ہاتھ دھو کر گھر بیٹھنے کے دن

کہتے ہیں کہ خوشیوں، غموں اور آفات کو جھیلنا پارٹ آف لائف ہے جبکہ ہر حال میں خوش رہنے کی کوشش“ آرٹ آف لائف“ ہے۔ وقت تو ہوتا ہی گزرنے کے لئے ہے اسے ہنس کے گزاردیں یا رو کر: مانا کہ اس وقت دنیا کو شدید رنج و خوف سے سابقہ ہے مگر یہاں مایوسی اور خوف کی بجائے حوصلے اور احتیاط کی ضرورت ہے۔ بھلے فریب سہی، خود اور دوسروں کو مایوسیوں سے نکال کر خوش رکھنے کی

Read more

اعتکافِ خوف اور تجدید ِالَست

یہ چند دنوں میں کیا ہواکہ روئے زمین کے سارے منظر ہی بدل گئے۔ موحد، ملحد، لبرل، سیکولر، مومن، کافر، پنڈت، پاپ، پیر، عامل، طبیب اور سائنسدان اللہ کے حضور سبھی بے بس اور لاچار ہیں۔ زندگی کی معنویت بدل چکی ہے۔ انسان مقید اور پرندے آزاد ہیں اور انسان، انسان سے خائف ہے۔ ایسا خوف کہ عالم خوف کا دیکھا نہ جائے۔ گویا وبا کے خوف سے تحکیمِ اعتکاف صادر ہے۔ یہ خوف اور بھوک بھی عذاب کی قسمیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی انسانیت ایسی بے شمار آفات اور وبائیں جھیل چکی ہے۔

Read more

کرونا کا رونا

کرونا کی عالمی وبا پوری دنیا کو لپیٹ میں لے چکی ہے۔ اس کا نام covid 19 رکھا گیا ہے۔ نئی مرض ہونے کے باعث تا حال ناقابلِ علاج ہے۔ یہ واحد بیماری ہے جس کے علاج کے لئے بیرونِ ملک جانے کا کوئی نہیں سوچتا اور نہ ہی اس بیماری کی تیمار داری و دیکھ بھال ہوسکتی ہے۔ یہ عجیب عارضہ ہے کہ جس کا مداوا تنہائی ہے اور شہروں کا اجڑنا بقا ہے۔ حسبِ عا دت ہم اس

Read more

” دو ٹکے کی“ مرضیوں ”کا تصادم

ہمارے سماج میں روز بروز اختلافات کا زہر تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔ ہر گروہ، ہر طبقہ اوراب تو ہر فرد اپنی اپنی مرضی سے زندگیوں میں رنگ بھرنے پہ تُلا ہے۔ ہر گھر تک شناخت کا بحران پنجے گاڑ چکا ہے جس سے سماجی، سیاسی، مسلکی اور خاندانی ادارے تقسیم در تقسیم ہوتے جارہے ہیں۔ بڑا المیہ ہوا کہ اب مقدس رشتے بھی باہم دست وگریباں ہونے لگے ہیں۔ جگہ جگہ رانگ نمبرز کا ظہورہے۔ کبھی تہذیبوں کے تصادم

Read more

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا اس شعر میں کسی دور اندیش شاعر کونہ جانے کتنے دور کی سوجھی کہ مگس (شہد کی مکھی) کے کسی بھی باغ میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔ وجہ یہ ٹھہری کہ مگس باغ سے پھولوں کا رس لے کر شہد بناتی ہے پھر اس کے چھتے سے موم بتیاں بنتی ہیں اور ان کے جلنے سے پروانے موت کا شکار ہوکر ”ستی“ ہوجاتے ہیں۔ ۔

Read more

تاریخِ پاپوشاں

پاپوش فارسی لفظ بمعنی پاؤں کا لباس ہے۔ چنانچہ پاؤں کو ڈھانپنے والے لوازمات کو پاپوش کہتے ہیں۔ عرف عام میں جوتے کے نام سے منسوب ہے۔ جوتا چونکہ بے توقیر سا لفظ ہے لہٰذا جوتوں کو پیار اور احترام سے پاپوش کہا جاتا ہے۔ پاپوشوں کے بغیر کوئی فرد، گروہ اور ادارہ اپنے پاؤں پہ کھڑا رہ سکتا ہے نہ چل سکتا ہے۔ نیز اَن سدھرے لوگوں کو سدھارنے کے کام بھی آتا ہے۔ پوری د نیا کی طرح

Read more

“ایک ڈرامہ، ایک سوال”میرے پاس تم ہو

مشہورِ زمانہ، مردانہ و زنانہ ڈرامہ ”میرے پاس تم ہواپنے انجام کو پہنچا۔ کہانی اور کرداروں کے حوالے سے حمایت اور مخالفت کے خوب مباحث چلے۔ خلیل الرحمان پہ قسمت مہر بان ہے سو خلیل میاں جیسے چاہیں فاختہ اڑائیں۔ انہوں نے اپنے ہیرو کو بھی ”فاختہ“ بنا کے اُڑا دیا۔ موضوع واقعی ہی اچھوتا تھا۔ رائٹر نے معاشرے کی انتہائی دکھتی رگوں پہ ہاتھ رکھا لہٰذا تنقید کا ہونا بھی فطری تھا۔ ڈرامہ دیکھ کر لتا منگیشکر کا یہ

Read more

کچھ ادبی سَرد ناکیاں

یقیناً اس زمستاں کی سرد ناک سردی نے روائیتی شعراء کوسردی کی بابت اپنے شعری نَظریات سے یوٹرن لینے پہ ضرور مجبور کیا ہوگا۔ ماضی میں آتشیں حسد و عشق میں جلے بھُنے شعراء سرد اور برفاب موسم کو باعثِ راحت مانتے تھے۔ کبھی سرد ہوا یار کو یاد کرنے کا موجب بنتی تو کبھی سردی کی آمد پہ محبوب سے ملاقات کی بِنتی کی جاتی۔ جبکہ گرمیوں کو کسی نے بھی لائقِ تحسین نہ جانا۔ دسمبر کے تو اتنے

Read more

برازیل کا 32 منزلہ قبرستان

دنیا کی آبادی خوفناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ یہاں نہ صرف زندہ لوگوں کے لئے رہائش کم پڑتی نظر آرہی ہے بلکہ مرنے کے بعد مناسب ابدی آرام گاہ کا حصول بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ موت ایک اٹَل حقیقت ہے اور تمام بنی نوع انسانیت نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ لہٰذا بعد از مرگ جسدِ خاکی کے ساتھ دفنا کر یا جلا کر معاملات کیے جاتے ہیں۔ کچھ معاشروں میں cremation کے ذریعے لاش کو ٹھکانے

Read more

توہین اور اس کی اقسام

وطنِ عزیز کے سماجی، مذہبی اور سیاسی تمدن میں ”توہین“ کی اصطلاح توہین کی حد تک بدنام ہے۔ ہر شخص اور ہر ادارے کی بات بات پہ توہین ہوجانا معمول کی بات ہے۔ عزتِ نفس اوجِ ثریا پہ براجمان ہے اور ہر قدم پہ توہین کا احتمال ہے۔ چلئے کچھ ”کی“ جانے والی تواہین کی چیدہ چیدہ اقسام کا جانبدارانہ جائزہ لیتے ہیں۔ 1۔ توہینِ عدالت۔ یہ توہین کی سب سے بڑی اور معتبر قسم ہے جو تھوک کے حساب

Read more

پرچہ سیاسیات و انتظامات

وقت۔ 5 سال کل نمبر۔ حسبِ لیاقت و منشاء ( حصہ معروضی ) نوٹ، تمام سوال لازمی ہیں۔ سوال چھوڑنے والوں کو ایف بی آر اور نیب کے حوالے کر دیا جائے گا۔ 1۔ پرانے دور میں بادشاہ کہاں پیدا ہوتے تھے؟ 1۔ چٹائی پر 2۔ چار پائی پر 3۔ کھیتوں میں 4۔ ہسپتال میں 2۔ پٹرولیم مصنوعات کی کون سی قسم ملکی معیشت اور سیاسی قیادت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے؟ 1۔ مٹی کا تیل 2۔

Read more

یومِ اقبال اوراقبالِ جرم

کیا ہر تہوار پہ چھٹی ضروری ہے؟ اپنے مشاہیر سے منسوب ایام پہ تعطیل عام ہر قوم کی معاشرتی اقدار کا حصہ ہوتی ہیں جن کا مقصد اپنے ہیروز کی یاد منانا اور ان کے افکار کو عام کرنا ہے۔ مگر ہمارے ہاں چھٹی کا مفہوم اکابرین سے استفادہ کی بجائے محض چھٹی ہی ہے۔ کام سے فرار اور چھٹیوں سے پیار ہمارے معاشرے کی عادت ہے۔ کوئی تہوار ہو یا کوئی ہنگامہ ہم چھٹی کے طلب گار رہتے ہیں۔

Read more

تاریخی خطاب اور کچھ تاریخی حقائق

یو این او میں وزیر اعظم کا تاریخی خطاب شبِ یاس میں ضیائے آس سے کم نہیں۔ پریشان حالیوں اور جرمِ ضعیفی میں گھِری قوم کے لئے بقا کا پیغام اور مایوسیوں کا کتھارسس ہے۔ یہ خطاب نہ صرف کشمیر اور پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی ترجمانی کرتا ہے۔ تاہم محض پُر اثر تقاریر ہی ہماری منزل نہیں۔ آج کے دور میں مذہب، ثقافت، قوم یا خطابات کے بل بوتے پہ حیثیت اور حمایت کا ملناممکن نہیں رہا۔ اس

Read more

کاسۂ چشمِ حریصاں پُر نہ شُد یا انسان کو آخر کتنا کچھ چاہیے؟

انسان کے اندر لالچ کے عنصر سے انکار ممکن نہیں مگر پھر بھی زندگی گزارنے کے لئے آخر انسان کو کتنا کچھ چاہیے ہے؟ ۔ کوئی حد تو ہوتی ہوگی۔ اگر ہم ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہزوروں کو اس کارِ شر میں مبتلا پائیں گے۔ سینکڑوں پہ لوگوں کا حق کھانے اور کالا دھن بنانے کے الزامات ہوں گے۔ حال ہی میں سندھ کے ایک حکومتی عہدیدار سے کروڑوں کی برآمدگی ہوئی۔ اس کی زندگی کے لوازمات و تعیشات

Read more

اُستا دِ محترم سے اوئے ماسٹر تک

معاشرے میں استاد کی قدر و منزلت ہمیشہ ہی قابلِ فخر عمل رہا ہے۔ رسالت مآب کو بھی انسانیت کے لئے معلم بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت علی نے اپنے استاد کو آقا قرار دیا۔ چشمِ فلک نے شہزادوں کو استاد کی جوتیاں اٹھانے پہ جھگڑتے دیکھا۔ استاد جس راستے سے گزرتا لوگ آنکھیں بچھاتے۔ ہر جگہ معلم احترام، علم او ر شفقت کی علامت سمجھا جاتا۔ پورا خاندان اور معاشرہ کچھ بھی کہہ لے، استاد کی رائے ہی مقدم

Read more

ملزم لیگ ( نون غنہ ) بمقابلہ تَضحیک ِ انصاف

سیاسی جماعتوں کی با ہمی چپقلش، مخالفت اور الزام تراشی فطری عمل ہیں مگر ہمارے ہاں کا باوا آدم کچھ زیادہ ہی نرالا ہوتا جارہا ہے۔ یہاں سیاسی قائدین، کار کنان، اور سپورٹران اخلاقی طور پہ اس حد تک گر چکے ہیں کہ کہ شاید ہی اُٹھ کر سنبھلنے کی تا ب لا سکیں۔ ہر کس و نا قص لا علم ہے کہ تماشا دیکھنے کے شائق خود تماشا بنتے ہیں۔ شومئی قسمت کہ اصولاً یہاں کوئی سیاسی جماعت نہیں۔

Read more

نظامِ تعلیم اور پریکٹیکل شوز

افسوسناک امر ہے کہ ہمارا نظام تعلیم اغیار کی پیروی اور امداد کے موجب تاثیر کی خوشبو سے محروم ایک کاغذ کاپھول بن چکا ہے۔ نمبرز اور گریڈ کی اندھی دوڑنے اخلاقیات، حقیقی ذہانت اور پیشہ ورایت کو روند کر تعلیمی انحطاط کی دلدل میں دھنسنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ گویا ہم محض زوال پذیر ہی نہیں بلکہ بخوشی زوال آمادہ بھی ہیں۔ طریقہ ہائے تدریس و امتحانات زمینی حقائق اور عصری تقاضوں سے کوسوں دور ہیں۔ لوگ اپنے

Read more

کرکٹیریا کا مرض

کسی بھی معاشرے میں کھیلوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن جب کوئی چیز حدود سے لامحدود تجاوز کرنے لگے تو معاشرے پہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں کرکٹ کا کھیل کرکٹیریا نامی مرض کا باعث بنتا ہے۔ کرکٹیریا ایک سامراجی وبائی مرض ہے جو ایک فرد سے دوسرے اور پھر پورے معاشرے میں تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس مرض کے اگر ٹیسٹ کروائے جائیں تو نوے فی صد افراد کی رپورٹ پازیٹو آئے۔ کرکٹ کے بیکٹیریا دو سو سال قبل انگریزوں نے برصغیر میں درآمد کیے۔

Read more

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر ”گیارہ“ ماہ کے بعد

ہمارے ہاں یہ سوچ عقیدے کی حد تک پختہ ہو چلی ہے کہ تمام غیر شرعی و غیر اخلاقی افعال سال کے گیارہ مہینوں میں جائز بلکہ ضروری ہیں اور صرف رمضان المبارک میں ممنوع ہو جاتے ہیں۔ گیارہ ماہ ہونے والے کالے دھندے تیس روز کے لئے تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مساجد قدرے آباد ہوجاتی ہیں اور خیرات بھی دیکھا دیکھی چل پڑتی ہے۔ رمضان پہ کمال احسان کرتے ہوئے ناچ گانا اور فحش سرگرمیوں کو اس

Read more

سرکاری چھٹیوں کے موسم

سرکاری اداروں کا سب سے خوشگوار، پسندیدہ، دلفریب اور محبوب موسم چھٹیوں کا موسم ہوتا ہے۔ تقریباً پورا سال ہی ان موسموں کا ہر پیروجواں، مرد و زن منتظر رہتا ہے۔ چھٹیوں کے شیڈول تعویذ کی مثل جیبوں میں موجود رہتے ہیں۔ حتٰی کہ چھٹیاں گزار نے کے بعد پہلے دن ہی آنے والی متوقع چھٹیوں پر بحث چھڑ جاتی ہے یہ سلسلہ پورے سال پہ محیط ہوتا ہے اور اس کے دورانیے اور مدت کا تعین کرنا مشکل ہے۔ پرانے ادوار میں بھی یہی موسم اکابرین کا پسندیدہ موسم رہا ہے ایک بزرگ شاعر چھٹیوں کی شان میں لکھتے ہیں۔

کاش چھٹیاں رہیں ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

Read more

عالمی دِنوں کا لنڈا بازار

پوری دنیا میں پورا سال ہی کسی نہ کسی چیز کا عالمی دن منایا جاتا ہے بلکہ کسی دن کو تو کئی کئی حوالوں سے منسوب کرکے منانے کا رواج بھی ہے۔ تاہم ہر دن اس دن کے سورج کے ساتھ ہی غروب ہوجاتا ہے اور اس دن کی روح پھر سے دنیا کی بھیڑ میں اگلے برس تک کھو جاتی ہے۔ البتہ ہر منائے جانے والے دن کی نسبت سے مَنوں کے حساب سے کلچر ضرور برآمد ہوتا ہے۔ اکثر دن مثبت مقاصد کے حامل جبکہ کچھ متنازع بھی ہیں۔ ابھی یکم اپریل کو بے وقوفوں نے اپنا دن منایا۔

Read more

شرح ِ تبدیلی

موجودہ سیاسی حالات میں تبدیلی کی بابت ہر شخص اپنی رائے رکھنے کا حق رکھتا ہے۔ دیکھا جائے تو سالِ رواں میں تبدیلی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اولین تبدیلی تو یہ آئی کہ پچھلی سرکار، موجودہ سرکارِ میں بدل گئی۔ حکمران، وزیر، محکمے، نعرے اور تنخواہیں سب بدل گئے۔ پچھلا برس 2018 ء تھا جو بدل کر 2019 ء ہوچکا ہے اور آنے والا سال 2020 ء ہوگا۔ غیر مقبول اور نا پسندیدہ لوگوں کی جگہ

Read more

اشرف المشروبات – چائے

مشروب سے مراد پی جانے والی رقیق چیزہے جو ”شُرب“۔ بمعنی پینا سے مشتق ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ کچھ پئیے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ اہم ترین مشروب پانی ہے جسے ہر جاندار، ہر وقت اور ہر جگہ استعمال کرتا ہے۔ چین جیسے ترقی یافتہ ملک کا قومی مشروب سادہ پانی ہے جسے سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں بڑے فخر پیش کیا جاتاہے۔ ہمارے ہاں غریب سے غریب شخص یا ادارہ مہمانوں کی سادہ پانی سے تواضع خلاف آداب سمجھتا ہے۔ سافٹ ڈرنکس یا اور چائے دو ہی توچیزیں ہیں جو ہمارا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ڈرنکس سے بوجوہ کبھی کبھار سرد مہری ممکن ہے مگر چائے کی شان میں گستاخی یا انکار گناہِ صغیرہ کی حدود تک جاتا ہے۔ فی زمانہ کوئی چیز چائے کی مثل اور ثانی نہیں۔ چائے کو تمام ڈرنکس پہ ڈھیروں فضیلتیں حاصل ہیں۔ یہ سیاسی، مذہبی اور سماجی تقریبات کی شان اور جزوِ لا ینفک ہے۔ سرکاری اداروں میں تو جیسے SOPs کاحصہ ہے کہ احباب اپنے فرائض کی انجام دہی کریں یا نہ کریں، چائے نوشی کے ناغے کا تصور بھی ممکن نہیں۔ کسی مہمان یا افسر کی آمد کی صورت میں چائے کا آ نابھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔

Read more

شیو کمار بٹالوی – پنجابی شاعری کا جان کیٹس

مائے نی مائے میرے گیتاں دے نیناں وچ برہوں دی رڑک پوُے
ادھی ادھی راتیں اٹھ رون موئے متراں نوں مائے سانوں نیند نہ پوُے

نصرت فتح علی خان کے گائے اس مشہور گیت پہ سبھی لوگ سر دھنتے ہیں مگر یہ بات کم لوگ جانتے ہوں گے کہ اس گیت کے خالق کون ہیں۔ یہ جان کیٹس کی طرح جوانی میں بھرے میلے کو چھوڑنے والے پنجابی شاعر شیو کمار بٹالوی ہیں۔ 23 جولائی 1936 میں ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد خاندان کے ہمراہ بٹالہ ضلع گورداسپور آباد ہوئے۔ رومانوی اور تخیلاتی مزاج کے حامل تھے۔

Read more

سیاست کا جغرافیہ

فی زمانہ سلطنتِ سیاست اک محیرالعقول ریاست کا روپ دھار چکی ہے۔ آئیے اس کی نوعیت، خدو خال اور لوازمات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

حدو د اربعہ : سلطنتِ سیاست کے مشرق میں اقتد ار کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر پوری آب وتاب سے موجزن ہیں جس کے ساحل پہ شاہینوں کے بسیروں کے واسطے قصرِسلطانی کے بے شمار گنبدبھی ہیں۔ مغرب میں اقتدار کی راہ میں روڑے اٹکانے والے پہاڑ اور نفرتوں کے منجمد گلیشئر ہیں۔ شمال میں بڑے بڑے ہمالے اور چھوٹے چھوٹے اڈیالے وجود رکھتے ہیں جبکہ جنوب میں مایوسیوں، دکھوں، انتقاموں اور طعن وتشنیع کے جھلستے ریگستان پھیلے ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ وعدوں کے سبز باغات کے ساتھ ساتھ مایوسی کے کالے باغ بھی قابلِ ذکر ہیں۔ شمال مغربی کونے میں قرضوں کے کوہِ گراں اور مرکزی خطوں میں ترقی کی چٹیل ڈھلانیں ہیں۔ کہیں کہیں ڈیل اور ڈھیل کے ہرے بھرے صحت افزاء مقامات بھی ہیں۔

Read more

صیاد و باغباں میں ملاقات ہوگئی

ؔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم کو قرض کی مئے سے ریاستی انصرام چلانے کی عادت پڑگئی اس کے لئے اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونا مشکل ہو جاتاہے۔ کچھ یہی حال وطنِ عزیز کا ہے کہ قیام سے اب تک ہر حکومت آئی ایم ایف کے ہاتھوں مقروض سے مقروض ترہوتی گئی۔ ادھر آئی ایم ایف کا وتیرہ رہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو قرض کے جال میں یوں پھنساتی ہے کہ وہ قرض کے نشے کے عارضے میں مبتلا ہوکر عالمی معاشی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ افراطِ زر میں تیزی سے اضافہ مہنگائی کی سونامی کا موجب بنتا ہے اور گردشی قرضے بھی بڑھنے لگتے ہیں۔

Read more

دوسرا جنم گزارنے کے بعض دعویدار

انسان کا اس دنیا میں پیدا ہونا، زندگی گزارنا اور پھر موت کے منہ میں چلے جانا اک معما ہی رہا ہے۔ کوئی جانے والا لوٹ کے آئے تو بھید کھولے۔ بطور مسلمان، ہمارا ماننا ہے کہ زندگی ایک بار ہی ملتی ہے۔ ادھر کچھ مذاہب ایک سے زائد زندگیوں کا یقین رکھتے ہیں۔ ہندومت، بدھ مت، جین مت، سکھ ازم اور قدیم یونانیوں کے ہاں دوسرے جنم کا تصور پایا جاتاتھا۔ ہندو موت کے بعد دوبارہ دنیا میں دوبارہ آنا ثابت کرتے ہیں۔ اس عقیدے کو اواگان یا تناسخ کہا جاتا ہے۔

نیک آدمی کسی انسان اور پھول پودے کی شکل میں اور گناہ گار جانوروں کے روپ میں دنیا میں دوبارہ بھیجے جاتے ہیں۔ اسلام میں اس کے برعکس نیک روحیں، علیین اور گناہگار روحیں سجین بھیجی جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں بہت سے لوگوں نے دوسرے جنم میں زندگی گزارنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ذیل میں کچھ ایسے واقعات ہیں جنہیں دوسرے جنم کے ثبوت میں پیش کیا جاتاہے۔ بھارت کی ریاست آندرے پردیش میں 1926 میں پیدا ہونے والے ستیا سائیں بابا نے دعویٰ کیا کہ وہ شیرڈی کے سائیں بابا کا دوسرا جنم گزار رہاہے۔

Read more

ماسٹر مدن: چودہ برس کی عمر میں لیجنڈ بننے والا فنکار

1940 کی دہائی برصغیر کی کلاسیکی موسیقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ دور کندن لال سہگل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ پردیپ قوی، بیگم اختر، جوتھیکا رائے، مبارک بیگم، ثریا، اوما ں دیوی اور زہرا بائی انبالے والی بھی اپنی مثال آپ تھیں جبکہ نور جہاں، محمد رفیع اور طلعت محمود، مکیش وغیرہ اپنی عمر کے ابتدائی سالوں میں تھے۔ ان سب نے خوب نام کمایا۔ تایخ گواہ ہے کہ کچھ لوگوں کو

Read more

شاعروں کا کلام اور عوام کی کشیدہ کاری

دنیائے ادب اور موسیقی میں بے شمار شاہکا ر ایسے ہیں جو قاری یا سامع تک موجودہ شکل میں تغیر ات کی مسافتیں طے کرتے پہنچے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی شعر کا پتھر پہ لکیر کی مانند سلامت رہنا ممکن نہیں۔ بہت سے مثالیں ملتی ہیں کہ اردو کے اساتذہ نے لکھا کچھ مگر عوام نے بنا کچھ دیا۔ بعض مواقع پہ تو اصل مصرعے سے بھی جاندار مصرع متعارف ہوگیا۔ جیسے کہ کسی تخلیق کار کو داد

Read more

کہاں رہ گئی یہ زباں آتے آتے

اردو کی پیدائش بر صغیر میں ہوئی اور اس کے دورِ پیدائش اورجائے پیدائش کے بارے میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اردو کو پہلے پہل ریختہ کہاکرتے تھے جس کے معنی اختراع یا ایجاد ہے اور اس کی ترکیب میں آدھا مصرعہ فارسی اور اور آدھا ہندی کا ہوتا تھا۔ امیر خسرو کا“ذحال مسکین مکن تغافل“ ریختہ کی خوبصورت مثال ہے۔ نسوانی ذوق کے دلدادہ لکھنوی لوگوں نے اسے ریختی بنا دیا۔ پھر شاہ جہان کے دور میں اردوئے معلیٰ اور اب صرف اردو کہتے ہیں۔

چونکہ یہ بر صغیر کی افواج کے میل جول سے پیدا ہوئی اس لئے اسے اردو کا نام بمعنی لشکر دیا گیا۔ بہت سے لوگوں نے اس کا شجرۂ نسب مختلف خطوِں سے جوڑنے کی کوششیں کیں۔ محمود شیرانی اسے پنجابی زبان جبکہ سلمان ندوی سندھی زبان کی بیٹی کہا کرتے تھے۔ نصیر الدین ہاشمی دکنی اور شوکت سبزواری دہلوی وبِرج بھاشا کی اولاد سمجھتے تھے۔ یمین الدین المعروف امیر خسرو، قلی قطب شاہ، ولی دکنی مہ لقا چندا اور سراج اورنگ آبادی نے اردو کو اپنے کلام کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔

Read more

الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا

پاکستان ٹیلی وژن پہ بہت عرصہ قبل اک ڈرامہ نشر ہوتا تھا جس میں اک بھلے مانس کردار کا تکیہ کلام تھا۔
”الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا“

یہ جملہ وہ اس وقت بولتا جب وہ اپنے ارد گرد ظلم، بد عنوانی اور ناہمواری دیکھتا۔ یہ سیریل کئی ماہ چلی اور اس جملے کا تجسس بھی قائم رہا۔ آخری قسط میں لوگوں کے اصرار پہ وہ سب کو قبرستان لے جاتا ہے اور راز کھولتا ہے کہ یہ الکمونیا ہے۔ یہاں وہ کچھ بھی نہیں ہوتا جو ہماری آباد بستیوں میں ہور ہا ہے۔ قبرستان اِک ابدی حقیقت ہے۔ قبرستان خزانوں سے بھرا پُر اسرار مقام ہے جہاں بڑے بڑے شہنشاہ، پیر، پیغمبر، دانشور، لاڈلے، کج کلاہ، تاجر، معلم، فلسفی، شاعر، سائنسدان اور لیڈر بہت سے راز و نیاز سینوں میں لئے پڑے ہیں۔

وہ بے شمار خداداد صلاحیتوں سمیت زمین اوڑھے بے حس و حرکت سوئے ہوئے ہیں۔ یہاں بے شمار کھوپڑیاں بھی ہیں۔ یہاں تو ایسی ایسی کتابیں پڑی ہیں جو کبھی لکھی نہ جا سکیں یا جنہیں قابل اشاعت نہ سمجھا گیا یہاں بے شمار نغمہ سرائی سے محروم نظمیں بھی ہیں۔ ایسے نغمے ہیں جو گائے نہ جاسکے ایسے نسخہء ہائے کیمیاء جو استعمال نہ ہو پائے۔ یہاں بے شمار آہیں، سسکیاں، حسرتیں، تمنائیں اور شکائیتں دب چکی ہیں جو لبوں تک بھی نہ آسکیں۔

Read more

کیا روح بھی تھک جا تی ہے؟

انسانی جسم فانی ہے جبکہ اصل محرک روح ہے۔ روح کی حقیقت کو سمجھنا اور سمجھانا آسان نہیں۔ ٹیلی وژن کی مثال اس بات کو سمجھنے میں معاون ہے ٹی وی اِک ڈبہ ہے جس میں میں مختلف پروگرام چلتے ہیں۔ مگر انرجی (بجلی) نہ ہو تویہ بیکار ہے۔ گویا ٹی وی سیٹ ہارڈ وئیر ہوا۔ نشر ہونے والے پروگرام سافٹ وئیر جبکہ بجلی روح کی مانند ہے۔ اسی طرح انسانی جسم ہارڈ وئیر ہے۔ افکار، خیالات اور خواہشات سافٹ وئیرہیں۔ مگر انرجی (روح) نہ ہو تو سب خاک ہے۔

روح ہی انسانی جسم اور ذہن کو متحرک کرتی ہے اور کارِ جہاں میں مصروف رکھتی ہے۔ روح کی عدم موجودگی ایسے ہی ہے جیسے بجلی کی عدم موجودگی میں ٹی وی یا کمپیوٹر۔ کوئی انسان ہندو کے گھر پیدا ہوکے کٹر ہندو بنا تو دوسرا مسلمان کے ہاں جنم لے کر مسلمان ٹھہرا۔ جب اصلی محرک روح پرواز کر جائے تو جسم اِک نا قابل برداشت حقیقت بن جاتی ہے۔ جس کو کہیں تو مٹی میں دبا دیا جاتا ہے تو کہیں نذر ِ آتش کر دیا جاتا ہے۔ روحوں اور شب تارِ الست کے واقعہ سے اِ ک اور دل چسپ نقطہ سامنے آتا ہے کہ ہندو سات جنم کی بات کرتے ہیں۔

Read more

سوشل ایئر لایئنز (معاشرتی پروازیں)

جہاں ہر ملک میں ہوائی سفر کیلئے ائیر لائینز ہوتی ہیں وہیں سماجی سطح پر چندعناصر اپنے اپنے رنگ اور ڈھنگ میں متوازی ہوائی سروس مہیا کرتے ہیں۔۔۔ ان کیلئے سنسان گلی کوچے ہوائی اڈوں کا درجہ رکھتے ہیں۔عرفِ عام میں انہیں نشئی،پوڈری، بھنگی، شرابی اور چرسی کے اعزازی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ جیسے وطن عزیز کی قومی ہوائی سروس، ُ پی آئی اے اور سوشل ائیر لائن پی آئے ہیں” ہے۔ معاشرے

Read more

دُور کسی کونے میں مذہب روتا ہے

سیانے کہتے ہیں کہ انسان معاشرتی حیوان کے ساتھ ساتھ مذہبی جنونی بھی ہے۔ ہر فرد اور گروہ کسی نہ کسی مذہب سے موروثی رشتہ جوڑے ہوئے ہے۔ مذہب سلامتی ہے۔ دلوں کو جوڑنے کا نام ہے مگر ہمارے ہاں مذہب کو ہی توڑ توڑ کر کئی حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ بقول ابن انشا، ’ایک دائرہ اسلام ہوتا ہے جس میں پہلے لوگوں کو داخل کیا جاتا تھا مگر اب اس سے لوگوں کو خارج کیا جاتا ہے‘۔ آج علماء

Read more

کچھ ”سیاہ سی“ باتیں

ہمارے ہاں ہر شخص، ہرگروہ اور ہر جماعت اپنے منہ میاں مٹھو، صادق و امین اور محب الوطن ہے جبکہ ان کے مخالفین سراپا لغزشوں اور خباثتوں میں لت پت ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے سوقیانہ پن، گالی گلوچ اور کینہ پروری کو تہذیب کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ جانے والوں کا منہ کالا اور آنے والوں کا بول بالا ہے۔ یہاں جیت اللہ کے فضل سے اور ہار صرف دھاندلی سے ملا کرتی ہے۔ اپنے نظام سیاست میں بیت الخلائی مخلوق یعنی لوٹوں کا کردار ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے۔

یہ صورتِ خورشیدہی تو ہیں کہ ِادھر ڈوبے، اُدھرنکلے مگر اب تو انہیں بھی عزت دی جانے لگی ہے اور وہ الیکٹ ایبل کے متبرک اور مطہر نام سے موسوم ہوچکے ہیں۔ ضرورت سدا ہی نظریوں کی ایجاد کی ماں رہی۔ جب ہم عدالتوں کے ساتھ ”عالیہ“ اور ”عظمٰی“ کا نام سنتے ہیں تو عجیب سی رومانوی خوشی ہوتی ہے تاہم کبھی کبھی عدالت کے ساتھ ”دیوانی“ کا لفظ ناخوشگوار دیوانیت کا باعث بھی بنتا ہے۔ بی بی شہید پیار سے انہیں ”کینگرو“ بھی کہا کرتی تھی۔

Read more

بد آوازی بھی عذاب سے کم نہیں

اچھی آواز قدرت کا انمول عطیہ ہے جو سامع پہ سحر انگیز کیفیت طاری کر کے اپنی جانب راغب کرتی ہے۔ جبکہ بھدی اور بری آواز انسان کی دل آزاری اور کوفت کا باعث بنتی ہے۔ آج کے ترقی زدہ دور میں لاؤڈ سپیکر اور ساؤنڈ سسٹم نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا ہے جن کے غلط استعمال سے ایسے بد آواز حضرات معاشرے میں بے چینی اور شور کی آلودگی کا موجب بھی بن رہے ہیں۔ سمعی آلودگی فی زمانہ انسانی صحت، اعصاب اور رویوں پر منفی اثرات مرتب کرہی ہے۔

لوگ دماغی امراض کے ساتھ ساتھ چڑ چڑے پن کا شکار ہورہے ہیں۔ آج بہت سے سیاسی، سماجی اور مذہبی راہ نما جو خوش آوازی کی خوش فہمی میں مبتلاہیں وہ عوام کو ذہنی و نفسیاتی مریض بنا رہے ہیں۔ مختلف تقریبات، محافل اور مساجد میں اس طرح کی آوازوں کے الاپ اور سخن وری معمولات بن چکے ہیں۔ کچھ حضرات تو مائیک چھوڑنا توہین سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک حکایت بڑی دل چسپی کی حامل ہے۔

Read more

شرحِ خاوندگی

وطنِ عزیز ان دنوں شرحِ خواندگی اور شرحِ خاوندگی ہر دو کی بابت ڈھیروں مسائل کا شکار ہے۔ شرحِ خواندگی المناک حد تک کم اور شرحِ خاوندگی خوفناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ چونکہ خواندگی سے اپنی قوم کو کوئی خاص سرو کار نہیں، لہٰذا پورا انہماک و استغراق خاوندگی اور زوجیت کے مباحث میں ہے۔ تاریخی تناظر میں زوجین کے معاملات ہمیشہ سے ہی دلچسپی کے حامل رہے ہیں۔ دنیا میں پہلے انسان کا تعارف بطور خاوند ہی

Read more

فیس بک کے واسطے پیدا ہوئی ہے نسلِِ نو

تاریخ ِعالم میں انسانیت کا رشتہ شاید ہی کسی اور چیز سے اتنا مضبوط ا ورپرخلوص رہا ہے جتنا کہ چودہ سال قبل منصۂ شہود پر آنے والی فیس بک سے طے ہو چکا ہے۔ آج فیس بک دلوں کی دھڑکن، آنکھوں کی ٹھنڈک، روح کی غذا اور آدابِ حیات کا جزوِ لا ینفک بن چکی ہے۔ فیس بک رنگ، نسل، زبان اور علاقہ کی تفریق کے بغیر ہر مرد وزن اور پیروجواں کے لئے آن لائن مرجع الخلائق ہے۔

Read more

کل کا پن گھٹ، آج کا فلٹر

زمانے میں تغیرات کو ثبات حاصل ہونا عین فطری تقاضہ ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حسب ِ ضرورت چیزوں، روّیوں، روائیتوں اور اقدار کا بدلنا لازمی امر ہے۔ کچھ معمولات مکمل بدل جاتے ہیں تو کچھ قدرے تبدیلی کا شکار ہوکر مختلف دِکھتے ہیں۔ مگر بعض روایات کچھ عرصہ غائب رہ کر گردش ِ ایاّم کے باعث پھر سے کسی نہ کسی طرح مروج ہوکر معاشرے میں اپنا مقام بنا لیتی ہیں۔ مثلاً اِک دور تھا کہ ہر گھر میں

Read more