چین میں تباہی پھیلانے والا کرونا وائرس پاکستان پہنچ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چینی شہر ووہان میں 830 افراد کو متاثر کرنے والا کرونا پاکستان پہنچ گیا ہے اور اس وائرس کا پہلا کیس سامنے آگیا، مہلک وائرس سے متاثرہ مسافر نے چین سے دبئی کا سفر کیا اور پھر وطن واپس پہنچا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ مسافر دبئی سے 21 جنوری کو کراچی پہنچا، بعد ازاں دوسرے مرحلے میں مسافر پرواز پی کے 332 کے ذریعے ملتان آیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ملتان میں قیام کے دوران طبعیت خراب ہوئی جس کے بعد متاثرہ شخص کو نشتر اسپتال منتقل کیا گیا، کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد مسافر کو آئی سولیٹ وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کروناوائرس کی پاکستان منتقلی کے خدشے کے پیش نظر باچاخان ایئرپورٹ پر حفاظتی اقدامات کیے جانے لگے ہیں، ایئرپورٹ پر سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے نئی اسکریننگ کے انتظامات کیے گئے۔

خلیجی ممالک سے آئی پروازوں کے مسافروں کو ہیلتھ کاؤنٹر سے گزرا جارہا ہے، ہیلتھ کاؤنٹر پر محکمہ صحت کی جانب سے ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف دن رات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان نے کرونا وائرس کی ممکنہ خطرے کے پیش نظر عالمی لیبارٹریوں سے رابطہ کرلیا ہے۔ ظفرمرزا کا کہنا تھا کہ وائرس کی پاکستان میں تشخیص کی سہولت نہیں، رپورٹ ہونیوالے مشتبہ کیسز کے سیمپلزبین الاقوامی لیبارٹریز بھیجے جائیں گے۔ وزارت صحت نے کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے چین، ہانگ کانگ اور ہالینڈ کی لیبارٹریوں سے رابطہ کرلیا ہے۔

اس وائرس کی علامات نمونیا جیسی ہوتی ہیں۔ چین نے اس وائرس کے پھِیلاؤ کو روکنے کے لئے ووہان شہر میں قرنطینہ نافذ کر دیا ہے اور شہر کے باقی دنیا سے سفری رابطے منقطع کر دیے ہیں۔ ہوائی جہاز، ریل، بحری جہاز اور زیرزمین ٹرین بند کر دیے گئے ہیں اور لوگوں کو دوسرے شہروں کے سفر سے منع کر دیا گیا ہے۔ ووہان کے علاوہ دوسرے بڑے شہر جن پر سفری پابندیاں لگائی گئی ہیں، ان میں ہوان گانگ، ژیان تاؤ، ایژو، چیانگ جیانگ، زی جیانگ، چیبی، ژیاننگ، ہوانگشی اور انشی شامل ہیں۔ ان تمام شہروں کی مجموعی آبادی تقریباً سوا تین کروڑ ہے۔

پاکستان میں وائرس کی تصدیق ہونے سے پہلے دنیا بھر میں اس کے 16 مریضوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔ یہ تائیوان، مکاؤ، ہانگ کانگ، ویت نام، تھائی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور امریکہ تک پہنچ چکا ہے۔ اس وائرس کے مریضوں میں ہلاکت کی شرح چار فیصد ہے جبکہ سارس وائرس میں یہ شرح پندرہ فیصد تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *