انسان کو بچائیں اور اس کا احترام بھی بچائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جوں جوں پاکستان میں کرونا وائرس کی شدت میں اصافہ ہو رہا ہے توں توں حساس عوام کی بے چینی بھی بڑھ رہی ہے جس کی ایک وجہ غربت ہے اور دوسری حکومتی سستی اور نا اہلی۔ اگر حکومت کچھ کر بھی رہی ہے تو اس کا انداز تضحیک آمیز ہے۔ انسانیت کی تذلیل کا یہ طریقہ ہم شدت سے نامنظور کرتے ہیں۔ ریاست ماں ہے اور ماں اپنی بچوں کی تحقیر نہیں کرتی۔ مگر مرکزی حکومت کی جانب سے جس غیر ذمہ داری اور غلط رویوں کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔

حتی کہ راشن کی تقسیم کے حوالے سے جو راستہ اختیار کیا گیا وہ بھی تذلیل پر مبنی ہے جس کو اکثریت کی جانب سے سخت نا پسند کیا گیا کہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز بندے کو اس طرح فوٹو سیشن کرانا چچتا نہیں ہے جبکہ مستحقین تک امداد پہنچانے کے لیے وہ ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کر چکے تھے جس پر اٹھنے والے اخراجات سے تیس لاکھ گھرانوں تک دس سے پندرہ دنوں کا راشن پہنچایا جا سکتا ہے مگر خیر مرکز میں بیٹھے افراد ہم سب سے زیادہ سیانے ہیں۔

ہمارے ہاں تاریخی کتب کا مطالعہ بھی بہت کم کیا جاتا ہے اور بعض اوقات جو تاریخی حوالے شئیر کیے جاتے ہیں وہ بھی زیادہ تر سینہ گزٹ ہوتے ہیں جن میں کمی بیشی حتیٰ کہ شدت میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ ہمارے حکمران چونکہ صرف سیاست دان ہیں لیڈر نہیں اس لیے وہ مطالعہ جیسی نعمت سے شاید دور ہی ہیں اور تاریخ سے نابلد ہونے کی وجہ سے بھول بیٹھے ہیں کہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔ یہ وبا نئی نہیں ہے اس سے قبل بھی انسان بڑے بڑے عذابوں سے گزرے ہیں جس میں اہم ترین وجہ ابتداء میں اس صورتحال کو نظر انداز کرنا تھا جیسے ہمارے وزیراعظم صاحب اور ان کی سائنس دان کابینہ کا خیال تھا کہ جیسے ہی ملکی فضاؤں میں طلوع ہوتا ہوا آفتاب 27 درجہ حرارت کو چھوئے گا وبا ختم ہو جائے گی جبکہ ایسا نہیں ہوا۔

صاب جی وبائیں موسموں کی محتاج نہیں ہوا کرتیں۔ اس بھول میں آپ پاکستانیوں کو دردناک موت کے حوالے کر بیٹھے ہیں۔ تاریخ آپ کو کن الفاظ میں یاد کرے گی یہ تاریخ پر ہی چھوڑتے ہیں مگر عام پاکستانی آپ کے لیے اچھا نہیں سوچ رہا اور شوگر مافیا پر کارروائیوں والا لولی پاپ بھی آپ کو زیادہ دیر تک عوامی غصّہ سے بچا نہیں سکے گا۔

چودھویں صدی میں شاید سن 1339 کی بات ہے، ایک بحری جہاز سامان لوڈ کرکے کریمیا کے ساحل کی جانب روانگی کی تیاری میں تھا کہ ایک حبشی غلام نے جہاز کے مالک سے ڈرتے ڈرتے، جہاز میں موجود بیشمار چوہوں کی شکایت کی۔ مالک نے جھڑکتے ہوئے کہا کہ دفع ہوجاؤ؛ غلاموں کی یہی زندگی ہوتی ہے۔ تاہم کریمیا کے ساحل تک پہنچتے پہنچتے، آدھے سے زیادہ عملہ جسم پر سیاہ آبلوں یا نمونیہ کا شکار ہو چکا تھا۔ وہاں سے جب جہاز اٹلی کے ساحلوں تک پہنچا تو محض سرانڈ مارتی لاشیں تھیں بندرگاہ پر موجود عملے نے جہاز کو واپس سمندر میں دھکیل دیا لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی۔

چوہوں کے اوپر موجود مکھیاں جن کے پیٹ میں بلیک ڈیتھ یعنی طاعون پھیلانے والا جراثیم یرسینیا پیسٹیس پل رہا تھا، یورپ میں داخل ہوچکا تھا اور پھر 1347 سے لے کر 1351 تک لگ بھگ بیس کروڑ لوگ اس عفریت کا نوالہ بنے اور اگلے دو سو سالوں تک یورپ کی آبادی واپس پہلے والے اعداد و شمار میں نہ آسکی۔ انسانی تاریخ میں ایسی وبا اور بھیانک موت کی مثال نہیں ملتی۔

ان اموات کی وجہ بھی نظر انداز کرنا تھا کہ یہ سب ہماری طرف نہیں آئے گا جبکہ وبا کا کوئی دین مذہب یا معاشرتی اصول نہیں ہوتے اس لیے کون اس کا شکار بنے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے مگر ہر دفعہ وباؤں کے دنوں میں کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں تاکہ اس سے محفوظ رہا جا سکے۔

کرونا وائرس سال 2020 کا ”تحفہ“ ہے اور اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد بلا تخصیص رنگ و نسل، مذہب اور مسلک، ثقافت اور تہذیب کے موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور ان کی تدفین کا عمل بھی انتہائی درد ناک ہے۔ کئی مقامات پر خوف کے مارے لوگوں نے اپنے پیاروں کی میتیں وصول نہیں کی۔ ایک بھیانک موت کا نظارہ وہ کر چکے ہیں اس لیے وہ خود دور ہو رہے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک واٹس اپ پر ایک ویڈیو ملی کہ اٹلی میں ایک امیر کیبر شخص نے کرونا وائرس سے اپنے پورے خاندان سے ہاتھ دھونے کے بعد خودکشی کر لی۔ وہ کرونا وائرس سے مرنا نہیں چاہتا تھا۔

پاکستان بلاشبہ بہترین انسانوں کی سرزمین ہے جہاں ایک اپیل پر دردمند دل کھول کر عطیہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا کہ وائرس پھیل رہا ہے اور جس طرح حکومتی اور عوامی سطح پر مسلسل غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس سے خدا نخواستہ نقصان زیادہ ہونے کی پیش گوئی باآسانی کی جا سکتی ہے۔ دیکھیں آپ سب ان دنوں خبریں روز سنتے ہیں سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا تک آپ کی رسائی ہے آپ جانتے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ کے حکمران اپنے عوام پر واضح کر چکے ہیں کہ حالات سنگین صورتحال اختیار کر سکتے ہیں اس لیے آپ ذہنی طور پر ہر آزمائش کے لیے تیار رہیں۔

ہمارے وزیراعظم صاحب کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں زیادہ سے زیادہ تین فیصد لوگ متاثر ہوں گے اور مجھے اپنی عوام کا جتنا درد ہے کسی کو نہیں۔ (یہ تنقید نہیں شکوہ ہے کہ ریاست اپنی تین فیصد عوام کی موت کو آسانی سے کیسے ہضم کر لے گی) ۔

یہ رویہ سوتیلی ماں جیسا ہے، اس لیے جو افراد موجودہ حالات کو عالمی تناظر میں دیکھ رہے ہیں وہ پریشان ہیں کیونکہ دنیا کے بہترین ہیلتھ کیئر اور سسٹم کے مالک ممالک ناکام ہو گئے ہیں اور ہمارا صحت کا نظام نہ تین میں ہے اور نہ تیرہ میں۔ جس ملک میں کینسر جیسے موذی مرض کو بددعا قرار دیا جائے۔ ہسٹریا کو جنات کا سایہ تسلیم کیا جاتا ہو، جہاں ہیلتھ سائنس ٹوٹکے سے شروع ہو کر دم پر آ کر ختم ہو جائے۔ ( میں دعا۔ اور روحانی علاج کے حق میں ہوں مگر پہلے حکمت اور عملی اقدامات یعنی معالج سے رجوع کرنے کی قائل ہوں ) ۔

لال شربت میں پانی ڈال کر تیس مریضوں کو دی جائے۔ ہائی بلڈ پریشر میں ڈسپرین کی گولی کھا کر خون پتلا کرنے کی سوچ ہو وہاں پر ریاست بگڑے ہوئے کرونا کیسز کو کیسے ہینڈل کر پائے گی؟ میرا ریاضی اتنا اچھا نہیں ہے اس لیے بائیس کروڑ کا تین فیصد کتنا ہو گا اس کا اندازہ خود لگا لیں اور پھر خود سے سوال کریں کہ اس تین فیصد میں آپ بھی ہو سکتے ہیں اور میں بھی۔ جبکہ محفوظ رہنے کا واحد راستہ جو ہم اختیار کر سکتے ہیں وہ احتیاط ہے۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ موت تو آ کر رہنی ہے وہ غلط نہیں کہتے مگر وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسلام میں خودکشی حرام ہے اور وبا کے دنوں میں بے احتیاطی خودکشی کا دوسرا نام ہے۔ آپ تسلیم کریں یا نہ کریں جبکہ اس خود کشی میں لاشعوری طور پر آپ کئی افراد کے قتل کے موجب بھی بنے گے جس کی ایف آئی آر یہاں نہیں تو وہاں ضرور کٹے گی جو وبائی امرض کے دنوں میں اپنی جگہ پر ہی قیام کرنے پر زور دیتا ہے۔

اب آتے ہیں ایک اہم ترین پہلو پر کہ وہ تمام افراد جو اس وقت اللہ کے کمزور اور ناتواں بندوں کے لیے بے لوث خدمات انجام دے رہے ہیں کہ آیا وہ آنے والے دنوں میں آنکھوں میں بسنے والے امید کے دیے روشن رکھنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ ابھی تو بہت سارے لوگے دامے درمے قدمے سخنے ساتھ دے رہے ہیں تاہم اگر ہماری حکومت حتیٰ کہ لوگوں کی لاپرواہی کا یہی عالم رہا تو کیا ہو گا؟ دوسری جانب بہت سارے گھرانوں میں اب راشن کم ہونا شروع ہو گیا ہو گا۔

مارکیٹ میں کام نہیں ہے اس لیے ان کی پریشانی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کام نہیں تو معاوضہ نہیں اور ہر کام کرنے والی جگہ بند ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد کام کھلے گا اور پھر کام اور پھر جا کر معاوضہ ملنے کی امید ہے یعنی تھکا دینے والے تین مہینے۔ یعنی ہمیں محدود پیمانے پر سہی مگر مقامی سطح پر مزید ڈونرز کی ضرورت ہے۔

تنخواہ دار طبقہ کو بھی سیلری نہیں ملی، ان کی پریشانی الگ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ جو پہلے سے کام کر رہے ہیں وہ آگے کا بھی سوچ رہے ہوں گے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو کامیاب کرے جبکہ ملک اور ریاست کی خدمت کرنے کا ایک راستہ اور بھی ہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ پر احتیاط کریں اور ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ انسان اور انسانیت کو بچانے کی کوشش کیجئے، سیاست اور مفادات کے لیے اک عمر پڑی ہے۔ مرنے سے پہلے خوف یا بھوک سے کیوں مریں، زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میری اس سوچ کا بہترین اظہار پنجابی زبان کے پیارے شاعر حکیم ارشد شہزاد نے ان الفاظ میں کیا ہے،

مرن توں پہلے کاھنوں مرئیے
زندہ رہن دی کوشش کرئیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *