370 آرٹیکل اور بولنے کی آزادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ویسے دیکھا جائے تو اس میں کوئی دو رائے نھیں کہ انڈیا نے اپنے زیر اثر کشمیر میں آرٹیکل تین سوستر ( 370 ) کا خاتمہ کر کے نہ صرف کشمیریوں سے نا انصافی اور بے ایمانی کی ہے اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاہدوں سے انحراف کر کے ایشیا ریجن میں بے چینی کے حالات پیدا کردیے ہیں۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی پاکستان اور انڈیا کے ذرائع ابلاغ میں ایک بحث سی چھڑ گئی ہے، ہر طرف کشمیر کشمیر اور 370 کے حوالے سے ٹاک شوز، مباحثے اور مختلف اقسام کی بحث اور کل کیا ہوگا کہ حوالے سے تجزیے پیش کیے جارے ہیں۔

اگر ہم آرٹیکل ( 370 ) تین سو ستر پہ سر سری نظر دوڑائیں تو دیکھنے میں آتا ہے کہ اب کشمیر انڈیا میں ضم ہوچکا ہے اور کشمیر میں کوئی بھی نان کشمیری زمین خرید سکتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ھم جیسے چھوٹے لیکھک بھی پاکستان کے کچھ وآٹس ایپ گروپ کے ساتھ منسلک ہیں اور کبھی کبھی ان گروپوں میں کچھ نہ کچھ شئیر کرتے اور لکھتے رہتے ہیں مگر تعجب اور حیرانگی اس وقت ہوتی تھی جب بھی مذہب، بلوچستان، کشمیر پے بولتے یا لکھتے تھے تو بنا کسی دیر کے یا تو گروپ ایڈمن سے وارننگ آجاتی تھی یا پھر گروپ سے نکال دیا جاتا تھا اور ایک مھینے کے بعد پھر گروپ میں شامل کیا جاتا تھا۔ اب تو تمام گروپس میں کشمیر، بلوچستان، مذہب کے ساتھ ساتھ پی ٹی ایم کے حوالے سے بھی بات کرنے کا انجام بھی کچھ اس طرح ہو جاتا ہے۔

کل کے دن ایک گروپ میں، جس میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کے بہت بڑے بڑے نام شامل ہیں، یہ لکھ دیا کہ اگر 370 کو پاکستان کی عینک سے دیکھا جائے تو پاکستان کے زیر اثر کشمیر میں اور بلوچستان میں کوئی بھی نان کشمیری اور نان بلوچ نہ صرف زمین خرید سکتا ہے بلکہ جی او سی یا کسی اور عہدے پے فائز بھی ہوسکتا ہے۔ بس پھر کیا ابھی ایک گھنٹہ بھی نھیں گزرا ا ایک ایڈمن صاحب نے گروپ سے نکال کر اس خبر کی تصدیق کردی کہ کشمیر، بلوچستان، مذہب اور پی ٹی ایم پہ اگر بولنا یا بحث کرنا ہے تو وہ کچھ بولا جائے جس کی اجازت ہے۔

پاکستان اس مہینے اپنے آزادی کا 72 واں جشن منا رہا ہوگا مگر افسوس کہ آج تک ہم سب کو سچ بولنے اور کچھ موضوعات پر بحث کرنے کی قطعئی آزادی نھیں۔ چاہے ایکٹرانک میڈیا ہو، پرنٹ میڈیا یا پھر سوشل میڈیا۔

بلال بلوچ فرانس

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •