ٹوپی سے خرگوش نکالنے والے – مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے گھر کے باہر جو سٹریٹ لائٹ ہے وہ سال کے تین سو چونسٹھ دن خراب رہتی ہے، آج پچھترواں دن ہے۔ سڑک سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کا بھی کوئی تسلی بخش انتظام نہیں، اکثر کوئی نہ کوئی شریف آدمی وہاں کوڑے کا ڈھیر لگا کر چلا جاتا ہے۔ اور اسی سڑک پر چند قدم آگے کچھ دکانیں، ایک دو ریستوران اور اکا دکا کھوکھے بھی ہیں جن کی تجاوزات کی وجہ سے اچھی خاصی چوڑی سڑک تنگ معلوم ہوتی ہے۔ میں خود کو ایک ذمہ دار، چوکس اور سیانا شہری سمجھتا ہوں جو کہ ظاہر کہ میری خوش فہمی ہے، میں ذمہ دار ہوں نہ چوکس اور سیانا تو بالکل بھی نہیں۔

دنیا جہان کو مشورے دیتا پھرتا ہوں مگر اپنا یہ حال ہے کہ آج تک یہ معلوم نہیں کر سکا کہ سٹریٹ لائٹ ٹھیک کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ شاید یہ کام بجلی کے محکمے کا ہے مگر پھر مجھ سے بھی زیادہ کسی سیانے نے بتایا کہ مقامی حکومت نام کی کوئی شے ہوتی ہے جو اگر مادی وجود رکھتی ہو تو اس کا منتخب نمائندہ اہل علاقہ میں سے ہی کسی کو یہ کام تفویض کر دیتا ہے، واللہ اعلم بالصواب، خدا کو جان دینی ہے میں آج تک ایسے کسی مرد حر کو تلاش نہیں کر سکا جس کے ذمے یہ کام ہو۔

کوڑا کرکٹ اٹھانے والی کمپنی کا فون نمبر البتہ میرے پاس ہے، انہیں اکثر شکایت درج کروائی جاتی ہے، تاہم دس مرتبہ شکایت کرنے کے بعد ان کی گاڑی مشکل سے ایک مرتبہ آتی ہے اور گھر کے آگے سے کچرا اٹھا کر پانچ سو میٹر پرے کوڑے کے ڈرم میں پھینک دیتی ہے۔ غنیمت ہے، ہم اسی پہ شاکر ہیں۔ تجاوزات والے مسئلے کا بھی میرے پاس کوئی حل نہیں، کسی زمانے میں ”تہہ بازاری“ والے آتے تھے اور ناجائز تجاوزات گرا کر چلے جاتے تھے، اب نہ جانے یہ کام کس محکمے کا ہے، سچی بات ہے میں نے کبھی پتا لگانے کی کوشش بھی نہیں کی۔

مجھ سمیت اس ملک کا ہر شہری ایک آئیڈیل نظام کا خواہش مند ہے، ایک ایسا نظام جس میں ایک مرتبہ ووٹ ڈالنے کے بعد اس کا کام ختم ہو جائے اور پھر منتخب نمائندے، حکومتی اہلکار اور سرکاری محکمے آٹو پائلٹ کی طرز پر اپنا کام شروع کر دیں۔ اس خواہش کے پیچھے دراصل ترقی یافتہ ممالک کا ماڈل ہے جہاں بظاہر سب کچھ خود کار نظام کے تحت چلتا ہے، کچرا اٹھانے کے لیے کسی کو فون نہیں کرنا پڑتا، سٹریٹ لائٹ کبھی خراب نہیں ہوتی اور ناجائز تجاوزات کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مگر اس نظام کو آٹو میٹک بنانے کے لیے ان ممالک کے عوام نے طویل جد و جہد کی ہے۔ اکثر سوال ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں یہ کام کیسے شروع کیا جائے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے ہمیں ضلع بٹگرام جانا ہوگا۔ اس ضلع کے گاؤں چلونی میں دو سو گھرانے مقیم ہیں، پہاڑی علاقہ ہے، ذرائع نقل و حمل محدود اور آمدورفت نہایت مشکل ہے۔ تین ماہ پہلے تک ان گاؤں والوں میں سے اگر کسی کو اسپتال، بازار یا گاؤں سے باہر کسی ہنگامی ضرورت کے تحت جانا پڑتا تو شدید مشکل پیش آتی کیونکہ آمد و رفت کے لیے پکی تو کیا کچی سڑک بھی موجود نہیں تھی، مریض کو چارپائی پر ڈال کر ایک کلومیٹر کا سفر کئی گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا تھا، پبلک ٹرانسپورٹ گاؤں سے 27 کلومیٹر دور تھی۔

علاقہ مکینوں کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ اگر پکی سڑک نہیں تو کم از کم اس 27 کلومیٹر کو کچا راستہ ہی بنا دیا جائے تا کہ نقل و حمل میں آسانی ہو مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ پھر یوں ہوا کہ وہاں کی ایک مقامی فلاحی تنظیم نے دسمبر 2017 میں گاؤں والوں کو تربیت دینی شروع کی جس میں انہیں بتایا گیا کہ اپنے حقوق کے لیے متحرک کیسے ہوا جاتا ہے، عوامی مسائل کے حل کے لیے کون سا در کھٹکھٹایا جا تا ہے اور اپنے علاقے کے مسائل کیسے حل کروائے جاتے ہیں۔

اس تنظیم کی تربیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فروری 2018 میں گاؤں والوں نے ایک قرارداد تیار کی جس میں علاقہ مکینوں کے دستخط موجود تھے اور پھر وہ قرارداد مقامی ایم پی اے کو دی گئی جس نے کچی سڑک کے لیے دس لاکھ روپے مختص کروائے جس سے صرف دس کلومیٹر کچی سڑک ہی بن سکی۔ 2018 انتخابات شروع ہوئے تو کام رک گیا جس کے بعد گاؤں والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پیسے اکٹھے کر کے جون 2020 تک کچی سڑک مکمل کر لی۔ اب اس گاؤں کے لوگ شاہراہ قراقرم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور صحت اور تعلیم تک رسائی بھی آسان ہو گئی ہے۔

گاؤں والوں کے لیے یہ ایک چھوٹا سا معجزہ ہے، جس تنظیم نے ان مقامی افراد کی تربیت کی اس کا نام عمر اصغر خان فاؤنڈیشن ہے اور یہ تنظیم مالی امداد کرنے کی بجائے لوگوں کی اس انداز میں تربیت کرتی ہے کہ وہ اپنے حقوق قانونی طریقے سے حاصل کر سکیں۔ ایک پروجیکٹ کے تحت اس تنظیم نے صوبے کے 12 اضلاع میں عوامی تربیت کا یہ کام کیا ہے اور لوگوں کو باشعور اور فعال بنانے میں مدد کی ہے۔

خیبر پختونخوا کے ایک دور افتادہ گاؤں کے باسی اگر اپنے علاقے کے لیے سڑک بنوا سکتے ہیں تو لاہور، کراچی کے طرم خان شہری اپنے گلی محلے کیوں صاف نہیں رکھ سکتے؟ اس کی ایک وجہ تو فدوی نے بیان کر دی کہ ووٹ ڈالنے کے بعد ہمارا کام سوائے اس نظام کو کوسنے کے سوا کچھ نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بطور قوم ہم گورننس کے چھوٹے چھوٹے نسخوں یا سادہ قسم کے نظام سے مطمئن نہیں ہوتے۔ ہمیں انقلابی نظام چاہیے اور اسے چلانے کے لیے ایک کرشماتی لیڈر جو روزانہ اپنی ٹوپی سے خرگوش نکال کر دکھائے۔

ٹوپی سے خرگوش نکالنے والا یہ کھیل ستر برس سے جاری ہے۔ خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی ٹوپی سے بنیادی جمہوریت کا خرگوش نکال کر دکھایا، نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا، آخری رسومات یحییٰ خان نے ادا کر دیں۔ پھر ہمیں سوشلسٹ انقلاب کا سبز باغ دکھایا گیا جس کے نتیجے میں ایسا صنعتی زوال شروع ہوا جو کئی دہائیوں تک رکنے میں ہی نہیں آیا، قومیائے گئے اداروں کا نا قابل تلافی نقصان ہوا اور ملک کی کمر ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد ایک مرد مومن نے نظام مصطفی کا دلفریب نعرہ دیا اور اپنی ٹوپی سے سٹرٹیجک ڈیپتھ کا خرگوش نکال کر دکھایا، نظام تو خیر کیا بدلنا تھا اس حکمت عملی نے ملک کو فرقہ واریت کے جہنم میں دھکیل دیا اور تشدد اور انتہا پسندی نے ملک کا رہا سہا ڈھانچہ بھی برباد کر دیا۔

ٹوپی سے خرگوش نکالنے کی اگلی باری مہوش حیات کے محبوب قائد سید پرویز مشرف کی تھی، جناب نے سات نکاتی اصلاحی ایجنڈا پیش کیا، جس کے بعد ملک کی ایسی ’اصلاح‘ ہوئی کہ ہم دہشت گردی کی دلدل میں ڈوب گئے اور کئی برس تک باہر نہ نکل سکے۔ مگر ہمیں چین نہیں آیا۔ اب ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس ملک کا اصل مسئلہ بد عنوانی ہے، سو آج ہمارے پسندیدہ الفاظ، کرپشن اور بے رحم احتساب وغیرہ ہیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا مگر ایک بات ثابت ہو چکی ہے کہ من حیث القوم چھوٹی موٹی باتیں ہمیں پسند نہیں آتیں، جیب میں پچیس لاکھ ڈال کر ہم دو کنال کا پلاٹ ڈھونڈنے نکلتے ہیں اور ”چار ہزار کی آسان اقساط میں پلاٹ حاصل کریں“ جیسی نو سر باز رہائشی اسکیموں کے ہتھے چڑھ کر اپنی جمع پونجی لٹا بیٹھتے ہیں۔ فدوی کی رائے میں فی الحال ہمیں تین مرلے کا پلاٹ کافی ہے۔ دلفریب نعروں اور کسی انقلاب کی ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگنے سے بہتر ہے کہ اپنے علاقے اور محلے کے نمائندوں اور سرکاری کرمچاریوں سے قانون کے مطابق اپنے حقوق مانگیں۔ چلونی گاؤں والے اگر یہ کر سکتے ہیں تو باقی پاکستانی کیوں نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 136 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada