خبردار، یہ ایک متعصبانہ تحریر ہے!


مترو، لسانی شناخت ایک حساس اور پرپیچ معاملہ۔ بالخصوص ہجرت کے بعد سندھ میں آ کر بسنے والوں کے لیے معاملہ عرصے سے سنگین اور غمگین ہے۔ یہ طبقہ باقیوں سے نالاں، باقی اِن سے متنفر۔ ”جاگ مہاجر جاگ “جیسے نعروں سے حالات مزید کٹھن اور کڑک ہوجاتے ہیں۔

ہمارے نزدیک اردو بولنے والوں کو تاریخ کا آئینہ دکھانے، فیس بک پر لتے لینے، لگے بندھے کلیے برتنے، نصیحتوں مشوروں سے یہ معاملہ سلجھ نہیں سکتا۔
کچھ روز ادھر فقیر نے ایک پوسٹ کی : ”پاکستان کو بنے ستر سال ہوگئے، پنجابی اب بھی پنجابی ہیں، اُنھیں اب پاکستانی بن جانا چاہے!“
دوست بڑے ناراض ہوئے۔ سٹپٹائے۔ ہمارے جہل پر ماتم کرتے آئے۔ چند نے تومتعصب ٹھہرا کر اپنی فرینڈ لسٹ سے باہر کا رستہ دکھادیا۔
وہ ایک تجرباتی، طنزیہ پوسٹ تھی۔

دراصل یہ بیان کچھ عرصے قبل مہاجر کمیونٹی کو مخاطب کرتے ہوئے سیکیورٹی ادارے کے ایک اعلیٰ عہدے دار کی جانب سے دیا گیا۔ اور نیک نیتی سے دیاگیا۔ بے شک سندھ میں مہاجر کارڈ کھیلا گیا۔ بے دریغ کھیلا گیا۔ بگاڑ آیا۔ خون بہا۔
البتہ لسانی شناخت کا معاملہ پرپیچ اور گنجلک ہے، تو جذباتی ردعمل آنا متوقع تھا۔
خیر، ہم نے اپنی پوسٹ میں تجربے کے لیے مہاجر کی جگہ لفظ”پنجابی“ لکھ دیا۔ جو ردعمل ابھرا، وہ بڑا فطری تھا۔ یعنی جذبات سے بھرپور۔

اب مہاجر شناخت کے مسئلے پر آئیں، جسے ایک تحریر، متعدد تحریروں، کتابوں، تقریروں سے بہ ہرحال حل نہیں کیا جاسکتا، مگر کوئی اور راستہ بھی نہیں۔
لفظ ”مہاجر“کسی باعث، شاید اپنوں کے جہل، غیروں کی سازش یا حالات کے جبر کے باعث، ہجرت کے بعد سندھ میں آباد ہونے والوں سے چسپاں ہوگیا۔ اِس گروہ سے، جس میں دہلوی، لکھن ¿وی، حیدرآبادی، میرٹھی، بہاری، آگرے والے وغیرہ وغیرہ شامل تھے۔

لسانی شناخت کو حوالہ بنانا قطعی غلط نہیں۔ اس پر تھوڑا بہت فخر کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، ہاں، اِس کی بنیاد پر اوروں کو کم تر جاننا ضرور غلط ہے۔ یہ بھی تہذہبی نرگسیت کی ایک شکل۔
مہاجر وںکے مقابلے میں اردو اسپیکنگ، کم از کم ہمارے نزدیک، موزوں لفظ ہے۔ اس سے ہجرت، اس کے انسلاکات، اعتراضات، اس سے پیوست تفاخر سے بھی گلوخلاصی ہوگی۔
اردو اسپیکنگ ہونا ایسے ہی ہے، جیسے پنجابی، بلوچ، پشتون یا سندھی ہونا ہے۔

اگر پنجابی، بلوچ، پشتون، یا سندھی ہونا لسانی حوالے ہیں، تو اردو اسپیکنگ بھی لسانی حوالے کا کام دے گا۔ نسبتاًغیرمتنازع۔ نسبتاًستھرا نکھرا۔
اچھا، اگر مذکورہ حوالے جغرافیائی ہیں، اِس صورت میں بھی اردو اسپیکنگ ہجرت کرے ملک کے مختلف ٹکڑوں میں بسنے والوں کے جغرافیائی حوالے کا کام دے سکتا ہے۔
البتہ ہوا اِس کے برعکس۔ ہجرت کر کے سندھ میں بسنے والوں کے لیے لفظ مہاجر رائج ہوا۔ اپنوں کی غلطیاں، غیروں کا تعصب، حالات کا جبر۔ یا شاید کچھ بھی نہیں، یا شاید کچھ اور، مگر ہوا یہی۔ اوریوں وہی گھسے پٹے طنز:
مہاجر کے حقوق نہیں ہوتے بھوکے ننگے آئے تھےہجرت کوتو70 سال ہوگئے یہ لسانی سیاست ہے وغیرہ وغیرہ۔

یہ ایسے ہی ہے کہ کچھ افراد قید سے آزادی کے بعد کسی علاقے میں آن بسیں۔ مقامی لوگ انھیں شناخت کرنے کو ”قیدی“ کہنے لگیں۔ لفظ قیدی ان کی شناخت ٹھہرے۔ وہ اِسی سے پہچانے جائیں۔ بعد میں یہ لفظ اُن کی نسلوں کے ساتھ نتھی ہوجائے۔ اور جب وہ زمین سے جڑ چکے ہوں، اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہوں، انھیںبھوکے ننگے اور پناہ گزین کے طعنے دینے کے بعد کوئی دانش وَر کہے:”ہجرت اِنھوں نے نہیں، اِن کے اجداد نے کی تھی، اب یہ پاکستانی ہیں!“
(ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ مہاجر کا لفظ اوروں نے نہیں، خود اسی تہذہبی نرگسیت کے شکار طبقے نے چنا تھا۔ علما اس پر رائے دیں)

اچھا، ذرا لسانی شناخت کی پیچیدگی ملاحظہ ہو:
1: کراچی کے علاقے شاہ فیصل میں مقیم ایک پنجابی فیملی میں چالیس سال پہلے پیدا ہونے والا شخص آج کون ہے؟
اُس سے سوال کیا جائے، تو وہ کہے گا: میں پنجابی ہوں!
بے شک وہ یہی کہے گا۔ وہ خود کو پنجابی کہہ کر شناخت کروائے گا۔ گو وہ چالیس سال قبل کراچی میں پیدا ہوا، اردو بولتا ہے، سندھ میں بستا ہے۔ الغرض ان ہی لسانی اور جغرافیائی حوالوں کے باوجود، جوسندھ کے اردو اسیپکنگ کو میسر، وہ پنجابی ہے۔

2: سائٹ ایریا میں مقیم ایک پشتون خاندان میں تیس سال قبل پیدا ہونے والا نوجوان، اردو بولنے، سندھ میں بسنے اور کراچی میں پیدا ہونے کے باوجود، اس سوال کے جواب میں کہ تم کون ہو؟ کیا کہے گا؟
وہ یہی کہے گا کہ میں پشتون ہوں۔

بزرگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان مثالوں میں جن صاحبان کا ذکر، وہ جدی پشتی پنجابی یا پشتون ہیں۔ تو بھائی، جو ہجرت کرکے یہاں آئے، وہ بھی اپنی لسانی اور جغرافیائی شناخت سے کئی پشتوں سے وابستہ تھے۔ پھر اُن کے بچوں سے کیوں پوچھا جائے کہ میاں تم یہاں پیدا ہوئے، تو پھرمہاجر کیسے ہوگئے، بولو؟

یہ ہے اردو بولنے والوں کی لسانی شناخت سے جڑی پرپیچ صورت حال۔ بے چارے پریشان ہیں۔ پناہ گزین ہیں۔
مہاجروں کے معاملے میں تاریخ کا آئینہ دکھانے، مشوروں، نصیحتوں اور طعنوں کے بجائے دوستوں کو یہ سادہ سی بات سمجھنی چاہیے کہ ہماری حقیقت، ہر شخص کی حقیقت نہیں ہوسکتی۔
ہمارا سچ، ہر شخص کا سچ نہیں ہوسکتا۔
ہماری تاریخ، ہر شخص کی تاریخ نہیں ہوسکتی۔

حقیقت سیدھی لکیر نہیں۔ یہ ایک دائرہ ہے۔ لچھے دار ہے۔
پیاز کی چھلکوں کے مانند ہے، آنسو ساتھ لاتی ہے۔ منظر دھندلا جاتا ہے۔
تو کیا یہ سوال اہم ہے کہ پنجابی ستر سال گزرنے کے باوجود اب تک پنجابی کیوں ہیں، پاکستانی کیوں نہیں ہوجاتے؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں