اعجاز اعوان اور بہترین آمریت کے دیگر فوائد


راجندر سنگھ بیدی کی ایک کہانی میں شادی کی پہلی رات کا منظر ہے۔ رفاقت کے ابتدائی لمحوں میں عہد و پیمان ہو رہے ہیں۔ بیوی فرمائش کرتی ہے ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘۔ تنہائی کی نیم روشن اور خوابناک فضا میں سپردگی کا یہ وفور بہت رومانی معلوم ہوتا ہے ۔ غالباً اس میں بے پناہ خلوص پایا جاتا ہے ۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ایسے بے ریا ، بے لوث جذبوں سے شروع ہونے والے تعلق بہت جلد دن کی دھوپ میں کمھلا جاتے ہیں۔ اسی حقیقت پسندی کے تناظر میں انسانوں نے معاہدے کے اصول ضابطے متعین کئے ہیں۔ فریقین کی ذمہ داریاں اور حقوق واضح طور پر بیان کئے جاتے ہیں۔ کسی معاہدے کی بنیاد فریقین کی نیک نیتی اور اخلاص پر نہیں بلکہ اختلاف اور تصادم کے امکانات پر رکھی جاتی ہے۔ اختلاف کا امکان کسی فریق کی مفروضہ بدنیتی یا کج روی سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس کا تعلق انسانوں کے تنقیدی شعور سے ہے۔ فرد ہو یا معاشرہ، انسانوں کی سب سے بڑی کوتاہی اپنے تنقیدی شعور کو کسی فرد یا گروہ کے ہاتھوں رہن رکھنا ہے۔ عصبیت کا جواز تراشا جائے یا کسی اور خوش نما بہانے کی آڑ لی جائے، معاہدے میں تنقیدی شعور کو بالائے طاق رکھنا انسانیت کی بدترین توہین ہے۔ انسانی معاشرے میں اہم ترین معاہدہ شہریوں اور ریاست کے درمیان قرار پاتا ہے جسے حق حکمرانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جمہوری حکمرانی تنقیدی شعور کا خیر مقدم کرتی ہے، حق اختلاف کا احترم کرتی ہے ، حقوق، اختیار اور احتساب کے واضح خطوط کھینچتی ہے ۔ دوسری طرف آمریت خوش نما وعدے کے نام پرانسانوں کو بے اختیار کرتی ہے۔ بلند کردار اور فوق الفطرت صلاحیتوں کے حامل فرد پر عوام کے اندھے اعتماد کا تقاضا کرتی ہے۔ انسانی تاریخ میں ہر آمریت اجتماعی احساس زیاں پر ختم ہوتی ہے کیونکہ اس کہانی کا حرف اوّل ہی شعور کی تنسیخ سے ترتیب پاتا ہے۔ اک ناممکن خواب کا دیکھیں خواب۔۔۔

آج کی معروضات کا اکھوا محترم اعجاز اعوان کے ایک مکتوب سے پھوٹا ۔ اعجاز اعوان وادی سون سکیسر کی مردم خیز دھرتی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ درس و تدریس سے منسلک ہیں اور سرگودھا میں مقیم ہیں۔ ان سے ابتدائی رابطہ کسی قدر تلخی کا پہلو لئے ہوئے تھا۔ انہوں نے کسی تحریر پر کٹیلے انداز میں تبصرہ کیا تھا۔ خیال آیا کہ سان پر رکھ لیا جائے ۔ کسی کی توہین کرنے میں کونسے پہاڑ لگتے ہیں، ذرا سی دیر کے لیے اخلاق اور دلیل کو ایک طرف ہٹا کر جارحانہ حملہ ہی تو کرنا ہوتا ہے۔ لیکن پھر بہتر رویہ غالب آیا۔ سیدھے اور صاف ڈھنگ میں اپنا نقطۂ نظر بیان کر دیا۔ اعجاز اعوان کا جواب آیا تو معلوم ہوا کہ انجانے میں کتنی بڑی غلطی سے بال بال بچے۔ ان کے ردعمل سے معلوم ہوا کہ واقعہ میں بات کی وضاحت چاہتے تھے۔ محض اختلاف اور توتکار سے غرض نہیں تھی۔ سال بھر ہونے کو آیا۔ وقفے وقفے سے کسی نہ کسی موضوع پر بات ہو جاتی ہے۔ باہم اعتماد کی فضا میں مکالمے سے افہام و تفہیم کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ حالیہ رابطے میں اعجاز اعوان نے سوال اٹھایا ہے کہ بدترین جمہوریت کو بہترین آمریت پر کیوں ترجیح دی جائے۔ مناسب سوال ہے۔ دیکھئے کسی حکومت کی کارکردگی جانچنے سے بھی پہلے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا حکومت جائز اور با جواز ہے۔ پرانے زمانے میں حکمران وراثت کی بنیاد پر حکمرانی کا دعویٰ کرتے تھے۔ کوئی سورج بنسی تھا تو کوئی چندر بنسی۔ پھر عقیدے سے حکمرانی کا جواز تراشا گیا۔ ہر دو صورتوں میں عوام بے اختیار تھے۔ نیک بادشاہ کے لئے درازئ عمر کی دعا کی جاتی تھی اور ظالم کے دن گنے جاتے تھے۔ حقیت یہ ہے کہ حکمرانی کا جواز عوام کی منشا نہ ہو تو حکومت کا جواز صرف اور صرف فوجی طاقت ہوتی ہے۔ 1789ء میں انقلاب فرانس ہو یا 1917ء میں انقلاب روس ہو، 1979میں ایران کا انقلاب ہو یا 1989ء میں رومانیہ کا انقلاب ہو، حتیٰ کہ اگست 1991ء میں سوویت یونین کی بغاوت ہو، حق حکمرانی عوام کے ہاتھ میں نہ ہو تو اقتدار کا حتمی فیصلہ فوج کرتی ہے۔ بغداد کی خلافت سے زار روس کے دربار تک، عثمانیہ سلطنت سے دہلی دربار تک بادشاہ کا تخت فوج کے طاقتور گروہوں کا مرہون منت تھا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ افریقہ میں مطلق العنان حکومتیں ہوں یا اشتراکی آمریتیں، فوج براہ راست حکومت میں شریک ہوتی ہے۔ مقننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ میں اختیارات کی تقسیم تو بہت نفیس توازن ہے، آمریت کا نقشہ ’تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے ‘ سے ترتیب پاتا ہے۔ آمریت کے ایک سرے پر سپاہ بے اماں اور دوسرے کونے میں حرم سرا کی مسہری بچھتی ہے۔ یحییٰ خان کے عہد میں افسر شاہی کے اعلیٰ ترین مدارج گجرات اور لاہور کی نائیکاؤں کی جنبش ابرو سے زیر و زبر ہوتے تھے۔ مشرف صاحب کے نورتن تو ابھی ’یہیں کہیں کوئی روشنی ہے جو آتے جاتے سے پوچھتی ہے ‘ کی تصویر ہیں۔ آمریت کا المیہ عوامی تائید کے جواز سے محرومی ہے۔ آمریت اپنے جواز کے بحران سے الجھتے الجھتے ناگزیر طور پر بقا کی بھول بھلیوں میں پھنس جاتی ہے۔ ہماری تاریخ میں عدلیہ نے ایک سے زیادہ بار نظریۂ ضرورت کے تحت آمریت کو جواز بخش دیا مگر عدالت وہ اختیار کیسے بخش سکتی ہے جو اس کے دائرہ اختیار ہی میں نہیں۔

مشرف صاحب کو تین سال بخشے گئے تھے، 2002ء میں ریفرنڈم کا ڈول ڈالا گیا تو کس کے منہ میں دانت تھے کہ تین برس کی میعاد پوری ہونے کا علان کرتا۔ ہمارے کچھ خیر خواہ جب آمریت کی دعوت دیتے ہیں تو ٹیپ کا مصرع یہ کہ آمریت ایک مختصر مدت میں سب کو سیدھا کرکے واپس چلی جائے ۔ اس خواہش کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ آمریت اپنے ورود کے لئے تو مٹھی بھر حامیوں کی محتاج ہو سکتی ہے، اس کی واپسی پر کسی کو اختیار نہیں ہوتا ۔ ایوب خان کے جنرل برکی اور جنرل اعظم 1965آنے تک بے اختیار ہو چکے تھے۔ یحییٰ خان کے نور خان اور ایڈمرل احسن کھڈے لائن لگا دیے گئے۔ ضیا الحق کے جنرل چشتی ’ایک اور طرح کی غداری‘ کی دہائی دیتے رہ گئے۔ جنرل عزیز، جنرل محمود اور جنرل عثمانی کو ایک ہی جنبش میں تڑی پار کر دیا گیا۔ اعجاز خان، آمریت کی طوالت میرے عاجزانہ کالم اور آپ کے حسن طبیعت کی محتاج نہیں۔ آمریت اپنی بقا کے لئے قوم کے بدترین عناصر سے گٹھ جوڑ کرتی ہے اور یہ عناصر ہر عہد میں صاف پہچانے جا سکتے ہیں۔ ضلع کے پولیس کپتان اور کمشنر صاحب بہادر کو ان کے نام ٹھیک سے معلوم ہوتے ہیں۔

ہماری نصابی کتابوں اور برائے فروخت صحافت میں آمریت کی خوبیوں کے ضمن میں انتظامی استحکام اور مستعدی جیسی خوبیاں گنوائی جاتی ہیں۔ در حقیقت آمریت میں نہ تو استحکام ہوتا ہے اور نہ مستعدی۔ ادھر ادھر سے مثالیں کیوں لائیں، آپ اپنے چار تجربات پر غور فرمائیں۔ کیا آمریت کے ہر دور کے اختتام پر قوم کو استحکام نصیب ہوا؟ آمریت کی مستعدی الطاف گوہر ، جنرل مجیب الرحمن اور راشد قریشی کی طلاقت لسانی کا کرشمہ ہوتی ہے۔ دس سالہ ترقی، نظام اسلام کی برکتیں اور جڑوں تک پہنچنے والی جمہوریت آپ کو یاد ہو گی۔ کبھی کسی عظیم دوست ملک کے شہری سے 1958ء کی ’عظیم جست‘ کا حال پوچھئے گا۔ ’مستعد آمریت‘ کی بہترین مثال ۔ ایک نکتہ یہ کہ جمہوریت قوم کے سواد اعظم سے استنباط کرتی ہے چنانچہ معمولی صلاحیت کا حامل رہنما بھی قوم کی کشتی کو آگے بڑھاتا ہے۔ آمریت ایک بطل عظیم کی محتاج ہوتی ہے جو حتمی تجزیے میں لال بہادر شاستری جیسے مرنجاں مرنج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آمریت کو اپنی بقا کے لئے نہایت نقصان دہ پالیسیاں اختیار کرنا پڑتی ہیں اور اسے اس ضمن میں عوامی احتساب کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ آمریت کو اپنے وجود کے لئے کاسہ لیس گروہوں کو بدعنوانی کی اجازت دینا پڑتی ہے۔ ہر آمریت بدعنوان گروہوں کے سہارے قائم رہتی ہے، بھلے بونس واؤچر کی بدعنوانی ہو یا سرکاری زمینوں کی الاٹ منٹ یا منشیات سے بھرے گل دان ۔ گل دان کا ذکر آیا تو بہت سے مرجھائے ہوئے پھول یاد آئے۔ مشکل یہ ہے کہ پسماندگی کی آکاس بیل مرجھانے کا نام نہیں لیتی۔۔۔

موسموں کا کوئی محرم ہو تو پوچھوں اس سے

کتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے میں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔