ایران کشیدگی کے پیچھے امریکی منصوبہ بندی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایران نے امریکی جارحیت کے جوابی حملے میں 80 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکہ ایک بھی ہلاکت کی تردید کررہا ہے۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ امریکی دفاعی سسٹم کی موجودگی میں ایران بدلہ لینے کی غرض سے اس کے فوجی اڈوں پر میزائل برسا تا رہا، مگر دنیا کی سپرپاورکا سپر سسٹم حملہ روکنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک طرف دوطرفہ حملوں کے بعد فریقین کی جانب سے امن کی خواہش کا اظہار کیا جارہا ہے تو دوسری جانب جنگ پر بھی آمادہ نظر آتے ہیں، جنگ کی صورت میں خطے کے ساتھ عالمی امن بھی بری طرح متاثر ہوگا۔

امریکہ کے طاقتور ہونے میں کوئی شبہ نہیں، مگر ایران بھی جنگ کی صورت میں اپنے تمام ممکنہ وسائل جھونک سکتا ہے۔ ایران امریکہ جنگ پر دنیا میں جہاں کہیں بھی ایرانی نکتہ نظر سے اتفاق کرنیوالے جذباتی لوگ موجود ہیں، وہ چپ ہو کر نہیں بیٹھے رہیں گے۔ دنیا کے بڑے ممالک فریقین پر جنگ گریز رویے پر زور دے رہے ہیں، اس حوالے سے پاکستان سب سے زیادہ سرگرم ہے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہونے کے ناتے، دنیا بھر میں ہر قسم کی جنگ وجدل کے خلاف ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایران اور سعودی عرب کے مابین دیرینہ چپقلش کے خاتمے کے لئے بھر پورکردار ادا کیا اور اب امریکہ، ایران کے مابین امن کاؤشوں میں بھی سرگرداں ہیں۔ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر امریکی حملے کے بعد پاکستان نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کرتے ہوئے فریقین کو صبر و تحمل سے کام لینے پر زور دیاہے۔ پاکستان نے باور کرایا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی قطعاً اجازت نہیں دے گا، تاہم امریکہ اور ایران کے مابین جنگ ہونے سے خطے کے سبھی ممالک متاثر ہوں گے، اس کا نقصان پاکستان جیسے غریب ممالک کو زیادہ ہو گا۔

یہ امر حوصلہ افزاہے کہ ایران کی طرف سے عراق میں 2 امریکی اڈوں پر میزائل داغنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے جوابی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران نے بھی اس کے جواب میں کہا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، کیونکہ جنگ کسی صورت میں ایران اور اس خطے کے حق میں نہیں ہو گی۔ خدانخواستہ اگر جنگ شروع ہوتی ہے تو وہ ماضی کی جنگوں سے مختلف ہو گی اور کچھ بعید نہیں کہ شروع ہونے والی جنگ ایٹمی وار میں تبدیل ہو جائے جس سے دنیا میں کچھ نہیں بچے گا۔

اس لئے صرف پاکستان کی ہی ذمہ داری نہیں، بلکہ اقوام عالم کا بھی فرض ہے کہ وہ دنیا کو تباہی سے بچانے کے لئے اپنا موثر کردار ادا کریں۔ یہ جنگ اور کشیدگی دنیا کے کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے، کیونکہ جنگ کی صورت میں ایران کے پاس بڑا ہتھیار آبنائے ہرمز بند کرنا ہے، جس سے پوری دنیا کو 40 فیصد تیل کی ترسیل رک جائے گی۔ تجارت پر برے اثرات مرتب ہوں گے، اس لئے عالمی برادری اور خصوصاً نیٹو اتحادی ممالک کو امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں ایسی صورتحال بنانے سے روکنا ہو گا۔

وزیر اعظم عمران خان کامشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا صائب ہے کہ پا کستان خطے میں مزید کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، مگروقت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے ایک ایسے دوراہے پر جس پر ماضی میں ہم کئی مرتبہ پہلے بھی کھڑے ہو چکے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ہماری قیادت کے فیصلے بروقت درست تھے یا غلط، لیکن ایک بات سب کو معلوم ہے کہ پرائی جنگ میں جب بھی اپنے آپ کو جھونکا تواس کی تپش سے محفوظ نہ رہ سکے، بلکہ ہم نے اپنے ہاتھوں اپنے ملک میں ایک ایسی آگ بھڑکائی جس کے شعلوں کی تپش ابھی ماند نہیں پڑی کہ ہمیں ایک اور آگ میں دھکیلنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

امریکا کی ایران کے خلاف جارحیت کے بعد پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ایک مرتبہ پھریہ خدشہ بڑی شدت کے ساتھ سر اٹھا رہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان تنارعہ شدت اختیار کرتا ہے تو اس میں پاکستان کا کردار کیا ہوگا۔ ایک طویل مدت کے بعد پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں امریکا ایران کشیدگی کی تشویشناک صورتحال نے پاکستان کو پھر ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکا اورطالبان کے درمیان افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا معاملہ ابھی درمیان میں ہی ہے کہ یکایک امریکا نے پاکستان کی ایک اور سرحد پر جنگ چھیڑنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے جس کے گہرے بادلً پاکستان پر بھی منڈلا رہے ہیں۔

امریکا بظاہر سرکاری سطح پر پاکستان کو اپنا دوست کہتا ہے، مگر ہمیشہ کشیدہ صورت حال میں آزمائش میں ڈالنے کے ساتھ پاکستانی مخالف قوتوں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ افغانستان اور عراق جنگ کے بعد دنیا بھر میں بحث جاری رہی ہے کہ اب کس کی باری آنے والی ہے، کیونکہ امریکا سات سمندر پار کسی بھی ملک پر دہشت گردی کا الزام لگاکر کارروائی کرسکتا ہے اور اس کی بڑی وجہ دنیا کی تنہا سپر فوجی طاقت ہو ناہے۔ امریکا نے جو بہانہ عراق اور افغانستان پر حملے کا بنایا تھا، اسی سے ملتا جلتا بہانہ اس وقت ایران پر حملے کا بنا رہا ہے، پہلے ایران پر امریکہ مخالف کاروئیوں کا الزام لگا کر حملہ کیا گیا اور اب یو کرینی مسافر طیارہ کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، ایران نے اپنی غلطی مان کرسفارتی کا میابی حاصل کر لی ہے، امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر مخالف قوتوں پر کوئی بھی الزام لگا کر جارحیت کرسکتا ہے۔

ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے پیچھے بھی امریکا کی طویل مکارانہ منصوبہ بندی شامل ہے، امریکا ہماری ایک سرحد پر پہلے سے موجود ہے، اب ایران کے خلاف جارحیت کے بہانے دوسری سرحد پر بھی اپنا مورچہ بنارہا ہے، ہمیں قیام امن کی فاختہ بننے کے ساتھ مکار دشمنوں کی سازشوں کو بھی ناکام بنانا ہو گا۔ اگر چہ پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ہم کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، لیکن امریکا کے ساتھ ہمارا ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

پاکستان ایک بار پھر ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے، امریکا کی نہ دوستی اچھی اوردشمنی ہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ امریکا آئندہ کیا کرے گا، یہ کہنا قبل از وقت ہو گا، ہمیں وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے امریکا کی دوستی کے پیچھے چھپے مکارانہ طرز عمل سے بچنے کے لیے فہم و فراست اور تدبرسے کام لینے کی اشد ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *