نیا سال مبارک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دعا ہے کہ یہ نیا سال آپ اور ہم سب کے لئے امن، سکون، صحت تندرستی، خوشحالی اور خوشیوں کا باعث اور ضامن ہو۔ اللہ تبارک و تعالٰی آپ سب کو خوشیاں اور آسانیاں عطا فرمائے اور خوشیاں اور آسانیاں بانٹنے والا بنائے۔ اللہ تعالی اس ظالم وبا کا پوری دنیا سے خاتمہ کردے، مریضوں کو کامل شفا عطا فرمائے۔ اس وبا کو نیست و نابود کر دے اور تمام انسانیت کو اس سے نجات عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

کچھ حلقے یقیناً معترض ہوں گے کہ یہ تو ہمارا سال ہرگز نہیں ہے اور ہمیں فرق ہی نہیں پڑتا یا یہ ہماری بلا سے کہ یہ سال آئے یا نہ آئے۔ جناب فرق تو پڑتا ہے ہم 2020 سے 2021 میں داخل ہو جائیں  گے،  فرق تو بیس اکیس کا ہے لیکن پچھلا عشرہ ہماری زندگی سے خارج ہو گیا اور یہ نیا عشرہ ہےاور اس نئے سال کے ساتھ ہم  نے بہت سی توقعات وابستہ کی ہیں۔

اگر ہم اور کسی قابل نہیں ہیں تو آپ سب کو نیک خواہشات کے ساتھ مبارکباد تو دے ہی سکتے ہیں زندگی میں خوشیاں یوں بھی اتنی مختصر ہیں۔ اور ہمارا شمار تو ان میں ہے جو نئے جوتوں اور کپڑوں تک کی مبارکباد دیتے ہیں ورنہ پہننے والا ناراض ہو جاتا ہے کہ ہمیں مبارک ہی نہیں کہا۔ اور یہ مبارکباد کیا ہے در حقیقت دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اس میں خیر و برکت ڈال دے اور یہ خیر و برکت کہ دعائیں تو ہمارا زندگی کا اثاثہ ہیں۔

اگر یہ ہمارا سال نہیں تو پھر ہمارا کون سا سال ہے۔ ؟ ہجری ”ہاں یقیناً کیوں نہیں۔ ذرا یہ فرمائیے آج کون سے ہجری مہینے کی کون سی تاریخ ہے اور کون سا سال ہے؟“ ربیع الاول۔ البتہ تاریخ یاد نہیں آ رہی پندرہ یا سولہ شاید اور وہ بھی ابھی تو عید میلادالنبی منایا تھا اور سال نہیں 1438 ہجری شاید ”اور شمسی کیلنڈر؟ واہ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ، جنوری کی  دو تاریخ ہے اور کل ہی نیا سال شروع ہوا ہے۔ لیکن مبارک نہیں کہیں گے بھئی! ہم نیا سال مناتے ہی نہیں۔ منانے سے آپ کی کیا مراد ہے ، چلیے جانے دیجیے اس طرح سے تو ہم بھی نہیں مناتے۔

ہم میں سے 90 فیصد مسلمان اسلامی کیلنڈر اور اس کی تاریخوں سے نابلد ہوتے ہیں اور جب ہم ایک ملک اور ایک محلے میں رمضان، عیدین مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں تو پھر ہمیں یہ اعتراضات زیب نہٰیں دیتے۔ سوائے سعودی عرب کے کوئی اسلامی ملک نہیں جس کا روزمرہ کا حساب کتاب اسلامی تاریخوں اور کیلنڈر پر چلتا ہو۔ باقی دنیا میں اسلامی تاریخوں کی یہ گڈمڈ بہت پریشان اور افسردہ کرتی ہے کاش کہ ہم بھی اسلامی یا ہجری کیلنڈر پر متفق ہوں جو کہ چند سوچنے والے دماغوں نے بنا لیا ہے اور اس کا قمری حساب کتاب بالکل درست ہے۔

اس طرح ہم جگ ہنسائی سے بھی بچ جائیں گے اور خود بھی مطمئن ہوں گے ۔ اسلامی مہینوں کی متفرق تاریخیں ہمیں ایک مخمصے میں ڈال دیتی ہیں؟ آسان علاج یہ ہے کہ چشم پوشی اختیار کرو اور پھر اس سے بڑی دکھ کی بات کہ ہم تو نئے اسلامی سال پر بھی مبارکباد دیتے ہیں لیکن بہتوں کو یہ بھی بالکل نہیں بھاتا۔ ”یہ بھی کوئی بات ہے ہمارا نیا سال تو غم اور دکھ سے شروع ہوتا ہے اور آپ کو مبارکباد دینے کی سوجھی ہے“ ۔

اور پھر ہمارے برصغیری معاشرے میں ایک اور سال بھی منایا جاتا ہے جسے فصلی یا موسمی سال کہتے ہیں۔ جیٹھ، ہاڑ، ساون بھادوں ، ہر سال کی طرح اس کے بھی پورے بارہ مہینے ہیں ( راز کی بات یہ کہ ابھی مجھے اردو میں پورے فصلی مہینوں کے نام یاد نہیں آرہے) ۔ دیہاتی، زمیندار، کاشتکار لوگ انہی مہینوں پر چلتے ہیں اور انہی مہینوں کا حساب رکھتے ہیں ان کے سارے تہوار، فصل کی کٹائی، بوائی، بارشوں کا ہونا یا نہ ہونا انہی مہینوں اور تاریخوں میں ہوتا ہے۔ یہ مہینے بھی شمسی کیلنڈر کی طرح ہیں کیونکہ یہ مقررہ موسم کے حساب سے آتے ہیں۔

اب جبکہ ہمارا سارا روزمرہ کا جدول، حساب کتاب اسی شمسی یا عیسوی کیلنڈر  کے حساب سے چلتا ہے تو اس کی آمد پر خوش ہوں یا اداس ہوں وہ تو آئے گا ہی۔ بھلا وقت کے دھارے کو کوئی روک سکا ہے؟

2020 کی آمد ہو چکی ہے۔ نئے برس کے آغاز میں مغربی دنیا تو لمبی چھٹیاں مناتی ہے ، عام طور سے ان چھٹیوں کو ”میری کرسمس اور ہیپی نیو ائیر“ کہا جاتا ہے۔ ہم اور بہت سے انہیں ”ہیپی ہالیڈیز happy holidays“ کہتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ہمارے پاکستانی اسکول میں ”بڑا دن“ کی چھٹیاں ہوا کرتی تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بڑا دن کرسمس ہوا کرتا ہے۔ بعد میں یہ قائد اعظم کی یوم ولادت میں بدل گیا۔

امریکن تھینکس گیونگ کے بعد کرسمس اور نیو ائیر کی سجاوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ جھلملاتے ہوئے ایک سے بڑھ کر ایک بڑھ کرسمس ٹریز گھروں میں، بازاروں، مالوں۔ سڑکوں اور چوراہوں پر ایک سماں پیدا کر دیتے ہیں اور ہر طرف جھلملاہٹ، قمقمے سارے ملک میں جشن کا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔ کرسمس تک تو سانتا کلاز کا راج ہوتا ہے،  سرخ پھندنے والی ٹوپی بڑی سفید داڑھی، موٹی توند، سرخ و سفید کپڑوں میں ملبوس، مال میں سانتا کے ساتھ اپنے بچوں کی تصویر کھنچوانے والوں کی ایک لائن لگی ہوتی ہے۔

اب تو کرسمس کی رات کو بہت سارے چینل سانتا کی قطب شمالی سے رینڈیئر کی رتھ میں روانگی کا آنکھوں دیکھا حال نشر کرتے ہیں۔ تحائف سے لدے پھندے سانتا کی آمد کا سب بچے انتظار کرتے ہیں۔ سانتا عام طور سے یہ تحایف کرسمس ٹری کے نیچے رکھ جاتا ہے۔ معمول کے مطابق سانتا چمنی سے اترتا ہے لیکن اگر چمنی نہ ہو تو سانتا تو سانتا ہی ہے ، پھر بھی آ جاتا ہے۔ بچے تو بچے بڑوں کو بھی یہ تجاہل عارفانہ یا یہ خوبصورت جھوٹ اور کہانی بے حد مرغوب ہے۔

یہاں کی اسی فیصد عوام اس سے نابلد ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا دن ہے اور یہ دن اور کرسمس بھی قدامت پسند یونانی اور آئر لینڈ کے لوگ مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں۔ ایک مرتبہ سی این این پر کرسمس کے بارے میں پروگرام تھا اس میں اکثریت نے یہی کہا کہ یہ کرسمس ٹری سجانے، رینڈیئر کے رتھ پر سانتا کے آنے اور تحفے تحائف کا موقع ہے۔ اب تو ہمارے اکثر مسلمان بھی اس سجاوٹ میں شریک ہو گئے ہیں۔

کراچی اور پاکستان میں یہ سب غیر سرکاری طور پر منایا جاتا تھا۔ رات کے ٹھیک 12 بجے آٹومیٹک اسلحے کی جو تڑ تڑ فائرنگ شروع ہوتی تھی اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ لوگ کس قدر مسلح ہیں جبکہ ہمارے پاس چاقو چھری سے زیادہ کچھ نہ ہوتا تھا۔ یہاں پر بھی نجی پارٹیوں کا زور ہے۔ سی ویو پر نوجوان دیوانہ وار پہنچ جاتے اور خوب ہنگامہ کرتے۔ دوسری طرف دینی پارٹیوں کے نوجوان ان کو روکنے کی کوشش کرتے۔ یہ سب اب بھی ہوتا ہے بلکہ اس کورونازدگی میں بھی تمام شہروں آتش بازی اور فائرنگ خوب زور شور سے ہوئی ہے۔

نئے سال کی ریزولوشن یعنی قرارداد کا بڑا چرچا ہوتا ہے۔ اب آپ اپنے ریزولوشن کا سوچیے
ہمارا تو یہ ہے کہ سب کا بھلا ہو تو ہمارا بھی بھلا۔
چلیے عربی میں بھی دعا دیتے ہیں ”کل عام و انتم بخیر“۔ آپ کا نیا سال خوش آئند ہو۔

Latest posts by عابدہ رحمانی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عابدہ رحمانی کی دیگر تحریریں