جنید تم دل دل پاکستان گاتے


wisi 2 baba

پولیس سیکیورٹی فورسز وغیرہ کے اہلکار ہمارے انوکھے لاڈلے ہیں۔ گھر والے جب انہیں کھیلنے کو چاند نہ دے سکے تو ہماری ماں کے جیسی ریاست نے انہیں سرکاری نوکری دے دی۔ اب ہمارے یہ انوکھے لاڈلے سرکاری خرچ پر اپنی آنکھوں کے سامنے تماشے ہوتے دیکھتے ہیں۔ ہمارا مان بڑھاتے ہیں جب کوئی تماشا موجود نہ ہو تو کسی آوارہ شہری کو پکڑ لیتے ہیں۔ اس کو تماشا بناتے ہیں اپنا دل خوش کرتے ہیں اچھا کرتے ہیں۔ اسی لیے تو انہیں رکھا ہوا ہے۔

جنید جمشید کے ساتھ اسلام اباد ائیر پورٹ پر ستھری ہوئی ہے۔ بھائی پہلے تو اپنے خلاف نعرے لگتے دیکھ کر ہکا بکا ہوا۔ اسے اپنی اتنی عوامی مقبولیت کا یقین نہیں تھا۔ ایک عدد ودیا سی دیسی گالی سن کر اسے اپنے لیے عوامی پسندیدگی کا احساس ہوا۔ ساتھ ہی چانن بھی ہو گیا پھر جنید بھائی نے کیا کمال دوڑ لگائی ہے لیکن پکڑا گیا اور مدولا گیا۔ ہمارے ٹیکس پر پلے ہمارے لاڈلوں کو مدت بعد تماشا دیکھنے کو ملا شکر ہے انکی بوریت دور ہوئی۔

jj-0

جنید جمشید نے جس وقت دوڑ لگائی اس وقت اسے دل دل پاکستان بھی گانا چاہیئے تھا۔ دل دل پاکستان کو گانے کا ایسا موقع پھر پتہ نہیں کب ملے۔ ہماری دیوانی قوم ہے کچھ پتہ نہیں جنید جمشید کی ٹکور دوبارہ کرنے کا خیال اب کب آئے۔ اس مختصر فلم میں جنید جمشید کا گانا ہوتا تو یہ ذیادہ ہٹ ہوتی۔ پاکستان لبرل ہو رہا تو ہمارا روشن چہرہ زیادہ اجاگر ہوتا۔

آپس کی بات ہے جنید جمشید کا گانا سانولی سلونی سی اک محبوبہ ہمیں زیادہ پسند ہے۔ اس میں ذکر ہے ہمارے پیر خانے کا یعنی ملتان کا۔ امریکہ کے نہ جاپان کے، ہم تو ہیں دیوانے بس ملتان کے۔ ملتان جو صوفیا کی دھرتی ہے جہاں کی زبان محبت ہے۔ جس محبت سے جنید جمشید کو رگڑا گیا دوڑایا گیا مارا گیا بس اسی سے ملتان کا خیال آیا۔ اتنی محبت تو صوفی ہی کرتی ہیں کہ مارنے والوں کا مسلک صوفیوں سے ہی تو ملتا ہے۔

الحمدللہ جنید جمشید صاحب کی ٹکور ہو گئی۔ بروقت ہو گئی ہونی بھی چاہیے تھی۔ دیر لگی لیکن ہو کر رہی۔ اس کی چاہت جنید نے کی تھی کچھ باتیں کر کے، قوم نے صرف انتظام کیا۔ ہم ایک دوسرے کو مذہب ایسے ہی سکھاتے ہیں۔ جب سب ایسے سیکھتے ہیں تو جنید جمشید کوئی آسمان سے اترا ہے۔

imran-khan-2

جنید جمشید سے پہلے پرویز رشید کے ساتھ بھی یہ سب ہوا تھا۔ ہمارے انوکھے لاڈلے سیکیورٹی والوں نے وزیر صاحب کو مار پڑنے سے تو بچا لیا تھا۔ وزیر صاحب کو صرف گھسیٹے جانے کی بزت ہونے کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ سچی بات ہے دلی مسرت ہوئی تھی۔ بھئی ہمارا دل کرتا ہم ہمت والے لوگ ہیں اپنے وزیروں کا بھی تھیٹر لگا لیتے ہیں۔

جب ہم چیف تیرے جانثار گا رہے تھے تو اصل میں وکیلوں کو ہاتھ سیدھا کرنا ہی تو سکھا رہے تھے ۔ وکیل بھائیوں نے نعیم بخاری کو کیا دھویا تھا کیسی شاندار شروعات کی تھیں۔ اس کے بعد ایسے ایسے نظارے وکلا نے ہمیں دکھائے کبھی جج عدالت چھوڑ کر بھاگے کبھی تھانیداروں کو کچہری میں مار پڑی ہے۔ اس دیوانے سے سیاستدان ڈاکٹر شیر افگن کو جو پھینٹی لگائی تھی وکیلوں نے ہم سب کتنا خوش ہوئے تھے۔

نوجوانوں کے لیڈر ہمارے عظیم کرکٹر کو جب سیاست کا شوق ہوا تو اس کی تربیت و مرمت کا سیشن پنجاب یونیورسٹی میں ہوا تھا۔ کپتان کو کیا کھینچا تھا لڑکوں نے اس کے لیئے قوم کو سراج الحق کا شکریہ ادا کرتے رہنا چاہئے کہ آخر جمعیت نے ہمارے دل کو ٹھنڈ پہنچائی تھی۔

imran-khan-1

الطاف بھائی نے جب اپنے چریا ورکروں سے اپنی پارٹی کے لیڈر پٹوائے تھے، کتنے دن ہم خوش رہے تھے۔ بھائی نے کیا ڈائیلاگ مارا تھا کہ اس گنجے کے سر پر اتنے زور سے جوتا ماروووووووووو کے آواز مجھے لندن میں آئے۔ ہم سب کو آواز آئی تھی سب کے دل باغ باغ ہو گئے تھے۔ویسے تو مشرف کے ساتھ کافی ہوئی ہے لیکن مزہ نہیں آیا اس کو بھی کہیں پہلوانوں کے دو ہاتھ پھر جاتے تو مزہ ہی آ جاتا۔

مشرف کو چھوڑیں اپنی کرکٹ ٹیم کی لتریشن کا کچھ سوچیں۔ جب تک قوم ان کی اپنے دست مبارک سے نہ لترول کرے مزہ آئے گا بھلا ۔ ہم مناسب رفتار سے ترقی کر رہے ہیں۔ کیا نظارہ ہو گا جب ہمارے محترم مولانا طارق جمیل مخالف فرقے کے ہتھے چڑھیں گے۔ مولانا فضل الرحمن کا فرقہ بدلنے کی کوشش ہو گی۔ کتنے لوگ ہیں جو اب تک بچے ہوئے ہیں ان سب کا نمبر بھی آئے گا کہ بات ادھر ہی جا رہی۔

یہ سب خوش کن ہے ہمیں خاموشی سے یہ سب ہوتے دیکھنا ہے کہ ہمارا قومی کردار میسنا ہی تو ہے۔ چپ رہیں یہ سب ہوتے دیکھیں انتظار کریں بس اس دن کا جب کوئی ہمیں پکڑے کسی چوک چوراہے میں اور ہمارا تماشا بنائے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “جنید تم دل دل پاکستان گاتے

  • 30-03-2016 at 2:08 am
    Permalink

    کسی کی چھترول پر مزے لینا، کسی کی بی عزتی کا تماشا بنانا….برداشت سیکھنے اور سیکھانے کی ضرورت ہے ہمیں..

  • 01-04-2016 at 1:02 am
    Permalink

    Umeed Hai Jald Wasi Sahab ki Bhi Chitrul Yatra Hogi to Hame bhi is se milta Julta Coulmn Likhne ka Sharf Hasil Hoga

Comments are closed.