نیا سال اور کرونا وائرس کے بحران میں زندگی کو معمول پر لانے کا سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخر ہم معمول کی زندگی کی طرف کب لوٹیں گے اور کیا ہم ایسا کر بھی پائیں گے؟

سال بھر جاری رہنے والے کرونا بحران کے باعث یہ سوال ہر زباں پر ہے اور خاص طور پر جاتے سال کے آخری لمحوں میں جب دنیا ایک نئے سال میں داخل ہو رہی ہے لوگ اس کے بارے میں زیادہ فکر مند دکھائی دیتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ زندگی کے انداز اور اس کی رفتار کو ماند کرنے والے سال نے اس بحران سے جڑے اور بھی بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

کیا اس مہلک مرض سے بچاؤ کی ویکسینز موثر ثابت ہوں گی؟ ان ویکسینز سے مضبوط ہونے والی قوت مدافعت کب تک ہمیں بچائے گی؟ کیا ہم اتنے لوگوں کو ویکسین دے پائیں گے کہ ہم اس وائرس سے نجات پا سکیں؟ کیا وائرس اپنی شکل تبدیل کرتا رہے گا اور سائنس دانوں کو اس کو زیر کرنے کی کوششوں میں الجھائے رکھے گا؟

اور جب ہم وائرس سے چھٹکارا پا لیں گے تو کیا عالمی وبا سے متاثر سیاسی، سماجی اور اقتصادی مشکلات کا مطلب یہ تو نہیں ہو گا کہ ہم اس بحران سے پہلے کی طرح نارمل زندگی کی طرف کسی طور لوٹ ہی نہیں پائیں گے؟

مزید یہ کہ کیا ہمارا مقصد محض زندگی کو اس وقفے کے بعد پھر سے پہلے کی ڈگر پر ڈالنا ہے؟

عالمی وبا سے پہلے کا ماحول کیا تھا؟

اگر ہم کرونا وائرس کے پھوٹنے سے پہلے کی دنیا پر ایک نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ 2008-2009 کے مالی بحران نے گہرے اثرات مرتب کر رکھے تھے اور مقبولیت کی سیاست کا دور دورہ تھا۔

بھارتی قلم کارپنکج مشرا کے الفاظ میں لوگ اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے تھے۔ اپنی کتاب “ایج آف اینگر” میں وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کا روائیتی سیاست سے اعتبار اٹھ چکا تھا۔

عوامی سطح پر دولت اور اختیارات کی غیر منصفانہ تقسیم سے تنگ آئے لوگ قومی زندگی کے کسی نئے معاہدے کی تلاش میں تھے۔

بین الاقوامی سطح پر نئی طاقتوں کے ابھرنے سے پرانی خلشیں اور نئے تنازعات کی صورت میں عالمی نظام کو خطرات درپیش تھے۔

وائرس نے کن مسائل کو جنم دیا؟

اور اب کرونا کے اژدہے نے کثیرالجہت مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ کروڑوں لوگوں کا روزگار ختم ہو گیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ویکسین، کووڈ نائنٹین سے تو مقابلہ کر لے گی لیکن یہ اتنے بڑے معاشی اور مالی چلینجز پر قابو پانے کے سلسلے میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔ ییل یونیورسٹی کے سینئر فیلو اسٹیفن روچ کے الفاظ میں ویکسین معاشی مسائل کے خلاف قوت مدافعت پیدا نہیں کر سکتی۔

تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ہر بڑی عالمی وبا نے معیشت پر لمبے سائے چھوڑے ہیں۔

اور اب حکومتیں اس امید پر دھڑا دھڑ قرضے لے رہی ہیں کہ نئی رقوم کے معیشت میں آنے سے اقتصادی بحالی ممکن ہو سکے گی۔

وباؤں کے اثرات کے بارے میں تاریخ کے سبق

اٹلی کے مصنف گیووانی بوکیسیو کی کتاب ڈیکامیرون میں سات خواتین اور تین مرد طاعون سے بھاگ کر فلورنس شہر سے باہر پناہ لینے کے بعد اس وقت واپس آ جاتے ہیں جب وبا ختم ہو جاتی ہے لیکن اس دوران وہ ایک دوسرے کو کہانیاں ہی سناتے ہیں۔

اور یہ کہ تاریخ بتاتی ہے کہ عالمی وباؤں اور جنگوں کے بعد بہت سے لوگ پہلے جیسی زندگی کو پھر سے حاصل نہیں کر پاتے اور اتنے بڑے پیمانے پر بڑے چیلنجز ملکوں کو یکساں بدل کر رکھ دیتے ہیں اور بڑی بڑی سلطنتوں کو ڈبو دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ امریکی مورخ ٹیموتھی وائن گارڈ کہتے ہیں کہ ملیریا کا پھیلاؤ سلطنت روما کے زوال کی ایک بڑی وجہ تھی۔

اسی طرح تاریخ دان ٹام جونز نے بی بی سی کے لیے ایک مضمون میں تحریر کیا کہ بلیک ڈیتھ کے بحران نے قرون وسطیٰ میں برطانیہ پر دور رس سماجی، مذہبی، اور معاشی نتائج مرتب کیے۔

2020 میں وبا نے اقوام عالم کو کن مسائل سے دو چار کیا؟

اب کرونا وائرس کے دور میں ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اقوام عالم پر طویل عرصے تک معاشی سایہ ڈالے گا۔

اس سلسلے میں لنڈن اسکول آف اکنامکس کے معاشی کارکردگی کے مرکز کے ڈائریکٹر اسٹیفن میچن کہتے ہیں کہ اس وبا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سماجی ملاپ، اشیا کی خرید اور سفر کرنے کے طریقے میں طہور پذیر ہونے والی تبدیلیاں زندگی کے کئی شعبوں کو متاثر کریں گی۔

ماہرین کے مطابق کرونا بحران سے پہلے کے وقت کے مقابلے میں اب دنیا کی اقتصادی پیداوار کی شرح سات فیصد کم رہے گی۔ جب کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی وبا دنیا کے 20 کروڑ سے زائد لوگوں کو انتہائی غربت کی طرف دھکیل دے گی۔ اور اب ایک ارب لوگ انتہائی غریب ہو جائیں گے۔

ماہر معاشیات محمد ال اریان کا کہنا ہے کہ عالمگیریت کم ہوتی دکھائی دیتی ہے جس سے لوگوں کی فی کس آمدنی گھٹ جائے گی۔

کنگز کالج لنڈن کے معیشت دان برائن بیل کہتے ہیں کہ ایسے نوجوان جو کم مہارت یافتہ ہوں گے انہیں خاص طور پر بے روزگاری کا سامنا ہو گا۔ ان کی طرح سیاہ فام ورکرز، اور کم تنخواہ والے کارکنان کو بھی بے روزگاری کا سامنا رہے گا۔

عالمی سطح پر کم ترقی یافتہ ممالک کو سب سے زیادہ معاشی نقصانات اٹھانا پڑیں گے۔ آکسفورڈ اکنامکس ادارے کے مطابق ان ممالک میں فلپائن، پیرو، کولمبیا، ملایشیا، بھارت اور ارجنٹیا کے ممالک شامل ہوں گے۔

لیکن کیا کرونا بحران کسی طور بہتری کا پیش خیمہ ہوگا؟

روشن خیال افراد کے مطابق عین ممکن ہے کہ ماضی کے بحرانوں کی طرز پر اس چیلنج سے آنے والے وقت میں کچھ شعبوں میں بہتری نظر آئے جیسا کہ بلیک ڈیتھ نے زمینداری کا خاتمہ کر دیا تھا۔

روشن خیال یہ بھی کہتے ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینے والے بحران کے بعد ہو سکتا ہے لوگوں میں اخوت اور بھائی چارے کو فروغ ملے۔

امریکہ میں پہلے ہی ایسے کچھ رجحانات دیکھنے میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسے بہت سے نیٹ ورکس وجود میں آئے ہیں جن میں لوگ امداد کی اپیل کرتے ہیں جب کہ نیٹ ورکس میں شامل دوسرے افراد امداد کی پیش کش کرتے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کے ذریعے رابطے کرتے ہیں۔

انہیں نیٹ ورک سے وابستہ ہمسائے بھوکے رہنے والے افراد کو کھانا کھلاتے ہیں، لوگوں کو چہرے کے ماسک مہیا کرتے ہیں اور ضعیف لوگوں کو اشیا کی خریداری میں مدد کرتے ہیں۔

اسی طرح اٹلی کے لوگوں نے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں اس برس ایک دوسرے سے بھائی چارے کا مظاہرہ کیا۔ اٹلی کے لوگوں نے صحت عامہ کے ہراول دستے میں شامل ورکرز سے اپنی کھڑکیوں سے ان کے لیے گانے گا کر اظہار اخوت کیا۔ یورپ کے دوسرے ممالک نے اٹلی کے اس عمل کی تقلید کی۔

وائرس اور کیا تبدیلیاں لاسکتا ہے؟

عالمی وبا کے پھوٹنے سے دفتروں میں کام کرنے والے ورکرز کے کام کرنے کے انداز میں ایک نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اب بہت سے لوگ دفاتر کی بجائے گھروں سے اپنے کام انجام دے رہے ہیں۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے فوائد ہونے کی بدولت یہ تبدیلی مستقل دکھائی دیتی ہے۔ گھر سے کام کرنے سے ورکرز کو یہ آزادی ملتی ہے کہ وہ کس کام کو کب انجام دیں۔ دوسرا یہ کہ انہیں یہ مواقع بھی میسر آتے ہیں کہ وہ اپنے کام، خاندانی زندگی اور آرام کے وقت میں بہتر طور پر توازن لا سکتے ہیں۔

ایک اور اہم ترین پہلو یہ ہے کہ وائٹ کالر ورکرز کو دفتر آنے جانے میں وقت ضائع نہیں کرنا پڑتا۔ اس ضمن میں تحقیق بتاتی ہے کہ اس طرح ورکرز زیادہ کام کر سکتے ہیں۔ اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ ورکرز ضروری سماجی میل ملاپ سے محروم ہو جاتےہیں اور ان کی تنہائی بڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

تاہم یہ امر بھی اہم ہے کہ دفتر اور گھر میں سفر نہ کرنا ماحولیاتی تبدیلی کی شدت کو کم کرنے اور ماحول کو صاف رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔

سویٹزر لینڈ کی ایک کمپنی کیپیٹل جی ای ایس کے مطابق ورکرز کے گھروں سےکام کرنے سے سڑکو ں اور شاہراوں پر بوجھ کم ہوتا ہے جو کہ ان کو اچھے حال میں رکھنے کے خرچ میں کمی لاتاہے۔ لوگوں کے سفر کم کرنے سے زہریلی ہواؤں کا اخراج بھی کم ہوتا ہے۔

ساتھ ہی کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ دفتروں کی بجائے گھروں سے کام کرنے کے لیے گھروں میں موسموں کے مطابق ٹھنڈک اور گرم ماحول پیدا کرنے میں اضافے کے رجحان سے ماحولیات کو بہتر بنانے کی کوششیں زائل ہو جاتی ہیں۔

اس تناظر میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ڈائریکٹر انگر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ 2020 نے ہمیں سکھایا ہے کہ زمین کا صحت مند ہونا ہی صحت عامہ کی ضمانت ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 912 posts and counting.See all posts by voa