یہ قوم بننے کا وقت ہے

وہ آیا، اس دنے دیکھا اور سب پر حاوی آگیا، انسانی آنکھ بھی جسے نہ دیکھ پاتی ہے، اس معمولی سے وائرس نے بلاشرکت غیر پوری دنیا کو اپنے سحر میں نہ صرف جکڑ لیا بلکہ اس کا خوف جھونپڑی سے محلات تک پہنچ گیا۔ دنیا نے بیسویں صدی میں جنتی زیادہ ترقی کی، اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی، زندگی کی سہولتوں سے لے کر زندہ رہنے اور زندگی بچانے کے لئے کیے جانے والے جتن شاید

Read more

بے نظیر کو لفٹ دینے کا قصہ

10 اپریل 1986 کا دن چڑھا لاہور ائیرپورٹ جانے والے آخری چوک میں گزری رات سے ڈیرے ڈالے تھے، ہزاروں بلکہ ملک بھر سے آئے لاکھوں افراد کو اس لمحے کا شدت سے انتظار تھا جب وہ جلاوطنی ختم کرکے وطن آنے والی بھٹو کی بیٹی کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے تھے۔ ٹرک پر پارٹی کی قیادت کے ساتھ سر پر دوپٹہ اوڑھے خوبصورت چشمہ پہنے بڑے پراعتماد اور فخر کے ساتھ کھڑی بے نظیر بھٹو نے جب ہاتھ ہلاکر

Read more

نواز شریف کے نام بے نظیر بھٹو کا خط

میاں صاحب، مجھے علم ہے، آپ ان دنوں بہت زیادہ علیل ہیں، اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ آپ جس ذہنی اور جسمانی کرب اور تکلیف سے دوچار ہیں۔ مجھ سے زیادہ آپ بہتر جانتے ہوں گے کہ سیاسی سفر کے دوران ان دیکھی قوتیں انجان راستوں اور بند گلیوں میں لے جاتی ہیں۔ کیسی کیسی آزمائش کا سامنا رہتا ہے، اپنوں سے دور کر کے ناپسندیدہ فیصلے کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بیگم کلثوم کی بیماری

Read more

سید امتیاز راشد: جنگ کا امن پسند صحافی رخصت ہو گیا

ذرائع ابلاغ کے شعبے میں اپنا منفرد مقام بنانے والے ادارے میں کام کرنے والوں کی محنت اور لگن نے اسے جنگ کی شناخت دی۔ لاہور میں 80 کی دہائی کے آغاز میں قدم جمانے میں جن کارکنوں نے بھرپور کردار ادا کیا، ان میں امتیاز راشد بھی ایک تھے، جن کا ساتھ اس ادارے سے تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہے، جنگ کی رپورٹنگ ٹیم میں موثر اور مستند خبر فراہم کرنے والے شاہ صاحب ہمیشہ نوجوانوں میں ہردلعزیز

Read more

دہشت گردی کے واقعات میں لاپتہ کمسنوں کے نام

وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ بازار میں سودا لینے گئی، بڑے دونوں بچے سکول گئے تھے جبکہ چھوٹے بیٹے نے ضد کرکے چھٹی کرلی تھی، جسے ساتھ لے کر آئی تھی۔ ابھی وہ سبزی کی دکان پر مول تول کررہی تھی کہ اچانک ایک دھماکہ ہوا اور آناً فاناً سارا منظر تبدیل ہوگیا،ہر طرف دھواں پھیل گیا اور چیخ وپکار شروع ہوگئی، اردگرد لوگ سڑک پر گرے پڑے تھے، زخمیوں اور لاشوں کی پہچان مشکل تھی، بچ جانے والے خوفزدہ تھے، ایک لمحے کے لیے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا اور پھر جیسے ایک تباہی کا منظر تھا۔ چند منٹوں بعد ایمبولینسوں اور پولیس کی گاڑیوں کی آمد شروع ہوئی، مرنے اور زخمی ہونیوالوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کا عمل جاری تھا۔

Read more

بھٹو ہر روز پیدا نہیں ہوتے

فروری 1974 دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور اور پنجاب اسمبلی ہال کا انتخاب کیا گیا۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی دنیا کے پچاس سربراہوں کو دعوت دی، مہمانوں کے قیام کیلئے شہر کی خوبصورت پرائیویٹ کوٹھیوں کی تلاش شروع ہوئی۔ ہر کوٹھی کا مالک خوشی کے ساتھ کسی مسلمان سربراہ کے لئے اپنا گھر دینا پسند کررہا تھا۔ جس کی کوٹھی اس لسٹ میں آگئی اس نے بڑا فخر محسوس کیا کہ میرے گھر میں

Read more

مجھے جانتے نہیں؟

ایک پرانا قصہ لاہور میں بزرگوں سے سنا، بظاہر کوئی خاص نہیں لیکن جب بھی کسی کوسناتے محظوظ ہوئے بغیرنہ رہتا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے، ہمارے ایک جاننے والی انٹیلی جنس پولیس میں تھے، جسے آج کے دورمیں خفیہ والے کہاجاتا ہے، وہ ململ کاکرتہ اور تہبند پہنے اندرون شہرکی گلیوں میں گشت کررہے تھے، وہاں کچھ رش تھا، ایک دوسے ٹاکراہوا، کسی کاکندھا لگاتو غصے سے بولے تم مجھے جانتے نہیں، کیسے مجھ سے ٹکرائے، اس نے حیرت سے دیکھا، پہلے پریشان ہوا، پھر پوچھ لیا، جناب مجھے نہیں معلوم آپ کون ہیں، جواب میں موصوف نے کرتہ اٹھایا، تہبند میں ڈیوٹی پسٹل لگارکھاتھا، بولے ایہہ ویکھ تیری مامی لگی اے (جانتے نہیں یہ کیاہے ) ۔ اب وہ شخص پھر بھی نہ جان سکا، اسے اتنا ہی گمان ہوا کہ کوئی بدمعاش ہوگاجو دھمکی دے گیا۔

Read more

روحی بانو کو تنہا کیوں چھوڑا؟

کالج کے ابتدائی چار سال شعبہ نفسیات میں گزارے، اس دوران پڑھنے کے ساتھ ساتھ ناصرف پروفیسر سے مکالمے کا موقع ملتا، جس میں مختلف نفسیاتی اور ذہنی امور پر رہنمائی لیتے، بلکہ ہمیں نفسیاتی پریشانیوں اور امراض میں مبتلا افراد سے ملایا جاتا، فاؤنٹین ہاؤس میں کئی بار جانے کا اتفاق ہوا، زیادہ تر طلباء کا خیال تھا کہ مینٹل ہاسپٹل عرف عام میں پاگل خانہ لے کر جائیں گے مگر کہا جاتا کہ وہاں ذرا زیادہ بگڑے مریض ہوتے ہیں، آپ لوگ ان سے گفتگو نہیں کرسکیں گے۔ خیر یہ محض بہانہ تھا۔

Read more

لاہور میں صحافیوں کا ٹھکانہ

تیس برس پہلے کا ذکر ہے خبر کی دنیا سے وابستہ ہوئے،بڑوں سے معلوم ہوا کہ یہاں کبھی فارغ اوقات میں بیٹھنے کے لیے مقام ہوتا تھا،جسے پریس کلب کہاجاتاہے،بڑے ناموں کی بڑی اوردلچسپ باتیں بھی اسی سے منسلک تھیں،ریگل کے قریب ایک عمارت میں چند کمرے بندتھے جن کے مرکزی دروازے پر تالہ پڑا تھا،وہاں ایک بار زمانہ طالبعلمی میں تنظیمی حوالے سے کسی جید صحافی سے ملاقات کرچکاتھا۔ 1989 میں وہ عمارت کسی تنازعے کے باعث تالہ بندی

Read more

حسین نقی کا مرتبہ

تم لوگ اپنی انرجی ادھر اُدھر آنے جانے میں ضائع کرنے کے بجائے کسی “بامقصد کام میں صرف کیوں نہیں کرتے” یہ جملہ سُن کر جیسے مجھے ایک دھچکا سا لگا کہ ہماری سرگرمیاں کیا واقعی بے مقصد اور فضول ہیں، یہ جملہ حسین نقی صاحب نے ادا کیا، جن کے ساتھ ہمارا واسطہ طلبہ سیاست کے حوالے سے کم وبیش رہتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بائیں بازو کی سیاست میں تمام رہنماؤں کے صحافت سے وابستہ

Read more

بڑھاپے کا مکالمہ

شادی کے بیس سال بعد میری بیوی نے مجھے ایک عورت کے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت دی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں لیکن تم اس عورت کے ساتھ وقت گزارو جو تمہیں مجھ سے بھی زیادہ محبت کرتی ہے۔ یہ عورت میری ماں تھی جو پچھلے پندرہ برسوں سے بیوگی میں اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ زندگی بسر کررہی تھی لیکن میں اپنے کام اور تین بچوں میں اتنا مصروف رہتا تھا کہ

Read more

وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

وہ ایک بار پھر گم ہو گیا، نہیں! شاید وہ کبھی لا پتا ہوا ہی نہ تھا۔ ہمی اسے ڈھونڈتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے کچھ اس انداز میں پوچھتے رہتے، کہ وہ جیسے کہیں کھو گیا ہو۔ کتنے سال بیت گئے، وہ ویسے کا ویسا ہی، یہ اس کی مستقل مزاجی یا طبیعت کہیں، تین دہائیاں گزرنے کو ہیں، مگر اس دوران کئی کئی سال گزر جاتے ہیں اور اس کا کچھ معلوم نہیں وہ کہاں ہے اور

Read more

وہ سب کیسے ملیں گے

آج بھی چالیس سال پیچھے نگاہ چلی جاتی ہے لیکن ساتھ میں سب کچھ وہاں پہنچ جاتا ہے، جب ایک بے فکری تھی، کیوں نہ ہوتی بچپن ہر کسی کا ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کی یادیں کون بھول پاتا ہے۔ ذہن میں ایک انبار لگا ہے چیزوں کا، باتوں کا، قصوں کہانیوں اور کرداروں کا، یہ وہ دور ہوتا ہے اور تھا جب سب کچھ سادہ اور سچا تھا۔ ایسا بھی نہیں کہ جھوٹ نہیں بولتے تھے، لیکن اس

Read more

جواد نظیر: پانچواں درویش

لاہور میں ایک بار امتحانات کے دوران نقل کرانے کے الزام میں پولیس نے سکول کے اساتذہ کو مرغا بنا دیا اور تصاویر اتار کر اخبارات میں شائع کرا دیں۔ اس معاملے پر روزنامہ جنگ نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو ہدف تنقید بنایا کہ قوم کے معماروں سے ایسا سلوک بنتا ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں سب فرشتے ہیں، کسی کی ایک غلطی پر اس کا رتبہ اور مقام بدل جاتا ہے۔ یہ بڑے

Read more

نازک گھڑی

وہ گھڑیاں جب بھی نظروں کے سامنے ذہن کے پردے سے نکل کر آتی ہیں، ایک دم سب کچھ جیسے تھم سا جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتال کا وارڈ جہاں کئی تکلیف کی حدوں کو عبور کرتے زندگی اور موت کی دہلیز پر پہنچے مریضوں کے درمیان وہ دنیا میں سب سے قیمتی ہستی بستر پر لیٹی، اپنے بچوں کو کبھی دکھ اور پریشانی میں دیکھ کر تڑپ جانے والی ماں اس لمحے بھی جیسے رب سے کوئی مکالمے میں مصروف

Read more

وہ آنگن، پرندے اور مہمان

میں آج جہاں کھڑا ہوں وہ کبھی میرا بسیرا تھا،مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہورہا تھااسی آنگن میں برسوں پہلے رینگتے رینگتے میں چلنے لگا تھا۔ دروازے سے اندر داخل ہوکر ایک کھلا صحن جس کی بائیں جانب امرود کا درخت اور اس کے پہلو میں جیسے چھوٹے بہن بھائیوں کی طرح بڑے باآدب کھڑے موتیے اور رات کی رانی کے پودے ہر آنے والے مہمان کو جیسے خوش آمدید کہتے دکھائی دیتے، اینٹوں کے صحن میں مٹی میں

Read more

باؤ جی کی ڈھال

"کلثوم آنکھیں کھولو، دیکھو، باؤجی آئے ہیں” یہ صدائیں، سابق وزیراعظم نوازشریف کی بسترمرگ پر لیٹی، اپنی شریک حیات کلثوم نواز کو کومے سے ہوش میں لانے کے لئے تھیں۔ یہ حقیقت ہے کہ میاں نوازشریف اپنی تین حکومتوں کےخاتمے، جلاوطنی اور پاناما کیس پر اتنے پریشان نہیں ہوئے، جتنا اپنی اہلیہ کی بیماری پر دکھی تھے۔ وہ بیگم کلثوم کے سرہانے کھڑے ہوتے تو ان کے ہاتھ کانپتے اور آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ کلثوم نواز سے ان کارشتہ

Read more

زبان کی ٹانگ توڑ ڈالی

تحریر ایسی ہو، جو پڑھنے اور خصوصاً سننے والے پر اپنا اثر چھوڑ دے، الفاظ کا تیکھاپن ہو،یا ٹیڑھے محاوروں کی ترکیب، چلبلی تُک بندی بھی جملوں کو کھٹا میٹھا کر دیتا ہے۔ ایک ادب کی زبان ہوتی ہے۔ ایک عام بول چال اخبارمیں بھی زبان کا خاص خیال رکھاجاتاہے۔ کسی دور میں ریڈیو پر بڑے سکہ بند اور اہل زبان،سکرپٹ رائٹر ہوں یا صداکار، سننے والوں پر سحر طاری کر دیتے تھے۔ ایسی شستہ اور سلیس اردو بولتے کہ

Read more

کلدیپ نائیر ۔ امن کا پیامبر

13 اگست 2007 واہگہ بارڈر بار کرکے ہم ایک وفد کے ہمراہ بھارت میں داخل ہوئے، دوسری جانب استقبال کرنے والوں میں ایک بڑا نام کلدیپ نائیر بھی ہاتھ میں ہار تھامے موجود تھے۔ گلےمیں پھول ڈال کر سینے سے لگا کر پیار کیا۔ وہ لمحہ آج بھی نظروں کے سامنے آتا ہے۔ دونوں ملکوں کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ تھی۔ ہم لوگ امرتسر میں پاک بھارت تعلقات پر کانفرنس میں شرکت کرنے گئے۔ اس شفیق بزرگ صحافی کی نرم ونازک

Read more

میاں صاحب! آپ کا وقت ہوگیا

الیکشن ہوگیا، اب چیزیں اپنی اپنی جگہ بنانے لگ گئی ہیں، سب کو اپنی پوزیشن کا اندازہ ہوگیا۔ کس نے کہاں بیٹھ کر کیا کرنا ہے۔ کوئی ابہام باقی نہیں رہا نہ کسی کو مزید گمان کرنا چاہیے۔ عید کس نے کہاں اور کس حیثیت میں گزارنا ہے یہ بھی معلوم ہے۔ عمران خان وہاں پہنچ چکے ہیں جس منزل کا ٹھان کے نکلے تھے۔ جونیئر بھٹو بلاول زرداری بھی اپنے ٹارگٹ کے پہلے پڑاؤ پر قدم رکھ چکے ہیں۔

Read more

حلف برداری کا آنکھوں دیکھا احوال

آج ہم اس ہال میں موجود تھے جہاں بے نظیر بھٹو نے دو مرتبہ اور نواز شریف نے تین مرتبہ ملک کے منتخب وزیراعظم کا حلف اٹھایا تھا۔ 1988 کا منظر آنکھوں کے سامنے آگیا۔ دنیا کی پہلی خاتون سربراہ مملکت کا اعزاز حاصل کیا، مگر محض بیس ماہ کی قلیل مدت بعد اقتدار کے ایوانوں سے بے دخل کردی گئیں۔ نواز شریف بھی یہیں حلف لے کر گئے ان کے ساتھ بھی مختلف سلوک نہ کیا گیا۔ ایوان صدر

Read more

13 جولائی اور 13 اگست

سیاست عوامی خدمت کا نام ہے مگر کسی نے خوب کہا ہے سیاست بڑی ظالم ہوتی ہے۔ اس میں اقتدار اور اختیار کی خواہش رشتوں کا لحاظ نہیں رکھتی۔ نواز شریف گزشتہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ سے جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ شاید ان سے زیادہ کسی بھی پاکستانی کے علم میں ہے۔ تیسری بار اقتدار سے ہٹائے جانے کے تازہ ترین عمل پر بہت بات ہوچکی، نواز شریف سے روا رکھے جانے والا سلوک بھی میڈیا

Read more

سرحد کے پار، آزادی کی یاد

13 اگست 2007 کو ساٹھویں یوم آزادی سے ایک روز پہلے ہم ایک وفد کی صورت میں واہگہ بارڈر کی راستے پیدل سرحد پار بھارت میں داخل ہوئے، امرتسر میں ایک امن کانفرنس میں سیاستدانوں، صحافیوں اور سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد کو مدعو کیا گیا تھا، وفد میں اس وقت کی دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ بھی شریک تھے۔ میں 1998 میں بھی نئی دلی جاچکا تھا امرتسر جانے کا پہلا موقع تھا، میرے لیے اس کی اہمیت

Read more

ہائے قربان

عیدالاضحٰی کی آمد تھی اور ہر طرف قربانی کے جانوروں کا ایک ہجوم دیکھنے کو مل رہا تھا۔ یہ ایام ہر سال آتے ہیں، اور ہر بار ایک نئی بحث کا آغاز ہو جاتا ہے کہ عید پر جانور کی قربانی کرنی ہے یا نہیں۔ اب ذہن میں نہ کا لفظ کم آتا ہے۔ جب ہم بچے تھے تو والدین اس کا اہتمام کرتے تھے، ہمیں علم بھی نہیں ہوتا تھا کہ بکرا کتنے میں خریدا گیا، کیوں کہ ہماری

Read more

خبر کے چکر میں

1994 کا ذکر ہے، میں اور ساتھی صحافی پریس کلب سے شارع فاطمہ جناح انگریزی روزنامہ کے دفتر جارہے تھے، اس کے قریب چوک کراس کرتے اشارہ پیلے سے سرخ ہورہا تھا،میرے ساتھی نے موٹرسائیکل نہ روکی، ٹریفک کانسٹیبل نے چلتے میں اسے ہاتھ مارا، ہم گرتے گرتے بچ گئے، میرے ساتھی نے فوراً موٹر سائیکل روک کر سٹینڈ پر کھڑی کی اور جاکر کانسٹیبل سے پوچھا کہ یہ کیا حرکت کی، وہ صورتحال بھانپ چکا تھا کہ اس سے

Read more

کپتان اور شرمندہ نئی نسل

یہ وہ میدان جیتا ہے جس میں اصل امتحان اگلے مرحلے میں ہوتا ہے۔ یہ ایسی کامیابی ہے جو مستقبل کی راہوں کا تعین کرتی ہے، فاتح نے تاریخ میں اپنا نام کہاں لکھانا ہے۔ اب ہر نگاہ جیت کا نعرہ لگانے والوں پر لگی ہے۔ وہ کیا کرنے والے ہیں۔ نعرہ بھی تبدیلی کا، تبدیلی انسان کی جبلت میں شامل ہے مگر کئی بار اسے آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا۔ جیسے ہے ویسے ہی گزار کرنے کی عادت

Read more

سیاسی تفریح

عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکتے، یہ دعویٰ کئی تجزیہ کار چند ماہ پہلے کرچکے تھے اور اس کی بنیاد پر کئی شرطیں بھی لگی تھیں، الیکشن ہوا، اس میں بھی تجزیئے ،اندازے، قیاس آرائیاں ایک طرف پڑی رہ گئیں، شرطیں ہارنے والے غمزدہ ہوکر مُکر ہی گئے۔ انتخابات اپنی نوعیت میں اتنے منفرد ثابت ہوئے کہ نئے ووٹر حیران رہ گئے۔ خیر یہ سب باتیں اب چلتی رہیں گی، اصل توجہ اور دلچسپی کا موضوع حکومت سازی اور اس

Read more

اتنا غصہ کیوں؟

جمہوریت کیا ہے،نہ کسی نے جاننے کی زحمت کی،نہ بتانے کی ضرورت محسوس کی۔ دوسرے کی رائے کا احترام کرنا بنیادی جزو قرار پایا۔ سیاست میں اور بہت کچھ آگیا مگر جمہوری قدریں بتدریج رخصت ہورہی ہیں۔ سیاسی کارکنوں کا ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی بھی جمہوریت کا حصہ ہے۔ اس سے آگے لڑائی جھگڑا، گالم گلوچ، ذاتی حملے، بہتان، یہ سب بھی سیاست میں آچکے ہیں۔ الیکشن کے دوران ایسی تمام سرگرمیاں پارٹی قیادت کے کنٹرول کرنے پر

Read more

تبدیلی آسان نہیں

 میرے ذمے کرپشن نکل آئے تو میرا گریبان اور آپ کا ہاتھ ہوگا،  ایک پائی کی بدعنوانی ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں ایسے دعوے حکمران کرتے آئے ہیں، خصوصا ہمارے سابق حاکم بھی ایسی باتیں جذبات کی رو میں بہہ کر کیا کرتے تھے۔ نوازشریف اور شہباز شریف بڑے تواتر سے ایسے اعلانات کردیتے جس کے بعد کبھی اس کی نوبت نہ آئی کہ انہیں کسی تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا ہو، چاہے وہ علامتی نوعیت کا بھی

Read more

بے نظیر بنام بلاول

میرے بیٹے جیتے رہو، یقین جانو مجھے اتنی خوشی ہوتی جب تمھیں بالکل نانا اور میرے انداز میں تقریر کرتے دیکھتی ہوں۔ میرا دھیان ہر لمحے تم تینوں اور خصوصا بلاول تمھاری سرگرمیوں پر رہتا ہے۔ میں جانتی ہوں میرے بعد تم تینوں کے لیے خود کو سنبھالنا مشکل تھا اور سب سے زیادہ آصفہ نے ہمت اور دلیری کا مظاہرہ کیا جس نے تم دونوں کو حوصلہ دیا حالانکہ کے وہ چھوٹی تھی اور میری شہادت کے وقت بہت

Read more

انتخابی مہم کے دوران لاہور کی ایک رات

یہ شہر شیر کا ہے وہی راج کرے گا۔ بلے کا جھرلو نہ پھر جائے، شیر اسے کھا جائے گا۔ دونوں کا بڑا زور ہے 25 جولائی کو سامنے آ جائے گا۔ پی ٹی آئی الیکشن ڈے کو سپرائز دے گی۔ لاہور کا مقابلہ پنجاب کے نتائج بتادے گا۔ الیکشن کیسے ہورہے ہیں، رات شہر کے مختلف حلقوں میں انتخابی گہماگہمی دیکھنے کیلئے چکر لگایا، لوگ کیا سوچ رہے ہیں،کسے ووٹ دے رہے ہیں، انہیں کس کی جیت دکھائی دے

Read more

کس کو ووٹ دیں؟

کسے ووٹ دیں یہ بھی ایک بڑی تعداد کے لئے بڑا سوال ہے، سیاسی اعتبار سے کوئی واضع نظریات کا معاملہ اب زیادہ رہا نہیں، کہانی تھوڑی سے تبدیل ہوگئی ہے، مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے درمیان خصوصاً پنجاب میں مقابلہ ہے صرف دینی وابستگی اور جذباتیت کی بنیاد پر دو سے تین فیصد لوگ منقسم ہیں۔ پیپلزپارٹی کا ووٹ پہلے ہی تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کی پناہ میں جاچکا ہے، اس میں 75 اور 25

Read more

خان صاحب کے نام خط

خان صاحب امید ہے آپ اپنی الیکشن مہم میں بہت سرگرم ہوں گے۔ اگرچہ آپ کے پاس وقت بہت کم ہے اور مصروفیت کا بھی کچھ اندازہ ہے۔ چند معروضات گوش گزار کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے سوچا کہ تحریر کا سہارا لیا جائے، ویسے پڑھنے کا بھی وقت کہاں ہو گا؟ خان صاحب آپ کے خیالات کی پرواز ہمیشہ سے بلند رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ جب انسان کچھ بڑٖا کرنے کی ٹھان لے تو پھر اس کی

Read more

عمران خان کے نام خط

خان صاحب کے نام خان صاحب امید ہے آپ اپنی الیکشن مہم میں بہت سرگرم ہوں گے، اگرچہ آپ کے پاس وقت بہت کم ہے اور مصروفیت کا بھی کچھ اندازہ ہے ،چند معروضات گوش گزار کرنا چاہتا تھا، اس لیے سوچا کہ تحریرکا سہارا لیا جائے، ویسے پڑھنے کا بھی وقت کہاں ہوگا۔ خان صاحب آپ کے خیالات کی پرواز ہمیشہ سے بلند رہی ہے، یہ درست ہے کہ جب انسان کچھ بڑٖا کرنے کی ٹھان لے تو پھر

Read more

ہارن کھیڈ فقیرا

جتن جتن ہر کوئی کھیڈے، ہارن کھیڈ فقیرا جتن دا مُل کوڈی پیندا، ہارن دا مُل ہیرا میاں محمد بخش کا شعر ہمارے بڑے محترم بھائی سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں لکھا اور یہ حقیقت بھی بیان کردی کہ انسان کی فطرت ہے وہ کامیابی اور جیت کیلئے میدان میں اترتا ہے کسی بھی کام میں ناکامی یا کوئی ایسا کام جس میں کوئی فائدہ نہ ہو، اس میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔ کیا ناکامی اور شکست کا سامنا کرنے

Read more

میاں صاحب کی ڈائری: جیل میں تیسری رات

اٹھارہ سال بعد دوبارہ ویسا ہی ماحول، آج جیل میں تیسری رات، میں ایک عرصے بعد بالکل اکیلا، کل والدہ مجھ سے ملاقات کرنے آئیں، ان کے ساتھ چھوٹے بھائی صاحب، بھتیجا، نواسی اور اس کا شوہر بھی تھا۔ میرے معالج بھی ان کے ساتھ تھے جنہوں نے میرا چیک اپ کیا، مجھے حوصلہ دینے کیلئے بولے آپ کا دل بالکل پرفیکٹ ہے بلکہ آپ کا دل بہت مضبوط لگ رہا ہے۔ ماں جی کی آنکھوں میں آنسو تھے اور

Read more

اڈیالہ جیل سے ایک خط۔۔۔۔

آپ کو معلوم ہے میں کن حالات میں لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں اپنی بستر مرگ پر پڑی اہلیہ کو دونوں بیٹوں کی ذمہ داری پر بڑے بوجھل دل کے ساتھ اپنی بیٹی کے ہمراہ وطن واپس آیا، مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ میرے ساتھیوں نے بھرپور طریقے سے استقبال کرنے کا عزم کیا، افسوس کہ نگرانوں نے اپنی نگرانی ثابت کرنے کیلئے آپ کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ اور آپ کو نہ صرف حراست میں

Read more

بے نظیر بھٹو بنام نوازشریف

سلام ! میاں صاحب آپ کیسے ہیں، اگرچہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کی اہلیہ شدید علیل ہیں، بیگم کلثوم کی حالت کا بھی اندازہ ہے اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت یاب کرے اور آپ کی مشکلیں بھی آسان کرے۔ آپ سوچتے ہوں گے، میں نے کیسے یاد کیا، یقین جانیے سیاست میں جتنا آپ کا اور ہمارا واسطہ رہا، شاید ملکی تاریخ میں کسی اور کا رہا ہو، میرے ڈیڈی بھی مجھ سے اکثر پوچھتے ہیں کہ میاں نواز

Read more

نواز شریف کا خط پاکستان کے عوام کے نام

آداب! امید ہے آپ بھی پریشانی اور بے یقینی کی صورتحال کے باوجود میرے بارے میں فکرمند ہوں گے یا کم از کم میرے حالات زیر بحث لاتے ہوں گے۔ میں اپنی بات کہاں سے شروع کروں، چالیس سال پیچھے جائیں مارشل لا کا دور تھا میں سیاست میں آکر کچھ کرنا چاہتا تھا، یہ سچ ہے کہ اس سے پہلے بھٹو کے دور میں ہمارے ساتھ زیادتیاں ہوئی تھیں جس کے ردعمل میں میرے والد صاحب نے فیصلہ کیا

Read more

عبدالستار ایدھی کی برسی پر

کرتے ورتے ہم کچھ نہیں، باتیں ہم سے جتنی مرضی کرا لو۔ اگر کوئی کچھ کرتا ہے تو اس کے عیب نکالنے کا فن خوب سیکھ لیا ہے۔ راستے کھولنے کے چکر میں ذھن نہیں کھل پائے، سڑکیں اور پل بناتے ہیں، دل جوڑںے اور تعلق نبھانے نہیں آئے۔ کسی کی ڈھارس بندھانی ہو، غم ہلکا کرنا ہو، کسی سے پرسہ کرنا ہو، مشکل میں ہاتھ بڑھانا ہو، کسی کو راہ دکھانی ہو، یہ سب ہمارے اندر کبھی پناہ گزیں

Read more

اللہ کا واسطہ دینے والے سب ہاتھ بھکاری نہیں ہوتے

”اللہ کے واسطے میری بات سن لیں میں کوئی بھکاری نہیں میرے والد کو معذوری کے باعث ملازمت سے نکال دیا ہے ہمارے گھر میں فاقہ چل رہا ہے میری دو بڑی بہنیں ہیں اور ماں گھروں میں جاکر کام کرتی تھی، اب وہ بھی بیمار پڑ گئی۔ ہم تین دن سے بھوکے ہیں، مجھے کوئی کام دے دیں۔ اللہ آپ کا بھلا کرے“۔ بارہ سال کے کمزور بچے سے جب پوچھا کہ تم کیوں مانگتے ہو، اس پر بچے

Read more

نعرے، وعدے اور نیا ووٹر

  محض تین ہفتے بھی نہیں باقی اور انتخابی عمل کا پہلا اور اہم مرحلہ شروع، عوام سے رابطے کا آغاز ہوگیا، جس میں امیدوار چاہے وزیراعظم ہو، وزیر ہو یا صدر مملکت رہ چکا ہو، وہ براہ راست لوگوں میں جاتا اور وعدے وعید کرتا ہے۔ وہ کچھ اس طرح کے ہو رہے ہیں۔ 3 برس میں ہر گھر میں پانی، 6 ماہ میں کچرا صاف، کراچی کو پیرس بناؤں گا۔ کراچی کے عوام شعبدہ بازوں کو قبول نہیں

Read more

بس اوئے۔۔۔

کبھی پتنگ بازی کے دوران لوٹنے والا ڈور ہاتھ لگنے پر فوری نعرہ لگا دیتا تھا۔ بس اوئے۔ اس کا مطلب میں نے پکڑ لی۔ اب کوئی اس کا حق دار نہیں۔ اب یہ پتنگ میری ہے۔ لٹیرے بڑے اخلاق والے ہوتے تھے اور اس نعرے کا مثبت جواب دیتے اور اس پتنگ یا ڈور سے فوری اور خوشی خوشی دستبردار ہوجاتے اچھے دنوں کی باتیں ہیں، یار بیلی اکٹھے کہیں جا رہے ہوتے تو کوئی مہوش، خوباں کہیں دکھائی

Read more

فیئر اور فاؤل پلے

محبت اور جنگ میں کہتے ہیں سب کچھ جائز ہے مگر ہمارے ہاں سیاست بھی محبت اور جنگ کا دوسرا نام ہے۔ سیاست کے میدان میں اترنے والے اس کے عشق میں ایسے ڈوبتے ہیں کہ اکثر عوام اور ان کے مسائل بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اپنے اقتدار کے حصول یا پھر اسے مزید طول دینے پر لگی رہتی ہیں، اس جدوجہد میں مخالفین سے کیسے نمٹنا ہے، کیا داؤ پیچ استعمال کرنے ہیں، اس

Read more

راجہ جلیل حسن اختر: محبتیں بانٹنے والا مرتا نہیں

ہم لوگوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، اپنے حق کی خاطر خاموش رہ کر بہت بڑا جرم کرتے ہیں، ہماری آواز ایسے موقع پر زیادہ گونج کے ساتھ بلند ہونی چاہیئے”۔ راجہ جلیل حسن اختر بڑے دبنگ اور صاف بات کرنے والے ایک بڑے شفیق اور محبت کرنے والے انسان، جنہوں نے صحافت میں بڑی باوقار انداز میں چار دہائیوں سے زائد عرصہ تک نہ صرف فرائض انجام دیئے بلکہ ایک استاد کی طرح ابلاغ سے وابستہ افراد کی

Read more

سیاست اور نئی نسل کا المیہ

بچے بڑے ہوگئے، اب بہت کچھ سمجھ بھی گئے، ان کا شمار بالغوں میں ہونے لگا، ووٹ بن گیا اور ملکی حالات پر اچھی بری رائے بھی رکھتے ہیں۔ نئی پود کی بنیاد بنانے میں اگرچہ سماج بہت زیادہ معاون اور مددگار کبھی نہیں رہا، اس کی وجہ ہمارے سماج کی اپنی جڑوں میں نظریے اور سوچ کے کھوکھلے پن نے اسے نہ تو مضبوط بننے دیا اور نہ ہی آنے والوں کو بہتر راہ دکھائی۔ جس کو کوئی اچھی

Read more

 وہ کون تھا؟

وہ ابھی چھوٹا تھا جب گھر سے نکل کر گلی سے باہر سڑک پر آیا یہ دنیا نئی اور کسی حد تک تیز بھاگتی تھی کیونکہ یہاں ادھر سے اُدھر پہیے گھومتے سائیکل، تانگہ، ریڑھی، گاڑی، ویگن، بس اور ٹرک آجا رہے تھے۔ گھر میں اگر زیادہ لوگ آ بھی جاتے تو اتنی حرکت پھر بھی دیکھنے کو کم ملتی، صرف تبدیلی اتنی آتی کہ آوازیں زیادہ ہوجاتیں، الفاظ اپنی اُڑانیں بھرتے، ہر طرف کیوں، کیا، کیسے، کہاں، کب اور نہ

Read more

کس کا احتجاج؟

 حق مانگنا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ میرا کیا ہے اور اس کو کیسے حاصل کرنا ہے، جانور کو یہ علم فطری طور پر ہوتا ہے مگر انسان کے معاملے میں ایسا نہیں۔ اسے بتانا بلکہ سکھانا پڑتا ہے۔ اس عمل کے دوران یہ تعین کرنا بھی از حد ضروری ہے کہ کیا حق ہے اور کیا نہیں۔ پھر کیسے اس کے لیے آواز بلند کرنی ہے۔ انسان بنیادی طور پر اپنی ذات سے جڑا ہے لیکن زندہ رہنے

Read more

تاریخ یا ضد میں بولا گیا سچ؟

” 11 ستمبر 1948 کا دن زیارت سے کراچی واپسی پر قائداعظم کو ائیرپورٹ پر استقبال کیلئے آنے والا ملٹری سیکرٹری اپنے ساتھ ایک کھٹارا ایمبولینس لے کر آیا اور ساتھ کوئی ڈاکٹر یا نرس بھی نہ تھی۔ راستے میں ایمبولینس کا پٹرول ختم ہوگیا،قائداعظم دو گھنٹے تک ایمبولینس میں بے یارومددگار پڑے رہے فاطمہ جناح فائل سے پنکھا جھلتی رہیں۔ متبادل ایمبولینس آنے پر بانی پاکستان کو گھر منتقل کیا گیا جہاں ملک کو آزادی دلانے والا اسی رات

Read more

یہ کوئی جاسوسی کہانی ہے؟

پاکستان میں ایک بڑی تعداد کا بچپن عمران سیریز کی جاسوسی کہانیوں کے کرداروں کے ساتھ گزرا، ابن صفی کی تخلیق اتنی مقبول ہوئی کہ ان کرداروں کو پڑھنے والوں کیلئے زندہ رکھنے کی خاطر مصنف کے بستر مرگ پر جانے کے بعد نئے خالق تیار کرلیے، ان میں مظہر کلیم نے ابن صفی کو نا صرف زندہ کردیا بلکہ نئے کردار متعارف کرا کے اپنی جگہ بھی بنا لی۔ اور پھر یوں جاسوسی کی دنیا ویران ہونے سے بچ

Read more

جمہوریت کا تماشا

سیاست، نظریہ، سوچ اور عمل کا تقاضا کرتی ہے، چونکہ اس کا براہ راست تعلق لوگوں سے ہوتا ہے اس لیے سیاست میں اجتماعی حوالے دیکھے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی بھی فیصلہ چاہے ذاتی ہو اس کی بنیاد کسی فرد واحد کے مقصد کا حصول تصور نہیں ہوتی۔ پاکستان میں معاملہ مختلف رہا ہے یہاں جمہوریت ابھی اپنے معنی تلاش کر رہی ہے۔ زیادہ تر باتوں اور صرف باتوں تک محدود رہتے ہوئے فیصلے چند افراد یا فرد واحد

Read more

راز کیوں افشا کریں؟

1998  دسمبر کا آخری ہفتہ اور رمضان کا مہینہ تھا۔ صحافیوں کی تنظیم کے وفد کے ہمراہ دلی میں کانفرنس میں شرکت کی۔ لاہور کے ریلوے سٹیشن پر ہم لوگ اکٹھے ہوئے، چونکہ سفر کررہے تھے اور چند ایک کے سوا کسی کا روزہ نہیں تھا، ایک دو نے سگریٹ سلگا لئے۔ ٹرین کی واہگہ سے روانگی کا انتظار تھا۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں گنتی کے مسافر تھے۔ ہمیں ریلوے کے ایک جاننے والے اہلکار نے بتایا کہ چونکہ ٹرین بھارت

Read more

جمہوریت میں لیفٹ رائٹ کا چکر

شہر کے مضافاتی علاقوں میں بھی دیہات جیسی زندگی ہوتی ہے، بچپن ایسے ہی علاقے میں گزرا جہاں کا طرز زندگی بڑا روایتی قصے کہانیوں جیسا تھا، اس لیے کہ یہ باتیں اب کتابوں میں بھی لکھنے والوں نے چھوڑ دیں، کہ کیسے ایک خاندانی نظام اور پھر گھر سے باہر باہر محلہ داری اس کے بعد علاقے کا میل ملاپ، ایک دوسرے کا خیال رکھنا، دکھ سکھ میں ساتھ دینا، پریشانی اور مشکل میں مدد کو آنا، کسی بھی

Read more