نیویارک آج سے دوبارہ کھل رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوشی کی خبر یہ ہے کہ دینا کا فنانشل حب کہلایا جانے والا نیویارک سٹی دوبارہ کھل رہا ہے۔ کورونا کی وجہ سے تین ماہ بند رہنے کے بعد فرسٹ فیز میں 8 جون بروز پیر کو نیویارک شہر دوبارہ کھل جائے گا۔ گویا یہ نیویارک شہر کی حقیقی رونقیں بحال ہونے کی جانب پہلا قدم ہو گا۔ اس بات کا اعلان ہونے کے بعد نیو یارکرز کے مرجھائے ہوئے چہرے کھل اٹھے۔ تاہم اس تمام عرصے میں تکلیف دہ بات یہ رہی کہ گزشتہ گزرے تین ماہ نیویارک کے باسیوں پر بڑے بھاری گزرے۔ انہوں نے بہت سے اپنے پیاروں کو کو کھو دیا۔ صرف نیویارک شہر میں کروونا وائرس بیس ہزار سے زائد انسانوں کو موت سے ہمکنار کر گیا۔

ہفتے کے روز نیویارک سٹیٹ کے گورنر اینڈریو کومو کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق ری اوپن کے پہلے مرحلے میں کنسٹریکشن، ایگریکلچر، شکار، فاریسٹری، مینو فیکچیرنگ اور تھوک تجارت کے کاروبار اور ملازمین اپنے کام پر واپس آئیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق اس عمل سے تقریباً چار لاکھ سے زائد ملازمین کو فائدہ پہنچے گا۔ اور پیر کے روز دو لاکھ سے زائد لوگ اپنے گھروں سے کام پر جانے کے لیے باہر نکلیں گے۔ جو پرائیویٹ، پبلک ٹرانسپورٹ، سب ویز اور بسوں کے ذریعے سفر کریں گے۔

نیویارک سٹی کے بلڈنگز ڈپارٹمنٹ کے مطابق نیویارک سٹی کی پانچ بوروز میں تقریباً 33556 کنسٹریکشن کی بڑی سائٹس پر تعمیراتی کام شروع ہو جائے گا۔ سٹی کے تمام بلڈنگز انسپکٹرز اس عمل کو یقینی بنائیں گے کہ تعمیراتی کاموں پر حفاظتی اقدامات پورے ہوں۔ تاکہ سی ڈی سی کی گائیڈ لائنز خصوصاً لازمی ماسک اور سماجی فاصلے پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

لازمی سروسز میں پہلے ہی ہسپتال، گروسری سٹورز، گیس اسٹیشنز، اور دیگر ضروری کاروبار کھلے ہوئے ہیں۔ تاہم نیویارک کے سیاحتی مقامات پارکس، بیچیز، میوزیم، ہوٹلز، بارز، باربر شاپس، سیلون اور کئی دیگر چھوٹے بڑے کاروبار تاحال بند ہیں۔ ہوٹلز اور فوڈ سے وابستہ دیگر سپاٹس سے صرف ٹیک آوے اور ٹیک آؤٹ کی اجازت ہے۔ ڈائیننگ ایریاز میں بیٹھ کر کھانے کی تاحال ممانعت ہے۔

دوسرے فیز کے شروع ہونے کا ابھی اعلان تو نہیں کیا گیا۔ تاہم اگلے دوہفتوں کے دوران نیویارک سٹی اور سٹیٹ کے حکام کووڈ۔ 19 کی پراگرس اس کے متعلق آنے والے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے۔ دوسرے فیز کے تحت رئیل اسٹیٹ، آفسیز جابز، سیلون، انڈسٹریز، ریئٹیل بیسد بزنس اور دیگر دفاتر کھولے جا سکتے ہیں۔ تاہم سی ڈی سی کی گائیڈ لائنز اور سٹیٹ حکام کی طرف سے مقررہ حفاظتی ہدایات کو یقینی بنانے کے بعد ہی ایسا ممکن ہو سکے گا۔

نیویارک سٹی کے محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ جمعہ تک کووڈ۔ 19 وائرس سے 21، 782 نیو یارک سٹی کے رہائشی ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں COVID۔ 19 کی تصدیق شدہ اموات اور غیر تصدیق شدہ امکانی اموات دونوں شامل ہیں۔ جس میں کسی شخص کی موت کی وجہ کورونا وائرس سے وابستہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا، لیکن متاثرہ شخص کے زندہ رہتے ہوئے COVID۔ 19 ٹیسٹ کا مثبت نتیجہ نہیں نکلا تھا۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ بدھ کے روز شہر میں 12 مارچ کے بعد پہلی بار کسی بھی تصدیق شدہ کروونا کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔ تاہم امکانی طور پر تین اموات کی اطلاع ملی ہے۔

مزید برآں بدھ کے روز ٹیسٹ کیے گئے صرف چار فیصد افراد کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت تھے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران نیویارک سٹی میں کروونا کے دو لاکھ تین ہزار چار سو تیس کیس سامنے آئے جن میں سے باون ہزار سات سو نوے مریض ہسپتالوں میں داخل ہوئے۔

پیر کے روز نیویارک سٹی میں پہلے مرحلے کے کاروبار کھلنے کے نتیجے میں میٹرو پولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی (ایم ٹی اے ) کے کے چار لاکھ ملازمین اپنے کام پر واپس آئیں گے۔ اور اس طرح ایم ٹی اے نیویارک میں ٹرینوں اور بسوں کے لیے اپنی نارمل فل ٹائم سروس شروع کرنے جا رہا ہے۔ تاہم صرف ٹرینوں کی رات ایک بجے سے صبح پانچ بجے تک سروس بوجوہ ٹرینوں اور سب وے اسٹیشنز کی صفائی اور سینی ٹائیز بدستور معطل رہے گی۔ جبکہ بسیں فل ٹائم اپنے نارمل شیڈول کے مطابق سروس فراہم کرتی رہیں گی۔

ایم ٹی اے کا کہنا ہے کہ سردست عوام لازمی، ضروری سروسز، فیز ون، اور کسی دیگر ایمرجنسی نیچر کے تحت جانے والے مسافر ہی ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔

نیویارک میں ایم ٹی اے آج کل سب وے ٹرینوں کے اندر وینٹیلیشن سسٹم کے ذریعے ہوا میں موجود بوندوں میں سے کوویڈ۔ 19 کو ختم کرنے والی ٹیکنالوجی کی جانچ کررہی ہے۔ جو کہ تجرباتی مراحل میں ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گا تو تمام 6400 ٹرینوں کے ڈبوں میں یہ سسٹم جلد لگا دیا جائے گا۔ جو کہ ایک نئی چیز ہو گی۔

مسافروں کو دوران سفر ماسک اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے سی ڈی سی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ منہ اور ناک کو ماسک یا کسی دیگر اسکارف سے ڈھانپ کر رکھنا ہو گا۔ تاہم ایم ٹی اے کے ملازمین اور نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار بغیر کسی سمن یا جرمانے کے ان ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔

نیویارک سٹی کے مئیر بل ڈی بلاسیو پہلے ہی سٹیٹ کے زیر انتظام چلنے والے ایم ٹی اے کو اپنی سفارشات بھیج چکے ہیں کہ پیک ٹائم اوقات کار میں رش سے بچنے کے لیے زیادہ تعداد میں بسیں اور ٹرینیں چلائی جائیں۔ تاکہ کروونا کے پھیلاؤ کو حتی الامکان روکا جا سکے۔ واضح رہے کہ کروونا وائرس کی آمد سے پہلے نیویارک سب وے میں ٹرینوں میں سفر کرنے والے مسافروں کے فی دن ٹرپس کی تعداد 28 لاکھ تھی۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ پہلے مرحلے کے شروع ہونے کے بعد یہ تعداد پچاس فیصد کم ہو جائے گی۔ جو دیگر مراحل شروع ہونے کے بعد بتدریج بڑھتی چلی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply