ زرداری صاحب آئندہ انتخابات کے لئے درپردہ قوتوں کے ساتھ کسی بھی حد تک ساز باز کو تیار ہیں۔ ادھر اے این پی خود کو پیپلز پارٹی کا قدرتی اتحادی سمجھتی ہے۔ لہذا اے این پی خیبر پختونخوا میں اگلی حکومت سازی کے لئے خود کو سب سے مضبوط جماعت سمجھ رہی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اسی طے شدہ سکرپٹ کے مطابق دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کی طرف خوشی خوشی بڑھ رہی تھی کہ کہانی میں ایک ایسا جھول آیا جس نے پارٹی کو دو راہے پر لا کھڑا کردیا ہے۔

اس سال فروری میں جو بائیس نوجوان اپنے بنیادی سیاسی حقوق کا نعرہ لے کر ٹانک سے اسلام آباد کی جانب نکلے تھے، آج ان کے پہلو میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان، خواتین اور بوڑھے کھڑے ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کہ یہ کیسی آزادی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ بنیادی طور ایک سول رائٹس موومنٹ ہے جن کے مطالبات میں کوئی ایک بھی ایسا مطالبہ شامل نہیں ہے جو کو غیر قانونی، غیر آئینی یا غلط کہا جا سکتا ہو۔ اس تحریک کی تمام تر شکایتوں اور مطالبوں کا بظاہر تعلق (صحافتی زبان میں تو ’درپردہ قوتوں‘ کے ساتھ ہے) مگر چونکہ اس موومنٹ کی لیڈر شپ اپنے جلسوں میں براہ راست عسکری اداروں کا نام لیتے ہیں اس لئے یہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں کہ پی ٹی ایم کی تمام شکایتوں اور مطالبوں کا تعلق بظاہر عسکری اداروں کے ساتھ ہے۔ یہی وہ جھول ہے جو اے این پی کی سیاسی سکرپٹ پر تلوار کی طرح لٹک رہی ہے۔ ایک طرف نئی ابھرنے والی پشتون تحریک اور دوسری طرف عسکری ادارے ہیں۔ اے این پی کے آگے سمندر اور پیچھے کھائی ہے۔ اے این پی نے ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا اور بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ یہ پارٹی عسکری اداروں کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے۔ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان اشاروں کناروں اور ان کے فرزند انجمند ایمل ولی خان واضح طور پر کارکنوں کو پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کر چکے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اکیسویں صدی کا کارکن بیسویں صدی کے کارکن کے مقابلے میں نہ صرف زیادہ باخبر ہے بلکہ اس کے پاس اظہار رائے کے لئے سوشل میڈیا کی صورت میں ایک فورم بھی دستیاب ہے۔

اے این پی کے اس فیصلے کے خلاف پارٹی کے اپنے کارکنوں کی طرف سے اتنا سخت ردعمل آیا کہ لیڈرشپ بھی ششدر رہ گئی ہے۔ اے این پی کے ایک کارکن نے ایمل ولی خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا “باچا خان اور ولی خان نے میرے اندر جو سافٹ ایئر انسٹال کیا ہے وہ مجھے مجبور کررہا ہے کہ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں“۔ لیڈر شپ کی سطح پر بھی پارٹی بظاہر دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔ ان میں ایک وہ سیاسی اشرافیہ ہے جو اے این پی کو اقتدار کے مزے لوٹنے کا بہترین وسیلہ سمجھ رہے ہیں اور یہی وہ شخصیات ہیں جن کا ریموٹ بظاہر ان قوتوں کے ہاتھ میں ہے جو پاکستان میں اقتدار کی چراغ کو جلاتے بجھاتے رہتے ہیں۔ ان شخصیات کو دوہزار آٹھ سے دوہزار تیرہ تک اقتدار میں رہنے کے دوران طاقت کا چسکا لگ چکا ہے۔ اس دوران فائل بھی نیب تک پہنچ گئے۔ نادیدہ قوتیں کبھی گاجر تو کبھی ڈنڈا دکھا کر اے این پی کی پالیسیوں پر انداز ہو رہی ہیں۔ سابق وزیراعلی حیدر خان ہوتی کے بھائی غزن اور پرسنل سیکریٹری سید معصوم شاہ کے خلاف کرپشن کے مقدمات اور ڈیل اس کی ایک آدھ مثالیں ہیں۔ لگتا ہے کہ اے این پی اس وقت مردان ہاوس مردان اور مردان ہاوس کراچی کے آسیب کے سائے میں ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ ان پشتون نوجوانوں پر مشتمل ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بالواسطہ یا بلاواسطہ شکار ہو ئے ہیں۔ اس کی قیادت کا تعلق غریب اور متوسط طبقے سے ہے مگر ان کو نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک آباد تعلیم یافتہ پشتونوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ان میں آئی ٹی ایکسپرٹ، پی ایچ ڈیز، انجینئرز، ڈاکٹرز اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کوئٹہ اور پشاور کے جلسوں میں بعض افراد بیرون ملک سے خصوصی طور پر شرکت کرنے آئے۔ ایسے میں اے این پی کا تعلیم یافتہ کیڈر بھی اس موومنٹ کے ساتھ کھڑا ہوچکا ہے۔ یہ اس پارٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے اور بلا مبالغہ اور بلا تعصب یہ کہا جاسکتا ہے کہ اے این پی کا پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف کھڑا ہونا ایک غیر مقبول ترین فیصلہ ہے۔

اگرچہ کچھ لوگ اشاروں کنایوں میں یہ کہہ رہے ہیں کہ پارٹی نے اقتدار میں آنے کے لئے در پردہ ڈیل کی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اگر پشتون تحفظ موومنٹ کی سیاسی جدوجہد اسی طرح برقرار رہی تو شاید اے این پی کی بطور پارٹی قوت ٹوٹ جائے۔ دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ جس اے این پی سے اقتدار چھین کر تحریک انصاف کو دیا گیا آج وہی پارٹی اور پی ٹی آئی دونوں پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف فاٹا میں پاکستان تحفظ موومنٹ نامی ایک نئی تنظیم کھڑی کردی گئی ہے۔ گویا اے این پی، تحریک انصاف اور پاکستان تحفظ موومنٹ ایک ہی صف میں کھڑے ہیں ۔ ان تمام اور باہم متضاد جماعتوں کا ایک ہی صف میں کھڑے ہونے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کا درپردہ امام کون ہو سکتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ نادیدہ قوتیں باچا خان کے نظریے اور سیاسی طاقت کو کمزور کرنے کے لئے مذہبی جماعتوں، وفاق کی سیاست کرنے والی جماعتوں، کالم نویسوں اور صحافیوں کو مراعات دے کر کمزور کرنے کی سعی کرتی تھیں لیکن آج اسی باچا خان کا خاندان اور ان کی سیاسی وارثت کی دعویدار پارٹی جبر کی کھوکھ سے جنم لینے والی پشتونوں کی سول رائٹس موومنٹ کو کمزور کرنے کے لئے پراکسی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

کل تک پشتون دانشور اور سیاسی کارکن اے این پی کو پشتون حقوق کی نمائندہ جماعت تسلیم کرتے تھے مگر آج وہی دانشور اور سیاسی کارکن اے این پی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ دو صورتیں ہو سکتی ہیں، یا تو اے این پی اسی راہ پر چل پڑی ہے جن خدشات کا اظہار یہ احباب کر رہے تھے یا پھر اے این پی کی لیڈر شپ، فیصلہ سازی میں افراسیاب خٹک اور بشری گوہر جیسے احباب کی رائے پر حیدر ہوتی اور ایمل خان کی رائے کو ترجیح دینے لگی ہے۔ مگر جاننا چاہیے کہ یہ پالیسی اقتدار کا راستہ تو شاید کھول دے مگر باچا خان کی رہنمائی کا اصلاحی رخ اور سیاسی وراثت سے اے این پی کو ضرور محروم کرنے کا آغاز ہو گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 167 posts and counting.See all posts by zafarullah