ایک خاک بسر شخص اور بے نیاز ریاست

میں اسے تین چار مہینے سے دیکھ رہا ہوں، اسی فٹ پاتھ پر۔ وحدت کالونی کے گیٹ نمبر ایک اور دو کے درمیان سڑک کے مغربی جانب والے فٹ پاتھ پر اس کا قیام ہے۔ گرمیوں میں تو وہ بنا کسی بچھونے کے پڑا رہتا تھا۔ سر اور داڑھی کے کھچڑی بال، گندے اور پریشان جو اس کی عمر پچپن ساٹھ برس بتاتے ہیں۔ میلے چکّٹ کپڑے اور خاک و دھول کی سیاہی چڑھا بدن۔ اسے ہمیشہ دو ہی حالتوں میں دیکھا، یا تو فٹ پاتھ پر بیٹھا سڑک پر پیر دھرے سگریٹ پی رہا ہے، یا پھر اپنے ہی بازو کا سرہانہ بنائے کسی کروٹ لیٹ کے سوتا ہے۔ اس کے اردگرد کوئی گندگی، نجاست نہیں ہوتی۔ کھاتا پیتا کہاں سے ہے؟ ، حوائجِ ضروریہ کوکہاں جاتا ہے؟ کوئی پتہ نہیں۔ ہاں رشید آباد چوک کی طرف یا شاہ شمس دربار کی طرف چہل قدمی کرتے پایا جاتا ہے۔

وہ بھکاری ہے نہ بظاہر فاترالعقل۔ اسے کبھی بھیک مانگتے دیکھا اور نہ ہی پاگلوں کی طرح خود کلامی کرتے، ہذیان بکتے یا پتھر اٹھاکے کسی کے پیچھے دوڑتے۔ بس خاموش اور اپنے آپ میں گم، گویا کہیں اپنے ہی اندر کے پاتال میں اترا ہو۔ توکل کی بہترین حالت کا اسیر۔ ننگے فٹ پاتھ پر سوتا تھا تو بھی اپنے حال میں گم تھا۔ بستر اور چارپائی سے ہوتا پھر سے زمین پر آرہا ہے تو کوئی شکایت، گلہ یا پروا نہیں۔ اس کے پڑوس میں چوپایوں کی نعل بندی کرنے والا ایک اللہ کا دوست بیٹھتا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا تو پتہ چلا کہ چارپائی چوری ہوگئی ہے۔ اس نے بتایاکہ میں سوچ رہا تھا کہ دیوارمیں لوہے کا ایک کڑا گاڑ کے چارپائی کو زنجیر بند کردوں۔ اگلی صبح اس سوچ کو عملی جامہ پہنانا تھا کہ رات کو چارپائی چوری ہوگئی۔ جس بھلے آدمی نے اپنی گرہ سے چارپائی لاکر دی، وہ بھی آدمی تھا اور جو اس حال مست کو پھر ٹھنڈی زمین پر پٹخ گیا، ”سو ہے وہ بھی آدمی“۔
اس پس منظر سے آگاہی کے بعد آئیے پھر سے پہلے پیراگرف کی آخری سطور کو لوٹ چلیں۔ اسے ٹپ ٹپ کرتی بوندوں میں پڑا چھوڑ کے میں آگے تو بڑھ گیا مگر سوچوں کے لباس میں گویا احساسِ جرم کا ایک پیوند لگ گیا۔ میں نے ان کوائری سے ایدھی ہیلپ لائن کا نمبر لیا اور ڈائل کردیا۔ آگے سے کوئی نیم خواندہ صاحب بولے۔ ان کو سارا ماجرا کہہ سنایا کہ اک لاوارث پالے اور بارش کے تیروں کی زد میں ہے، آپ کے ہاں اتنا بڑا ایدھی ہوم ہے، کیا اس کی دست گیری کرسکتے ہیں؟ جواب ملا کہ کیا خبر کون ہے، کوئی مشکوک و مشتبہ نہ ہو، پولیس کہے تو ہم اس کو لے سکتے ہیں۔ میں نے صورتِ حال کی سنگینی ایک دو مزید جملوں میں واضح کی تو بولے ”آپ کے پاس کوئی جگہ ہو تو اسے لے جائیں، ہم کچھ نہیں کرسکتے“۔ فون بند ہوگیا۔ میں نے ون فائیو پر فون کیا۔ ابھی مسئلہ بتا ہی رہا تھا کہ فون کٹ گیا۔ وہاں کوئی بھلا آدمی بیٹھا تھا، اس نے لینڈ لائن نمبر سے فون کیا کہ آپ کچھ بتارہے تھے۔ اس کو میں نے ساری بات سنائی تو بولا کہ ”سر! ہم صرف کرائم سین پر پولیس بھیج سکتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ پولیس فقط ایدھی کو ریفر کردے تو وہ لے جائیں گے اور ایک جان محفوظ ہوجائے گی۔

ایک محفوظ چھت تلے، نرم و گرم بستر میں گھس کر میں کتنی ہی دیر جاگتا رہا کہ میری سوچوں کے کارخانے میں ٹھکا ٹھک کام جاری تھا۔ ذاتی حیثیت میں مدد نہ کرسکنے پر اپنی مجبوریوں کی تاویلیں گھڑی جارہی تھیں۔ ان تاویلوں کے ڈربے میں خود کو محفوظ کرکے اس کھوج میں غلطاں و پیچاں ہوا کہ فکرِ انسانی نے صدیوں کی ریاضت سے یہ ریاست اور اس کے ادارے کس لئے بنائے ہیں۔ مجھے اس نعل بند نے بتایا کہ یہ شخص دو تین برس سے اسی فٹ پاتھ پر پڑا ہے۔ حیرت ہے، کسی ریاستی ادارے نے ریاست کی اس شہری کی طرف توجہ نہیں کی۔ وہ بیمار بھی پڑتا ہوگا۔ اسے روٹی پانی کی طلب بھی ہوتی ہوگی۔ شہریوں کا انفرادی جذبہءِ ہم دردی اس کی نگہبانی کررہا ہے اور ریاستی ادارے مست مئے ذوقِ تن آسانی ہیں۔ ریاست اور اس کے اداروں کو قصوروار قرار دے کر میں نے سرد شب میں گرم بستر اور چھت میسر ہونے پر رب کا شکر ادا کیا اورسونے کی کوشش کرنے لگا، مگر پتہ نہیں میرے اندر کون چیختا تھا کہ تیرے شکرانے کے یہ بودے حرف و جملے آج بابِ قبولیت تک نہیں پہنچے۔
اگلی صبح بچوں کو سکول چھوڑنے کو نکلا تو رات بھر کی بارش ابھی برس رہی تھی۔ اس کے ٹھکانے کے پر فقط گدا اور تکیہ پڑے بھیگتے تھے۔ وہ خود اور رضائی غائب تھے۔ پورا دن کوئی سراغ نہ ملا، پچھلے پہر موسم کھلا تو وہی نعل بند اپنی اوپن ایئر دکان کھول کر بیٹھا نظر آیا۔ استفسار پر اس نے بتایا ”باؤ جی! اللہ کا کوئی نیک بندہ اسے لے گیا ہے اپنے ساتھ“۔ یہ سطریں جمعرات کو لکھی جارہی ہیں، ملتان کا آسمان ہنوز ابر آلود ہے اور فٹ پاتھ کی وہ جگہ خالی۔ سویرے دفتر جارہا تھا تو وحدت کالونی کے گیٹ نمبر ایک سے وہ اک عجب دھج سے برامد ہوا۔ تار تار لباس کی جگہ اجلی شلوار قمیص، اس کے اوپر آستینوں والا صاف ستھرا سویٹر، کانوں اور سر کے گرد لپٹا نیا مفلر۔ وہ سگریٹ کا کش لگاتا اک شانِ بے نیازی سے سڑک کنارے خوش خرام تھا، گویا زبانِ خامشی سے مجھ پر اور نجی و سرکاری اداروں پر چار حرف بھیجتا ہو۔

