مملکت خداداد پاکستان میں طاقتور اداروں کو ایک کمزور حکومت قابل قبول رہتی ہے، کیونکہ وہ سوال کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، اور بنا روک ٹوک کے وہ سب کچھ کرجاتی ہے جو مضبوط حکومت پسندیدہ کام کرنے سے کرنے سے پہلے سوال کرتی ہیں۔ مگر اعلیٰ حکام سوال پوچھنے کی جسارت کرنے والوں کو جواب دینے کے بجائے سبق سکھاتی ہیں۔
اس وقت ایف آئی اے کے دو شاہکار موضوع بحث ہیں۔ ایک اصغر خان کیس سے راہ فرار اور جعلی بنک اکاؤنٹ کیس میں پُھرتیاں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے زیر انتظام ایف آئی اے نے لکھ کر دیا ہے کہ مشہور اور معروف ”اصغر خان کیس“ کو بند کردیا جائے، کیونکہ شواہد ناکافی ہیں اور اصغر خان کیس 25 سال پرانا کیس ہے دوسرے طرف وہی ایف آئی اے جعلی بنک اکاؤنٹ کیس میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو 1989 کے ایک مقدمے میں سمن کرتا ہے جس میں بلاول بھٹو زرداری کی اس وقت عمر ایک سال تھی۔ مزید یہ کہ ایف آئی اے جعلی بنک اکاؤنٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹاپ لیڈرشپ کو چیئرمین آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری (جو پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔
Read more