عام انتخابات سے قبل سیاسی چابک دستیاں


2008 ء کے عام انتخابات سے قبل سانحہ بے نظیر بھٹو کی وجہ سے سیاسی فضا سوگوار تھی۔ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کافیصلہ کر چکے تھے۔ ایسی صورت میں زمام اقتدار اگر پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں آتی، توجمہوریت کا حسن کملانا یقینی تھا۔ اس لیے جناب آصف علی زرداری نے تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست کی کہ عام انتخابات میں بھرپور حصہ لیں، تاکہ وطن عزیز سے آمریت کا تناور درخت جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتوں کا حصہ ہو۔ محترم عمران خان کی انکار کو تو زرداری صاحب ہاں میں تبدیل نہ کراسکے، لیکن میاں صاحب نے میثاق جمہوریت کی لاج رکھنے کی خاطر انتخابات میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کردی۔ عام انتخابات سے قبل اور ابھی تک پیپلز پارٹی کا ایک ہی نعرہ ہے کہ ” جمہوریت بہترین انتقام ہے “ اسی نعرے کے تحت عام انتخابات میں حصہ لیا گیا اور پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پرابھر کر آئی۔

مسلم لیگ (ن) کیونکہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہ تھی، اس لیے انتخابی مہم بھی روکھے پن سے چلائی، لیکن پھر بھی دوسری اکثریتی جماعت قرار پائی۔ مسلم لیگ (ق) تیسری اکثریتی جماعت تھی۔ محترم عمران خان صرف پیچ و تاب ہی کھا کر رہ گئے۔ میثاق جمہوریت کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مرکز اور پنجاب میں مخلوط حکومتیں تشکیل دیں، گو کہ کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھانے سے قبل ہی دونو جماعتیں آپسی اختلافات کی وجہ سے ختم ہوگئیں۔ محترم عمران خان کی تنقید کے نشانے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نمایاں تھیں، کیونکہ ایک کی مرکز میں حکومت تھی تو دوسرے کی صوبہ پنجاب میں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر آئینی ترامیم کیں اور دور آمریت کی بدنام زمانہ آئینی شق 58 2B کو آئین پاکستان سے باہر نکا ل پھینکا۔

جیسے وطن عزیز میں ہر جمہوریت کو خطرے اور خدشے لاحق ہوتے ہیں، وہی خطرے اور خدشے پیپلز پارٹی کو بھی لاحق رہے۔ لیکن کسی بھی سیاسی جماعت نے جمہوریت کو مستحکم کو کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ادراک کیا۔ اکتوبر 2011 میں تحریک انصاف نے لاہور کے جلسہ عام میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا، جس نے و طن عزیز کے ہر سیاسی و غیر سیاسی حلقے کو چونکا دیا، اب تحریک انصاف کو بھی ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ محترم عمران خان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں پر جہاں بدعنوانی کے الزام لگاتے تھے، وہیں ڈرون حملوں کے خلاف بیان بازی کے ساتھ، تحریک طالبان کے خلاف آپریشن کی بجائے، مذاکرات کی راہ اپنانے پر زور دیتے تھے، نئے تبدیل شدہ پاکستان کی نوید اس کے علاوہ تھی۔

2013 ء کے عام انتخابات سے قبل علامہ طاہر القادری بھی تشریف لائے اور انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کیا اور اس کے لیے دھرنا دے کر جہاں دھرنا سیاست کا راستہ دکھا گئے، وہیں آئینی شقوں 62 اور 63 کے حوالے سے مطالبہ کیا کہ ریٹرننگ آفیسر انتخابی امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اس وقت اجازت دے، جب وہ مندرجہ بالا شقوں پر پورا اترتا ہو۔ 2013 ء کے عام انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب، ہزارہ اور سرائیکی صوبے کے مطالبات بھی سامنے آئے اور وطن عزیز کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں ان مطالبات کی حمایت کی اور وعدہ کیا کہ وہ برسر اقتدار آکر جنوبی پنجاب، ہزارہ اور سرائیکی صوبہ بنائیں گی۔ مسلم لیگ (ن) نے عوام سے وعدہ کیا کہ برسر اقتدار آئے تو چند ماہ میں لوڈ شیڈنگ اور بدعنوانی کا خاتمہ کردیں گے۔

2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے وفاق اور صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ نشستیں لے کر مرکز، صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں جنوبی پنجاب کے آزاد کامیاب امیدواروں، جے یو آئی اور پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔ صوبہ سندھ کی حکو مت پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی، لیکن اس دفعہ متحدہ کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کا تجربہ نہیں دہرایا گیا۔ صوبہ خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف نے جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی۔ عام انتخابات کے بعد حسب معمول دھاندلی کا نعرہ لگا یا گیا اور 126 دن کا دھرنا تحریک انصاف نے دیا، لیکن امپائر کی انگلی نہ اٹھنے، اپوزیشن کا ساتھ نہ دینے اور سانحہ اے پی یس کے رونما ہونے کی وجہ سے دھرنے کے مطلوبہ مقاصد پورے نہ ہوسکے۔

میاں صاحب کی حکومت کو بھی پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرح خطرات کا سامنا کرنا پڑا، کبھی دھرنا تو کبھی سانحہ ماڈل ٹاؤن، تو کبھی ڈان لیکس اور بالآخر پانامہ لیکس کی وجہ سے میاں صاحب کو تمام سرکاری و سیاسی عہدوں سے ہاتھ دھونے پڑے اور 2013ء کے انتخابات سے قبل علامہ طاہر القادری نے جن آئینی شقوں کا شگوفہ چھوڑا تھا، میاں صاحب کو ان ہی شقوں کے تحت نا اہلی کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ گو کہ مرکز اور صوبہ پنجاب میں حکومت تو اس وقت مسلم لیگ کی ہے، لیکن جو کچھ بلوچستان میں اور سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہوا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو کسی غیر مرئی قوت کا سامنا ہے۔ 2013 ء کے عام انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی، اے این پی، اور ایم کیو ایم کو جن مسائل کا سامناتھا، وہ مسائل آج مسلم لیگ (ن) کے سامنے ہیں اور مذہبی لبادے کی آڑ میں کبھی سیاسی شخصیات پر جوتا پھینکا جارہا ہے، تو کہیں سیاہی اور اب تو باقاعدہ طور وفاقی وزیر داخلہ پر مسلح حملہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف موسمی پرندے اور فصلی بٹیریں ایک سیاسی جماعت سے اڑ کر دوسری جماعت میں شامل ہورہی ہیں۔

2018 ء کے عام انتخابات سے پہلے وہی سیاسی فضا ہے، وہی گھسے پٹے سیاسی نعرے اور مطالبات ہیں، جو 2013 ء کے عام انتخابات سے قبل تھے۔ کراچی میں البتہ سیاسی صورتحال تبدیل ہوئی ہے، ایم کیو ایم مختلف دھڑوں میں بٹ چکی ہے اور ہر دھڑا کراچی کی نمائندہ جماعت ہونے کا دعوے دار ہے۔ ہر دھڑا کراچی کے ان مسائل حل کو کرنے کا دعوی کرتا نظر آتا ہے، جو وہ طاقت میں ہونے اور متحد ہونے کے باوجود بھی حل نہ کرسکے۔ دوسری طرف جنوبی پنجاب کے جو آزاد امیدوار مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں شامل ہوئے تھے، انہوں نے مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کیا اور اب وہ ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کا حصہ بن چکے ہیں۔ پانچ سال تک جنوبی پنجاب کے ان ارکان اسمبلی کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی اور نہ ہی جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا ادراک کرسکے اور نہ ہی جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا۔

اسی طرح جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے بھی عام انتخابات سے قبل اپنی راہیں جدا کرلیں اور راہیں جدا ہونے کے چند دن بعد جماعت اسلامی کے سیاسی مشیر جناب آصف لقمان قاضی نے وزیر اعلی پرویز خٹک پر سات بڑے منصوبوں پرمالی بد عنوانی اور غفلت کے الزام لگائے ہیں۔ جب تک جماعت اسلامی حکومت کا حصہ رہی، صوبے بھر میں امن ہی امن تھا، کہیں بدعنوانی کا شائبہ بھی نہیں تھا، لیکن حکومت سے نکلتے ہی سابقہ اتحادی کی بدعنوانیاں عیاں ہوگئیں، اب اس طرز سیاست کو کیا نام دیں؟ تحریک انصاف جہاں 100 روز میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کررہی ہے، وہیں فاٹا کو بھی صوبہ خیبر پختون خواہ میں ضم کرنے کی بات کررہی ہے۔ فاٹا کو صوبہ خیبر پختون خوا میں ضم کرنے کا معاملہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے، لیکن سیاسی جماعتیں اس معاملے پر بھی منقسم نظر آئیں اور عام انتخابات سر پر آکھڑے ہوئے۔

حکمران عام انتخابات سے قبل ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں، تاکہ ترقیاتی منصوبے پر کم ازکم ان کے نام کی تختی تو لگ جائے، چاہے منصوبہ تکمیل کو پہنچے یا نہ پہنچے اس سے ان کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔ گورنر سندھ نے بھی اگلے ہفتے کراچی میں چار بڑے ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کا اعلان کیا اور جن مقامات پر منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے، وہاں گرین لائن بس منصوبہ عرصہ دراز سے غیر ضروری تاخیر کا شکار ہے۔ ہزارہ، سرائیکی یا جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات ہو، فاٹا اور کراچی کے مسائل کو حل کرنے کی بات ہو، لوڈ شیڈنگ اور بدعنوانی کے خاتمے کی بات ہو، حکومتی اتحادیوں کی جانب سے پانچ سال گزارنے کے بعد ایک دوسرے پر الزام تراشیاں ہوں، عوام کو رجھانے کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان ہو، موسمی پرندوں اور فصلی بٹیروں کا ذاتی مفادات کی خاطر ایک سیاسی جماعت سے دوسری سیاسی جماعت میں پرواز کا معاملہ ہو، وہ سیاسی چابک دستیاں ہیں، جن سے ہر ووٹر کو آگا ہ ہونا ضروری ہے۔

بدقسمتی سے وطن عزیز میں خواندگی کی شرح پست ہے، جس کی وجہ سے ووٹرز کی اکثریت میں سیاسی شعور نہ ہونے کے برابر ہے، اس وجہ سے وہی نمائندے منتخب ہو کر اسمبلی میں جا کر براجمان ہو جاتے ہیں، جو نسلوں سے سیاست کو بطور پیشہ اور ذاتی مفاد کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔ جو جماعت تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان سیاست میں اتری تھی، اس میں بھی اس طرح کے سیاست دانوں کی کمی نہیں، جن پر بدعنوانی کے الزام لگ بھی چکے ہیں اور بعض پر ثابت بھی ہوچکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عوام کو چاہیے کہ سیاست دانوں کی عام انتخابات سے قبل سیاسی چابک دستیوں پر نظر رکھیں اور ایسے نمائندے کو ہرگز بھی ووٹ نہ دیں، جو گزشتہ عام انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد عوام سے کیے گئے، وعدے بھول گیا اور اب دوبارہ ان کا اعادہ کررہا ہے۔ کیونکہ جمہوریت اور سیاسی جماعتیں اس طرح کے مفاد پرستوں کی چابک دستیوں کی وجہ سے ہی بدنام ہوتی ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں