سانحہ ساہیوال: قوم پرستوں کا قوم پرستانہ موقف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سانحہ ساہیوال رونما ہوتے ہی ملک رنج و غم کے عالم میں ڈوب گیا، سی ٹی ڈی نے اس کارروائی کو داعش کے کارندوں کے خلاف کارروائی قرار دیا تھا، وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے بھی اس کارروائی کو داعش کے خلاف کارروائی سے جوڑ دیا تھا۔ لیکن چونکہ اب سوشل میڈیا کا دور ہے پولیس کا یہ جھوٹ جلد ہی بے نقاب ہوگیا۔ عوام کے سامنے جب سی ٹی ڈی کی کارروائی کا دوسرا رخ سامنے آیا تو عوام نے حکومت پنجاب اور سی ٹی ڈی کو آڑھے ہاتھوں لیا۔ عوام کے ساتھ ساتھ حکومت مخالف جماعتوں نے بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ سیاسی مخالفین نے وفاقی اور صوبائی حکومت پر مخالفت کے خوب نشتر برسائے۔

ریٹنگ کے دوڑ میں بازی لیے جانے کے لئے میڈیا جائنٹ نے اپنے اپنے چینل کے پردوں پر اپنے سب سے مقبول اور لفظوں کی گولہ باری میں ماہر اینکروں کو بٹھا لیا تاکہ ریٹنگ میں وہ سب سے آگئے اور نمبرون رہے۔

عوام، سیاستدانوں اور صحافی بات پر زور دیتے رہے کہ معاملے کے کرداروں کو جلد از جلد گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا دئی جائے اور انصاف کا یہ عمل فوری طور پر پایہ تکمیل تک پہنچے تاکہ لواحقین کو انصاف کی فراہمی میں ماضی کے واقعات کی طرح تاخیر نہ ہوں۔

لیکن دوسری طرف ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو واقعے پر رنجیدہ تو تھا۔ لیکن موقف ان کا سب سے الگ تھا، ان کی موقف سے غصہ اور بے بسی جھلکتی تھی۔ قبائل سے تعلق رکھنے والوں کا موقف تھا کہ ہمارے گھربار اجڑ گئے ہم روز آہ و فغاں کرتے رہے لیکن نہ ہمارے غم پر سیاستدان روئے نہ میڈیا اور نہ ملک کے بڑے صوبوں کے عوام۔ ساہیوال واقعے پر سب کے دل خون کے آنسو رویا، ہمارا قتل کیا قتل نہیں ہے، راؤ انور کیا ساہیوال واقعے میں ملوث اہلکاروں کی طرح کیا قاتل نہیں۔ نقیب اور اس جیسے دیگر سینکڑؤں پشتون قبائل نوجوانوں جن کو تاریک راہوں میں شہید کر دیا تھے، کیا ان کیلئی فوری انصاف کا مطالبہ گناہِ کبیرہ ہے۔

یہ طبقہ اسلام پسند پارٹیوں اور مذہبی علمائے سے بھی شکوہ کناں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق اور عالم دین مولانا عدنان کاکاخیل نے ساہیوال کے بہیمانہ کارروائی پر تو ٹویٹ کی لیکن قبائل کی دربدری اور ان کے ہاں برپا ہونے والے قیامتِ صغرٰی پر انہوں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ اسی طرح ملک کے دیگر پارٹیوں کے رہنماؤں اور عالم دین نے ہماری ہلاکتوں اور سانحات پر ٹویٹ یا بیان جاری کرنا گوارا ہی نہیں کیا اور نہ مجبور میڈیا نے ہمارے مسائل کو کسی بلیٹن کا حصہ بنایا۔ حالانکہ بھارت کی اداکارہ سری دیوی، موت کے بعد، کئی دنوں تک ٹی وی کے پردوں پر غمگین موسیقی کے ساتھ ریٹنگ بڑھانے کے لئے موجود رہی لیکن ہمارے مسائل کے لئے بلیٹن میں کوئی جگہ نہیں اور نہ معصوم بلکتے حیات کے آنسوؤں کو پونچھنے والا کوئی ہے اور نہ عمران خان اس کی کفالت کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔

بلوچستان کے لوگوں کا بھی یہی سوال تھا کہ ہمارے مسائل اور بلوچستان میں رونما ہونے والے سانحات پر سیاستدان اور میڈیا کیوں خاموش رہتے ہیں؟ کیا ہم اس ملک کے باسی نہیں ہے یا ہمیں اس ملک کے باسی سمجھا ہی نہیں جاتا۔ مستونگ میں دو سو لوگ شہید ہوتے ہے لیکن یہ خبرٹی وی پر ٹِکر تک محدود ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ بلیٹن میں اسے جگہ دیا جاتا ہے لیکن وہ بھی ایک ہی دن تک لیکن اتنے بڑے سانحے پر نہ تو کوئی خصوصی پروگرام ہوا اور نہ لواحقین کے دردبھرے چہروں کو پرسوز موسیقی کے ساتھ ٹی وی پر دکھایا اور نہ ٹویٹر پر متحرک نوجوانوں نے ٹرینڈ بنایا۔

ہم ان سارے معاملات کو کیا سمجھیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •