پاکستان ٹیلی وژن پہ بہت عرصہ قبل اک ڈرامہ نشر ہوتا تھا جس میں اک بھلے مانس کردار کا تکیہ کلام تھا۔
”الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا“
یہ جملہ وہ اس وقت بولتا جب وہ اپنے ارد گرد ظلم، بد عنوانی اور ناہمواری دیکھتا۔ یہ سیریل کئی ماہ چلی اور اس جملے کا تجسس بھی قائم رہا۔ آخری قسط میں لوگوں کے اصرار پہ وہ سب کو قبرستان لے جاتا ہے اور راز کھولتا ہے کہ یہ الکمونیا ہے۔ یہاں وہ کچھ بھی نہیں ہوتا جو ہماری آباد بستیوں میں ہور ہا ہے۔ قبرستان اِک ابدی حقیقت ہے۔ قبرستان خزانوں سے بھرا پُر اسرار مقام ہے جہاں بڑے بڑے شہنشاہ، پیر، پیغمبر، دانشور، لاڈلے، کج کلاہ، تاجر، معلم، فلسفی، شاعر، سائنسدان اور لیڈر بہت سے راز و نیاز سینوں میں لئے پڑے ہیں۔
وہ بے شمار خداداد صلاحیتوں سمیت زمین اوڑھے بے حس و حرکت سوئے ہوئے ہیں۔ یہاں بے شمار کھوپڑیاں بھی ہیں۔ یہاں تو ایسی ایسی کتابیں پڑی ہیں جو کبھی لکھی نہ جا سکیں یا جنہیں قابل اشاعت نہ سمجھا گیا یہاں بے شمار نغمہ سرائی سے محروم نظمیں بھی ہیں۔ ایسے نغمے ہیں جو گائے نہ جاسکے ایسے نسخہء ہائے کیمیاء جو استعمال نہ ہو پائے۔ یہاں بے شمار آہیں، سسکیاں، حسرتیں، تمنائیں اور شکائیتں دب چکی ہیں جو لبوں تک بھی نہ آسکیں۔
Read more