ہالی وُڈ کی فلموں میں عربوں کی منفی عکاسی


True Lies (1984)

علاقائی اور عالمی اداروں کے چیف ایگزیکٹو افسروں (سی ای او) ،صدور ،نائب صدور نے بے لاسن ہوٹل اینڈ میرینا کے اے ای سی میں سی ای او کانفرنس اور ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کی۔ اس تقریب میں ایک دلچسپ سیشن مغرب میں عرب تشخص کے موضوع پر ہوا۔

تمام شرکاء کا اس بات پر اتفاق تھا کہ عرب دنیا کا مغرب میں منفی تشخص پایا جاتا ہے۔خالد المعینا نے ہالی وڈ کی فلموں کو اس کا ذمے دار قرار دیا جو اسلام اور سعودی ثقافت اور روایت کے بارے میں غلط پیغامات دیتی ہیں۔انھوں نے بعض فلموں کا مثال کے طور پر حوالہ دیا جن میں عربوں کو ولن اور دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔1994ء میں جاری کردہ فلم ’’ ٹرو لائیز‘‘ (سچے جھوٹ) میں ہالی وڈ کے مشہور اداکار آرنلڈ شوارزنیگر نے حکومت کی ایک خفیہ ایجنسی کے جاسوس کا کردار ادا کیا تھا۔فلم کی کہانی ’’ کرمسن جہاد ‘‘ نامی ایک افسانوی دہشت گرد گروپ کے گرد گھومتی ہے۔اس کو ایک بڑے خطرے اور امریکا مخالف کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

ایسی امتیازی فلموں میں “رولز آف انگیجمنٹ” (معاملہ کاری کے قواعد) (2000ء) اور “ڈیتھ بی فور ڈس آنر” ( بے عزتی سے قبل موت) (1987ء) نمایاں ہیں ۔درحقیقت عرب بربربیت کا لیبل (اسٹریو ٹائپ) مغربی ثقافت میں گذشتہ کئی برسوں سے درانداز ہے اور اس کو آج کے مغرب کی ہر دوسری فلم میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر انھیں دہشت گرد کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا تو پھر انھیں ہالی وڈ کی فلموں میں تیل کے لالچی شیخ ،بددیانت بنک کار ،ڈاکٹر اور استاد کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے جو کبھی معزز نہیں ہوسکتے۔

عربوں کے خلاف نسل پرستی کی بنا پر اس طرح کے لیبل لگانے سے بد قسمتی سے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ان کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے، نسل پرستی پر مبنی ان کی کردار کشی کی جاتی ہے اور ان کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔

امیج نیشن کے سی ای او مائیکل گیرن نے وضاحت کی کہ ہالی وڈ کے پیش کار ارادی طور پر عرب مخالف فلمیں نہیں بناتے ہیں۔وہ ایسے سست واقع ہوئے ہیں کہ ایسا عرب نواز اسکرپٹ دیکھنے سے قاصر رہے ہیں جو باکس آفس میں ہٹ ہوسکتا تھا۔ انھوں نے ہالی وڈ اور عرب دنیا کے درمیان خلیج پاٹنے کے طریقوں پر بھی گفتگو کی۔ان کی دلیل یہ تھی کہ ایسی فلموں کی تیاری کوئی آسان کام نہیں ہے کہ جن سے دنیا بھر میں ہرکوئی راضی ہوسکتا ہو۔ درپیش چیلنجز میں سے ایک منصوبوں (پراجیکٹس) کی تلاش ہے۔ جیسے فاسٹ اور فریوس یا اسٹار وارز ( دونوں فلمیں جزوی طور پر ابوظبی میں فلمائی گئی تھیں) کردار کے بجائے مناظر اور محل وقوع پر مبنی تھیں۔

امیج نیشن اس وقت ایسے منصوبوں پر فعال انداز میں کام کررہی ہے جن کے تحت فلموں میں مختلف علاقوں میں مقامی پروڈکشن کو اختیار کیا جائے گا۔اس میں پروڈیوسر ایک فلم کا ایک عربی ورژن تیار کریں گے اور ایک انگریزی زبان میں بین الاقوامی ورژن تیار کریں گے۔پھر کچھ منصوبے ایسے ہیں جن میں عرب امریکی پروڈکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔

امیج نیشن ابو ظبی اور چین کی حکومت کی حمایت سے کام کرنے والا ایک بین البراعظمی ابلاغی مرکز (سی آئی سی سی) ہے۔اس کو مشترکہ سرمایہ کاری سے ہالی وڈ ،متحدہ عرب امارات ،چین اور دوسرے ممالک میں فلموں اور ٹی وی کے مواد کی تیاری اور پیش کاری کی غرض سے قائم کیا گیا ہے۔

گیرین نے سعودی لکھاری اور ڈائریکٹر محمود سباغ کی پہلی فلم ’’برکہ کی برکہ سے ملاقات‘‘ کی کامیابی کو سراہا ہے۔اس کو آسکر فلمی میلے کے لیے غیرملکی زبان میں بہترین فلم کے زمرے میں منتخب کیا گیا ہے۔ یہ فلم بعض اسٹریو ٹائپس اور لیبلوں کا خاتمہ اور سعودی معاشرے سے متعلق پائے جانے والے تعصبات کا ازالہ کرے گی۔ قبل ازیں 2013ء میں ہیفا المنصور کی فلم وجدہ کو بھی آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور یہ پہلی نامزد سعودی فلم تھی۔

خالد المعینا نے اس بات سے اتفاق کیا۔انھوں نے ایک اور فلم ” بلال” کی مثال دی اور بتایا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نسل پرست نہیں ہے اور کیونکہ بلال رضی اللہ عنہ ایتھوپیا سے تعلق رکھتے تھے۔انھوں نے عرب سرمایہ کاروں پر زوردیا کہ وہ اس طرح کی فلموں کی تیاری میں مدد دیں تاکہ مغرب میں پیش کیے جانے منفی عرب تشخص کا مقابلہ کیا جاسکے۔

غنطر ملک نے اس بات پر زوردیا کہ عرب دنیا کے عوام کو خود تنقیدی کا رویہ اپنانا چاہیے تاکہ وہ اپنی خامیوں،کمیوں کوتاہیوں پر قابو پاسکیں اور بیرون ملک ان کا ادراک بھی بہتر ہوسکے۔

اطالوی قونصل جنرل ایلزبیٹا مارٹینی نے اس بات پر زوردیا کہ میڈیا کو مغرب اور عرب دنیا کے درمیان بہتر تعلقات کار کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ” جدید سفارت کاری” میڈیا اور صحافیوں کے ساتھ باہمی تعامل کے ارد گرد گھومتی ہے۔

فن ،موسیقی ،فلم ،ٹیلی ویژن اور کثیر نسلی اور ثقافتی اقدامات مغرب میں عرب دنیا کے بارے میں پائے جانے والے غلط تصورات کے خاتمے کا اہم ذریعہ ہوسکتے ہیں۔ ابراہیمی عقیدوں کے بارے میں بہت سے غلط تصورات پائے جاتے ہیں اور اب اسلام فوبیا بھی عروج پر ہے۔

ہالی وڈ کی فلموں میں مجموعی طور پر اس حقیقت کو بھی نظرانداز کیا جاتا ہے کہ بہت سے مسیحی عرب امریکا اور مشرق وسطیٰ میں رہ رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم عالمی کمیونٹیوں کے ساتھ زیادہ پُرامن اور مثبت تعاون کریں تاکہ کشیدگی کا خاتمہ کیا جاسکے اور نسلی امتیاز کو بھی روکا جاسکے۔

اس وقت مہاجرین کا مسئلہ فوری حل کا متقاضی ہے تاکہ مہاجر کمیونٹیوں کے انسانی حقوق کو پامال ہونے سے روکا جاسکے کیونکہ انھیں جنگ ،دہشت گردی اور اسلام فوبیا سے خطرات لاحق ہیں۔ ایک ایسی فلم کی تیاری کی ضرورت ہے جس میں شام ،عراق اور افغانستان میں جنگوں کے متاثرین کو بہتر انداز میں پیش کیا گیاہو۔ایسی فلم ان کے لیے ایک طرح سے ایک اعزازہو سکتی ہے۔

عرب اسرائیلی تنازع مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی مسلسل کشیدگی کا ایک اور بڑا سبب ہے۔ ہالی وڈ کی فلموں میں فلسطینیوں کے احوال کی اچھے انداز میں پیش کاری کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔جب فلم پروڈکشنز اور مغربی میڈیا انسانیت کے حقیقی دشمنوں کی شناخت کے لیے دیانت دارانہ کردار ادا کرے گا تو تب ہی دنیا امن اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔