سندھ میں تعلیم کی صورت حال اور اچانک وزارت کی تبدیلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیام پاکستان سے بھی پہلے صوبہ سندھ تعلیم کے میدان میں پیچھے نہیں تھا، صوبہ سندھ میں تعلیم کا معیار تاریخی طور پر بہت بہتر رہا اور اسی صوبے سے مایہ ناز شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبہ جات میں زبردست خدمات سرانجام دیں اور ملک و قوم کا نام روشن کیا۔

بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح جن کا تعلق جھرک ضلع ٹھٹھہ سندھ سے تھا۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق بھی صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانو سے تھا، شیخ ایاز، استاد بخاری، علامہ آئی آئی قاضی، مرزا قلیچ بیگ اور بہت سارے، سیاسی، علمی اور ادبی شخصیات کا تعلق صوبہ سندھ سے تھا۔

80 ء کی دہائی کی بات ہے جب سندھ کی تعلیم کو ایک منظم پلان کے تحت پیچھے دھکیلا گیا اور اساتذہ کی اسامیاں اور اسکولز سیاسی رشوت کے طور پر بانٹے گئے۔ سندھ میں کاپی کلچر کو فروغ دیا گیا، اسی وجہ صرف سیاسی دشمنی کی بنیاد پر پاکستان کے ایک حصہ کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا گیا۔

پھرپرویز مشرف نے اپنی سیاست کو دوام بخشنے کے لئے سرکاری اسکول بطور رشوت من پسند سیاستدانوں میں بانٹے۔ ایک گاؤں میں تین سے پانچ تک اسکول بنائیے گئے۔ ستم ظریفی تو یہ تھی کہ سیاسی رشوت کے طور پر بنائے گئے اسکول ایک کمرے کے تھے کچھ اسکولوں میں ایک کمرے میں پانچ جماعتوں تک پڑھایا جاتا اور ایک کمرے میں سینکڑوں بچے ہوتے تھے۔

سیاسی رشوت کے لئے بنائے گئے اسکولز بعد ازاں ان سیاستدانوں کی بیٹھک کے طور پر استعمال ہونے لگے۔

2008 ء کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے پہلی بار اساتذہ کی بھرتیاں این ٹی ایس، سندھ یونیورسٹی، اقراء یونیورسٹی اور آئی بی اے جیسے تیسرے فریق سے میرٹ پر کیں اور وہی پریکٹس آج بھی جاری ہے اور سندھ بھر میں اساتذہ کی بھرتیاں میرٹ پر ہورہی ہیں۔

موجودہ 2018 کے الیکشن کے بعد ہونے والے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی سندھ حکومت نے وزارت تعلیم کا قلمدان شاعر ادیب سید سردار علی شاہ کو دیا جنہوں نے وزارت تعلیم کا قلمدان ملتے ہی سب سے پہلے محکمہ تعلیم میں دو مسنگ عنصر بچہ اور اسکول کی تشریح پیش کی۔

”بچہ“، بچہ جس کے لئے سرکار اربوں کا بجٹ رکھتی ہے، لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ پہلی جماعت کا بچہ، پانچویں جماعت والے بچہ کے لئے بنائی گئی بنچ یا کرسی پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتا ہو، ایک ہی کمرے میں ایک استاد پہلی سے پانچویں جماعت کے بچوں کو پڑھائے۔

”اسکول کی تشریح“ اسکول کی تشریح یہ کی کہ اسکول کا مطلب ایک جماعت کے لئے ایک کمرہ، پانچ جماعتوں کے لئے پانچ کمرے، ایک اسکول میں ایک لائبریری اور تجربات کے لئے ایک لیبارٹری۔ پہلے تو ایک کمرے کے اسکول بنادیئے جاتے تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پانچ جماعتیں ایک کمرے میں پڑھائی جاسکتی ہوں؟ ساتھ ساتھ اسکولوں میں جب تک لائبریری اور لیبارٹری نہ ہو تو وہ اسکول کیسے کہلائے گا، جب تک بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تجربات نہیں کرائے جائیں گے، بچوں کا سیکھنا مشکل ہوتا ہے۔

محکمہ تعلیم میں اونرشپ کا فقدان ہے۔ جب تک اشرافیہ، بالا افسران کے بچے سرکاری اسکولوں میں اپنے بچے نہیں داخل کریں گے تو وہ کیونکر ان اسکولوں پر توجہ دیں گے۔ اسی طرح عوام کا بھی سرکاری تعلیمی اداروں میں اعتماد نہیں رہا۔ سب سے پہلے سرکاری تعلیمی اداروں پر عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرانے کے لیے عملی قدم اٹھاتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ نے اپنی اکلوتی بیٹی کو حیدرآباد کے سرکاری اسکول میں داخل کروایا، ساتھ اپنے بھتیجوں کو بھی سرکاری اسکول میں داخل کروایا۔ وزیر تعلیم کے اس قدم کو دیکھتے ہوئے عام لوگوں کا گورنمنٹ سسٹم پر اعتماد بحال ہونا شروع ہوا اور سینکڑوں والدین نے اپنے بچے پرائیویٹ اسکول سے نکال کر سرکاری اسکولوں میں داخل کروانا شروع کیے۔

مجموعی طور پر صوبے سندھ میں تعلیمی معیار جو ڈکٹیٹرز اور پھر تعلیمی نظام میں سفارش، کاپی کلچر، میرٹ کا نہ ہونا اس کے علاوہ بھی مختلف مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ایک طرف نصاب پرانا ہے تو دوسری طرف صوبے کے بہت سے سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے محکمے نے فرنیچر نہیں خریدا، اس کے علاوہ کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے ہزاروں اساتذہ ہیں۔ دور دراز علاقوں میں بچیوں کا داخلہ کی کمی اور پرائمری کے بعد ڈراپ آؤٹ کا مسئلہ اور صوبے میں اسکول سے باہر لاکھوں بچے جنہیں اسکولوں میں داخل کروانا ہے جیسے مسائل تھے۔

ان تمام مسائل کے حل لیے صوبائی وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ نے صوبے میں تعلیم کی بہتری کے لیے چائلڈ سینٹرک تعلیمی پالیسی اور ایکشن پلان پر تیزی سے کام کیا۔ ایکشن پلان میں اسکولوں تک بچوں کی رسائی (ایکسیس Access) ، اور اس کے بعد معیار تعلیم (Quality) پر فوکس کیا گیا ہے۔

صوبہ سندھ میں تعلیم کی بہتری کے لیے سب سے پہلے کوشش کی گئی کہ صوبے میں بند اسکولز کو کھولا جائے۔ جس کے لئے پلان مکمل تیار ہے۔

سید سردار شاہ نے محکمہ تعلیم کا قلمدان سنبھالنے کے بعد اپنے دس ماہ میں کے عرصے میں مندرجہ ذیل کامیابیاں حاصل کیں۔

1۔ 14000 این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کی ریگیولرائز کیا۔

2۔ 7000 جونیئر ایلیمینٹری اسکول ٹیچرز اور ارلی چائلڈھوڈ ٹیچرز کی IBA کے ذریعے میرٹ پر بھرتیاں کی گئی۔

3۔ لڑکیوں کے وظیفے کو 2500 سے بڑھاکر 3500 کیا گیا جس سے دور دراز علاقوں میں اور خاص طور پر غریب گھرانوں کی بچیوں نے تعلیم کے حصول کے لئے اسکولوں کا رخ کیا۔

4۔ صوبے میں 300 ماڈل اسکولز بنائے جارہے ہیں جن میں لائبریری اور کمپیوٹر لیب سمیت تمام سہولیات موجود ہوں گی۔

5۔ نصاب پر نظرثانی کی جارہی ہے تاکہ نصاب جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

6۔ دور دراز علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کے لیے پہلی بار گرلز ٹرانسپورٹیشن کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نجی شعبے سے ٹرانسپورٹیشن کا بندوبست کیا جارہا ہے۔

7۔ تعلقہ ایجوکیشن افسر ز سمیت محکمے کی دیگر اسامیوں کے لیے رکروٹمنٹ رولز پر نظرثانی کی جارہی ہے۔

وزیر تعلیم سندھ نے گیارہ ماہ کے قلیل عرصہ میں محکمہ تعلیم کے لئے ایک سمت کا تعین کردیا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ ان کے اٹھائے گئے اقدامات کو اسی طرح درست سمت میں آگے بڑھایا جائے گا اور حکومت سندھ صوبہ کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز رکھے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •